The Echoes in the Balakot Valley 💔
The gates are locked, and the Kunhar flows past a building that no longer hears our names. It has been a year since the final bell rang at Bahria Foundation College Balakot, but for those of us who grew up within those walls, the silence is still heavy.
BFC Balakot wasn’t just a school; it was our heartbeat. It was where we braved the valley’s winter chills together and shared our dreams under the golden Balakot sun—a place that promised us the world while keeping us safe within these mountains.
To our Teachers: You gave us wings to fly far beyond these peaks, but you were always the ground we stood on.
To our Students: We are the living pulse of those empty hallways. The classrooms sit in shadows now, but the fire we lit there refuses to go out.
The gates are closed, but the mountains still whisper our names. We were more than a school; we were a family forged in the valley chill. The laughter in those halls has never truly faded—it just moved into our hearts.
Once a Bahrain, always a Bahrain.
If your heart is still wandering those silent corridors, drop a "💙" and share the one memory you’ll never let go of below. 👇
**بالاکوٹ کی وادی میں گونجتی یادیں** 💔
دروازوں پر تالے لگ چکے ہیں، اور دریائے کنہار اب ایک ایسی عمارت کے پاس سے گزرتا ہے جہاں اب ہمارا نام پکارنے والا کوئی نہیں۔ بحریہ فاؤنڈیشن کالج بالاکوٹ میں آخری گھنٹی بجے ایک سال بیت گیا، لیکن ہم جو ان دیواروں کے سائے میں پروان چڑھے، ہمارے لیے یہ خاموشی آج بھی بہت بوجھل ہے۔
بی ایف سی بالاکوٹ صرف ایک سکول نہیں تھا؛ یہ ہمارے دل کی دھڑکن تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں ہم نے وادی کی ٹھٹھرتی سردیاں ایک ساتھ گزاریں اور بالاکوٹ کی سنہری دھوپ تلے اپنے خواب بانٹے—ایک ایسی جگہ جس نے ہمیں ان پہاڑوں کی آغوش میں محفوظ رکھتے ہوئے پوری دنیا فتح کرنے کے حوصلے دیے۔
**اپنے اساتذہ کے نام:**
آپ نے ہمیں ان بلند چوٹیوں سے بھی آگے اڑنے کے لیے پر عطا کیے، لیکن حقیقت میں آپ ہی وہ زمین تھے جس پر ہم ہمیشہ ثابت قدمی سے کھڑے رہے۔
**اپنے طالب علموں کے نام:**
ہم ان خالی راہداریوں کی زندہ دھڑکن ہیں۔ کلاس رومز میں اب سائے چھائے ہیں، لیکن جو شمع ہم نے وہاں روشن کی تھی، وہ بجھنے سے انکاری ہے۔
بی ایف سی کے دروازے بند ہو چکے ہیں، مگر یہ پہاڑ آج بھی ہمارا نام پکارتے ہیں۔ ہم صرف ایک درسگاہ نہیں تھے؛ ہم وادی کی سرد لہروں میں تپتا ہوا ایک خاندان تھے۔ ان ہالوں میں گونجنے والے قہقہے کبھی ماند نہیں پڑے—وہ تو بس ہمارے دلوں میں بس گئے ہیں۔
**جو ایک بار بحرین بن گیا، وہ ہمیشہ کے لیے بحرین ہے۔**
اگر آپ کا دل اب بھی ان خاموش راہداریوں میں بھٹک رہا ہے، تو نیچے کمنٹ میں "💙" لکھیں اور اپنی وہ ایک یاد شیئر کریں جسے آپ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ 👇
Bahria Foundation College Balakot
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bahria Foundation College Balakot, School, Bahria Foundation College, Kunhar Garden Bela Garlat Balakot, Balakot.
If you are starting to think about your child's future then Bahria Foundation College Balakot is aiming to develop a truly inclusive,successful and diverse academic skills set with a global perspective,coaching and counseling,an nationally recognized and accredited academic qualification,to benefit from diversity of languages offered,to enhance skill development through award winning digital liter
پاکستان میں رہنے کے بیس اصول جن پر عمل کرنا لازمی ہے
میری ناقص رائے کے مطابق پاکستان میں زندگی گزارنے کے لیے کچھ ایسے اصول اور رویے اپنانا بے حد ضروری ہیں جو ہمارے معاشرتی نظام اور عمومی رویوں کے مطابق ہوں۔ یہاں کے معاشرتی، اقتصادی، اور سیاسی حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا ادراک نہ کریں اور حکمت عملی سے زندگی نہ گزاریں تو آپ کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپکو بیس ایسے اصولوں سے متعارف کرنے کی کوشش کی ہے جن ہر عمل کر کے آپ پاکستان میں اپنے لیے کئی آسانیاں پیدا کرسکتے ہیں اور غیر ضروری مشکلات سے بچ سکتے ہیں.
1. اپنی حیثیت اور طاقت کو پہچانیں:
پاکستان میں رہنے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ آپ اپنی حیثیت اور طاقت کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔ آپ جتنے بھی مضبوط ہوں، معاشرے میں اپنی حیثیت کو قبول کریں اور یاد رکھیں کہ آپ کے مقام سے بڑے لوگوں سے ٹکرانا آپ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ معاشرتی ہو، سیاسی ہو، یا معاشی طاقت کے حامل ہوں، ہمیشہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔ طاقتور لوگوں کے ساتھ الجھنے سے گریز کریں کیونکہ اگر وہ کوئی قدم اٹھا لیں تو آپ کو اس کا جواب دینے کی سکت نہیں ہوگی اور آپ مسائل میں الجھ سکتے ہیں۔
2. سڑک پر احتیاط برتیں:
پاکستان میں سڑکوں پر چلتے وقت خاص طور پر محتاط رہنا ضروری ہے۔ اگر آپ بائیک یا گاڑی چلا رہے ہیں تو بڑی گاڑیوں سے فاصلہ برقرار رکھیں، کیونکہ اکثر مہنگی گاڑیوں میں ایسے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی یا جائیداد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اگر آپ کسی بڑی گاڑی کے ساتھ حادثہ کرتے ہیں، تو یقین کریں کہ اس کا مالک یا ڈرائیور آپ کی زندگی کو تکلیف میں ڈال سکتا ہے، اور آپ کے پاس اس کا جواب دینے کا موقع بھی نہیں ہوگا۔ خاص طور پر پروٹوکول والی گاڑیوں سے دور رہنے کی کوشش کریں، کیونکہ ان کے ڈرائیور قوانین کی پرواہ نہیں کرتے اور ان سے الجھنا آپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر دو کروڑ کی گاڑی میں بندہ دو ٹکے کا ہوتا ہے اس لیے دو ٹکے کے بندے سے الجھنے سے گریز کریں.
3. سیاسی اور مذہبی بحثوں سے گریز کریں:
ہر ممکن کوشش کریں کہ آپ سیاسی اور مذہبی بحثوں میں نہ الجھیں ۔ چاہے یہ بحث فیس بک کی پوسٹ پر ہو، یا کسی دوست یا عزیز کے ساتھ، ہمیشہ یاد رکھیں کہ پاکستان میں اس وقت برداشت Tolerance کا فقدان ہے اور اکثر لوگ باتوں کو سمجھے بغیر جذباتی ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی وقت آپ کی بات پر ردعمل شدید ہو سکتا ہے، اور یہاں تک کہ آپ پر کوئی فتوٰی لگا دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اپنے خیالات کو اعتدال میں رکھیں اور ایسے مباحثوں سے بچیں جو آپ کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔
4. بڑا اصلاحی کردار ادا کرنے سے گریز:
یہاں آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ پورے معاشرے کو ایک بہتر نظام میں نہیں بدل سکتے۔ اس لیے انسانی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ضرور ادا کریں لیکن یہ کوشش نہ کریں کہ آپ ہر چیز کو ٹھیک کر سکیں گے۔ یہ یاد رکھیں کہ یہاں آپ کے چھوٹے سے عمل کو بھی غلط انداز میں لیا جا سکتا ہے اور آپ کو اس کے نتیجے میں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چھوٹے، عملی اقدامات کریں اور جہاں آپ کا اختیار ہے وہیں تک کام کریں۔
5. فیس بک اور سوشل میڈیا پر محتاط رہیں:
سوشل میڈیا پر خاص طور پر فیس بک پر سیاسی پارٹیوں یا پھر Establishment یا نظام پر تنقیدی پوسٹس یا تبصروں سے گریز کریں۔ حکومتی ادارے آپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ کس بات پر آپ کی پوسٹ ان کی نظر میں آ جائے اور آپ کے خلاف کارروائی ہو جائے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ چند جذباتی الفاظ آپ کے لیے مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر غیر ضروری مباحثوں میں الجھنے سے گریز کریں اور اپنی بات کو محتاط انداز میں پیش کریں۔جب حکومت یا اداروں کی طرف سے کچھ باتوں کو پسند نہیں کیا جاتا تو خوامخواہ چیمپین نہ بنیں.کوئی ادارہ کیسا ہے اور کیسا نہیں اس پر اپنی رائے ضرور رکھیں لیکن ہر جگہ نہ ڈھنڈورا پیٹیں اور نہ اپنا نظریہ یا رائے پھیلائیں. اگر پھیلانی ہے تو کوئی خیر کی بات پھیلائیں.
6. موبائل اور آن لائن فراڈ سے بچیں:
آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ آن لائن فراڈ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی آپ کو کم پیسوں میں زیادہ منافع کا وعدہ کرے، تو اس سے دور رہیں۔ 90 فیصد کیسز میں ایسی اسکیمز فراڈ ہوتی ہیں۔ اپنے اکاؤنٹ کی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، خاص طور پر اگر کوئی بینک یا حکومتی ادارہ بن کر آپ سے رابطہ کرے۔ ایسے کالز یا میسیجز کو فوراً نظرانداز کریں اور اپنے مالی معاملات کو محفوظ رکھیں۔
7. ملازمت کے ساتھ کچھ سیونگ بھی رکھیں :
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی ملازمت میں استحکام پیدا کریں۔ ملازمت کی سیکیورٹی اب بہت مشکل ہے، اور یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس اپنے چار مہینے تک کا خرچہ سیونگ میں ہو کیونکہ خدانخواستہ اگر آپ کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے، تو آپ اس سے نمٹ سکیں۔
8. اپنے پیسے کو Devalue ہونے سے بچائیں :
آپ کے پاس جو پیسے ہیں، انہیں صرف سیو کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ کہیں نہ کہیں سرمایہ کاری کریں۔ بچت کرنے سے پیسے کی قدر وقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہے، کیونکہ ہر روز بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے پیسہ ڈیپریشیٹ Depreciate ہو رہا ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ آپ سونے یا چاندی میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی قیمت ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے۔
9. ادھار تب دیں جب بھولنے کی ہمت ہو:
پاکستان میں مالی معاملات میں ایک سنہری اصول یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو ادھار دیتے ہیں، تو وہ اتنی رقم ہونی چاہیے جسے آپ دے کر بھول سکیں۔ آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر اوقات ادھار کی رقم واپس نہیں ملتی، اور اس پر دست و گریبان ہونے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ اپنے مالی معاملات میں محتاط رہیں اور اگر ادھار دیں بھی تو اس قدر رقم دیں جس کی واپسی کی آپ کو فکر نہ ہو۔
10. صحت کا خیال رکھیں:
آپکی صحت ایک قیمتی اثاثہ ہے، اور اس کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ یہاں علاج معالجہ مہنگا ہوتا جا رہا ہے، اور خدانخواستہ اگر آپ کو کوئی بیماری لگ جائے تو آپ کی زندگی اور مالی وسائل شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کریں یا کوئی سادہ ورزش کریں تاکہ آپ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھ سکیں۔ وقت نہ ہونے کا بہانہ مت بنائیں، کیونکہ آپ کے پاس زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ آپ کی صحت ہے، اور اس کے بغیر آپ کچھ نہیں کر سکتے۔
11. دوسروں کے ساتھ حسن سلوک رکھیں:
پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں حسن سلوک کی کچھ کمی ہے۔ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، چاہے وہ آپ کے ملازمین ہوں، دوست ہوں، یا کوئی اجنبی۔ نرمی اور احترام سے پیش آنا نہ صرف آپ کی عزت میں اضافہ کرے گا، بلکہ آپ کو معاشرتی طور پر بھی کامیاب بنائے گا۔
12. برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں:
پاکستان میں موجودہ صورتحال میں عدم برداشت بہت زیادہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے اندر تحمل پیدا کریں اور دوسروں کو بھی یہ سکھائیں۔ اپنے بچوں کو خاص طور پر اس بات کی تربیت دیں کہ وہ دوسروں کی بات سنیں اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے اکثر بچے یا بڑے کوئی ایسا قدم اٹھا لیتے ہیں جس سے ان کی زندگی اور والدین کی عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس لیے اپنے رویوں میں برداشت کو شامل کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تربیت دیں۔
13. تعلقات میں توازن رکھیں:
پاکستان میں زندگی گزارنے کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ آپ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھیں۔ چاہے وہ رشتہ دار ہوں، دوست ہوں، یا کام کے ساتھی، ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کسی سے ضرورت سے زیادہ توقعات نہ رکھیں اور اپنی حدوں کو پہچانیں۔ یہاں اکثر لوگوں کے درمیان تعلقات میں دی گئی قربانیوں اور کی گئی مہربانیوں کا بدلہ نہیں ملتا، اس لیے تعلقات میں حقیقت پسندانہ رہیں اور صرف اپنی استطاعت کے مطابق ہی دوسروں کی مدد کریں۔
14. معاشرتی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریں:
پاکستان میں اکثر لوگ معاشرتی دباؤ Societal Pressure کا شکار ہوتے ہیں۔ شادی، تعلیم، روزگار، اور مالی حیثیت کے بارے میں معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا ایک عام بات ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد دوسروں کی توقعات پر پورا اترنا نہیں، بلکہ اپنی خوشی اور سکون کو برقرار رکھنا ہے۔ اپنے فیصلے معاشرتی دباؤ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنے حالات اور وسائل کے مطابق کریں۔ آپ کو ہمیشہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے چاہئیں، تاکہ آپ کو بعد میں کسی پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
15. اپنی حفاظت کا خاص خیال رکھیں:
پاکستان میں سیکیورٹی کے مسائل ایک عام حقیقت ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔ رات کے وقت غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، اور اگر نکلنا ہو تو محفوظ راستے اور ذرائع استعمال کریں۔ اپنے گھر اور گاڑی کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات کریں، جیسے سی سی ٹی وی کیمرے اور لاک سسٹم وغیرہ۔ اس کے علاوہ، ان جگہوں سے دور رہیں جہاں سیکیورٹی کا خطرہ ہو، تاکہ آپ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچ سکیں۔
16. قانون سے آگاہی حاصل کریں:
پاکستان میں عام شہریوں کی اکثریت قانونی معاملات سے لاعلم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے حقوق اور فرائض کو جانیں اور بنیادی قوانین سے آگاہی حاصل کریں۔ اس سے آپ کو ناانصافیوں سے بچنے اور اپنے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ اگر کسی قانونی مسئلے کا سامنا ہو، تو فوراً کسی وکیل سے مشورہ کریں اور قانونی چارہ جوئی میں کسی قسم کی تاخیر نہ کریں۔
17. اپنی اولاد کو مناسب تربیت دیں:
اپنے بچوں کی زندگی اور دوستوں پر نظر رکھیں۔ اکثر والدین اپنے بچوں کے دوستوں اور سرگرمیوں سے لاعلم ہوتے ہیں، اور جب انہیں علم ہوتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہے ہیں، کیا دیکھ رہے ہیں، اور کس طرح کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس سے آپ اپنے بچوں کو برے اثرات سے بچا سکتے ہیں اور ان کی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں، انہیں اخلاقیات، ذمہ داری، اور سماجی اقدار سکھائیں۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کی اولاد آپ کی آئندہ نسل کا مستقبل ہے، اور ان کی اچھی تربیت ہی آپ کو معاشرتی عزت دلائے گی۔
18. وقت کی قدر کریں:
پاکستان میں جس چیز کی سب سے کم قدر کی جاتی ہے وہ ہے وقت ۔ وقت کی قدر نہ کرنا آپ کی زندگی میں ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمیشہ وقت کی پابندی کریں اور اپنے کاموں کو وقت پر مکمل کرنے کی عادت ڈالیں۔ یہ نہ صرف آپ کی شخصیت کو بہتر بنائے گا، بلکہ آپ کی ساکھ کو بھی مضبوط کرے گا۔ دوسروں کے ساتھ معاملات میں بھی اپنے وقت کا قیمتی ہونے کا بتا دیں تاکہ وہ آپکا وقت ضائع نہیں کریں.
19. محنت پر یقین رکھیں اور سیکھتے رہیں :
کسی دنیا میں آپ کہیں بھی ہوں آپکے لیے سب سے ضروری چیز ہے محنت کرنا اور سیکھتے رہنا میں. میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ شارٹ کٹس اور جلدی کامیابی کے چکر میں اپنے مقصد سے ہٹ جاتے ہیں۔ لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ مستقل مزاجی اور محنت ہی وہ راستہ ہے جو آپ کو دیرپا کامیابی دلائے گا۔ اپنے کام میں مستقل مزاجی اختیار کریں اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ہنر کو نکھاریں، تاکہ آپ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہو سکیں۔
20.گولڈن اصول:اپنا نیٹ ورک بڑھائیں
پاکستان میں حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور اثر و رسوخ آپ کی زندگی کو اس انداز میں شکل دیتے ہیں جو صرف قابلیت اور مہارت سے ممکن نہیں۔ چاہے آپ کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں، صحیح لوگوں کے ساتھ تعلقات آپ کے لیے وہ دروازے کھول سکتے ہیں جو عام حالات میں بند رہتے ہیں۔ ایک مضبوط نیٹ ورک بنانا صرف ایک سمجھداری نہیں، بلکہ ضروری ہے، خاص طور پر جب آپ کو کیریئر، کاروبار، یا ذاتی مسائل میں مشکلات کا سامنا ہو۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اثر و رسوخ آپ کو تیزی سے کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے، ایسے مواقع فراہم کر سکتا ہے جو دوسروں کو کبھی نہیں ملتے، اور مشکل حالات میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ چاہے نوکری کا حصول ہو، کاروباری معاہدے ہوں، یا قانونی اور انتظامی مسائل کا سامنا، صحیح لوگوں کی پہچان بہت فرق ڈال سکتی ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محنت اور قابلیت کی اہمیت نہیں ہے. یہ اپنی جگہ بہت اہم ہیں۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں تعلقات اکثر قابلیت پر سبقت لے جاتے ہیں، ایک طاقتور نیٹ ورک بنانا آپ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا نیٹ ورکنگ میں وقت لگانے سے نہ گھبرائیں چاہے وہ پروفیشنل ایونٹس، Social Gatherings ہوں یا کسی اور پلیٹ فارم پر لوگوں سے ملنے کا موقع ہو۔ آپ کبھی نہیں جانتے کہ کب یہ تعلقات آپ کے لیے اگلا بڑا موقع فراہم کریں یا کسی مشکل وقت میں آپ کی مدد کریں۔
میری ذاتی رائے میں ملک کے موجودہ حالات اور آئندہ حالات کے لیے بھی یہ اصول آپکے لیے کافی آسانی پیدا کرسکتے ہیں بس ان کو اپنانا شرط ہے.
اگر آپکو یہ پوسٹ پسند آئی یا اس سے کچھ سیکھنے کو ملا تو اسے دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں.
Copied
14/08/2025
" *گھر کیلئے ایک دستور اور قانون "*
--------------------------------
ڈاکٹر عبدالکریم بکار صاحب شامی شہری ہیں اور دنیا بھر میں اپنے منفرد مقالات کی بناء پر جانے پہچانے جاتے ہیں- چالیس سے زیادہ کتابوں کے مؤلف ہیں، سعودی عرب کی ہر یونیورسٹی میں پڑھا چکے ہیں۔ ۔ آپ کہتے ہیں:
💥 والدین اس انتظار میں نہ رہیں کہ تربیت گاہیں ان کی اولاد کو اچھا شہری بنائیں، انہیں خود اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا کہ اپنے بچوں کو معاشرے کا ذمہ دار فرد بنائیں۔
💥اچھا ہو کہ والدین گھروں میں کچھ ایسے ہلکے پھلکے قانون بنایں جن پر عمل کر کے بچوں کے کردار میں پختگی آئے اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔
اس ضمن میں چند واضح لائحہ عمل جو والدین کو مناسب لگیں وہ اختیار کریں یا ان میں ترمیم و اضافہ کر لیں۔
💠01: گھر کا ہر فرد نماز وقت پر ادا کرے -
💠 02: "مہربانی" اور "جزاک اللہ " کے کلمات بنیادی ضوابط ہونگے جن سے کوئی بھی بری نہیں ہوگا۔
💠 03: مار پٹائی، گالم گلوچ یا لعن طعن نہیں ہوگی-
💠 04: اپنے محسوسات اور خیالات ادب و احترام کے ساتھ بتایئے۔
💠 05: جو جس چیز کو (دروازہ، کھڑکی، ڈبہ) کھولے گا اُسے بند بھی کرے گا - کچھ گر جائے تو اُسے اٹھائے گا اور صاف کر کے رکھے گا -
💠 06: آپ کا کمرہ خالص آپ کی ذمہ داری ہے۔
💠 07: بات ٹوکے بغیر سنی جائے گی اور درمیان میں سے کوئی نہیں کاٹے گا۔
💠 08: دوسروں کے سامنے اتنے دھیمے لہجہ میں ہرگز گفتگو نہیں کریں گے کہ کوئی سن نہ سکے-
💠 09: گھر کے بزرگ/ والدین کوئ بات/مشورہ یا حکم دیں اسے ماننا ہو گا -
💠 10: گھر میں سلام کرنا ہوگا۔
💠 11: گھر کا ہر فرد روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرے گا۔
💠 12: جو ملنے آئے وہ قوانین کا احترام کرے۔
💠 13: گھر کا کوئی بھی فرد کمروں میں کچھ نہیں کھائے گا۔
💠14: رات کو (10:00) کے بعد کوئی نہیں جاگے گا۔
💠 15: فجر سے پہلے ہر بچے اور بڑے کو جاگنا ہو گا-
💠 16: سمارٹ فون اور ڈیوائسز a.m 9 کے p.m 9 درمیان استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اور 30 منٹ کے مسلسل استعمال کے بعد 1 گھنٹے کا وقفہ ضروری ہو گا-
💠17: والدین کا احترام ضروری ہوگا۔
💠 18: مل کر بیٹھنے کا وقت طے کیا جائے, کسی قسم کی مواصلاتی ڈیوائس (فون/پیڈ) کا استعمال منع ہوگا۔
💠 19: کھانے کے وقت سب کی حاضری اور شمولیت ضروری ہوگی۔
💠 20: رات کو (10 بجے) کے بعد کسی تعلیمی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔
💠21: گھر کے افراد گھر اور گھر میں موجود ہر شئے کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
💠 22: اپنا کام ہر کوئی خود کرے گا، دوسرے پر حکم نہیں جھاڑے گا- گھر کے سربراہان اپنا کام کسی کو کہہ سکتے ہیں -
💠 23: خاندان کی ضروریات کسی دوسری ضرورت پر مقدم ہونگی۔
💠 24: کسی کے کمرے یا علیحدگی والی جگہ پر دروازہ کھٹکھٹائے یا اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوگا۔
💠 25: مہمان کے آنے پر خوش اور انہیں خوش آمدید کہا جائے-
💠 26: مہمان کی خاطر مدارات کی جائے کیونکہ مہمان کے سامنے پیش کی جانے والی چیزوں کا اللہ کے ہاں حساب نہ ہو گا- مہمان اپنے ساتھ اللہ کی رحمت لاتا ہے -
💠 27 گھر میں روزانہ قرآنِ یا حدیث کے حوالے سے نشست ہوگئ جس میں گھر کے سب چھوٹے بڑے شریک ہونگے
*اس مضمون کو اہمیت دیں کیونکہ اولاد کی تربیت ایک مشکل کام ہے جسے ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹےکرنا ہے۔*
اسکے علاوہ اگر اولاد کو قرآن کی سورہ نبا، سورہ واقعہ، سورہ نور، سورہ یوسف اور سورہ کہف تفسیر کیساتھ حفظ کرادیں تو آپ انکی طرف سے بے فکر ہو سکتے ہیں۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ سائنس، ٹیکنالوجی یا کمپیوٹنگ میں کچھ کرے؟
کیا آپکا بچہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی نہیں لیتا؟
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپکے بچے میں تجسس Curiosity پیدا ہو؟
تو پھر یہ پوسٹ آپکے لیے ہے.
بارہ کتابیں جو ہر بارہ سال کے بچے کو لازمی پڑھنی چاہئیں.
ہمارا ایک بہت بڑا شکوہ ہے اور وہ یہ کہ ہمارا نظام تعلیم بہتر نہیں ہے یا اور ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر پروگرامنگ وغیرہ ابتدا سے نہیں سکھائی جاتی یا ایسی چیزیں بہتر طریقے سے نہیں سکھائی جاتی ہیں.ااب یہ شکوہ بجا ہے.
اب ہمارے پاس دو راستے ہیں یا تو ہم بھی اس نظام پہ تنقید کرتے رہیں اور اپنی ناکامیوں، اپنے بچوں کی ناکامیوں کا ذمہ اس پر ڈالتے رہیں یا پھر ہم خود اپنے طرف سے کچھ ایسا کریں جس سے ہم خود ذمہ داری لیں اور اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دیں.
اب مجھے نہیں پتہ کہ سکولز کیسی تعلیم دے رہے ہیں لیکن زیادہ تر سکولز میں تعلیم کا اچھا معیار نہیں ہے خاص طور پر انوویشن، کرییٹیوٹی، کمپیوٹرنگ وغیرہ کو لے کے کچھ خاص نہیں پڑھایا جاتا ہے. اسی مسئلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپکے بچوں کے لیے چند ایسی کتابیں ڈھونڈی ہیں کو کہ آپ کے بچے کت لیے پڑھنا لازمی ہیں.
یہ ایسی کتابیں ہیں جو آپکے بچے کی سائنس، کمپیوٹنگ اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی بڑھائیں گی اور اسے وہ سب سکھائیں گی جو اس عمر میں سیکھنا چاہیے. ان کتابوں کو پڑھ کر ہی آپکے بچے کے اندر کی Curiosity بڑھے گی اور یہ وہی Curiosity ہے جو سکول ختم کردیتا ہے.
یقین کریں یہ وہ کتابیں ہیں جن سے آپکے بچے ذہن ایک Scientific Mind بنے گا.
اس لسٹ میں شامل ہر کتاب ہی کمال کی کتاب ہے. آپ کی آسانی کے لیے ہر کتاب کو ایک لائن میں Summarize بھی کردیا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ کتاب میں سیکھنے کو کیا ملے گا. آپ اپنے بچے کی دلچسپی دیکھتے ہوئے اسے کسی بھی کتاب سے متعارف کراسکتے ہیں.
میرا مشورہ یہ ہے کہ اس لسٹ کی کم از کم دس کتابوں سے بچے کو ضرور متعارف کرائیں تاکہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو صحیح معنوں میں سمجھ سکے.
1. Everything You Need to Ace Computer Science and Coding in One Big Fat Notebook
یہ کتاب ایک بہترین گائیڈ ہے جو کمپیوٹر سائنس کے مشکل موضوعات کو بہت ہی سادہ اور دلچسپ انداز میں سمجھاتی ہے۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Programming Fundamentals:
بنیادی کوڈنگ تصورات جیسے variables، loops، اور functions کی وضاحت۔
Data Structures and Algorithms:
بنیادی ڈیٹا اسٹرکچرز (arrays, lists, stacks) اور algorithms کی آسان تشریح۔
Web Development:
HTML, CSS, اور JavaScript کا استعمال کرتے ہوئے ویب پیجز بنانا۔
Computer Science Theory:
کمپیوٹیشنل complexity اور problem-solving کے اصول۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کو پروگرامنگ اور کمپیوٹر سائنس کی دنیا سے متعارف کرواتی ہے، جو انہیں مستقبل کے لیے ضروری مہارتیں سکھاتی ہے۔
2. Coding for Kids: Python: Learn to Code with 50 Awesome Games and Activities
یہ کتاب بچوں کو Python پروگرامنگ سکھاتی ہے، وہ بھی گیمز اور سرگرمیوں کے ذریعے، جو اسے مزید دلچسپ بناتی ہے۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Basic Python Programming: variables، data types and loops
Game Development:
مختلف گیمز جیسے کہ نمبر guessing گیم اور text-based adventure گیم بنانا۔
Computational Thinking:
مسائل کو منطقی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینا۔
Problem Solving:
کوڈ لکھتے وقت مسائل کو حل کرنے کے مؤثر طریقے۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کے لیے آسان اور انٹرایکٹو طریقے سے کوڈنگ کی مہارت سکھاتی ہے، جو ان کی منطقی سوچ اور تخلیقی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔
3. Beginner's Step-by-Step Coding Course: Learn Computer Programming the Easy Way
اس کتاب میں ابتدائی پروگرامنگ کو آسان الفاظ اور Step by Step وضاحت کے ساتھ سکھایا گیا ہے۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Programming Basics: variables، loops، اور data types جیسے بنیادی تصورات کی آسان وضاحت۔
Algorithms and Data Structures:
بنیادی algorithms اور ڈیٹا اسٹرکچرز جیسے arrays اور lists کی وضاحت۔
Popular Programming Languages: Python، JavaScript، اور HTML جیسی زبانوں کا تعارف۔
Problem-Solving Techniques:
مسائل کو چھوٹے حصوں میں توڑ کر حل کرنے کی تکنیک۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بالکل ابتدائی سطح سے شروع ہوتی ہے، جو اسے نئے سیکھنے والوں کے لیے بہت موزوں بناتی ہے۔
4. Astrophysics for Young People in a Hurry
یہ کتاب فلکیات کے پیچیدہ موضوعات کو آسان اور دلچسپ انداز میں نوجوانوں کے لیے پیش کرتی ہے۔کتاب کے مصنف خود دنیا کے بہترین Astrophysicist میں سے ایک ہیں.
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Big Bang Theory:
کائنات کی ابتدا اور اس کے پھیلاؤ کی کہانی۔
Stars and Galaxies:
ستاروں کی زندگی، کہکشاؤں کی تشکیل اور dark matter کے راز۔
Black Holes:
بلیک ہولز کے بارے میں حیرت انگیز معلومات۔
Exoplanets:
ہمارے نظام شمسی کے باہر موجود سیاروں کی تلاش۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کو فلکیاتی دنیا کی سیر کرواتی ہے اور ان کے اندر سائنسی تجسس کو بڑھاتی ہے۔
5. 100 Easy STEAM Activities: Awesome Hands-On Projects for Aspiring Artists and Engineers
یہ کتاب سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹ، اور میتھ پر مبنی 100 دلچسپ اور عملی پروجیکٹس پیش کرتی ہے۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Science Experiments:
بجلی، مقناطیسیت، اور کیمسٹری کے سادہ تجربات۔
Engineering Projects:
سادہ مشینیں، روبوٹس، اور structures بنانا سکھاتی ہے۔
Art and Design:
مختلف تخلیقی سرگرمیاں جیسے ڈرائنگ اور پینٹنگ۔
Math Puzzles:
ریاضی کی پہیلیاں اور کوڈنگ کے بنیادی تصورات۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کو ہاتھ سے کام کرنے اور مسائل حل کرنے کی مہارت سکھاتی ہے، جو ان کی تخلیقی صلاحیت اور تجسس کو بڑھاتی ہے۔
6.Mistakes That Worked: 40 Familiar Inventions & How They Came to Be
یہ کتاب بتاتی ہے کہ دنیا کی بہت سی اہم ایجادات دراصل حادثاتی جا اتفاقی طور پر ہوئیں۔ یہ کتاب ایجاد اور تخلیق کے عمل میں غلطیوں کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Role of Serendipity:
اتفاقی دریافتوں کے بارے میں جانیں اور کیسے یہ کامیاب ایجادات میں بدل گئیں۔
Importance of Failure:
ناکامی کو سیکھنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھنا اور اس سے ہار نہ ماننا۔
Power of Persistence:
کامیاب ایجادات کے پیچھے مستقل مزاجی اور محنت کی اہمیت۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کو سکھاتی ہے کہ غلطیاں بھی نئی ایجادات کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، اور کبھی کبھی ناکامی بھی کامیابی کی طرف ایک قدم ہوتی ہے۔
7. How We Got to Now: Six Innovations That Made the Modern World
اس کتاب میں چھ ایسی انقلابی ایجادات کی تاریخ بیان کی گئی ہے جنہوں نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Timekeeping:
وقت کے پیمانوں کی ترقی، قدیم sundials سے لے کر جدید atomic clocks تک۔
Sound Recording:
آواز ریکارڈ کرنے کی ٹیکنالوجی کی ایجاد اور ارتقاء۔
Lighting:
آگ کے استعمال سے لے کر بجلی کی روشنی تک کا سفر۔
Imaging:
فوٹوگرافی، فلم، اور ڈیجیٹل امیجنگ کی تاریخ۔
Genetics:
ڈی این اے DNA کی دریافت اور بایوٹیکنالوجی پر اس کا اثر۔
Climate Change:
موسمیاتی تبدیلی کی سائنس اور اس کے چیلنجز۔
کیوں ہڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کو دکھاتی ہے کہ کیسے یہ چھ ایجادات ہماری دنیا کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
8. Stuff Matters: Exploring the Marvelous Materials That Shape Our Man-Made World
یہ کتاب مختلف مواد (materials) کی خصوصیات اور ان کے استعمال کو دلچسپ انداز میں بیان کرتی ہے، جیسے کہ دھاتیں، سرامک، پولیمر وغیرہ۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Material Properties:
مختلف میٹیریلزکی خصوصیات جیسے strength، durability، اور conductivity۔
Material Processing:
میٹیریل کی تشکیل کے مختلف طریقے اور تکنیکیں۔
Material Applications:
روزمرہ کی اشیاء اور جدید ٹیکنالوجیز میں مواد کا استعمال۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کو مواد کی سائنس سے متعارف کراتی ہے اور انہیں بتاتی ہے کہ مختلف مواد ہماری روزمرہ کی زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔
9. The Way Things Work
یہ ایک کلاسک کتاب ہے جو بچوں کو روزمرہ کے مشینوں اور آلات کے کام کرنے کے طریقوں کے بارے میں بتاتی ہے۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Simple Machines:
سادہ مشینیں جیسے levers، pulleys، wheels، اور inclined planes۔
Mechanical Systems:
مختلف سسٹمز جیسے gears، cams، اور linkages کی وضاحت۔
Energy Conversion:
توانائی کی ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیلی کے اصول۔
Electrical Circuits:
بجلی اور الیکٹرونکس کی بنیادی معلومات۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کو سادہ مشینوں اور الیکٹرونکس کی بنیادوں کے بارے میں سکھاتی ہے، جس سے ان کی انجینئرنگ کی مہارت بڑھتی ہے۔
10. What If?: Serious Scientific Answers to Absurd Hypothetical Questions
اس کتاب میں مختلف عجیب و غریب سوالات کے سائنسی جوابات دیے گئے ہیں، جو بچوں کے سائنسی تجسس کو بڑھاتے ہیں۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Physics:
حرکت کے قوانین، کشش ثقل، اور توانائی کے اصول۔
Chemistry:
مادے کی خصوصیات اور کیمیائی ردعمل۔
Biology:
زندگی کی سائنس اور ارتقاء کے اصول۔
Astronomy:
آسمانی اجسام اور کائنات کی تحقیق۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کے ذہن میں سوالات پیدا کرتی ہے اور انہیں سائنسی طریقے سے مسائل کا تجزیہ کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
11. The Science of Everyday Life: Why Teapots Dribble, Toast Burns and Light Bulbs Shine
یہ کتاب روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والی عام مگر دلچسپ سائنسی چیزوں کی وضاحت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، کیتلی سے پانی کیوں چھلکتا ہے، ٹوسٹ کیوں جلتا ہے، اور بلب کیوں روشن ہوتا ہے۔ کتاب میں فزکس، کیمسٹری، اور بایولوجی کی مدد سے ان سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Physics:
حرکت کے قوانین، کشش ثقل، اور توانائی کی روزمرہ کی مثالیں جیسے کہ گیند کیسے اچھلتی ہے۔
Chemistry:
کیمیائی ردعمل، مادے کی خصوصیات، اور فیز میں تبدیلی جیسے کہ پانی کیسے بھاپ بنتا ہے۔
Heat Transfer:
حرارت کی ترسیل کے تین اہم طریقے - conduction، convection اور radiation (تابکاری)۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب بچوں کی مشاہدہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور انہیں سکھاتی ہے کہ روزمرہ کی چیزوں کے پیچھے سائنسی راز کیا ہیں۔
12. Engineering for Teens: A Beginner's Book for Aspiring Engineers
یہ کتاب بچوں کے لیے انجینئرنگ کے بنیادی تصورات اور مختلف شعبوں کی وضاحت کرتی ہے۔ کتاب میں انجینئرنگ کے ڈیزائن کے عمل، میکانیکل، الیکٹریکل، سول، اور کیمیکل انجینئرنگ کی بنیادی باتیں شامل ہیں۔
بچے اسے کتاب سے کیا سیکھیں گے؟
Engineering Design Process:
مسائل حل کرنے اور چیزوں کو ڈیزائن کرنے کے لیے ایک منظم طریقہ کار۔
Mechanical Engineering:
قوتوں، حرکت، اور مشینوں کے ڈیزائن کے اصول۔
Electrical Engineering:
سرکٹس، بجلی، اور الیکٹریکلز کی بنیادی باتیں۔
Civil Engineering:
ڈھانچے، مواد، اور تعمیراتی اصول۔
Chemical Engineering:
کیمیائی عمل اور کیمیکل پلانٹس کا ڈیزائن۔
کیوں پڑھیں؟
یہ کتاب نوجوانوں کو مختلف انجینئرنگ فیلڈز سے روشناس کراتی ہے اور انہیں مسائل حل کرنے اور جدید ڈیزائن سوچ اپنانے کی ترغیب دیتی ہے۔
یہ کتابیں صرف سیکھنے کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ تجسس کو جلا بخشنے اور ہمارے ارد گرد کی دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہیں۔ چاہے وہ روزمرہ کی اشیاء کے پیچھے چھپے سائنسی راز ہوں، انجینئرنگ کے بنیادی تصورات کی تفصیل ہو، یا ایجادات میں غلطیوں کے کردار کو سمجھنا ہو، یہ تمام کتابیں بچوں کے لیے علم کی ایک نئی دنیا کھولتی ہیں جو ان کی زندگی بھر کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔
ان کتابوں کے علاوہ Big Fat Notebook سیریز بہت زبردست سیریز ہے جس میں Math, Science, Biology, Algebra کی بہت بہترین کتابیں شامل ہیں. مزید یہ کہ Chris Ferrie اور Jack Challoner کی کتابیں بھی بہترین ہیں.
آپ خود سے یہ کتابیں Library Genesis سے ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں. بہتر ہوگا کہ کتاب کوPDF سے پرنٹ کروالیں.
*Important Announcement*
*Empowering Minds: A Tribute to Ex Bahria Foundation College Balakot*
In loving memory of the incredible experiences and education we received at Bahria Foundation College Balakot, we're dedicated to sharing valuable educational content, resources, and tips that benefit both parents and students.
Our Mission:
Creating a supportive community where knowledge, ideas, and best practices come together to empower students and parents. Inspired by the values of our beloved institution, we aim to foster growth, learning, and development.
What to Expect:
- Student Success: Educational tips, resources, and study materials
- Parenting Support*: Guidance on supporting your child's learning journey
- Community Engagement: Opportunities for discussion, Q&A, and shared learning
- Useful Resources: Notes, links, and more to aid your educational pursuits
Join Us:
Let's build a valuable resource together! Follow us for updates, share with friends and family, and let's continue striving for knowledge and excellence, inspired by our alma mater.
Muhammad Hanif
Ex Principal
"BFC Balakot: A Legacy of Excellence, A Chapter Closed"
BFC Balakot's closure brings immense sadness. Definitely it is a profound loss for the city, leaving a void in the educational landscape. Wishing students, faculty, and staff strength, resilience, and brighter futures. May the cherished lessons and memories forever inspire, guide, and empower you.
Special thought for the students who were mid-way through their academic journey, the dedicated faculty & staff who've been pillars of support especially during my tenure, and the alumni who've made BFC proud. May you all find new avenues to pursue your passions and dreams, and the values and knowledge imparted by BFC will guide you. InshaAllah
Farewell, BFC Balakot. Your legacy will live on in the hearts of those you educated and inspired. May it inspire future generations to cherish and support quality education, empowering institutions that nurture minds and shape tomorrow's leaders.
بی ایف سی بالاکوٹ کی بندش سے بہت دکھ ہوا ہے۔ یقینی طور پر یہ شہر کے لیے ایک گہرا نقصان ہے، جس سے تعلیمی منظرنامے میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ طلباء، فیکلٹی، اور عملے کی طاقت، لچک، اور روشن مستقبل کی خواہش۔ اچھے اسباق اور یادیں ہمیشہ کے لیے آپکو بااختیار بناکر حوصلہ افزائی و رہنمائی فرمائیں ۔
ان طلباء کے لیے خصوصی فکر جو اپنے تعلیمی سفر کے درمیانی راستے پر تھے، سرشار فیکلٹی اور عملہ جو خاص طور پر میرے دور میں معاونت کے ستون رہے ہیں، اور سابق طلباء جنہوں نے BFC کو قابل فخر بنایا ہے۔ دُعا ہے کہ آپ سب اپنے جذبوں اور خوابوں کو آگے بڑھانے کے لیے نئی راہیں تلاش کریں، اور یقیناً BFC کی مہیا کردہ اقدار اور علم آپ کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔انشاءاللہ
الوداع، بی ایف سی بالاکوٹ۔ آپ کی میراث ان لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی جن کو آپ نے تعلیم دی اور متاثر کیا۔ یہ آنے والی نسلوں کو معیاری تعلیم کی قدر کرنے اور ان کی حمایت کرنے کی ترغیب دے، ایسے اداروں کو بااختیار بنائے جو ذہنوں کی پرورش کرتے ہیں اور آنے والے کل کے لیڈروں کو تشکیل دیتے ہیں۔
Muhammad Hanif
Ex Principal
22/02/2025
"Celebrating the incredible journey of our Grade 10 students! Grade 9 threw an epic farewell party, packed with games, giggles, delicious treats, and heartfelt goodbyes. "
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bahria Foundation College, Kunhar Garden Bela Garlat Balakot
Balakot
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 14:00 |
| Tuesday | 08:00 - 14:00 |
| Wednesday | 08:00 - 14:00 |
| Thursday | 08:00 - 14:00 |
| Friday | 08:00 - 12:15 |
| Saturday | 08:00 - 14:00 |