17/05/2026
*عنوان:*
قربانی کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنے کے احکام
[٭] جب کوئی شخص کسی دوسرے کو ثواب پہنچانے کی غرض سے قربانی کرتا ہے تو یہ قربانی دراصل اس شخص کی طرف سے نفلی شمار ہوتی ہے اور اس کا ثواب دوسروں کو پہنچتا ہے۔ اس لیے اگر نفلی قربانی کر کے اس کا ثواب ایک شخص کو پہنچانا چاہے تو بھی درست ہے اور اگر اس کا ثواب کئی لوگوں کو پہچانا چاہے تب بھی درست ہے۔ چنانچہ انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام رضی ﷲ عنہم، تابعین و اتباع تابعین، مفسرین، محدثین، فقہاء، اکابرین امت رحمہم اللّٰه، اپنے والدین اور اعزہ و اقارب وغیرہ کو اس کا ثواب پہنچانا درست ہے۔
[٭] ایصالِ ثواب کی غرض سے چھوٹا جانور بھی ذبح کرنا جائز ہے اور بڑے جانور میں نفلی قربانی کے حصے رکھنا بھی جائز ہے۔
[3] چند افراد مل کر اگر کسی کو ایصال ثواب کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں لیکن طریقہ کار یہ ہو کہ تمام افراد اپنے اپنے پیسے ایک شخص کی ملکیت کریں اور وہ شخص قربانی کرے اور جن کو ایصالِ ثواب کرنا ہو انہیں ایصالِ ثواب کر دے۔
[٭] چونکہ یہ قربانی نفلی ہوتی ہے اس لیے اس کا گوشت عام قربانی کی طرح ہوتا ہے؛ خود بھی کھایا جا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلایا جاسکتا ہے۔
[٭] قربانی کر کے ایصالِ ثواب جس طرح فوت شدگان کے لیے کیا جا سکتا ہے اسی طرح زندوں کے لیے بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔
*📚مسائلِ قربانی از متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ ﷲ*