آلف نامہ

آلف نامہ

Share

Seek knowledge from cradle to grave. Prophet Muhammad sawslm

14/05/2026

دنیا میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں، بہت سے ادیب اور شاعر آئے اور چلے گئے۔ ان کی تحریروں نے لوگوں کو محظوظ کیا، سوچنے پر مجبور کیا، شاید کبھی آنکھیں نم بھی کر دیں۔ لیکن ایک کتاب ہے، ایک کلام ہے، جس نے صرف دل ہی نہیں بدلے، پورے کے پورے معاشروں کو بدل کر رکھ دیا۔

یہ کتاب ہے قرآن۔

قرآن کو پڑھنا یا سننا محض ایک عبادت نہیں، یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو روح کے تاروں کو چھیڑ دیتا ہے۔ اس کی زبان کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے، لیکن اس کا اصل کمال وہ کیفیت ہے جو دل پر طاری ہوتی ہے۔ یہ کلام ہمارے چھپے ہوئے خوف، ہماری گہری امیدوں، اور ہمارے بکھرے ہوئے جذبات کو ایک ایک کر کے جگاتا ہے۔ یہ وہ کلام ہے جسے سن کر بڑے بڑے سخت دل لوگوں کی آنکھیں بہہ نکلیں، ان کی گردنیں جھک گئیں، اور ان کے اندر کا انسان جاگ اٹھا۔

اس کی تاثیر کا راز کیا ہے؟ اس کے الفاظ میں چھپے وہ کون سے تیر ہیں جو سیدھے دل کو لگتے ہیں؟ آئیے، اس کلام کی چند ایسی ہی جھنجھوڑ دینے والی آیتوں کو محسوس کرتے ہیں، جو صدیوں سے لوگوں کو رلا رہی ہیں۔

جب علم والے بے اختیار رو پڑے

یہ منظر ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی دینی کتابیں پڑھی تھیں۔ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا گیا تو ان کا سارا علم انہیں اس کلام کے سامنے بونا دکھائی دیا۔ ان کے دل میں اللہ کی عظمت کا ایک ایسا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا کہ وہ بے بس ہو گئے۔ نہ صرف ان کی آنکھیں چھلک پڑیں، بلکہ وہ اپنے آپ پر قابو کھو بیٹھے اور منہ کے بل زمین پر گر کر رونے لگے۔

"اور جب یہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا تو تم دیکھو گے کہ حق کی پہچان سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بھی حق کے گواہوں میں شامل کر لے۔"
(سورۃ المائدہ: 83)

لفظوں کا جادو:
اس آیت میں لفظ "تَفِیضُ" استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "لبالب بھر کر بہنا"۔ یہ وہ آنسو نہیں جو بمشکل دو قطرے ٹپکے ہوں، یہ تو وہ کیفیت ہے جیسے دل میں درد یا خوشی کا ایک دریا امڈ آیا ہو اور آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے ہوں۔ "مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ" یعنی یہ رونا کسی ڈر یا لالچ سے نہیں، بلکہ "حق کو پہچان لینے" کی خوشی اور عاجزی سے ہے۔ جب آپ برسوں کسی سچ کو ڈھونڈتے رہیں اور وہ اچانک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آ جائے تو بس یہی کیفیت ہوتی ہے۔

جب تنہائی اور بے بسی میں ایک درد بھری پکار نکلی

بیماری، تنہائی، اور ہر طرف سے ناامیدی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جس نے زندگی میں دکھ جھیلے ہیں۔ ان کا جسم، ان کا گھر، ان کی اولاد، سب کچھ چھن گیا تھا۔ لیکن اس بے بسی کے عالم میں ان کی زبان سے جو دعا نکلی، وہ ادب اور امید کا ایسا شاہکار ہے کہ پڑھنے والے کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ شکوہ نہیں کیا، گلہ نہیں کیا، بس اپنی کیفیت اللہ کے سامنے رکھ دی اور اس کی رحمت کو یاد کر لیا۔

"اور ایوب کو یاد کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا: مجھے دُکھ نے چھو لیا ہے، اور تُو تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔"
(سورۃ الانبیاء: 83)

لفظوں کا جادو:
دیکھیں، یہاں کتنا نازک لفظ استعمال ہوا ہے: "مَسَّنِىَ الضُّرُّ" یعنی مجھے دُکھ نے چھو لیا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "مجھے دکھ نے توڑ دیا" یا "تباہ کر دیا"۔ "مَسَّ" کا مطلب ہے چھونا، ہلکا سا لمس۔ یہ گویا اپنے مرضی کے مالک سے کہنا ہے کہ مولا، تیری طرف سے آنے والی ذرا سی تکلیف بھی مجھ جیسے بندے کے لیے بہت بڑی ہے، مگر میں جانتا ہوں یہ دائمی نہیں ہے۔ اور اس کے فوراً بعد، شکوے کی جگہ اللہ کی تعریف آتی ہے: "اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ"۔ یہ وہ یقین ہے جو مشکل کی رات میں صبح کی نوید سنا دیتا ہے، اور یہی یقین سننے والے کو رلاتا ہے۔

جب ماں کا دل دہل گیا

یہ منظر شاید قرآن کا سب سے جذباتی منظر ہے۔ ایک بھولا ہوا بچہ، ایک پریشان ماں، اور اللہ کی وہ مدد جو بے کسوں کے لیے آتی ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حکم ملا کہ اپنے ننھے سے بچے کو ایک ٹوکرے میں رکھ کر دریا میں ڈال دو، تو کسی ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اللہ نے اس کیفیت کو ایک لفظ میں بیان کر دیا ہے جو سنتے ہی دل دہل جاتا ہے۔

"اور موسیٰ کی ماں کا دل بے تاب ہو گیا، دھڑکنوں کے سوا خالی ہو گیا۔ قریب تھا کہ وہ اس راز کو فاش کر دیتی، اگر ہم اس کے دل کو سکون نہ دیتے، تاکہ وہ ہمارے وعدے پر یقین رکھنے والوں میں رہے۔"
(سورۃ القصص: 10)

لفظوں کا جادو:
یہاں لفظ "فَارِغًا" استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "بالکل خالی"۔ گویا اس ماں کے دل میں اس کے بچے کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا، جیسے دل نام کا کوئی عضو ہی نہ رہا، بس ایک خ*ل رہ گیا ہو۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، جب دل دھڑکنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ لیکن پھر دیکھیں، اسی آیت میں امید کی کرن ہے: "لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" یعنی تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں رہے۔ اللہ نے یہ سب کچھ اس لیے نہیں کیا کہ وہ ٹوٹ جائے، بلکہ اس لیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرنے کی اس بلند ترین منزل تک پہنچے۔

جب پکارنے والا بے بس ہو جائے

قرآن قیامت کا جو منظر دکھاتا ہے، وہ انسان کو اپنی ہی غفلت پر رلا دیتا ہے۔ وہاں کا ایک منظر ایسا ہے جہاں ایک بندہ اپنا نامہ اعمال دیکھتا ہے، اور شرمندگی اور حسرت سے چیخ اٹھتا ہے۔ اس کی آواز میں وہ درد ہے جو صدیوں سے لوگوں کے دلوں کو کانپ رہا ہے۔

"تو جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: ہائے میری بربادی! کاش مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا! اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے! اے کاش! موت ہی میرا فیصلہ کر دیتی۔"
(سورۃ الحاقہ: 25-27)

لفظوں کا جادو:
یہاں لفظ "يَا لَيْتَنِي" یعنی اے کاش میں اور "هَلَكَ" یعنی ہلاکت اور بربادی کا استعمال وہ چیخ ہے جو انسان کے اندر سے نکلتی ہے۔ یہ محض پچھتاوا نہیں، بلکہ ایک ایسی تڑپ ہے جب واپسی کا کوئی راستہ نہ ہو۔ اور سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات: "يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ" یعنی کاش میرا کام ہی ختم ہو گیا ہوتا۔ یہ وہ حسرت ہے جب انسان اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے "عدم" کو "وجود" پر ترجیح دینے لگتا ہے، کیونکہ شرمندگی اور خوف ناقابل برداشت ہو چکا ہوتا ہے۔

آخر میں: دل کی گہرائیوں میں اترنے کی دعوت

یہ کلام محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ پیغام ہے جو آپ سے، آپ کے دل سے، آپ کے جذبات سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ آنسو کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ روح جاگ گئی ہے۔ جب قرآن کی یہ آیتیں آپ کے دل کے تاروں کو چھیڑیں، جب آپ کی آنکھیں نم ہونے لگیں، تو اپنے آپ کو نہ روکیں۔ یہ وہی لمحہ ہے جب یہ کلام اپنا اصل معجزہ دکھا رہا ہوتا ہے۔

آئیے، اس کلام کو صرف ہونٹوں سے نہیں، دل سے پڑھیے۔ اسے سمجھ کر محسوس کیجیے۔ دیکھیے کہ کیسے یہ آپ کی سوچ، آپ کی تنہائی، اور آپ کی پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ قرآن کو اٹھائیے، اور اس کی گہرائیوں میں اترنے کی ہمت کیجیے۔

13/05/2026

قدر، تقدیر اور اقدار — انسان کی لکھی ہوئی کہانی یا لکھی ہوئی تقدیر؟

انسان ہمیشہ سے تقدیر کو ایک راز سمجھتا آیا ہے—ایک ایسی لکھی ہوئی کہانی جسے وہ بدل نہیں سکتا۔ مگر جب ہم “تقدیر” کے لفظ کو اس کی جڑ “قدر” سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، تو ایک نئی حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے۔
“قدر” کا مطلب ہے پیمانہ، معیار، توازن—وہ میزان جس پر ہر چیز اپنی اصل حیثیت کے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ اور اسی “قدر” سے “تقدیر” بنتی ہے—یعنی وہ فیصلہ جو اسی پیمانے کے مطابق صادر ہو چکا ہوتا ہے۔

گویا تقدیر کوئی اندھی قوت نہیں، بلکہ ایک قانونِ الٰہی ہے—ایک ایسا نظام جو پہلے ہی طے کر دیا گیا ہے کہ کس پیمانے پر کیا نتیجہ نکلے گا۔
اور اسی “قدر” کا ایک اور اظہار “اقدار” کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے—یعنی وہ اصول، وہ ترجیحات، وہ ترجیحی پیمانے جن پر انسان اپنی زندگی اور معاشرہ قائم کرتا ہے۔

یہاں سے ایک گہرا تعلق سامنے آتا ہے:
انسانی اقدار دراصل وہ پیمانہ ہیں جن پر اس کی تقدیر کے فیصلے پہلے ہی لکھے جا چکے ہیں۔

یہ ایک نہایت باریک مگر فیصلہ کن نکتہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں یہ اصول پہلے ہی مقرر کر دیا ہے کہ
ہر نتیجہ اپنے سبب کے مطابق ہوگا،
ہر انجام اپنے راستے کے مطابق ہوگا،
اور ہر تقدیر اپنے پیمانے کے مطابق ظاہر ہوگی۔

قرآن کا یہ مفہوم اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ
اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لائے۔

گویا تقدیر لکھی جا چکی ہے—مگر اس کا دروازہ اقدار سے کھلتا ہے۔

---

جب پیمانہ بدل جائے، تقدیر بھی بدل جاتی ہے

سوچئے، اگر ایک معاشرہ اپنی اقدار کو سچائی، انصاف، دیانت اور انسانیت پر قائم کرے—
تو کیا اس کی تقدیر اندھیروں میں جا سکتی ہے؟
ہرگز نہیں۔ کیونکہ اس پیمانے پر رکھا گیا عمل لازماً روشنی ہی پیدا کرے گا۔

اور اگر ایک معاشرہ
دولت کو معیار بنا لے،
انسان کو اس کی جیب سے پہچانے،
حق کو مفاد کے نیچے دفن کر دے—
تو کیا اس کا انجام روشنی ہو سکتا ہے؟

یہاں تقدیر کا راز کھلتا ہے۔

اللہ نے نتائج لکھ دیے ہیں—مگر راستہ انسان کو دے دیا ہے۔
یعنی یہ طے ہے کہ
انصاف روشنی لائے گا،
اور ظلم تاریکی۔
سچائی عزت دے گی،
اور جھوٹ رسوائی۔

یہی تقدیر ہے—ایک لکھی ہوئی منطق، ایک الٰہی اصول، ایک ناقابلِ تبدیل قانون۔

---

موجودہ دنیا: ایک تاریک پیمانے پر کھڑی ہوئی تہذیب

آج اگر ہم اپنے گرد نظر دوڑائیں تو ایک خطرناک تبدیلی صاف دکھائی دیتی ہے۔
انسانی اقدار کا پیمانہ بدل چکا ہے۔

اب عزت کردار سے نہیں، بلکہ دولت سے جڑی ہے۔
اب انسان کی قیمت اس کے اخلاق سے نہیں، بلکہ اس کی حیثیت سے لگائی جاتی ہے۔
اب سچائی کمزور ہے اور مفاد طاقتور۔

یہ وہی بیماری ہے جو تاریخ میں کئی قوموں کو کھا گئی۔
باہر سے ترقی، اندر سے زوال۔

اور یہاں ہمیں ایک کڑوی حقیقت کو قبول کرنا ہوگا:

اگر یہی اقدار باقی رہیں، تو ہماری تقدیر کے بارے میں فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

یہ کوئی جذباتی دعویٰ نہیں—یہ اسی الٰہی قانون کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہر چیز “قدر” یعنی پیمانے کے مطابق پیدا کی گئی ہے۔

جب پیمانہ مادہ پرستی ہو،
تو نتیجہ روحانی اندھیرا ہی ہوگا۔

جب معیار دولت ہو،
تو انسانیت لازماً مر جائے گی۔

جب عزت خریدی جائے،
تو انصاف بکھر جائے گا۔

یہی وہ تاریک تقدیر ہے جس کی طرف آج کی دنیا تیزی سے بڑھ رہی ہے—
ایک ایسی دنیا جہاں انسان کے پاس سب کچھ ہوگا، مگر وہ خود کو کھو چکا ہوگا۔

---

انقلاب کہاں سے آئے گا؟

یہاں ایک امید بھی ہے—اور وہی اس پوری بحث کا اصل مقصد ہے۔

اگر اقدار تقدیر کا دروازہ ہیں،
تو انسان کے پاس اب بھی چابی موجود ہے۔

وہ اپنی نظر بدل سکتا ہے۔
وہ کسی انسان کو اس کی دولت سے نہیں، اس کی روح سے پہچان سکتا ہے۔
وہ اپنے فیصلوں میں مفاد کے بجائے حق کو ترجیح دے سکتا ہے۔

اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب تقدیر کا رخ بدلنا شروع ہوگا۔

کیونکہ
اللہ نے اندھیرا بھی لکھا ہے—اور روشنی بھی۔
مگر یہ انسان کے پیمانے پر ہے کہ وہ کس طرف کھڑا ہوتا ہے۔

---

آخری سوال

جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں—
تو کیا آپ اس کی قدر اس کے کپڑوں سے کرتے ہیں یا اس کے کردار سے؟

جب آپ فیصلہ کرتے ہیں—
تو کیا آپ کا پیمانہ فائدہ ہوتا ہے یا انصاف؟

اور جب آپ زندگی گزارتے ہیں—
تو کیا آپ اپنی تقدیر خود روشنی کی طرف لکھ رہے ہیں،
یا آہستہ آہستہ ایک ایسی تاریکی میں داخل ہو رہے ہیں
جس کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا ہے؟

یہی اصل سوال ہے۔
اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے انسان کی حقیقی تقدیر شروع ہوتی ہے۔

01/09/2025

ڈارون کا نظریہ اور اسلام: ایک غلط فہمی کا ازالہ

اکثر ہمارے معاشروں میں یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ "ڈارون کا نظریہ ارتقاء" کفر ہے اور یہ اسلام یا مذہب کے خلاف ہے۔ کچھ علماء اور عام لوگ اس نظریے کو سن کر فوراً غصے میں آ جاتے ہیں اور اسے ایمان کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سوچ صرف کم علمی اور قرآن کے گہرے مفہوم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔

قرآن کا حکم: علم حاصل کرو

قرآن بار بار کہتا ہے:
"اَفَلَا یَتَفَکَّرُونَ" (کیا یہ لوگ غور و فکر نہیں کرتے؟)
"قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ" (کہہ دو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے مخلوقات کی ابتدا کیسے کی) (العنکبوت: 20)

یہ آیت بالکل واضح کرتی ہے کہ اللہ خود ہمیں دعوت دیتا ہے کہ کائنات کے آغاز اور زندگی کے سفر کو سمجھو۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی سائنسدان تحقیق کرتا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ مخلوقات کس طرح وقت کے ساتھ بدلی ہیں، تو کیا وہ قرآن کی نافرمانی کر رہا ہے یا اس کی تعمیل؟ ظاہر ہے وہ قرآن ہی کے حکم پر چل رہا ہے۔

ڈارون اور ارتقاء

ڈارون نے یہ کہا کہ جاندار آہستہ آہستہ بدلتے ہیں، کمزور ختم ہو جاتے ہیں اور جو مضبوط ماحول کے ساتھ ڈھل جاتے ہیں وہ باقی رہتے ہیں۔ اس نے انسان کو بندر سے پیدا ہونے والا نہیں کہا جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ کہا کہ انسان اور بندر کا ایک قدیم جد مشترک تھا۔

مسلم محققین اور ارتقاء

یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ارتقاء کا نظریہ صرف ڈارون کا نہیں ہے۔ مسلمان فلسفی اور سائنسدان صدیوں پہلے اس پر بات کر چکے تھے:

ابن خلدون نے اپنی "مقدمہ" میں لکھا کہ مخلوقات درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور انسان سب سے اعلیٰ درجے پر ہے۔

جاحظ (۹ویں صدی) نے "کتاب الحیوان" میں لکھا کہ مخلوقات اپنے ماحول کے مطابق بدلتی ہیں۔

اللہ کا قرآن بھی اشارتاً ارتقاء کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسے: "وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا" (اور اللہ نے تمہیں مختلف مرحلوں میں پیدا کیا) (نوح: 14)

اختلاف اور سوالات

جو علماء ارتقاء کو کفر قرار دیتے ہیں، ان سے سوال یہ ہے:

1. جب قرآن کہتا ہے کہ "اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا" (السجدہ: 7)، اور دوسری جگہ کہتا ہے کہ "انسان کو نطفے سے پیدا کیا" (النحل: 4)، تو کیا یہ دونوں بیانات بظاہر مختلف نہیں ہیں؟

2. جب قرآن کہتا ہے کہ "ہم نے آدم کو اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا" (ص: 75)، تو کیا یہ ہاتھ جسمانی ہیں یا اللہ کی قدرت کی علامت ہیں؟

3. جب قرآن کہتا ہے کہ "پہلے ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں صورت دی" (الاعراف: 11)، تو کیا یہ ارتقائی مراحل کی طرف اشارہ نہیں؟

یہ سوالات اس بات کی دلیل ہیں کہ قرآن کی زبان اشاروں، کنایوں اور مبہم الفاظ پر مشتمل ہے تاکہ انسان غور و فکر کرے۔ لیکن ہم نے غور کرنا چھوڑ دیا اور تحقیق کرنے والوں کو کافر کہنا شروع کر دیا۔

نتیجہ

ڈارون کا نظریہ اور قرآن ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ علم حاصل کرو، زمین میں دیکھو، کائنات پر غور کرو۔ ڈارون اور دوسرے سائنسدانوں نے یہی کیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے علم کو دشمن سمجھ لیا اور سوال پوچھنے کو گستاخی۔

اسلام یہ کہتا ہے کہ اللہ خالق ہے۔ ارتقاء یہ کہتا ہے کہ تخلیق ایک لمبے عمل سے ہوئی۔ دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ تضاد صرف ہماری سوچ میں ہے۔

05/05/2024

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کل کی بنسبت سینکڑوں برس پہلے کی زندگی اچھی تھی، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آج کل کی زندگی گزرے وقتوں سے بہتر ہے ۔ اس بحث کے مختلف پہلوؤں کو جاننے کے لئے آلف ڈیجیٹل اکیڈمی کی طرف سے جاری انسانی تاریخ کی مشہورِ زمانہ کتاب "ہومو سیپئینز ، اے بریف ہسٹری آف مین کائنڈ" کی وڈیو سیریز کے گیارھویں حصے(Part2)میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے۔
ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری ہر آنیوالی وڈیو آپ تک پہنچ پاۓ، وڈیو اگر پسند آئے تو لائک بھی ضرور کریں تاکہ فیس بُک کو پتہ چلے کہ آپ اس پیج سے خوش ہیں ۔ اپنے قریبی متجسس دوستوں کے ساتھ وڈیو شئیر کریں اور رہنمائی،تنقید یا حوصلہ افزائی کے لئے کمینٹس میں اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے رہیں ۔ شکریہ
#تاریخِ انسان #سکول #طالبِعلم #الف ڈیجیٹل اکیڈمی

31/03/2024

آلف ڈیجیٹل اکیڈمی کی طرف سے جاری انسانی تاریخ کی مشہورِ زمانہ کتاب "ہومو سیپئینز ، اے بریف ہسٹری آف مین کائنڈ" کی وڈیو سیریز کے گیارھویں حصے(part1) میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے۔
ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری ہر آنیوالی وڈیو آپ تک پہنچ پاۓ، وڈیو اگر پسند آئے تو لائک بھی ضرور کریں تاکہ فیس بُک کو پتہ چلے کہ آپ اس پیج سے خوش ہیں ۔ اپنے قریبی متجسس دوستوں کے ساتھ وڈیو شئیر کریں اور رہنمائی،تنقید یا حوصلہ افزائی کے لئے کمینٹس میں اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے رہیں ۔ شکریہ
#تاریخِ #سکول #طالبِعلم #الف #بنوں #ڈیرہ #خیبرپختونخوا #یونیورسٹی #پاکستان

29/03/2024

آلف ڈیجیٹل اکیڈمی کی طرف سے جاری انسانی تاریخ کی مشہورِ زمانہ کتاب "ہومو سیپئینز ، اے بریف ہسٹری آف مین کائنڈ" کی وڈیو سیریز کے دسویں حصے(part 2) میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے۔
ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری ہر آنیوالی وڈیو آپ تک پہنچ پاۓ، وڈیو اگر پسند آئے تو لائک بھی ضرور کریں تاکہ فیس بُک کو پتہ چلے کہ آپ اس پیج سے خوش ہیں ۔ اپنے قریبی متجسس دوستوں کے ساتھ وڈیو شئیر کریں اور رہنمائی،تنقید یا حوصلہ افزائی کے لئے کمینٹس میں اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے رہیں ۔ شکریہ
#تاریخ #طالبِعلم #سکول #یونیورسٹی #اکیڈمی

29/03/2024

آلف ڈیجیٹل اکیڈمی کی طرف سے جاری انسانی تاریخ کی مشہورِ زمانہ کتاب "ہومو سیپئینز ، اے بریف ہسٹری آف مین کائنڈ" کی وڈیو سیریز کے دسویں حصے(pat1) میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے۔
ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری ہر آنیوالی وڈیو آپ تک پہنچ پاۓ، وڈیو اگر پسند آئے تو لائک بھی ضرور کریں تاکہ فیس بُک کو پتہ چلے کہ آپ اس پیج سے خوش ہیں ۔ اپنے قریبی متجسس دوستوں کے ساتھ وڈیو شئیر کریں اور رہنمائی،تنقید یا حوصلہ افزائی کے لئے کمینٹس میں اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے رہیں ۔ شکریہ
#سکول #تاریخِ #طالبِعلم

11/03/2024

آلف ڈیجیٹل اکیڈمی کی طرف سے جاری انسانی تاریخ کی مشہورِ زمانہ کتاب "ہومو سیپئینز ، اے بریف ہسٹری آف مین کائنڈ" کی وڈیو سیریز کے نویں حصے میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے۔
ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری ہر آنیوالی وڈیو آپ تک پہنچ پاۓ، وڈیو اگر پسند آئے تو لائک بھی ضرور کریں تاکہ فیس بُک کو پتہ چلے کہ آپ اس پیج سے خوش ہیں ۔ اپنے قریبی متجسس دوستوں کے ساتھ وڈیو شئیر کریں اور رہنمائی،تنقید یا حوصلہ افزائی کے لئے کمینٹس میں اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے رہیں ۔ شکریہ
#تاریخِ انسان #سکول #طالبِعلم #الف ڈیجیٹل اکیڈمی

Want your school to be the top-listed School/college in Bannu?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Street #04
Bannu
1830

Opening Hours

Monday 17:30 - 21:00
Tuesday 17:30 - 21:00
Wednesday 17:30 - 21:00
Thursday 05:30 - 21:00
Friday 17:30 - 21:00
Saturday 17:30 - 21:00