#ظلم
#ظالم
حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت
میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی،
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرا چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بد کاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اس نے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا.. وہ الله کے بندوں، اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا۔ حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں۔ اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں آ کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا۔۔ ؟
جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی جسے زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گئے حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج،
جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا…
آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت سعید بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھو گئی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سب کو محفوظ رکھے..!! آمین"
مستند حوالہ جات:
1. سیر أعلام النبلاء – الذہبی (ترجمہ سعید بن جبیرؒ اور حجاج)
2. تاریخ الطبری (واقعاتِ حجاج)
حجاج کا طرزِ حکومت، ظلم، فتوحات اور واقعات مستند طریقے سے بیان کیے گئے ہیں۔
3. البدایہ والنہایہ – ابن کثیر (وفیات: حجاج اور سعید بن جبیرؒ)
دلچسپ و عجیب تاریخ
Islamic & General Knowledge
علم ایک لازوال اور قیمتی دولت ہے وہ خرچ کرنے سے گھٹتی نہ
#احاديث
حدیث کو نقل کرنے والے صحابہ کرام کے تین اقسام ہیں
1۔۔مکثرین صحابہ
ان صحابہ کرام کو کہتےہیں جن سے 1 ہزار سے زیادہ احادیث مروی ہیں
2 ۔۔متوسطین
ان صحابہ کرام کو کہتےہیں جن سے ہزار سے کم اور 5 سو سے زیادہ احادیث مروی ہیں
3۔۔مقلیلین
ان صحابہ کرام کو کہتےہیں جن سے 5 سو سے کم احادیث مروی ہیں
1۔۔۔مکثرین صحابہ کرام کی تعداد 7 ہیں اور ان سے مروی احادیث کی تعداد درج ذیل ہیں
1۔۔حضرت ابو ہریرہ 5374
2۔۔ضرت عبداللہ بن عمر 2630
3۔۔حضرت انس بن مالک 2286
4۔۔حضرت عائشہ صدیقہ 2210
5۔۔حضرت عبداللہ بن عباس1660
6۔۔۔حضرت جابر بن عبداللہ 1540(یہی وہ صحابی ہیں جنہوں نے ایک حدیث کی خاطر ایک ماہ کا سفر کیا تہا)
7۔۔حضرت ابو سعید خدری 1170
2۔۔۔متوسطین صحابہ کرام کی تعداد 4 ہیں اور ان سے مروی احادیث کی تعداد درج ذیل ہیں
1۔۔۔حضرت عبداللہ بن مسعود 848
2۔۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص. 700
3۔۔۔حضرت علی المرتضیٰ 586
4۔۔حضرت عمر فاروق 539
3۔۔مقلیلن صحابہ کرام کی صحیح تعداد معلوم نہیں
لیکن ان سے مروی احادیث کی تعداد درج ذیل ہیں
300سے لیکر 400 تک احادیث روایت کرنے والے روایان
1۔۔حضرت ام سلمیٰ 378
2۔۔حضرت آبو موسیٰ اشعری 360
3۔۔۔حضرت براء بن عازب 305
200 سے لیکر 300 تک احادیث روایت کرنے والے روایان
1۔۔حضرت ابو ذر غفاری 281
2۔۔۔حضرت سعد بن ابی وقاص 271
3۔۔حضرت امامہ باہلی 270
4۔۔۔حضرت حذیفہ بن یمان 225
100 سے لیکر 200 احادیث روایت کرنے والے روایان
۔1۔۔۔حضرت سہل بن سعد 188
2۔ حضرت عبادہ بن صامت 181
3۔ ۔حضرت عمران بن حصین 180
4۔۔حضرت ابو درادئ 179
5۔۔۔حضرت بریدہ الحصیب السلمی 176
6۔۔حضرت معاویہ بن ابو سفیان 173
7۔۔۔حضرت آبو قتادہ 170
8۔۔حضرت ابی بن کعب 164
9۔۔حضرت معاذ بن جبل 157
10۔۔حضرت ابو ایوب انصاری 155
11۔۔حضرت عثمان بن عفان 146
12۔۔حضرت جابر سمرہ بن 146
13۔۔حضرت ابوبکر صدیق 142
15۔۔حضرت مغیرہ بن شعبہ 136
16۔۔حضرت ابو بکرہ 132
17۔۔حضرت اسامہ بن زید 128
18۔۔حضرت ثوبان مولی رسول اللہ 128
19۔۔۔حضرت نعمان بن بشیر 114
20۔۔حضرت ابو مسعود انصاری 102
21۔۔حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی 101
نوٹ ۔۔۔ 100 سے کم احادیث روایت کرنے والے صحابہ کرام کا ذکر دوسرے پوسٹ میں کرینگے ان شاءاللہ
تیار کنندہ عتیق الرحمن دیروی میدانی 03048376691
۔
نوٹ ۔۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں نام کاٹ کر شیر نہ کریں شکریہ
تیار کنندہ عتیق الرحمن دیروی میدانی
03048376691
16/07/2025
#انبیاء کرام
#قبر
‼️ تحقیقِ حدیث: انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں!
▪حدیث:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
1⃣ یہ حدیث امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ میں روایت فرمائی ہے:
3425- حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». (مسند أنس بن مالك رضي الله عنه)
2️⃣ یہ روایت امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ’’حياة الأنبياء‘‘ میں روایت فرمائی ہے:
2. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ عَنِ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالَ: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ قَالَ: أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ: حدثنا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ: حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: حدثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ».
⬅️ حدیث کی تحقیق:
ذیل میں مذکورہ حدیث سے متعلق امت کے ائمہ کرام اور محدثین عظام کی تصریحات ذکر کی جاتی ہیں تاکہ یہ بات بخوبی واضح ہوجائے کہ مذکورہ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
1⃣ حضرت علامہ عبد الرؤف مناوی رحمہ اللہ نے ’’فیض القدیر‘‘ میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے:
3089: «الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون»؛ لأنهم كالشهداء بل أفضل، والشهداء أحياء عند ربهم .... وهو حديث صحيح. (حرف الهمزة: فصل في المحلى بأل من هذا الحرف)
2️⃣ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘ میں امام بیہقی رحمہ اللہ کے حوالے سے مذکورہ
حدیث ذکر کرکے اس کے راویوں کی توثیق بیان فرمائی، پھر فرمایا کہ: یہ حدیث ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ میں بھی اسی سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے، پھر فرمایا کہ: امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے:
وَقَدْ جَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ كِتَابًا لَطِيفًا فِي حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ فِي قُبُورِهِمْ، أَوْرَدَ فِيهِ حَدِيثَ أَنَسٍ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». أَخْرَجَهُ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، عَنِ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمد وابن حبَان، عَن الْحجَّاج الْأسود وَهُوَ بن أبي زِيَاد الْبَصْرِيّ وَقد وَثَّقَهُ أَحْمد وابن مُعِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْهُ. وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا أَبُو يَعْلَى فِي «مُسْنَدِهِ» مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ لَكِنْ وَقَعَ عِنْدَهُ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ وَهُوَ وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ: الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ كَمَا وَقَعَ التَّصْرِيحُ بِهِ فِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ، وَصَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ.
(باب قول الله تعالى: واذكر في الكتٰب مريم إذ انتبذت من أهلها)
3⃣ حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں مذکورہ حدیث کو صحیح قرار دیا ہے:
وَصَحَّ خَبَرُ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». (بَابُ الْجُمُعَةِ)
4⃣ حضرت علامہ سمہودی رحمہ اللہ نے ’’وفاء ُالوفاء‘‘ میں فرمایا ہے کہ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے ثقہ راویوں سے روایت کیا ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے:
وروى ابن عدي في «كامله» عن ثابت عن أنس رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون»، ورواه أبو يعلى برجال ثقات، ورواه البيهقي وصححه.
(الفصل الثاني في بقية أدلة الزيارة)
5️⃣ حضرت علامہ محدث ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں فرمایا ہے کہ اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں:
13812- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.
(باب ذكر الأنبياء صلى الله عليهم وسلم)
6️⃣ حضرت علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی رحمہ اللہ ’’شرح الزرقانی علی موطأ امام مالک‘‘ میں فرماتے ہیں کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے:
وَجَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ كِتَابًا لَطِيفًا فِي حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ، وَرَوَى فِيهِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». (بَابُ صِفَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَالدَّجَّالِ)
7️⃣ حضرت امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ’’فیض الباری شرح صحیح بخاری‘‘ میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امام بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کرکے اس کی تصحیح کی ہے، اور امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔
وفي «البيهقي» عن أنس وصححه ووافقه الحافظ في المجلد السادس: «أنَّ الأنبياء أحياءٌ في قبورهم يصلون». (باب رَفْعِ الصَّوْتِ فِى الْمَسَاجِدِ)
مذکورہ محدثین کرام اور اکابرِ امت کے علاوہ دیگر متعدد حضرات محدثین نے بھی اس حدیث کو صحیح اور اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔
⬅️ *وضاحتیں:*
1⃣ مذکورہ حدیث متعدد کتبِ احادیث میں روایت کی گئی ہے جن میں سے بعض کی سند کے بارے میں محدثین کرام نے کلام بھی کیا ہے، لیکن ماقبل میں جو امام ابو یعلی رحمہ اللہ کی ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ اور امام بیہقی رحمہ اللہ کی ’’حياة الأنبياء‘‘ کے حوالے سے جس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث ذکر ہوئی ہے تو اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جیسا کہ ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘ کے حوالے سے ان کی توثیق ذکر ہوئی، اور انھی دو کتب کی روایت کردہ حدیث سے متعلق ماقبل میں حضرات محدثین کرام رحمہم اللہ کی تصحیح بھی ذکر ہوئی کہ ان کی روایت کردہ حدیث صحیح ہے۔
اس تفصیل سے اُن لوگوں کی غلطی واضح ہوجاتی ہے کہ جو ’’مسند ابی یعلیٰ‘‘ اور ’’حياة الأنبياء‘‘ کی صحیح سند والی روایت کو چھوڑ کر ضعیف سند والی روایت پیش کرکے کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ واضح رہے کہ یہ مغالطہ ہے۔ مذکورہ حدیث کے راویوں کی توثیق اور اس سے متعلق وارد ہونے والے شبہات کے تفصیلی ازالے کے لیے دیکھیے کتاب: تسکین الصدور۔
2️⃣ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا اپنی مبارک قبروں میں نماز ادا کرنا کسی شرعی پابندی کے طور پر نہیں بلکہ لذت وسرور کے طور پر ہے۔
3⃣ زیرِ نظر تحریر میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی برزخی زندگی سے متعلق تفصیل بیان کرنا مقصود نہیں، بلکہ صرف اس سے متعلق مذکورہ حدیث کی تحقیق مقصود ہے، اس لیے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی بزرخی زندگی سے متعلق تفصیلات کے لیے بندہ کا رسالہ ’’موت، قبر اور برزخ سے متعلق بنیادی عقائد‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
29 جُمادی الآخرۃ 1442ھ/ 12 فروری 2020
08/07/2025
#فالج
یہ بات اپنے پیاروں تک لازمی پہنچائیں 👇
ہم سب عمر رسیدہ ہو رہے ہیں، اس لیے سب کو توجہ دینی چاہیے۔ براہِ کرم ایک منٹ نکال کر یہ مضمون پڑھیں۔ یہ آپ، آپ کے خاندان اور دوستوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
پرانے کلاس فیلوز کی ایک ملاقات تھی۔ ایک خاتون باربی کیو کے دوران ٹھوکر کھا کر گر گئیں۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ ڈاکٹر کو دکھایا جائے، لیکن وہ پُراعتماد تھیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی جوتی کی وجہ سے اینٹ سے ٹکرا گئیں۔ دوستوں نے ان کی مدد کی، صفائی کروائی اور کھانے کی پلیٹ دی۔ پھر وہ باقی وقت سب کے ساتھ خوشی سے گزارتی رہیں۔
مگر ملاقات کے بعد، ان کے شوہر نے سب کو اطلاع دی کہ انہیں اسپتال لے جایا گیا اور شام 6 بجے ان کا انتقال ہو گیا—باربی کیو کے دوران انہیں فالج کا حملہ ہوا تھا۔
اگر وہاں موجود لوگ فالج کی علامات پہچان لیتے، تو شاید وہ آج بھی زندہ ہوتیں۔
درحقیقت، فالج کی کچھ ابتدائی علامات ہوتی ہیں اور اسے روکا جا سکتا ہے۔ اگر آپ فالج کے مریض کو تین گھنٹوں کے اندر ہسپتال پہنچ دیں، تو وہ فالج کے اثرات کو مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں
راز یہ ہے کہ فالج کی علامات کو جلد پہچانا جائے اور مریض کو تین گھنٹوں کے اندر علاج فراہم کیا جائے—یہ مشکل نہیں۔
فالج کی شناخت کے لیے
یاد رکھیں تین آسان حروف: S، T، R
براہِ کرم پڑھیں اور سیکھیں!
اگر آپ کے اردگرد لوگ فالج کی علامات نہ پہچان سکیں، تو مریض کو شدید دماغی نقصان ہو سکتا ہے۔
تین آسان سوالات پوچھیں:
S: (Smile) مسکرائیں
مریض سے کہیں کہ وہ مسکرائے۔
اگر منہ کا ایک کونہ نیچے جھک جائے، تو یہ علامت ہے۔
T: (Talk) بات کریں
مریض سے کہیں کہ ایک سادہ جملہ بولے، جیسے:
"آج دھوپ والا دن ہے"
اگر جملہ بے ربط یا الجھا ہوا ہو، تو یہ بھی علامت ہے۔
R: (Raise) ہاتھ اٹھائیں
مریض سے کہیں کہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔
اگر ایک ہاتھ نیچے گر جائے، تو یہ بھی فالج کی علامت ہے۔
📌 نوٹ:
ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض سے کہیں کہ زبان باہر نکالے۔
اگر زبان ایک طرف کو مڑی ہوئی ہو یا ٹیڑھی ہو، تو یہ بھی فالج کی علامت ہے۔
اگر مریض ان چاروں میں سے کوئی بھی عمل نہ کر سکے، تو فوراً ایمبولینس یا اسپتال کو کال کریں اور علامات بتائیں۔
براہِ کرم اسے آگے بھیجیں!
22/04/2024
یہ 12 یہودی کمپنیاں 500 سے زیادہ برینڈز کی مالک ہیں
ان 12 کمپنیوں کے نام ازبر کرلیں، خریداری کرتے وقت صرف مینوفیکچرنگ کمپنی کا نام پڑھ لیں ، اس طرح اشیاء کی خریداری کرتے ھوئے ھمارا وقت بچے گا اور بائیکاٹ بھی موثر رھے گا۔ . .
#بائیکاٹ اسرائیل
21/04/2024
Darul Uloom Zakriya, Domel, Bannu
https://maps.app.goo.gl/JntAPvCjzdX6Y1zNA
حضرت اقدس مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
چار(4) باتوں کو اپنالو، بہترین انسان بن جاؤ گے۔
1۔ توحید کی آڑ میں انبیاء واولیاء کی توہین سے بچو۔
2۔ عقیدت و محبت کی آڑ میں شرک و بدعت سے بچو۔
3۔ تحقیق کی آڑ میں اسلاف پر تنقید سے بچو۔
4۔ دین کے مختلف شعبوں میں باہمی مقابلہ بازی سے بچو۔
اعلان
کل فیس بک کا نیا اصول شروع ہوگا جہاں وہ آپ کی تصاویر استعمال کر سکتے ہیں۔ مت بھولنا آج آخری تاریخ ہے!! اسے آپ کے خلاف قانونی کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے جو کچھ بھی پوسٹ کیا ہے وہ آج سے عوامی ہو جائے گا - حتیٰ کہ وہ پیغامات بھی جو حذف کر دیے گئے ہیں۔ ایک سادہ کاپی اور پیسٹ کے لیے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے، بہتر ہے کہ آپ محفوظ رہیں۔
---
میں Facebook یا Facebook سے وابستہ کسی بھی ادارے کو اپنی تصاویر، معلومات، پیغامات یا پوسٹس، ماضی یا مستقبل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں۔ اس بیان کے ساتھ، میں فیس بک کو مطلع کرتا ہوں کہ اس پروفائل اور/یا اس کے مواد کی بنیاد پر میرے خلاف انکشاف، کاپی، تقسیم یا کوئی اور کارروائی کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ رازداری کی خلاف ورزی پر قانون کے ذریعے سزا دی جا سکتی ہے۔
نوٹ: فیس بک اب ایک عوامی ادارہ ہے۔ تمام ممبرز ایسی وضاحت ضرور پوسٹ کریں۔
اگر آپ چاہیں تو اس ورژن کو کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کم از کم ایک بار بیان شائع نہیں کرتے ہیں، تو پروفائل اسٹیٹس اپ ڈیٹس میں آپ کی تصاویر اور معلومات کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
شیئر نہ کریں۔ صرف متن کو کاپی کریں اور پیسٹ کریں۔
ان کا نیا الگورتھم انہی چند لوگوں کو منتخب کرتا ہے - تقریباً 25 - جو پوسٹس پڑھیں گے۔
یہ نظام کو نظرانداز کرے گا۔
میں فیس بک کو اپنے بارے میں کچھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔! Copy
محترم والدین۔۔
جب بھی آپ کا بچہ آپ کو مخاطب کرے یا کوئی سوال پوچھے تو آپ اس کی آواز یا اس کے سوال کو اگنور ہرگز نہ کریں، بلکہ اس کی بات کو اس طرح عزت دیں اور اس طرح سنیں کہ جیسے کوٸی پراٸم منسٹر آپ سے بات کررہا ہو۔ یعنی اس کی بات کو اس حد تک اہمیت دیں۔
بچے کو کسی بھی کام کا کہتے ہوۓ نرمی سے کہیں۔ مثال کے طور پر اگر باپ بچے کو نماز کے لیے کہتا ہے، بلاشبہ نماز پڑھنا نیک اور پسندیدہ عمل ہے۔ لیکن اگر آپ بچے کو نماز پڑھوانے کے لئے شدید غصے کااظہار کرتے ہیں اسے مارتے ہیں تو ایسا تو ہوسکتا ہے کہ بچہ نماز پڑھ لے گا لیکن دل سے اور خشوع و خضوع سے نہیں پڑھے گا، یعنی آپ نے اپنی سختی سے اس کے اندر سے نماز کی رغبت کو چھین لیا ۔
ماڈرن نفسیات میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے بچے پر سختی کرنی بھی ہے تو کسی غلط کام کو چھڑوانے کے لیے کرسکتے ہیں لیکن کسی نیک کام کی طرف راغب کرنے کے لیے آپ کا بچے پر سختی کرنا اس کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
آپ کا لہجہ اور ٹون اونچی نہیں ہونی چاہیے ۔
مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ ” لہجہ الفاظ کا ڈی این اے ہوتا ہے۔“جب آپ کی ٹون آپ کا لہجہ سخت یا نا مناسب ہوتا ہے یا شدید غصے والا ہوتا ہے تو بچے کا دماغ منجمد یعنی فریز ہوجاتا ہے اور وہ آپ کی بات نہیں سمجھ پاتا ۔
آپ اپنی مثال لے لیں جب آپ سے کوٸی شدید غصے میں بات کرتا ہے تو آپ کو اس کی بات سمجھ نہیں آرہی ہوتی اور وہ آپ کی زہنی حالت کو تناؤ سے دوچار کردیتا ہے، اور پھر بچے تو نفسیاتی اعتبار سے بڑوں کی نسبت بہت ذیادہ حساس ہوتے ہیں ۔
ان سے نرم لہجے میں ہی بات کریں ۔ کیونکہ نرم لہجے کی تاثیر دل میں اترتی ہے اور بچہ وہ بات محبت اور شوق سے مانتا ہے۔
جیسا کہ علامہ اقبال کا ایک شعر ہے
” دل سے جو بات سے نکلتی ھے اثررکھتی ہے۔۔۔
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔“
اور سب سے اہم اور ضروری بات یہ کہ کوشش کریں کہ بچہ آپ کے ساتھ سیف زون میں رہے۔ اس کو اپنے والدین پر اتنا اعتماد ہو کہ وہ اپنی ہربات بلاجھجک ان سے شیٸر کرسکے ۔ بچے کی اپنے ساتھ بانڈنگ اتنی مضبوط بناٸیں کہ وہ ہربات میں پہلے آپ سےمشورہ کرے پھر اس پر عمل کرے۔۔۔
Copied from
wall
_*1 `اوّل کلــــ̲֠ـ̙֯͝ـ֩ـــمہ طیب`*_
_لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ؕ 🌸🤍_
_*`2 دوسرا کلــــ̲֠ـ̙֯͝ـ֩ـــمہ شہادت`*_
_اَشْھَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ؕ 🌸🤍_
_*`3 تیسرا کلــــ̲֠ـ̙֯͝ـ֩ـــمہ تمجيد`*_
_سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ الَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُؕ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ؕ 🌸🤍_
_*`4 چوتھا کلــــ̲֠ـ̙֯͝ـ֩ـــمہ توحید`*_
_لآاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًاؕ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِؕ بِیَدِہِ الْخَیْرُؕ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ ۵ؕ 🌸🤍_
_*`5 پانچواں کلــــ̲֠ـ̙֯͝ـ֩ـــمہ سید الاستغفار`*_
_اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْخَطَأً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِی لَآاَعْلَمُ، اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَ سَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیّ الْعَظِیْمِ ؕ 🌸🤍
_*`6 چھٹا کلــــ̲֠ـ̙֯͝ـ֩ـــمہ رد کفر`*_
_اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّ اَنَآ اَعْلَمُ بِہٖ وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ وَ تَبَرَّأْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِرْکِ وَالْکِذبِ وَ الْغِیْبَۃِ وَالْبِدْعَۃِ وَالنَّمِیْمَۃِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُھْتَانِ وَالْمَعَاصِیْ کُلِّھَا وَاَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ؕ
*_رمضان المبارک_*
12/03/2024
آج رات تمام مخلوقات کے لیے مغفرت کا عام پیکج ہے سوائے مندرجہ ذیل لوگوں کے۔
1۔والدین کا نا فرمان ،2۔کینہ پرور ،3۔شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا 4۔چغل خور5 ۔قاتل 6۔ شرابی 7
مشرک ۔
البتہ توبہ کرکے ان کی بھی مغفرت ہوسکتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Bannu