05/06/2026
بچوں کے درمیان مقابلہ بازی کی فضا قائم کرنا گویا کھیتی کو پانی دینے کے مترادف ہے، جس سے علم کے شجرے ہرے بھرے ہو جاتے ہیں اور قابلیتوں کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ یہی حال کا تھا، جہاں #پختون اور #الحیدر گروپ کے درمیان ایک ایسا طویل اور سخت مقابلہ ہوا کہ گویا دو شیریں نرے میدان میں آمنے سامنے تھیں۔ پختون گروپ کی باگ دوڑ #محمدانس کے ہاتھ میں تھی جبکہ الحیدر گروپ کی قیادت کر رہا تھا۔ مقابلہ شروع ہوتے ہی سوالات و جوابات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ فضا علمی جوش و خروش سے لبریز ہو گئی۔ ہر طرف سے ذہانت کے تیر اُڑ رہے تھے اور ہر بچہ اپنی فطری صلاحیتوں کے جوہر دکھانے میں سرشار تھا۔
آخر کار ایک طویل کھینچا تانی کے بعد الحیدر گروپ نے ادھے مارکس کے ساتھ بازی مار لی۔ بالکل ایسے جیسے آخری گھونٹ پانی کا پیاس بجھا دے۔ کی زیرِ قیادت اس گروپ نے نہ صرف فتح کی سربلندی حاصل کی بلکہ یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ پانی جہاں لگے، پھل وہیں پھلتے ہیں۔ ہارنے والے پختون گروپ نے بھی سرخرو ہو کر سبق سیکھا کہ صحت مند مقابلہ بازی جہاں پنپتی ہے، وہاں ہار جیت نہیں، بلکہ کردار سازی ہوتی ہے۔ یوں اس علمی مقابلے نے بچوں کو پروان چڑھایا، ان کے حوصلوں کو مضبوط کیا، اور ثابت کر دکھایا کہ مقابلہ بازی کی ہوا جہاں چلے، پھول ہی پھول کھلتے ہیں۔
کلاس انچارج
03339724204