Ziaulquranacademy

Ziaulquranacademy

Share

I teach holy quran online, you can contact me on these emails [email protected] m_saa

06/03/2020

کیا ترجمہ کے بغیر قرآن مجید پڑھنے سے فیض حاصل ہوتا ہے؟

30/11/2019

خواجہ معین الدین چشتی رح سے کسی نے پوچھا کہ آپ بھی اللہ کے ولی ہیں اور علی مولا ؑ بھی اللہ کے ولی ہیں آپ کی اور مولا علیؑ کی ولائیت میں کیا فرق ہے ؟
معین الدین چشتی نے سوال کرنے والے سے پوچھا تم کرتے کیا ہو وہ بولا میں ذمیندار ہوں کافی رقبے کا مالک ہوں اسی سوال کرنے والے کے ساتھ دوسرا آدمی بھی تھا اس سے پوچھا تم کیا کرتے ہو اس نے کہا اسی زمیندار کے زمین پر مزارع ہوں ہل چلاتا ہوں
معین الدین چشتی نے کہا جو فرق زمیندار اور مزارع کے منصب میں ہے وہی فرق میری اور مولا علیؑ کی ولائیت میں ہے علیؑ ولائیت کی زمین کے مالک ہیں اور ہم انکے مزارع - ہمارا کام زمینِ ولائیت میں ہل چلانا ہے ولائیت کی فصل کے مالک مولا علی ؑ ہیں جس کو چاہیں خیرات عطا کر دیں اسی لیئے سب اولیاء کہتے ہیں کہ ہمیں ولائیت علی ؑ کی بارگاہ سے ملی اور اسی لیئے مولا علیؑ کو سید الاولیاء کہا جاتا ہے

تذکرہ محبوب
ص 221

ماجد

30/11/2019

فلسفہ شہادت سیدنا حضرت امام حسین پاک رضی اللہ عنہ
(تاریخ کے آیینہ میں
شیر خدا کی شیر دل بیٹی
یہ سارے مناظر دل فگار تھے مگر اگلی منزلیں مشکل تر تھیں۔ قافلہ اہلِ بیت کو یزید کے دربار میں لے جانے کے لیے کربلا سے دمشق کی جانب سفر شروع ہوا تو یزیدی فوجوں کے حصار میں اسیرانِ اہلِ بیت کو پہلے کوفے کے ظالم گورنر عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا۔ قافلے کا گزر کوفے کے بازاروں میں سے ہوا تو بے وفاکوفی ہزاروں کی تعداد میں اس منظر کو دیکھنے کے لیے گھروں سے نکل آئے ۔ اس موقع پر حضرت زینبؓ سے کوفیوں کی عہد شکنی اور غداری پر خاموش نہ رہا گیا ۔ انھوں نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ا ے دھوکے بازو! بدعہدی کرنے والو! خدا تمھیں کبھی سکون عطا نہ کرے ۔ تم نے میرے بھائی کے ساتھ جو غداری کی اس نے ثابت کر دیا کہ تمھارے خمیرمیں خیر نہیں۔ تم خوشامدی اور بزدل ہو۔ نواسہ رسول کے قتل میں تم بالواسطہ شریک ہو۔ تم نے بیعت کر کے توڑ دی اور حمایت کا اعلان کر کے پیٹھ پھیر گئے۔ یاد رکھو تم خدا کے قہر سے نہ بچ سکو گے۔دمشق پہنچنے سے پہلے کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ میں دربار منعقد کیا اور اسیرانِ کربلا اس کے سامنے پیش کیے گئے۔
بدبخت عبیداللہ بن زیاد نے اس مصیبت زدہ اور غم سے چور خانوادہ رسول کے قافلے کو اذیت پہنچانے کے لیے بہت بے ہودگی اور یاوہ گوئی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے یہ الفاظ تاریخ کے صفحات میں خود تاریخ کے لیے اذیت کا باعث ہیں۔ اس نے کہا: خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم لوگوں کو رسوا کر دیا اور تمھاری منحرف سوچ کو نیچا دکھا دیا۔ شیر خدا کی بیٹی اس دہشت گردی کے عالم میں بھی بے خوف کلمہ حق بلند کرتے ہوئے بولیں: تعریف اور حمدو شکر ہے اس ہستی کے لیے جس نے اپنے محبوب رسول کے ذریعے ہمیں عزت بخشی۔ ان شاءاللہ فساق رسوا اور ذلیل ہوں گے اور ان کے نظریات لعنت زدہ قرار پائیں گے۔ یہ گفتگو بڑی طویل تھی۔ عبیداللہ بن زیاد جب زچ ہوگیا تو اس نے علی بن حسین (امام زین العابدین ) کی طرف اشارہ کر کے کہا: اس لڑکے کو کیوں قتل نہیں کیا گیا ؟ اسے میرے سامنے قتل کر دیا جائے۔ حضرت زینبؓ اپنے بھتیجے سے لپٹ گئیں اور فرمایا : پہلے مجھے قتل کرو ، پھر اسے قتل کرنا۔
کوفہ سے شام روانگی
آخر ابنِ زیاد نے اپنا فیصلہ بد ل لیا اور یہ قافلہ کوفہ سے شام کی طرف سرکاری دستوں کے محاصرے میں روانہ کر دیا گیا۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد یہ مظلوم یزید کے دربار میں پیش کیے گئے۔ نواسہ رسول کا مبارک سر جسے آنحضورپیار سے بوسہ دیا کرتے تھے نیزے کی انی پر پرویا ہوا تھا۔ یزید کے دربار میں ان مظلوموں کو پیش کیا گیا تو اس نے امام کا سر دیکھ کر کہاکہ میں نے اسے نیزے پر پرونے کا حکم نہیں دیا تھا۔ یہاں بھی یزید کے ساتھ جو مکالمہ ہوا،اس میں حضرت زینبؓ نے کمال حکمت و دانش اور جراءت و بہادری کے ساتھ اس کے تمام اعتراضات و خرافات کا بھر پور جواب دیا۔ یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ نے ایک موثر اور دردناک خطاب فرمایا۔ اس میں انھوں نے یزید کو باور کرایا کہ اپنے زعم میں وہ سمجھ رہاہے کہ اسے کامیابی مل گئی اور اہلِ بیت سرنِگوں ہو گئے، مگر حقیقت میں اہلِ بیت کا کوئی نقصان نہیںہوا بلکہ یزید اور اس کے پورے ٹولے نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لیاہے ۔
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد
سفر جانبِ مدینہ!
کچھ دن یزید نے ان لوگوں کو دمشق میں ٹھہرائے رکھا، پھر اس نے حکم دیا کہ ان خواتین کو سواریوں پر سوار کیا جائے اور مدینہ تک بحفاظت پہنچایا جائے۔ یزید نے صحابی رسولحضرت نعمان بن بشیرؓانصاری کو جو دمشق میں مقیم تھے، ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنی نگرانی میں قافلے کو مدینہ تک پہنچائیں۔ اونٹوں پر محمل رکھے گئے تھے۔ حضرت زینبؓ نے فرمایا کہ محملوں پر سیاہ چادریں ڈال دی جائیں۔ اس لیے کہ محملوں میں حضور کی بیٹیاں سوار تھیں اور سفر لمبا تھا۔ ان کو یہ سفر پردے میں کرنا تھا کہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ یہ خاتونِ جنت کی بیٹیاں تھیں جنھوں نے فرمایا تھا کہ ان کے جنازے کے وقت چشمِ فلک بھی ان کے کفن کو نہ دیکھ سکے۔ واقعاتِ کربلا کی خبر مدینہ منورہ پہنچ چکی تھی۔ جب یہ قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو مدینہ میں موجود صحابہؓو تابعینؒ اور اہلِ مدینہ بڑی تعداد میں ان کے استقبال کے لیے شہر سے باہر نکلے۔ مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓسب سے آگے آگے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ فرما رہے تھے کہ یہ قوم اپنے نبی کو روز قیامت کیا منہ دکھائے گی؟ اپنے غم خوار رشتے داروں اور ناناحضورکے جانثار صحابہ کو دیکھ کر حضرت زینبؓ بھی رونے لگیں۔ حضرت جابرؓکو خطاب کر کے کہا: اے میرے ناناکے صحابی! آپ نے جس بچے کو اپنے ہاتھوں سے اپنے آقا کے مبارک کندھوں پر کئی بار بٹھایا تھا، اس کا جسد اطہر گھوڑوں کے سموں سے کچلا گیا اور اس کا سر نیزے کی نوک کی زینت بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی حضرت زینب ؓ پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور وہ گر گئیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب حضرت زینبؓ فرطِ غم سے غش کھا گئیں۔ انھیں اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا۔ پورے مدینہ پر غم کی چادر تن گئی اور ہر گھر میں بڑے چھوٹے، مرد و خواتین سبھی زارو قطار روئے۔ اگلے دن حضرت زینبؓ مسجد نبوی میں تشریف لے گئیں۔ آنحضورکے روضہ مبارک پر حاضر ہوئیں اور صلوٰة و سلام عرض کرنے کے بعد اس پورے منظر کو بیان کیا جس سے آل رسول دوچار ہوئی تھی۔ اس موقع پر بھی سب لوگ رونے لگے مگر حضرت زینبؓ نے آج اسی انداز میں لوگوں کو صبر کی تلقین کی جس انداز میں شبِ کربلا میں ان کے محبوب بھائی نے انھیں تلقین فرمائی تھی۔
عظمت ہی عظمت
بناتِ اہلِ بیت کا ایک واقعہ بعض مورخین نے حضرت زینبؓ کی سیرت میں بیان کیاہے جو اہلِ بیت کی عظمتوں کو مزید واضح کرتاہے۔ حضرت زینبؓ اوران کی دوسری بہنوں نے صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیرؓکو بلایا۔ ان کے حسن سلوک اور غم خواری کا شکریہ ادا کیا اور دوران سفر ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر اپنی چوڑیاں اتار کر پیش کر دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ اس وقت ہمارے پاس کچھ اور ہوتا تو وہ بھی آپ ؓکی خدمت میں پیش کر دیا جاتا۔ حضرت نعمان بن بشیرؓیہ بات سن کر زارو قطار روئے اور کہا: اے بنات ِرسول!خدا کی قسم میں تو آپؓ کی خدمت کو اپنے لیے توشہ آخرت سمجھتا ہوں۔ اگر میں نے دنیا کے لالچ میں یہ کام کیا ہو تو مجھے قیامت کو کیا اجر ملے گا۔ اللہ آپ کے غموں کا مداوا فرمائے۔ آپؓاپنی چوڑیاں اپنے پاس رکھیں۔
قافلہ کربلا اور حضرت زینبؓ کی یہ داستانِ خونچکاں طویل ہے۔ حقیقی واقعات ہی اتنے اندوہناک ہیں کہ انسان کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے حقیقت میں افسانہ بھی بہت زیادہ شامل کر دیاہے۔ ہم نے واقعات کو مختصر انداز میں مستند ذرائع سے نقل کر دیاہے۔ امتِ مسلمہ کا المیہ دیکھےے کہ خانوادہ رسولکے ساتھ یہ ظلم ڈھانے والے اسی رسولکا کلمہ پڑھتے تھے۔ ان واقعات کے بارے میں بعد کے ادوار میں دو گروہ پیدا ہو گئے۔ ایک افراط کا شکار ہوا، دوسرا تفریط کا۔ کچھ لوگوں نے مبالغے کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے من گھڑت واقعات بھی حقیقی واقعات میں گڈ مڈ کر دیے ۔ داستان گوئی اور اس میں سب و شتم کا ایسا ماحول پیدا کیا کہ اس سے شانِ اہلِ بیت بڑھانے کی بجائے عملاً ان کی پاکیزہ سیرتوں کو مسخ کر دیا گیا۔ دوسرے گروہ کی شقاوت بھی دیدنی ہے۔ وہ ان اہلِ حق مظلوموں کے حقیقی سانحات کو بنظرِ تشکیک دیکھنے لگے۔ ان کو اس قافلہ حق کی نسبت ظلم کا کوڑا برسانے والوں کا موقف اچھا لگا اور انھوں نے نہایت دیدہ دلیری سے اسے برحق قرار دے دیا۔یا للعجب !
شکریہ
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں سیدنا حضرت امام حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کے راستے پر چلنا نصیب فرمائے ، اور بروز قیامت ہمیں ان شہداء کی معیت نصیب ہو ، آمین

30/11/2019
Untitled album 26/11/2019
Want your school to be the top-listed School/college in Bahawalpurwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Anwaar Abad
Bahawalpurwala
63100