20/04/2025
"سبزی تولتے وقت اگر مکھی کانٹے پر بیٹھ جائے تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
یہی مکھی اگر سونا تولتے وقت کانٹے پر بیٹھ جائے — اس کی قیمت 10، 20 ہزار کی ہو جائے گی۔
یہاں وزن معنی نہیں رکھتا، تم جس جگہ بیٹھے، وہی ضروری ہے۔
اسی لیے اچھے محفلوں میں بیٹھا کرو اور اپنا وقار بحال رکھو۔" ______________
13/03/2025
شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔
اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار, کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی, کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں "تھاکوٹ" تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اسکو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ چلاس کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔ رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور, دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ, کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی, سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر, اشکومن, غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔ گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپکو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نہ دباتا ہو۔ "پاسو کونز" اس بات کی بہترین مثال ہیں۔ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی, التر, بتورہ, کنیانگ کش, دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔عطاآباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک مصنوعی لیکن انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔سست کے بعد شاہراہ قراقرم کا پاکستان میں آخری مقام خنجراب پاس آتا ہے۔سست سے خنجراب تک کا علاقہ بے آباد, دشوار پہاڑوں اور مسلسل چڑھائی پر مشتمل ہے۔ خنجراب پاس پر شاہراہ قراقرم کی اونچائی 4,693 میٹر ہے اسی بنا پر اسکو دنیا کے بلند ترین شاہراہ کہا جاتا ہے۔ خنجراب میں دنیا کے منفرد جانور پائے جاتے ہیں جس میں مارکوپولو بھیڑیں, برفانی چیتے, مارموٹ, ریچھ, یاک, مارخور اور نیل گائے وغیرہ شامل ہیں۔اسی بنا پر خنجراب کو نیشنل پارک کا درجہ مل گیا ہے۔اس سڑک پر آپکو سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پتھریلے و بنجر پہاڑی سلسلے اور دیوقامت برفانی چوٹیوں, دریاؤں کی بہتات, آبشاریں, چراگاہیں اور گلیشیئر سمیت ہر طرح کے جغرافیائی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں یہ قدرتی حسن کا بیش قیمت تحفہ خداوندی ہے جو نا صرف آپکا سفر خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آپ کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے.ظہیر شاہ زاری،
پاکستان زندہ باد ❤️ میں آپ کو پاکستان🇵🇰 کے خوبصورت اور دلکش خطے دکھاؤں گا وہ بھی حیرت انگیز معلومات کے ساتھ میرے اس اکاؤنٹ کو بھی جلد سے جلد فالو کریں شکریہ تاکہ آپ تک میری پوسٹ باسانی پہنچ سکے جزاك اللّٰه خيرًا🏔🏞🗻
Please Like & follow the Page.
26/02/2025
ہم تمام پوزیشن ہولڈرز اور ان کے والدین کو سالانہ امتخان میں بہترین نمبرات/پوزیشن حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور جن طلباء/طالبات کے نمبرات کم آۓ ہیں اس کے والدین سے گزارش کرتےہیں کہ اپنے بچوں پر حصوصی توجہ دیجیے وہ بچے بھی کسی سے کم نہیں اگروہ محنت کریں تووہ بھی اس مقام تک جاسکتے لیکن تھوڑا سے محنت کے ضرورت ہیں۔
منجانب:-پرنسپل و جملہ سٹاف
ضیاء سمارٹ سکول سسٹم ڈبر
24/02/2025
۔ میں سال 26-2025 کیلئے داخلے جاری ہے۔
Welcome to a new kids
Mena Nazeer.
09/02/2025
آپ اپنا دماغ استعمال کریں، اسے ضائع نہ کریں۔ بے جا فکریں، جلدی ناراض ہونا، زیادہ غصہ کرنا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جانا، ہر وقت ناشکری کرنا یا اپنی نعمتوں کی قدر نہ کرنا—یہ سب دماغ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ شکر گزاری دل، دماغ، روح اور ہر شے کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
29/01/2025
🌹*اسلام_علیکم*🌹
معزز والدین حضرات، اساتذہ اکرام اور پیارے طلباء توجہ فرماٸیں۔
ضیاء سمارٹ سکول سسٹم ڈبر کے تمام طلبہ و طالبات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ موسم سرما کی تعطیلات 31 جنوری سے ختم ہورہی ہیں لہذا تمام والدین/سرپرست سے گزارش ہے کہ یکم فروری 2025 بروز ہفتہ اپنے بچوں کو یونیفارم/مکمل بیگ کیساتھ اس کا/کی حاضری یقینی بناٸیں تاکہ بچے تعلیمی نقصان سے بچ سکے۔
Dated 01/02/2025
Time:- 8:00 AM
شکریہ
منجانب:-
04/11/2024
آج ہمارے اسکول میں خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے بچوں کے پیٹ کے کیڑے مارنے کے لیے دوائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس پروگرام کا مقصد بچوں کی صحت کو بہتر بنانا اور ان میں غذائیت کی کمی کو دور کرنا ہے۔ پیٹ کے کیڑے بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ بنتے ہیں، اور اس طرح کے اقدامات بچوں کو صحت مند اور متحرک رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ خیبر پختونخواہ حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے، جو بچوں کی صحت اور بہتر مستقبل کے لیے سنجیدہ کوششوں کا حصہ ہے۔
24/09/2024
Top Three Shining Stars in the School.
Sajjad Ahmad 1st Position
Kifayatullah 2nd Position
Sohail Khan 3rd Position
23/09/2024
ہم تمام پوزیشن ہولڈرز کواور ان کے والدین کو میڈ ٹرم امتخان میں بہترین نمبرات/پوزیشن حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور جن طلباء/طالبات کے نمبرات کم آۓ ہیں اس کے والدین سے گزارش کرتےہیں کہ اپنے بچوں پر حصوصی توجہ دیجیے وہ بچے بھی کسی سے کم نہیں اگروہ محنت کریں تووہ بھی اس مقام تک جاسکتے لیکن تھوڑا سے محنت کے ضرورت ہیں۔
منجانب:-پرنسپل و جملہ سٹاف
ضیاء سمارٹ سکول سسٹم ڈبر
18/08/2024
ہم تمام پوزیشن ہولڈرز اور ان کے والدین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
منجانب:-پرنسپل و جملہ سٹاف
ضیاء سمارٹ سکول سسٹم ڈبر