28/04/2026
coming soon 🔜
It deals with infotainment, news and other social issues.
28/04/2026
coming soon 🔜
ایک وائرلیس کال چلتے ہی پورے پنجاب میں اچانک پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی ۔
اس وائرلیس پیغام میں کسی کیساتھ رعایت نا کرنے اور پکڑتے ساتھ ہی پرچہ دیکر گرفتار کرنے کا حکم تھا ۔۔ حکم پر عملدرآمد کی شروعات ہوتے ہی حوالاتیں گزشتہ رات اچانک سے بھرنا شروع ہو گئیں۔ مجرم گل احمد ٹیکسٹائل والوں کی اولادیں نہیں تھیں۔ شاہ رخ جتوئی نہیں تھا ۔ ملک لوٹنے والے نہیں تھے ۔ رشوت لینے والے نہیں تھے ۔ خلق کو ذلیل کرنے والے پٹواری یا تحصیل دار نہیں تھا۔۔ خوراک ملاوٹ کرنے والے نہیں تھے ۔ جعلی ادویات بنانے اور بیچ کر انسان مارنے والے نہیں تھے۔
ٹیکس چوری کر کے ملک کو کمزور کرنے والے معاشی دہشت گرد نہیں تھے ۔ منی لانڈرنگ کے قابل سنگ زن مجرم نہیں تھے ۔
مطلب کے معاشرے کو خلق خدا کو نقصان پہنچانے والا کوئی نہیں تھا۔ تھے تو صرف ٹریفک قوانین کے کی خلاف ورزی کرنے والے مجرم ٹھہرائے گئے تھے۔ جی جی وہی جرم جس پر سو دو سو روپے لیکر چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ ۔
طالب علم تھے ۔مزدور طبقہ تھا ۔ مڈل کلاس ہے تھے۔
ظلم تو یہ ہوا کہ ایک جرم پر بیک وقت دو سزائیں دی گئیں۔ جرمانہ دو ہزار اور پرچہ دیکر حوالات علاوہ ۔۔ ہفتے کی شام پکڑ دھکڑ کے بعد ہفتے اور اتوار کے دن اور راتیں حوالات میں گزارنے کے بعد سوموار
کی صبح ضمانت کے لیے کچہری میں وکیل کے پیسے ، اسکے منشی کا خرچہ علاوہ ۔ اور عدالتی عملے کی مٹھائی علیحدہ سے۔ ضمانتوں کے بعد محرر صاحب کی منہ دکھائی کی رسم ادائیگی کے بغیر حوالات کا تالا کھلنا معجزہ ہی ہوتا ہے۔
ان گرفتار بچوں میں سے کوئی گھر کا بڑا ہو گا۔ اور بڑوں میں اکلوتا گھر کا مرد ہو گا۔ کوئی مہمان آیا ہو گا تو کوئی کسی بیمار کی دوا لینے نکلا ہو گا۔
سرد رات انہوں نے حوالات کے ننگے فرش پر ٹھٹھرتے گزاری ہو گی۔ ایک ویڈیو دیکھی جس میں بچوں نے اینکر کے پوچھنے پر بتایا انہوں نے کل سے کھانا نہیں کھایا۔۔ پیسے بھی ہیں مگر اجازت نہیں دی گئی۔ ایک بچے نے کھانا کھایا تھا منگوا کر تو پوچھا گیا کیسے آنے دیا کھانا تو اس نے ہنستے ہوئے کہا سسٹم ( رشوت ) کے ذریعے ۔
جن گھریلو عورتوں نے تھانے کچہری کا منہ نہیں دیکھا ہو گا اپنے پیاروں کو چھڑوانے کے لیے ان کا واسطہ کیسے کیسے لُچے کمینوں سے نہیں پڑا ہو گا ۔۔ تین تین ہزار کے جن سے بجلی کے بل نہیں بھرے جاتے عدالتی ضمانت قرض لیکر ہزاروں میں پڑی ہو گی۔۔ چالان کے دو ہزار کیساتھ ساتھ موٹر سائیکل کی سپرداری کا خرچ بھی ہتھوڑے کی چوٹ کی طرح دماغ پر لگا ہو گا۔
اس حکم کے نفاذ کے بعد ہی ٹاؤٹ مافیا کا منظم نیٹ ورک پنجاب میں متحرک ہو گیا۔
عدالتی کاروائی سے لیکر بندہ اور سواری تھانے سے باہر کرانے بھاری اخراجات کے عوض ون ونڈو آپریشن سروس شروع ہو گئی ۔
گرفتار شدگان کے اہل خانہ کی یہ دو راتیں کیسے کٹی ہو گی یہ رب جانتا یا وہ۔ ہم تو صرف اندازے ہی لگا سکتے۔۔
شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے پہلے دور میں ڈبل سواری پر اچانک پابندی لگا کر حوالاتیں آباد کر کے سڑکیں سنسان کر دی گئیں تھیں۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا ڈبل سواری بھی کوئی جرم ہوتا ہے ۔
حوالات میں کریمنل اور معصوم بچے اکٹھے تھے رات بھر۔ کوئی سوشل میڈیا نہیں تھا جو حالات کی تکلیف سامنے دکھاتا ۔ صرف راتب خور پرنٹ میڈیا تھا ۔۔ کئی ہفتے یہ پابندی رہی ۔ اس عرصے میں حوالات اور عدالتیں آباد رہیں جبکہ جیبیں گرم ۔
مالک مغفرت و بخشش فرما کر درجات بلند کرے لاہور کے وکیل ایم ڈی طاہر مرحوم کے۔۔ جو ون مین آرمی بن کر مظلوم عوام کی دادرسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ پہنچے اپنی وکلاء برادری کی مخالفت مول لیکر اور پابندی کو ہٹوا کر عوام کو سکھ کا سانس دلوایا اور اپنی نسلوں کے لیے دعائیں سمیٹیں۔ وہ عوامی مسائل لیکر عدالت پہنچتا کبھی کبھی اسکی درخواست کو جرمانہ لگا کر رد کر دیا جاتا مگر وہ ظالم بھی باز نا آتا ۔ جرمانہ بھر کر پھر کسی اور عوامی مسئلے کو لیکر عدالت پہنچ جاتا ۔۔
پنجاب کی کوئی بار کوئی وکیل عوام کے حق کے لیے نا اس وقت کھڑا ہوا تھا نا ہی آب کھڑا ہو گا۔۔ حکومتیں بار کونسلز اور پریس کلبز کو بھاری رقوم قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ان کو دیتیں ہیں سیاسی رشوت کے طور پر جس کا عوام نے انکو مینڈیٹ ہی نہیں دیا ہوتا ۔۔ اس لیے یہ ہر مرتبہ عوام کی بجائے حکومت کیساتھ ہوتے ہیں ۔۔
اب پھر تیس سے بتیس سال بعد بھتیجی نے چچا کے دور کی یاد تازہ کرا دی۔۔
کیا ہیلمٹ نا پہننا اتنا بڑا جرم ہے کہ اسکی اتنی بھاری سزا ڈال دی گئی ۔ یا پھر اپنی شخصیت اپنی حکومت کا خوف بٹھانا مقصود تھا۔۔
ساتھ مزید ظلم یہ کیا ہزاروں لوگ بیک وقت جنبشِ قلم سے بےروزگار کر دیے گئے ۔
عوام سے سستی سواری چنگ چی اورسستی باربرداری کے لیے موٹر سائیکل لوڈر پھٹوں پر پابندی لگا کر ٹرانسپورٹ مافیا کے بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا ۔۔ ہزاروں چنگچی رکشوں اور لوڈر پھٹوں کی بیک وقت بندش کر کے لاکھوں لوگوں کو سکول دفتروں کالجز یونیورسٹیز وقت پر پہنچنے سے بھی محروم کر دیا اتنی ہی تعداد میں متبادل دیے بغیر ۔
سمجھ نہیں آئی مندے اور معاشی بدحالی کے دور میں وکلاء ، ٹاؤٹ مافیا ، ٹرانسپورٹ مافیا اور آٹو موبائل مافیا کا روزگار چمکانے میں حکومت کو کیا فائدہ ملے گا
05/09/2025
مجھے لگتا ہے کہ جیسے اسرائیل نے حماس کی آڑ میں فلسطین کو تباہ کر کے قبضہ کیا اسی طرح اب یمن کے حوثییوں کو بہانہ بنا کر یمن پہ بھی قبضہ کر لے گا
حوثیوں پر حملے اور آفات نازل کرینگے، اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی مزید پڑھیں: