14/05/2026
دنیا میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں، بہت سے ادیب اور شاعر آئے اور چلے گئے۔ ان کی تحریروں نے لوگوں کو محظوظ کیا، سوچنے پر مجبور کیا، شاید کبھی آنکھیں نم بھی کر دیں۔ لیکن ایک کتاب ہے، ایک کلام ہے، جس نے صرف دل ہی نہیں بدلے، پورے کے پورے معاشروں کو بدل کر رکھ دیا۔
یہ کتاب ہے قرآن۔
قرآن کو پڑھنا یا سننا محض ایک عبادت نہیں، یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو روح کے تاروں کو چھیڑ دیتا ہے۔ اس کی زبان کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے، لیکن اس کا اصل کمال وہ کیفیت ہے جو دل پر طاری ہوتی ہے۔ یہ کلام ہمارے چھپے ہوئے خوف، ہماری گہری امیدوں، اور ہمارے بکھرے ہوئے جذبات کو ایک ایک کر کے جگاتا ہے۔ یہ وہ کلام ہے جسے سن کر بڑے بڑے سخت دل لوگوں کی آنکھیں بہہ نکلیں، ان کی گردنیں جھک گئیں، اور ان کے اندر کا انسان جاگ اٹھا۔
اس کی تاثیر کا راز کیا ہے؟ اس کے الفاظ میں چھپے وہ کون سے تیر ہیں جو سیدھے دل کو لگتے ہیں؟ آئیے، اس کلام کی چند ایسی ہی جھنجھوڑ دینے والی آیتوں کو محسوس کرتے ہیں، جو صدیوں سے لوگوں کو رلا رہی ہیں۔
جب علم والے بے اختیار رو پڑے
یہ منظر ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی دینی کتابیں پڑھی تھیں۔ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا گیا تو ان کا سارا علم انہیں اس کلام کے سامنے بونا دکھائی دیا۔ ان کے دل میں اللہ کی عظمت کا ایک ایسا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا کہ وہ بے بس ہو گئے۔ نہ صرف ان کی آنکھیں چھلک پڑیں، بلکہ وہ اپنے آپ پر قابو کھو بیٹھے اور منہ کے بل زمین پر گر کر رونے لگے۔
"اور جب یہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا تو تم دیکھو گے کہ حق کی پہچان سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بھی حق کے گواہوں میں شامل کر لے۔"
(سورۃ المائدہ: 83)
لفظوں کا جادو:
اس آیت میں لفظ "تَفِیضُ" استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "لبالب بھر کر بہنا"۔ یہ وہ آنسو نہیں جو بمشکل دو قطرے ٹپکے ہوں، یہ تو وہ کیفیت ہے جیسے دل میں درد یا خوشی کا ایک دریا امڈ آیا ہو اور آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے ہوں۔ "مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ" یعنی یہ رونا کسی ڈر یا لالچ سے نہیں، بلکہ "حق کو پہچان لینے" کی خوشی اور عاجزی سے ہے۔ جب آپ برسوں کسی سچ کو ڈھونڈتے رہیں اور وہ اچانک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آ جائے تو بس یہی کیفیت ہوتی ہے۔
جب تنہائی اور بے بسی میں ایک درد بھری پکار نکلی
بیماری، تنہائی، اور ہر طرف سے ناامیدی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جس نے زندگی میں دکھ جھیلے ہیں۔ ان کا جسم، ان کا گھر، ان کی اولاد، سب کچھ چھن گیا تھا۔ لیکن اس بے بسی کے عالم میں ان کی زبان سے جو دعا نکلی، وہ ادب اور امید کا ایسا شاہکار ہے کہ پڑھنے والے کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ شکوہ نہیں کیا، گلہ نہیں کیا، بس اپنی کیفیت اللہ کے سامنے رکھ دی اور اس کی رحمت کو یاد کر لیا۔
"اور ایوب کو یاد کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا: مجھے دُکھ نے چھو لیا ہے، اور تُو تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔"
(سورۃ الانبیاء: 83)
لفظوں کا جادو:
دیکھیں، یہاں کتنا نازک لفظ استعمال ہوا ہے: "مَسَّنِىَ الضُّرُّ" یعنی مجھے دُکھ نے چھو لیا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "مجھے دکھ نے توڑ دیا" یا "تباہ کر دیا"۔ "مَسَّ" کا مطلب ہے چھونا، ہلکا سا لمس۔ یہ گویا اپنے مرضی کے مالک سے کہنا ہے کہ مولا، تیری طرف سے آنے والی ذرا سی تکلیف بھی مجھ جیسے بندے کے لیے بہت بڑی ہے، مگر میں جانتا ہوں یہ دائمی نہیں ہے۔ اور اس کے فوراً بعد، شکوے کی جگہ اللہ کی تعریف آتی ہے: "اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ"۔ یہ وہ یقین ہے جو مشکل کی رات میں صبح کی نوید سنا دیتا ہے، اور یہی یقین سننے والے کو رلاتا ہے۔
جب ماں کا دل دہل گیا
یہ منظر شاید قرآن کا سب سے جذباتی منظر ہے۔ ایک بھولا ہوا بچہ، ایک پریشان ماں، اور اللہ کی وہ مدد جو بے کسوں کے لیے آتی ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حکم ملا کہ اپنے ننھے سے بچے کو ایک ٹوکرے میں رکھ کر دریا میں ڈال دو، تو کسی ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اللہ نے اس کیفیت کو ایک لفظ میں بیان کر دیا ہے جو سنتے ہی دل دہل جاتا ہے۔
"اور موسیٰ کی ماں کا دل بے تاب ہو گیا، دھڑکنوں کے سوا خالی ہو گیا۔ قریب تھا کہ وہ اس راز کو فاش کر دیتی، اگر ہم اس کے دل کو سکون نہ دیتے، تاکہ وہ ہمارے وعدے پر یقین رکھنے والوں میں رہے۔"
(سورۃ القصص: 10)
لفظوں کا جادو:
یہاں لفظ "فَارِغًا" استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے "بالکل خالی"۔ گویا اس ماں کے دل میں اس کے بچے کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا، جیسے دل نام کا کوئی عضو ہی نہ رہا، بس ایک خ*ل رہ گیا ہو۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، جب دل دھڑکنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ لیکن پھر دیکھیں، اسی آیت میں امید کی کرن ہے: "لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" یعنی تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں رہے۔ اللہ نے یہ سب کچھ اس لیے نہیں کیا کہ وہ ٹوٹ جائے، بلکہ اس لیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرنے کی اس بلند ترین منزل تک پہنچے۔
جب پکارنے والا بے بس ہو جائے
قرآن قیامت کا جو منظر دکھاتا ہے، وہ انسان کو اپنی ہی غفلت پر رلا دیتا ہے۔ وہاں کا ایک منظر ایسا ہے جہاں ایک بندہ اپنا نامہ اعمال دیکھتا ہے، اور شرمندگی اور حسرت سے چیخ اٹھتا ہے۔ اس کی آواز میں وہ درد ہے جو صدیوں سے لوگوں کے دلوں کو کانپ رہا ہے۔
"تو جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: ہائے میری بربادی! کاش مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا! اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے! اے کاش! موت ہی میرا فیصلہ کر دیتی۔"
(سورۃ الحاقہ: 25-27)
لفظوں کا جادو:
یہاں لفظ "يَا لَيْتَنِي" یعنی اے کاش میں اور "هَلَكَ" یعنی ہلاکت اور بربادی کا استعمال وہ چیخ ہے جو انسان کے اندر سے نکلتی ہے۔ یہ محض پچھتاوا نہیں، بلکہ ایک ایسی تڑپ ہے جب واپسی کا کوئی راستہ نہ ہو۔ اور سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات: "يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ" یعنی کاش میرا کام ہی ختم ہو گیا ہوتا۔ یہ وہ حسرت ہے جب انسان اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے "عدم" کو "وجود" پر ترجیح دینے لگتا ہے، کیونکہ شرمندگی اور خوف ناقابل برداشت ہو چکا ہوتا ہے۔
آخر میں: دل کی گہرائیوں میں اترنے کی دعوت
یہ کلام محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ پیغام ہے جو آپ سے، آپ کے دل سے، آپ کے جذبات سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ آنسو کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ روح جاگ گئی ہے۔ جب قرآن کی یہ آیتیں آپ کے دل کے تاروں کو چھیڑیں، جب آپ کی آنکھیں نم ہونے لگیں، تو اپنے آپ کو نہ روکیں۔ یہ وہی لمحہ ہے جب یہ کلام اپنا اصل معجزہ دکھا رہا ہوتا ہے۔
آئیے، اس کلام کو صرف ہونٹوں سے نہیں، دل سے پڑھیے۔ اسے سمجھ کر محسوس کیجیے۔ دیکھیے کہ کیسے یہ آپ کی سوچ، آپ کی تنہائی، اور آپ کی پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ قرآن کو اٹھائیے، اور اس کی گہرائیوں میں اترنے کی ہمت کیجیے۔