25/05/2025
Koi Lamha Gulaab Sa
قیامت ہے یہ ترکِ آرزو بھی . .
مجھے وہ اکثر
یاد آیا بہت ?
25/05/2025
*کلاس فیلوز اور زندگی کی بازیگریاں*
(بصورتِ آزاد نظم۔😊)
ہم سب
کبھی لکڑی کی سخت بینچوں پر
ساتھ ساتھ بیٹھا کرتے تھے،
ایک جیسے یونیفارم،
ایک جیسے خواب،
ایک جیسے گِلے،
ایک جیسی استادوں سے شکایتیں۔
ہمیں گمان تھا۔
زندگی انصاف کرے گی،
جو اوّل آئے گا،
وہی آگے بھی بڑھے گا۔
محنت، ہمیشہ پھل دے گی
اور ناکامی ہمیشہ ناکام ہی رہے گی۔
لیکن۔۔۔
زندگی کلاس روم نہیں ہے،
یہ ایک بازیگر ہے،
چالاک، شریر،
کہانی میں موڑ ڈالنے والی۔
*پھر برسوں بعد،*
کبھی شادی میں،
کبھی جنازے پر،
کبھی کسی ائرپورٹ یا سپر مارکیٹ میں
کبھی محض واٹس ایپ پر
ہم اچانک ملتے ہیں —
اور آنکھیں وہ کچھ دیکھتی ہیں
جس کی کسی نے ہمیں خبر نہ دی۔
وہ جو کبھی ہوم ورک نہ کرتا تھا
آج کوٹھیوں کا مالک ہے،
اور جو ہر انعام جیتتا تھا
ابھی تک کسی گوشے میں،
خود کو ڈھونڈ رہا ہے۔
وہ جو خاموش رہتا تھا
اب فیصلے سناتا ہے،
اور جو سب کو بولنا سکھاتا تھا
خامشی میں گم ہے،
کسی اَن دیکھے موقعے کا منتظر۔
*تب ہم دل سے پوچھتے ہیں:*
یہ سب کیسے ہوا؟
کسی نے بتایا نہ تھا
کہ قسمت بھی ایک کردار ہے،
کہ ذہانت کافی نہیں
رابطے بھی دروازے کھولتے ہیں،
کہ کچھ لوگ بہترین نہیں،
بس وقت کے سنگی نکل آتے ہیں۔
*زندگی سوالوں کے پرچے نہیں چیک کرتی —*
یہ تو بس لُوڈو کھیل کے ڈائس کی مانند ہے،
اور اکثر اوقات،
اس کا ہر جواب
کسی اور زبان میں ہوتا ہے۔!
*مگر ایک خوبصورت سچ یہ بھی ہے:*
جتنا بھی بکھرے ہوں،
*جب ہم جماعت ملتے ہیں،*
*تو وقت پیچھے ہٹ جاتا ہے۔*
*نہ القاب باقی رہتے ہیں،*
*نہ دولت بولتی ہے —*
*بس ہنسی گونجتی ہے،*
*پرانے نام، پرانی باتیں،*
*وہ اُستاد جنہیں کبھی نہ بھولنے کا دعویٰ تھا*
*اب یاد کرنے میں وقت لگتا ہے۔*
*اور انہی لمحوں میں*
*ہم لوٹ جاتے ہیں*
اس دور میں
*جہاں صرف خواب ہوتے تھے*
اور زندگی کی تلخیاں ابھی
داخل نہ ہوئی تھیں۔
*شاید یہی ہے اصل سبق کہ:*
*کامیاب وہی نہیں*
*جس کے پاس سب کچھ ہو،*
*بلکہ وہ بھی*
*جس کے دل میں*
*یاد ابھی باقی ہو۔*
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں،
دنیا کو سنانے کے قابل۔۔۔۔
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں،
بس دل میں چھپانے کے قابل۔۔
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں،
اک بار گئے تو آتے نہیں۔۔۔۔
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں،
پرچھائی بھی انکی پاتے نہیں۔۔
کیا حال سنائیں اپنا تمہیں ،
کیا بات بتائیں جیون کی؟
اک آنکھ ہماری ہنستی ہے ،
اک آنکھ میں رُت ہے ساون کی
کچھ درد سنبھالے سینے میں ،
کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے
اک عمر گنوائی ہے اپنی
کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے
دل خرچ کیا ہے لوگوں پر
جاں کھوئی ہے ، غم پا یا ہے
اپنا تو یہی ہے سود و زیاں
اپنا تو یہی سرمایا ہے
آؤ جانچ لیتے ہیں
درد کے ترازو پر
کس کے غم کہاں تک ہیں؟
شدّتیں کہاں تک ہیں؟
کچھ عزیز لوگوں سے
پوچھنا تو پڑتا ہے
آج کل وفاؤں کی
قیمتیں کہاں تک ہیں؟
فرصتیں ملیں جب بھی
رنجشیں بُھلا دینا
کون جانے سانسوں کی
مہلتیں کہاں تک ہیں!!
مینوں کئیاں نے آکھیا کئی واری
توں لیناں پنجابی دا ناں چھڈ دے
گودی جیدی وچ پل کے جوان ہوئیوں
اوہ ماں چھڈّ دے تے گراں چھڈّ دے
جے پنجابی، پنجابی ای کُوکنا ایں
جتھے کھلا کھلوتا اوہ تھاں چھڈّ دے
مینوں اِنجھ لگدا، لوکی آکھدے نے
توں پُترا اپنی ماں چھڈّ دے
روٹی گل وچ پھا پاندی اے
روٹی نُکرے چا لاندی اے
بندے روٹی کی کھانی اے
،،روٹی بندہ کھا جاندی اے،،
روٹی ہے دلدار تُوں اگے
روٹی دا دُکھ پیار تُوں اگے
اگ شِکم دی رشتے ساڑے
روٹی ہر اک یار تُوں اگے
جد وی سامنے آوے روٹی
اپنا ، غیر بناوے روٹی
شادیاں اندر وچ ولیمے
کی کی رنگ وکھاوے روٹی
روٹی یارو کھوٹ نُوںویچے
روٹی نقلی نوٹ نُوں ویچے
جد وی موسم ووٹ دا آوے
روٹی ہر اک ووٹ نُوں ویچے
تگڑے یا معزور دی روٹی
حاکم یا مجبُور دی روٹی
کدی وی پُوری ہوندی نئیں
عاجر نا مزدُور دی روٹی
جوگی ، پیر فقیر تے سادھو اک پاسے
اوہدی اکھ دا کالا جادو اک پاسے
سورج چن ستارے سارے اپنی تھاں
اوس تلی تے دھریا جگنو اک پاسے
انج چڑھدی اے اس دی اکھ چوں پیتی ہوئی
رہ جاندے نیں ، دارو وارو اک پاسے
اوس کڑی دا جثہ جد دا پڑھیا اے
دھر دتے نیں بلھا ، باہو اک پاسے
اساں شہر وسائے لوہے دے
اساں مار مکایا رُکھاں نُوں
ساڈے اک اک ساہ تے زنگ چڑھیا
ساہنوں بجری والا رنگ چڑھیا اے
اساں پَھکے مارے سیمنٹ دے
اساں پیتے رج کے کیمیکل
ساڈی گل جہانوں وکھری گل
ساہنوں چھاں دی جیکر لوڑ پوے
اسیں پُل دے ہیٹھ کھلو جایئے
ساڈے چار چوفیرے کھمبے نیں
ساڈے سر تے جال نیں تاراں دے
ساہنوں لوڑ کوئی ناں پُھلاں دی
اسیں دھوئیں سُنگھیئے کاراں دے
اسیں قاتل بن گئے فطرت دے
ساڈے ہتھ لہو نال رنگے نیں
ہاں ایسے لئی رب سچے نیں
ساڈے ساہ سولی تے ٹنگے نیں
ساڈے ساہ سولی تے ٹنگے نیں
حکیم احمد نعیم ارشد
ایک کشمیری بھائی کے قلم سے تحریر تلخ حقیقت!
ہم ٹھنڈے دودھ کو پھونکے مار رہے ہیں
کتنی پیدا ہوتی ہے کشمیر میں بجلی لکڑی اور پتھر ؟؟؟پاکستان میں اپنی 44 ہزار میگاوٹ بجلی پیدا ہوتی ہے
کشمیر میں 23 سو میگاواٹ بجلی بنتی ہے
جس میں سے ساڑھے 4 سو میگاواٹ کشمیر اور ساڑھے تین سو میگا واٹ گلگت بلتستان میں ہی کنزیوم ہو جاتی ہے
باقی بچی صرف 15 سو میگا واٹ
یہ 15 سو میگاواٹ جو کہ پیدا منگلا میں ہوتی ہے
مگر رالٹی پورا کشمیر کھاتا ہے
کبھی پنجاب نے کہا ہے کہ گندم چاول دالیں ہم پیدا کرتے ہیں
اور سبسڈی کشمیریوں کو کیوں دے رہے ہو ؟؟
زمین منگلا والوں نے دے کر بدلے میں یورپ کے ویزے تک لیے
اور خوراک سے لے کر ایجوکیشن ، نوکریوں کے کوٹے تک
پورا کشمیر انجوائے کرتا ہے
پاکستان ہر چیز پر سبسڈی دے کر بھی ظالم
اور ایل او سی سے سیکنڑوں پنجابیوں سندھیوں پختونوں بلوچوں کی لاشیں وصول کرنے کے باوجود بھی کشمیری مظلوم
مجھے اس مسلے پر لکھنے کے لیے مجبور نہ کریں
ورنہ پنجابی سندھی بلوچی پختون کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ
پنجابی بچے ایف ایس سی کے 96 فیصد نمبر لے کر بھی انٹری ٹیسٹ کے سخت مراحل سے گزر کر میڈیکل کالجز سے دور ہو جاتے ہیں
اور کشمیری 45 سے 60 فیصد والا نالائق رعائتی نمبر والا بھی کوٹے پر پاکستان کے میڈیکل کالجز سے ڈاکٹر توقیر بن کر کشمیر کا نمائندہ بن جاتا ہے
اور اس پر احسان یہ جتلایا جاتا ہے کہ پاکستان کھا گیا
جس کشمیری کا جب دل چاہتا ہے
جونپڑے سے لے کر سینٹورس تک پاکستان میں بنا لیتا ہے
اور جب کسی پاکستانی کی یہ خواہش جاگے کہ وہ ایک ہل ٹاپ پر چھوٹا سا گھر ہی بنا لے تو اسے اجازت تک نہیں
کیا کھا گیا ہے پاکستان ؟؟
الحمداللّٰه
مجھے کھیوڑے کی نمک کی کان کا نمک کبھی کھٹہ نہیں لگا
میں نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا
لیکن اس کے باوجود مجھے پاکستان نے وہ سب کچھ دیا کہ جس کی بدولت
نہ آج میں نمک حرام ہوں نہ ہی احسان فراموش اور نہ ہی غدار پاکستان
اور نہ ہی چند ٹکوں پر بکنے والا انسان
*وقت کے ساتھ خود کو بدلیں*
آنے والے 10 سالوں میں دنیا پوری طرح سے تبدیل ہو جائے گی..
آج چلنے والی صنعتوں میں سے 70٪ سے 90٪ بند ہوجائیں گی..
*چوتھے صنعتی انقلاب میں خوش آمدید…*
اوبر (Uber) صرف ایک سافٹ ویئر ہے..
اپنی ایک بھی کار نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی ہے..
ایئر بی این بی
(Air BNB)
دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی ہے..
حالانکہ ان کے پاس اپنا کوئی ہوٹل نہیں ہے..
پیٹیم ، اولا ٹیکس ، اویو کمرے جیسے بہت ساری مثالوں میں ہیں..
اب امریکہ میں نوجوان وکلاء کے لئے کوئی کام باقی نہیں ہے..
کیونکہ آئی بی ایم واٹسن
IBM Watson
سافٹ ویئر ایک لمحے میں بہتر قانونی مشورے دیتا ہے..
اگلے 10 سالوں میں 90% امریکی وکیل بے روزگار ہو جائیں گے ...
جو لوگ 10٪ بچ جائیں گے..
وہ سپر ماہر ہوں گے..
واٹسن نامی سافٹ ویئر انسانوں کے مقابلے میں کینسر کی تشخیص 4 گنا زیادہ درست طریقے سے انجام دیتا ہے..
2030 تک کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں گے..
اگلے 10 سالوں میں 90٪ کاریں پوری دنیا کی سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی..
جو بچ جائیں گی..
وہ یا تو الیکٹرک کاریں ہوں گی یا ہائبرڈ..
سڑکیں خالی ہوں گی..
پٹرول کی کھپت میں 90٪ کمی واقع ہو گی..
تمام عرب ممالک دیوالیہ جائیں گے..
آپ کو اوبر جیسے سافٹ ویر سے کار مل جائے گی..
کچھ ہی لمحوں میں ڈرائیور لیس گاڑی آپ کے دروازے پر کھڑی ہوگی..
اگر آپ اسے کسی کے ساتھ شیر کر لیتے ہیں تو وہ سواری آپ کو موٹر سائیکل سے بھی سستی ہو گی..
کاروں کے ڈرائیور لیس (Driverless) ہونے کی وجہ سے 99٪ حادثات بند ہو جائیں گے..
زمین پر ڈرائیور جیسا کوئی روزگار نہیں چھوڑا جائے گا..
جب 90٪ کاریں شہروں اور سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی..
تو ٹریفک اور پارکنگ جیسے مسائل خودبخود ختم ہو جائیں گے..
کیونکہ ایک کار 20 کاروں کے برابر ہو گی..
5 یا 10 سال پہلے ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں پی سی او (PCO) نہ ہو..
پھر جب موبائل فون سب کی جیب میں آیا..
تو پی سی او بند ہونا شروع ہوگئے..
وہ تمام پی سی او والے لوگوں نے فون کا ریچارج بیچنا شروع کر دیا..
اب یہاں تک کہ ریچارج آن لائن بھی شروع کر دیا گیا ہے..
آج کل مارکیٹ میں ہر تیسری دکان پر موبائل فون ہیں..
فروخت ، خدمت ، ریچارج ، لوازمات ، مرمت ، بحالی وغیرہ وغیرہ...
اب سب کچھ اے ٹی ایم سے کیا جا رہا ہے..
اب لوگوں نے اپنے فون سے ہی ریلوے ٹکٹ بک کرنا شروع کر دی ہیں..
اب پیسوں کا لین دین بھی تبدیل ہو رہا ہے..
کرنسی نوٹ کو پہلے پلاسٹک منی نے تبدیل کیا تھا..
اب یہ ڈیجیٹل ہو گئی ہے..
دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے..
آنکھیں اور کان کھلے رکھیں ورنہ آپ پیچھے رہ جائیں گے..
وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونے کے لئے تیار رہیں..
لہذا...!
ایک شخص کو چاہئے کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے کاروبار کی نوعیت کو بھی بدلتا رہے..
*کاروبار کو وقت سے ساتھ ساتھ اپ گریڈ کریں..*
وقت کے ساتھ آگے بڑھیں اور کامیابی حاصل کریں..
تاکہ اچھا وقت گذاریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Bahawalpur
164570