Umar Shafiq

Umar Shafiq

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Umar Shafiq, School, sangar, Balakot.

Photos from Umar Shafiq's post 09/05/2018
24/02/2018

I

23/11/2017
16/11/2017

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے ہر انسان کو اس کے والدین پالتے پوستے اور پروان چڑھاتے ہیں مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ دنیا کے ایسے چارانسان بھی ہیں جنہیں جانوروں نے پروان چڑھایا۔ ان میں یوکرین کی اوگزیا ملایا بھی شامل ہے۔ 1991میں یوکرائن میں اس وقت ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ ایک لڑکی جو کتوں کے ساتھ رہتی ہے اور ان ہی جیسی حرکت کرتی ہے۔جب انتظامیہ نے تحقیق کی تو معلوم ہوا ہے کہ اوگزانا ملائیا نامی یہ لڑکی کتوں کے ساتھ اس وقت سے رہ رہی تھی جب بچپن میں اس کے

شرابی خاندان اسے گھر کے باہر رکھ کر بھول بیٹھا، اوگزانا اس وقت صرف محض تین برس کی تھی۔ اتنے سال انسانوں سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے اس میں کتوں جیسی عادتیں پیدا ہو چکی تھی، وہ چار ٹانگوں پر چلتی اور بھونکتی تھی۔ اگر کوئی اس کے قریب آنے کی کوشش کرتا تو وہ کتوں کی طرح دانت نکال کر اس پر غرانے لگتی۔ ایک لڑکی کی کتوں جیسی حرکتیں اور کتوں کے ساتھ رہنے کی خبر نے تہلکہ مچا دیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ اوگزانا کو کتوں کے چنگل سے نجات دلا کر واپس انسانی تہذیب کا حصہ بنایا جائے۔ ریسکیو اہلکار جب اوگزانا کے قریب گئے تو اوگزانا کو اپنا سمجھنے والے کتوں نے اودھم مچا دیا اور انہوں نے ریسکیو اہلکاروں پر بھونکنا شروع کر دیا۔ گہرے مطالعے اور معاشرتی ماحول کے باعث اوگزانا کو انسانوں جیسا برتائو کرنے اور انسانوں جیسا بولنے کیلئے کئی سال لگ گئے تاہم وہ واپس انسانی تہذیب کی جانب لوٹ آئی۔ دوسرے نمبر پر میرینا چیپ مین سامنے آتی ہے جس کو بندروں نے پالا اور پروان چڑھایا۔ 1954میں محض پانچ سال کی عمر میں میرینا چیپ مین کو اغوا کر لیا گیا، میرینا کولمبیا میں اپنے خاندان کے ہمراہ مقیم تھی جب اسے اغوا کیا گیا۔ اغوا کاروں نے میرینا کو ایک ویران جنگل میں مرنے کیلئے چھوڑ دیا،میرینا اس جنگل میں بندروں کے قبیلے میں جا پہنچی۔ پانچ سال تک میرینا بندروں کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرتی رہی کہ وہ کیسے کھاتے ہیں، کیسے پیتے ہیں، کیسے رہتے ہیں اور کیسے بات کرتے ہیں۔ بالآخر بندروں نے میرینا کو اس طرح اپنایا کہ جیسے وہ ان کے خاندان کا حصہ ہو۔ بندروں نے میرینا کو سکھایا کہ زندہ رہنے کیلئے کس طرح سے دشمن کا سامنا کرنا چاہئے۔ کافی عرصےبعد ایک شکاری اسی جنگل میں شکار کر رہا تھا کہ اس کی بندروں کے ایک غول پر نظر پڑی تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ بندروں کے اس غول میں اس نے ایک برہنہ لڑکی کو بالکل بندروں کی طرح حرکات و سکنات کرتے دیکھا تھا۔ شکاری نے میرینا کو ایک بار پھر اس کے بندر خاندان سے جدا کرتے ہوئے اغوا کر لیا اور ایک مخصوص جگہ لے گیا جہاں اسے دوبارہ سے انسانی تہذیب میںواپس لانے کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ میرینا اس وقت دو بیٹیوں کی ماں ہے۔ میرینا کی بندروں کے ساتھ گزارے شب و روز جو کئی سالوں پر محیط تھے پر اس نے ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام اس نے ’’اے گرل وِد نو نیم ‘‘رکھا۔ تیسرے نمبر پر ایک لڑکا آتا ہے جسے اینڈس کی پہاڑیوں پر رہنے والی بکریوں نے پروان چڑھایا، یہ لڑکا 8سال تک بکریوں کے ساتھ وابستہ رہا، وہ بکریوںتک کیسے پہنچا اور وہ کیا حالات تھے جنہوں نے اسے اس کے والدین سے جدا کر دیا تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔ یہ لڑکا 8سال تک بکریوں کا دودھ پیتا رہا اور جڑی بوٹیاں کھا کر گزارا کرتا رہا۔ جب اسے دریافت کیا گیا تو یہ انسانوں سے بات یا کمیونیکیشن کے قابل نہ تھا البتہ بکریوں کے ساتھ اس کی کمیونیکیشن ہوتی تھی، یہ بھی نقل و حرکت کیلئے بکریوں کی طرح چار ٹانگوں کا استعمال کرتا،آٹھ سال تک بکریوں کی طرح رہنے اور برتائو کرنے اور ان کی طرح چلنے کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں فرق آچکا تھا اور وہ غیر متعدل ہو چکی تھی۔ کینسس یونیورسٹی نے اس لڑکے پر مطالعہ کیا اور اس کا نام ڈینئل رکھ دیا گیا۔ چوتھے نمبر پر جنگلی جانوروں کے ذریعے پروان چڑھنے والی تیسری لڑکی سامنے آئی ۔ جنوری 2007میں ایک خاتون نہایت سہمے اور ڈرے ہوئےبرہنہ حالت میں کمبوڈیا کے صوبے ریٹنا گیری میں دریافت ہوئی، اس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ قریبی گائوں کے ایک خاندان کی بیٹی تھی اور اس کا خاندان 20برس قبل نامعلوم وجوہات کی بنا پر اچانک غائب ہو گیا تھا۔ جب اس کا خاندان لاپتہ ہوا اس وقت اس کی عمر 8برس تھی، اس کا نام رشمون پیونگ یونگ تھا۔ اس کو کمبوڈیا کے ایک گھنے جنگل سے دریافت کیا گیا۔ اس سے متعلق کہا جاتا ہےکہ جنگل میں بہت سے جانوروں کے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے یہ زندہ رہ جانے میں کامیاب ہو سکی۔ ان جانوروں میں بندر بھی شامل تھے، یہ اندازہ اس لئے لگایا گیا کہ کیونکہ جب یہ دریافت ہوئی تو اس کا زیادہ تر چال چلن بندروں سے مشابہہ تھا۔ جب رشمون کا پتہ چلا تو اس کے والد نے اسے پہچان لیا جو کہ پولیس اہلکار تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب اس کے والد نے اسے پہچانا اس وقت یہانسانوں کے

Photos 07/08/2016
23/05/2016

کیا Pti ارو کیا ن لیگ ارو بات کیا نیا پاکستان اصل بات تو یہ ہے کے صرف ارو صرف یو سی گنھول تحصیل بلاکوٹ کے اندر ابھی تک اندازن 300 سکول تعمیر نہیں ہو سکے ارو earthquake کو 8سال گزر گے ہیں اس سے آپ حود ہی شوچ سکتے ہیں کے پورے پاکستان کا کیا حال ہو گا ارو اگر یہی نیا پاکستان ہے تو بھائی ہمارے لیے پرانہ ہی ٹھیک ہے 5 سال کی حکومت میں کچھ ہوتا نہیں ارو الیکش کے لیے نیا ارو پرانہے کی بات آجاتی ہے آپ یقین کرے کے اسا بہی ایک سکول ہے جس کی چار دیواری تو ہے پر Building نہیں

19/05/2016

اپنے پیارے وطن کی حالت ملاحظہ ہو۔ پانامہ پیپرز کی اشاعت کو آج 50 سے زائد دن ہوگئے۔ پیپرز کی اشاعت کے فوری بعد جن جن ممالک کے حکمرانوں کے نام آئے، وہاں لاکھوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلے۔ جن ممالک کے حکمران صفائی پیش نہ کرسکے، جیسے کہ آئس لینڈ کا وزیراعظم، وہ فوری مستعفی ہوگئے۔ جن ممالک کے حکمرانوں کے پاس اپنی صفائی میں مکمل دستاویزی ثبوت موجود تھے، جیسے کہ برطانوی وزیراعظم، وہ فوری طور پر پارلیمنٹ میں آئے، اپنے تمام اثاثہ جات کی تفصیل، ٹیکس ریٹرنز وغیرہ اراکین پارلیمنٹ اور میڈیا کو دکھائیں اور معاملہ ختم ہوگیا۔ پاکستان بھی ان 12 ممالک میں شامل تھا جس کے وزیراعظم نوازشریف کا نام پانامہ پیپرز میں گونجا۔ مہذب دنیا میں یہ دلیل کوئی نہیں مانتا کہ ان پیپرز میں نوازشریف نہیں بلکہ اس کے بچوں کے نام ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان بچوں کے پاس پیسہ ان کے حکمران باپ سے ہی آتا ھے۔ خیر، آئیں جائزہ لیں کہ پانامہ پیپرز کی اشاعت کے بعد پاکستان میں کیا کچھ ہوا: عمران خان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا جس میں پیپلزپارٹی اور میڈیا بھی شامل ہوگئے۔ نوازشریف نے قوم سے خطاب کرکے بتایا کہ ان پر اور ان کی فیملی پر الزامات اس سے پہلے بھی لگ چکے ہیں اور یہ کہ ان کی فیملی کے خلاف ہمیشہ انتقامی کاروائیاں کی گئیں۔ حکومت کی طرف سے تحقیقات شروع نہ کرنے کی وجہ سے عمران خان نے دباؤ بڑھایا تو نوازشریف نے ایک اور خطاب کرڈالا جس میں انہوں نے قوم کو بتایا کہ ان کے بچے پاکستان میں پیدا ہوئے اور ان کی بیوی بھی ایک پاکستانی ہی تھی۔ انہوں نے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا اعلان کرڈالا۔ اپوزیشن نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی مسترد کرکے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ نوازشریف نے دباؤ کی وجہ سے سپریم کورٹ کو ایک ڈھیلا ڈھالا ٹرمز آف ریفرنس بنا کر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کیلئے خط لکھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ترکی میں جشن کی تقریبات میں شرکت کیلئے ایک ہفتے کی چھٹی پر چلے گئے۔ اس دوران حکومت کے خط کا کوئی جواب نہیں دیا جاسکا۔ اس دوران وزیراعظم نے جلسے جلوس شروع کردیئے اور اندھا دھند نئے منصوبوں کی تختیوں پر لگے فیتے کاٹنے شروع کردیئے۔ اس میں ان کے ساتھ مولانا فضل الرحمان اتحادی بن گئے۔ اپوزیشن نے حکومتی ٹرمز کو مسترد کرکے ایک سوالنامہ تیار کیا اور اسے ٹرمز میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت کے خط لکھنے کے 3 ہفتے بعد سپریم کورٹ نے خط کا جواب دیا جس میں ٹرمز آف ریفرنس کو انتہائی بودا قرار دیتے ہوئے باقاعدہ بل پاس کرنے کا مشورہ دے کر جوڈیشل کمیشن بنانے سے معذرت کرلی۔ نوازشریف نے بالآخر اسمبلی میں تقریر کرنے کی حامی بھر لی۔ تقریر میں نوازشریف نے گلف سٹیل نامی شدنی چھیڑ دی جس نے مزید سوالات کو جنم دیا۔ تقریر میں نوازشریف نے اپنی فیملی کے بیانات کے برعکس کچھ اور ہی حقائق بیان کردیئے۔ تقریر کے آخر میں نوازشریف نے ایک پارلیمانی کمیٹی بنانے کی آفر کی جس کا کام ٹرمز آف ریفرنس بنانا تھا۔ کل حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں میں اس کمیٹی کو بنانے کیلئے 12 ممبران پر اتفاق ہوگیا۔ آج قومی اسمبلی میں اس کمیٹی کو قائم کرنے کا بل پیش ہونا تھا، جب بل پیش ہوا تو اس میں حکومت نے 12 کی بجائے 16 اراکین شامل کردیئے۔ وجہ پوچھنے پر بتایا کہ اس میں ایم کیو ایم کی نمائیندگی بھی شامل کی گئی۔ اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے یہ بل مسترد کردیا۔ اب سپیکر کے چیمبر میں حکومتی اور اپوزیشن نمائندے جمع ہیں جو کمیٹی بنانے کے بل پر نئے سرے سے مزاکرات کا آغاز کریں گے۔ یہ ھے پاکستان۔ پانامہ پیپرز کو 50 دن ہوگئے اور ہم ابھی تک تحقیقات شروع نہیں کرسکے۔ تحقیقات تو دور کی بات، ہم ابھی تک اس کمیٹی کے قیام پر بحث کررہے ہیں جو ٹرمز آف ریفرنس بنائے گی، پھر وہ پارلیمنٹ سے منظور ہوگا، پھر اسے سپریم کورٹ بھیجا جائے گا، پھر اس کا ریویو ہوگا، پھر سپریم کورٹ ایک کمیشن کے قیام کا جائزہ لے گی۔ پھر کمیشن بنے گا، اور تب جاکر تحقیقات شروع ہونگی۔ اب آپ کو پتہ چل جانا چاہیئے کہ کیوں پاکستان دنیا کے دوسرے ممالک سے ایک صدی پیچھے ھے اور ہر آنے والے دن ایک سال مزید پیچھے جاتا جارہا ھے

Want your school to be the top-listed School/college in Balakot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Sangar
Balakot