Quran Online Academy

Quran Online Academy خَيرُكُم من تعلَّمَ القرآنَ وعلَّمَهُ Assalamu alaikum! I am an experienced online Quran teacher. Let's embark on this journey of learning together!

I have been teaching the Quran to students of all ages and levels for 10 years now, and I am passionate about helping my students develop a strong connection with the Quran and understand its teachings. I firmly believe that learning the Quran is not just about reciting it, but also about understanding and applying its teachings to our daily lives. That is why my teaching approach emphasizes not only the proper recitation of the Quran but also its meaning and interpretation. As an online Quran teacher, I am committed to providing a convenient and flexible learning experience for my students. I use a variety of teaching methods and resources to accommodate different learning styles and ensure that my students progress at their own pace. Whether you are a beginner or have some prior knowledge of the Quran, I am here to help you achieve your learning goals and deepen your understanding of this divine scripture.

30/08/2026
30/08/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ دوستو میں ظفر اقبال اپ سے مخاطب ہوں اپ سے گزارش یہ کرنی ہے کہ میں نے ایک ویڈیو بنائی ہے ابھی جو اپ دیکھ رہے ہیں اس ویڈیو میں اپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نڈلز سرینجز یہ خالی پڑی ہوئی ہیں یہاں پر جہاں پر سارا دن عوام گزرتی ہے جن میں بچے بوڑھے عورتیں سب ہوتے ہیں چھوٹے بڑے سب ہوتے ہیں اگر خدانخواستہ کسی کے پاؤں میں کوئی نیڈلز یا وہ خالی ایمپیول چبھ جائے تو یہ بہت بڑا حادثہ ہو سکتا ہے اسی حادثے میں پہلے بھی اونچ شریف کے دو جوان اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں تو میری اپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ میری اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ میری یہ ویڈیو حکام بالا تک پہنچے اور ان لوگوں تک پہنچے جو لوگ اس کام میں ملوث ہیں اگر اپ کے ایک کلک سے کسی کی زندگی بچ سکتی ہے یہ کوئی حادثے سے بچ سکتا ہے تو اللہ پاک اپ کو جزائے خیر عطا فرمائے گا وہ کہتے ہیں کہ راستے پہ پڑا ہوا ایک کانٹا بھی ہٹانے سے بہت بڑا ثواب ملتا ہے تو ایک بڑا مسئلہ ہے

30/08/2026

پیر بابا حضرت اسرار القدسی دامت برکاتہم العالیہ
زندگی کے سفر کی داستان
قسط نمبر 30 — دروازے کے اُس پار
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسان کی زندگی میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب فوراً نہیں ملتا۔
اور شاید یہی بہتر بھی ہوتا ہے۔
کیونکہ اگر زندگی ہر سوال کا جواب اسی لمحے دے دے جس لمحے سوال پیدا ہو، تو پھر انتظار کی بے چینی کہاں رہے؟
تلاش کا لطف کہاں رہے؟
اور وہ راستے کیسے بنتے جن پر چلتے چلتے انسان خود اپنے بارے میں بھی کچھ نیا جان لیتا ہے؟
اس رات کے بعد میرے ذہن میں بھی ایک ایسا ہی سوال پیدا ہو گیا تھا۔
وہ دروازہ...
جو میرے خواب میں میرے اپنے گھر کے اندر موجود تھا۔
ایک ایسا دروازہ جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا۔
اور اس دروازے کے پیچھے سے آنے والی وہ ہلکی سی ہنسی...
میں جتنا اسے بھلانے کی کوشش کرتا، اتنا ہی وہ میرے ذہن میں گہری ہوتی جاتی۔
مگر زندگی خوابوں کے مطابق نہیں چلتی۔
صبح ہوئی تو گھر میں وہی معمولات تھے۔
دن اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔
لوگوں کو اپنے کاموں کی فکر تھی اور مجھے بھی اپنے معمولات میں شامل ہونا تھا۔
میں نے کئی مرتبہ سوچا کہ کسی سے اس خواب کا ذکر کروں۔
مگر پھر خاموش ہو گیا۔
آخر کیا کہتا؟
کہ میں نے خواب میں اپنے ہی گھر میں ایک ایسا دروازہ دیکھا جو حقیقت میں موجود نہیں؟
اور اس کے پیچھے سے کسی کی ہنسی سنائی دی؟
لوگ شاید اسے ایک عام خواب سمجھتے۔
اور ممکن ہے وہ عام خواب ہی ہوتا۔
لیکن نہ جانے کیوں...
میرے دل نے اسے عام ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
دن گزرتے رہے۔
میں نے جان بوجھ کر خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کی۔
دوستوں کے ساتھ بیٹھتا، باتیں کرتا، کبھی ہنستا بھی۔
مگر اب میرے اندر ایک تبدیلی آ رہی تھی۔
میں پہلے بھی خاموش طبیعت تھا، مگر اب میں چیزوں کو پہلے سے زیادہ غور سے دیکھنے لگا تھا۔
لوگوں کے چہرے...
ان کے لہجے...
ان کی خاموشیاں...
اور کبھی کبھی اپنے ہی گھر کی دیواریں۔
انسان جب اپنے اندر بہت زیادہ سوال لے کر چل رہا ہو تو اسے دنیا کی عام چیزیں بھی غیر معمولی لگنے لگتی ہیں۔
شاید میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔
ایک شام میں گھر کے صحن میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔
موسم میں ہلکی سی خنکی تھی۔
آسمان پر سورج ڈوبنے کے آخری رنگ پھیل رہے تھے۔
گھر کے اندر سے معمول کی آوازیں آ رہی تھیں۔
میں خاموشی سے سامنے دیوار کو دیکھ رہا تھا۔
اور نہ جانے کیوں، اچانک میرے ذہن میں وہی خواب آ گیا۔
میں نے خواب میں جس جگہ دروازہ دیکھا تھا، حقیقت میں بھی تقریباً اسی سمت نگاہ اٹھائی۔
وہاں صرف دیوار تھی۔
پرانی، سادہ اور خاموش دیوار۔
میں خود ہی ہلکا سا مسکرا دیا۔
"واقعی عجیب ہوں میں بھی..."
میں نے دل میں سوچا۔
ایک خواب دیکھ کر حقیقت کی دیواروں میں دروازے تلاش کرنے لگا ہوں۔
میں اٹھنے ہی والا تھا کہ اچانک...
گھر کے اندر کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔
میں چونک گیا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر میں نے آواز کی سمت دیکھا۔
کوئی خاص بات نہیں تھی۔
گھر کے معمولات میں ایسی آوازیں آتی رہتی ہیں۔
لیکن اس لمحے نہ جانے کیوں میرے دل کی دھڑکن کچھ تیز ہو گئی۔
میں نے خود کو ڈانٹا۔
"ہر چیز کو خواب سے مت جوڑو۔"
اور پھر میں اندر چلا گیا۔
رات ہوئی۔
کھانا کھانے کے بعد میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
اس رات عجیب بات یہ تھی کہ مجھے نیند آنے سے خوف نہیں لگ رہا تھا۔
بلکہ دل میں ایک عجیب سا تجسس تھا۔
میں سوچ رہا تھا...
اگر آج پھر وہ خواب آیا تو؟
کیا میں اس دروازے کے قریب جاؤں گا؟
یا پھر خوفزدہ ہو کر رک جاؤں گا؟
اور اگر وہ ہنسی دوبارہ سنائی دی تو؟
میں نے خود سے کہا:
"خواب میں بھی اگر وہ دروازہ ملا تو اس مرتبہ واپس نہیں آؤں گا۔"
یہ کہتے ہوئے مجھے خود پر حیرت ہوئی۔
کل تک جس چیز سے دل میں خوف پیدا ہو رہا تھا، آج اسی کے قریب جانے کی خواہش پیدا ہو گئی تھی۔
شاید یہی انسان کی فطرت ہے۔
وہ راز سے ڈرتا بھی ہے...
اور راز کے پیچھے چل بھی پڑتا ہے۔
رات گہری ہوئی۔
آخرکار نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔
اور پھر...
میں دوبارہ اپنے گھر میں کھڑا تھا۔
سب کچھ ویسا ہی تھا۔
وہی صحن۔
وہی دیواریں۔
وہی خاموشی۔
میں نے فوراً اپنی نظریں اس سمت اٹھائیں جہاں گزشتہ خواب میں وہ دروازہ موجود تھا۔
میرا دل زور سے دھڑکا۔
وہ دروازہ پھر وہاں تھا۔
لیکن اس مرتبہ ایک فرق تھا۔
پچھلی مرتبہ دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔
آج...
وہ مکمل بند تھا۔
میں کافی دیر اسے دیکھتا رہا۔
میرا دل کہتا تھا آگے بڑھو۔
مگر قدم جیسے کسی انجانی احتیاط میں رکے ہوئے تھے۔
پھر میں نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا۔
ایک قدم۔
پھر دوسرا۔
اور پھر میں دروازے کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔
دروازہ پرانا معلوم ہوتا تھا۔
اس کی لکڑی پر عجیب سے نشانات تھے۔
میں نے ہاتھ بڑھایا کہ اسے چھوؤں۔
مگر ہاتھ دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی رک گیا۔
اچانک...
دروازے کے دوسری طرف سے کسی کے قدموں کی آواز آئی۔
میں بالکل ساکت ہو گیا۔
ایک قدم...
پھر دوسرا قدم...
جیسے کوئی آہستہ آہستہ دروازے کے قریب آ رہا ہو۔
میری سانس رک گئی۔
قدموں کی آواز بند ہو گئی۔
اب دروازے کے دوسری طرف...
کوئی موجود تھا۔
میں جانتا تھا۔
یا شاید مجھے صرف ایسا محسوس ہو رہا تھا۔
پھر چند لمحوں کی ایسی خاموشی ہوئی جس میں مجھے اپنا دل دھڑکتا ہوا سنائی دے رہا تھا۔
اور پھر...
دروازے کے اُس پار سے ایک بہت دھیمی آواز آئی:
"ہر دروازہ کھولنے کے لیے نہیں ہوتا..."
میں پیچھے ہٹ گیا۔
میرا دل چاہتا تھا کہ پوچھوں:
"پھر یہ دروازہ یہاں کیوں ہے؟"
لیکن آواز دوبارہ آئی۔
اس مرتبہ پہلے سے بھی دھیمی:
"اور ہر راز جاننے کا وقت بھی ایک جیسا نہیں ہوتا..."
میں نے ہمت کر کے کہا:
"تم کون ہو؟"
کوئی جواب نہیں آیا۔
میں نے دوبارہ پوچھا:
"کیا تم وہی ہو جس کی آواز میں نے پہلے بھی سنی تھی؟"
خاموشی۔
ایسی خاموشی جیسے دروازے کے پیچھے موجود چیز اچانک وہاں سے چلی گئی ہو۔
میں نے چند لمحے انتظار کیا۔
پھر میرے اندر نہ جانے کہاں سے ہمت آئی۔
میں نے ہاتھ بڑھایا۔
دروازے کے ہینڈل کو پکڑا۔
اور آہستہ آہستہ اسے گھمانا شروع کیا۔
دروازہ چرچراتی ہوئی آواز کے ساتھ کھلنے لگا۔
میرے دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔
دروازہ تھوڑا سا کھلا...
میں نے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔
مگر وہاں مکمل اندھیرا تھا۔
ایسا اندھیرا جس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
میں نے ایک قدم اندر رکھنے کا ارادہ کیا۔
اور اسی لمحے...
کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
میں گھبرا کر پلٹا—
اور میری آنکھ کھل گئی۔
میں اپنے بستر پر بیٹھا ہوا تھا۔
سانس تیز چل رہی تھی۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔
ہر طرف خاموشی۔
میں نے فوراً اپنے کندھے کو ہاتھ لگایا۔
وہاں کوئی نہیں تھا۔
مگر اس مرتبہ میرے اندر خوف سے زیادہ ایک عجیب سی کیفیت تھی۔
جیسے کسی نے مجھے روک دیا ہو۔
جیسے کسی نے کہا ہو:
"ابھی نہیں..."
میں دیر تک جاگتا رہا۔
اور پہلی مرتبہ مجھے یہ احساس ہوا کہ شاید زندگی کے بعض دروازے انسان خود نہیں کھولتا۔
ان کے کھلنے کا بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔
اور شاید...
میرے سامنے آنے والا یہ دروازہ بھی ابھی صرف ایک اشارہ تھا۔
ایک ایسا اشارہ...
جس کا اصل مطلب مجھے بہت بعد میں سمجھ آنا تھا۔
لیکن اس رات، بستر پر جاگتے ہوئے، میرے ذہن میں صرف ایک سوال گردش کرتا رہا:
اگر ہر دروازہ کھولنے کے لیے نہیں ہوتا...
تو پھر بعض دروازے انسان کو بار بار دکھائی کیوں دیتے ہیں؟
جاری رہے گا۔۔۔

Big shout out to my newest top fans! 💎 Israr QuduseyahDrop a comment to welcome them to our community,
30/08/2026

Big shout out to my newest top fans! 💎 Israr Quduseyah

Drop a comment to welcome them to our community,

24/08/2026

یہ الشمس چوک اچ شریف کا منظر ہے مغرب کے قریب قریب کا منظر ہے یہ اپ دیکھ رہے ہیں کہاں ہے پیرا فورس کہاں ہے ٹریفک پولیس جو سارا دن غریب موٹر سائیکل والوں کا چالان تو کرتی ہے مگر اس وقت کہاں وہ گم ہو جاتے ہیں جب یہ اوورلوڈ ٹرالیاں اور ساری کی ساری سڑک پر ناجائز تجاوزات سامنے ہیں سارا دن ٹاؤن کمیٹی والے کچھ اتے ہیں لوگ کچھ دے د** کے پھر چلے جاتے ہیں یہ سب کچھ اپ کے سامنے ہے کوشش کیجئے کہ اس ویڈیو کو جتنا ہو سکے شیئر کیجئے تاکہ ہماری اے سی صاحبہ تک یہ ویڈیو پہنچے اور وہ اس چیز کا ایکشن لیں

24/08/2026

پیر بابا حضرت اسرار القدسی
زندگی کے سفر کی داستان
قسط نمبر 28 — وہ آواز جو خواب میں رہ گئی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو آنکھ کھلنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔
آنکھ کھل جاتی ہے، کمرے کی دیواریں وہی ہوتی ہیں، چھت وہی، دروازہ وہی، رات کی خاموشی بھی وہی...
مگر خواب کہیں اندر باقی رہ جاتا ہے۔
وہ آپ کے ساتھ جاگتا ہے۔
آپ کے ساتھ چلتا ہے۔
آپ کے ساتھ کھاتا پیتا ہے۔
اور کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ خواب سے نہیں جاگے، بلکہ خواب آپ کے ساتھ جاگ گیا ہے۔
اس رات بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
میں بستر پر لیٹا ہوا تھا، مگر نیند مجھ سے بہت دور جا چکی تھی۔
آنکھیں بند کرتا تو وہی دو سائے سامنے آ جاتے۔
آنکھیں کھولتا تو اندھیرا مجھے گھیر لیتا۔
اور پھر وہ آواز...
"اب تم ہمیں پہچاننے لگے ہو..."
یہ الفاظ بار بار میرے ذہن میں گونج رہے تھے۔
میں سوچتا رہا...
یہ آواز کس کی تھی؟
کیا واقعی کسی نے مجھ سے یہ کہا تھا؟
یا میرے ذہن نے میرے پرانے خوابوں، خوف اور آج کے واقعے کو ملا کر یہ آواز پیدا کر دی تھی؟
میں خود کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ انسان کا ذہن بھی عجیب چیز ہے۔
کبھی ایک چھوٹی سی بات کو برسوں اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے، اور پھر اچانک کسی ایک منظر سے وہی پرانی یاد پوری شدت کے ساتھ واپس آ جاتی ہے۔
شاید میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔
شاید...
لیکن دل اس "شاید" کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔
رات گزرتی رہی۔
کبھی میں کروٹ بدلتا، کبھی چھت کو دیکھتا، کبھی آنکھیں بند کر لیتا۔
پھر نہ جانے کس وقت تھوڑی سی نیند آ گئی۔
اور جب دوبارہ آنکھ کھلی تو صبح ہو چکی تھی۔
میں نے اٹھ کر معمول کے مطابق اپنے کام کیے، مگر اندر ایک عجیب سی بے چینی تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ مجھے کسی بات کا یقین ہو گیا تھا۔
بلکہ مسئلہ تو یہ تھا کہ مجھے کسی بات کا یقین نہیں تھا۔
اور بعض اوقات یقین سے زیادہ انسان کو بے چین شک کرتا ہے۔
میں نے سوچا کہ آج کالج جاؤں گا تو شاید کل والی بات ذہن سے نکل جائے۔
آخر دو اجنبی لڑکیوں کو دیکھ لینے سے زندگی تو نہیں بدل جاتی۔
میں نے اپنے آپ کو یہی سمجھایا۔
مگر زندگی نے شاید میرے لیے کچھ اور سوچ رکھا تھا۔
کالج پہنچا۔
دوستوں کے ساتھ بیٹھا۔
کچھ باتیں ہوئیں، کچھ ہنسی مذاق ہوا۔
میں نے بھی کوشش کی کہ عام دنوں کی طرح رہوں۔
مگر دل بار بار کل کی طرف جا رہا تھا۔
کبھی مجھے بس یاد آتی۔
کبھی وہ دونوں چہرے۔
کبھی وہ مسکراہٹ۔
اور کبھی وہ آخری نظر...
جب دونوں نے بس کے روانہ ہونے سے پہلے پلٹ کر میری طرف دیکھا تھا۔
میں خود سے ایک سوال کرتا:
"اگر وہ مجھے نہیں جانتی تھیں، تو پھر وہ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہی تھیں؟"
پھر فوراً خود ہی جواب دیتا:
"اتفاق ہوگا۔"
لیکن اگلا سوال پھر سامنے آ جاتا:
"اور خواب؟"
یہ سوال ایسا تھا جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
دوپہر کے بعد جب میں کالج سے نکلا تو موسم بدل چکا تھا۔
ہوا میں خنکی تھی۔
آسمان پر ہلکے بادل تھے۔
میں کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ایک جگہ رک گیا۔
وہاں سے دور تک سڑک نظر آ رہی تھی۔
لوگ آ جا رہے تھے۔
زندگی اپنے معمول کے مطابق چل رہی تھی۔
میں نے سوچا:
کتنی عجیب بات ہے...
دنیا میں لاکھوں لوگ اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں۔
کسی کو معلوم نہیں کہ میرے اندر کیا چل رہا ہے۔
کسی کو معلوم نہیں کہ ایک خواب نے میرے ذہن میں کتنے سوال پیدا کر دیے ہیں۔
اور شاید یہی انسان کی زندگی ہے۔
ہر شخص اپنے اندر ایک ایسی داستان لیے پھرتا ہے جس سے باقی دنیا بے خبر ہوتی ہے۔
میں ابھی انہی خیالات میں کھڑا تھا کہ اچانک میری نظر سڑک کے دوسری طرف پڑی۔
ایک لڑکی کھڑی تھی۔
میرا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
میں نے غور سے دیکھا۔
وہ ان دونوں میں سے نہیں تھی۔
میں نے ایک گہری سانس لی۔
خود پر ہنسی بھی آئی۔
"میں بھی کیا سوچنے لگا ہوں..."
میں آگے بڑھ گیا۔
مگر چند قدم ہی چلا تھا کہ مجھے پیچھے سے کسی کے چلنے کی آواز محسوس ہوئی۔
میں رک گیا۔
آواز بھی رک گئی۔
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
کوئی خاص بات نہیں تھی۔
چند لوگ کھڑے تھے۔
کچھ لوگ گزر رہے تھے۔
ایک بچہ اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے جا رہا تھا۔
ایک شخص سائیکل چلا رہا تھا۔
بس اتنا ہی۔
میں نے دوبارہ چلنا شروع کیا۔
چند قدم بعد وہی قدموں کی آواز پھر سنائی دی۔
اس بار میں نے مڑ کر نہیں دیکھا۔
دل نے کہا:
"چلتے رہو۔"
میں چلتا رہا۔
لیکن اس مرتبہ میرے قدم پہلے سے تیز تھے۔
گھر پہنچ کر بھی وہ کیفیت میرے ساتھ رہی۔
شام ہوئی۔
گھر کے معمولات شروع ہوئے۔
میں خاموش بیٹھا تھا۔
امی نے شاید میری خاموشی محسوس کی۔
پوچھا:
"کیا ہوا ہے؟ آج بہت چپ ہو؟"
میں نے مسکرا کر کہا:
"کچھ نہیں، بس تھکن ہے۔"
یہ ایک چھوٹا سا جملہ تھا۔
لیکن اس کے پیچھے میرے اندر سوالوں کا ایک پورا ہجوم کھڑا تھا۔
میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔
نہ خواب کے بارے میں۔
نہ بس والی لڑکیوں کے بارے میں۔
نہ اس آواز کے بارے میں۔
کچھ باتیں انسان دوسروں سے اس لیے نہیں چھپاتا کہ وہ جھوٹ بولنا چاہتا ہے...
بلکہ اس لیے چھپاتا ہے کہ وہ خود ابھی تک نہیں جانتا کہ سچ کیا ہے۔
رات ہوئی۔
میں بستر پر لیٹا تو کل رات کا خواب دوبارہ یاد آنے لگا۔
وہ سڑک...
وہ دو سائے...
وہ آواز...
میں نے آنکھیں بند کیں۔
اور نہ جانے کیوں اس مرتبہ دل میں خوف سے زیادہ تجسس تھا۔
میں نے دل ہی دل میں سوچا:
"اگر وہ دوبارہ خواب میں آئیں تو؟"
یہ سوچ کر مجھے خود پر حیرت ہوئی۔
کل تک جن چہروں سے خوف محسوس ہو رہا تھا، آج انہی کے بارے میں جاننے کی خواہش پیدا ہو رہی تھی۔
شاید انسان بھی عجیب مخلوق ہے۔
جس چیز سے ڈرتا ہے، کبھی کبھی اسی کے راز کو جاننے کے لیے بے چین بھی ہو جاتا ہے۔
کافی دیر بعد میری آنکھ لگ گئی۔
خواب آیا۔
مگر اس مرتبہ منظر پہلے جیسا نہیں تھا۔
میں ایک وسیع میدان میں کھڑا تھا۔
نہ کوئی درخت۔
نہ کوئی گھر۔
نہ کوئی راستہ۔
بس دور تک پھیلی ہوئی خاموشی۔
میں نے آگے دیکھا تو دھند کے اندر ایک سایہ کھڑا تھا۔
پھر دوسرا سایہ اس کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔
میں وہیں رک گیا۔
اس بار مجھے خوف نہیں آیا۔
میں نے ہمت کر کے پوچھا:
"تم کون ہو؟"
دونوں خاموش رہے۔
میں نے دوبارہ پوچھا:
"میں تمہیں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں... تم آخر مجھ سے کیا چاہتی ہو؟"
کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا۔
پھر ان دونوں میں سے ایک سایہ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھا۔
میں نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ میں کچھ ہے۔
وہ میرے قریب آئی...
اپنا ہاتھ آگے کیا...
اور وہ چیز میری طرف بڑھا دی۔
میں نے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ اچانک...
دور کہیں سے فجر کی اذان کی آواز آنے لگی۔
آواز آہستہ آہستہ بلند ہوئی۔
منظر دھندلا گیا۔
وہ دونوں سائے دور ہوتے گئے۔
میں نے بے اختیار ہاتھ بڑھایا۔
"رکو!"
مگر میری آواز جیسے خلا میں گم ہو گئی۔
اگلے ہی لمحے میری آنکھ کھل گئی۔
میں بستر پر بیٹھا ہوا تھا۔
صبح کی ہلکی روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔
میں نے بے اختیار اپنے ہاتھ کو دیکھا۔
میری ہتھیلی خالی تھی۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ...
ہاتھ بند تھا۔
میں نے آہستہ سے اپنی مٹھی کھولی۔
اندر کچھ نہیں تھا۔
صرف پسینے سے بھیگی ہوئی ہتھیلی۔
میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
اور پھر میرے ذہن میں ایک خیال آیا:
اگر خواب میں اس نے واقعی میرے ہاتھ میں کچھ دیا تھا...
تو پھر جاگنے کے بعد میری مٹھی بند کیوں تھی؟
میں نے کوئی جواب نہیں ڈھونڈا۔
بس خاموشی سے اٹھا۔
اور پہلی مرتبہ مجھے محسوس ہوا کہ شاید یہ داستان صرف میرے خوابوں کی نہیں...
بلکہ میرے جاگتے ہوئے دنوں میں بھی داخل ہونے والی ہے۔
اور مجھے ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اگلا اشارہ...
خواب میں آئے گا یا حقیقت میں۔
جاری رہے گا۔۔۔

22/08/2026

پیر بابا حضرت اسرار القدسی
زندگی کے سفر کی داستان
قسط نمبر 27 — وہ دو چہرے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان صرف سفر نہیں کرتا...
وہاں سے گزرتے ہوئے وہ اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی حصہ پیچھے چھوڑ آتا ہے۔
اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں سے گزرنے کے بعد انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ آگے بڑھ چکا ہے یا کسی پرانی یاد کے دائرے میں دوبارہ داخل ہو گیا ہے۔
میری زندگی بھی اب کچھ ایسی ہی کروٹ لے رہی تھی۔
بچپن کی وہ گلیاں، اسکول کا وہ زمانہ، گھر کی سختیاں، خاموشی میں گزرتی ہوئی راتیں اور وہ عجیب خواب...
سب کچھ ابھی میری یادوں میں زندہ تھا۔
لیکن میں اب وہ بچہ نہیں رہا تھا۔
لڑکپن آہستہ آہستہ میرے وجود پر دستک دے رہا تھا۔
کالج کی نئی دنیا، نئے چہرے، نئی باتیں اور زندگی کے نئے سوالات میرے سامنے تھے۔
میں بظاہر ایک عام لڑکا تھا۔
کالج جاتا۔
واپس آتا۔
لوگوں سے ملتا۔
کبھی ہنستا، کبھی خاموش رہتا۔
لیکن میرے اندر کہیں ایک ایسی دنیا بھی آباد تھی جس کا دروازہ ہر شخص کے لیے بند تھا۔
اس دنیا میں کچھ خواب تھے...
کچھ سوال تھے...
اور کچھ ایسے چہرے تھے جنہیں میں بھولنا چاہتا تھا، مگر وہ مجھے بھولنے نہیں دیتے تھے۔
اس دن بھی کالج سے واپسی پر میں حسبِ معمول بس میں بیٹھا ہوا تھا۔
شام کا وقت تھا۔
دن بھر کی مصروفیت کے بعد جسم میں تھکن تھی، مگر ذہن حسبِ معمول جاگ رہا تھا۔
بس آہستہ آہستہ اپنے راستے پر چل رہی تھی۔
کھڑکی سے باہر دیکھتا تو کبھی دکانیں نظر آتیں، کبھی سڑک پر چلتے لوگ، کبھی کوئی سائیکل والا تیزی سے بس کے آگے سے گزر جاتا۔
میں خاموش بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
پھر اچانک...
میری نظر بس کے اگلے حصے میں بیٹھی دو لڑکیوں پر پڑی۔
صرف ایک نظر۔
بس ایک لمحہ۔
اور جیسے کسی نے میرے اندر برسوں سے بند ایک دروازہ اچانک کھول دیا ہو۔
میری سانس جیسے ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
میں نے دوبارہ انہیں دیکھا۔
ان دونوں میں سے ایک نے بھی میری طرف دیکھا۔
پھر دوسری نے۔
میں فوراً اپنی نظر ہٹا گیا۔
مگر اب میرے اندر کچھ بدل چکا تھا۔
مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں انہیں پہلی مرتبہ نہیں دیکھ رہا۔
جیسے...
میں انہیں پہلے بھی کہیں دیکھ چکا ہوں۔
لیکن کہاں؟
کب؟
میں اپنے ذہن پر زور دینے لگا۔
اچانک میرے ذہن میں وہی پرانا منظر ابھر آیا۔
ایک ویران جگہ...
ایک عجیب سی روشنی...
اور دو عورتیں۔
وہی دو چہرے جنہیں میں نے بچپن میں خواب میں دیکھا تھا۔
وہی عجیب کیفیت۔
وہی بے وجہ خوف۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
خود کو سمجھایا:
"نہیں... یہ ممکن نہیں۔"
میں نے دوبارہ آنکھیں کھولیں۔
وہ دونوں ابھی بھی وہیں بیٹھی تھیں۔
عام لڑکیوں کی طرح۔
آپس میں آہستہ آہستہ بات کر رہی تھیں۔
کبھی ایک دوسری کی طرف دیکھتی، کبھی کھڑکی سے باہر۔
ان کے چہروں پر کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے کسی کو خوف محسوس ہو۔
لیکن میرے لیے...
وہ منظر عام نہیں تھا۔
میں انہیں دیکھتا رہا۔
اور جتنا دیکھتا، اتنا ہی مجھے اپنے بچپن کا وہ خواب یاد آتا جاتا۔
بس ایک جگہ رک گئی۔
چند لوگ اترے۔
کچھ نئے لوگ سوار ہوئے۔
شور بڑھا۔
پھر بس دوبارہ چل پڑی۔
میں نے محسوس کیا کہ میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔
میں خود کو بار بار یہی سمجھا رہا تھا کہ شاید یہ صرف ایک اتفاق ہے۔
دنیا میں کتنے چہرے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔
ممکن ہے میرا ذہن پرانے خواب کو موجودہ چہروں کے ساتھ ملا رہا ہو۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اب ان کی طرف نہیں دیکھوں گا۔
مگر دل...
دل کہاں کسی کے فیصلے مانتا ہے؟
کچھ لمحوں بعد نہ چاہتے ہوئے بھی میری نظر دوبارہ ان کی طرف اٹھ گئی۔
اس مرتبہ...
دونوں مجھے دیکھ رہی تھیں۔
ایک لمحہ۔
صرف ایک لمحہ۔
مگر اس ایک لمحے میں میرے اندر عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔
ایسا لگا جیسے شور کرتی ہوئی بس اچانک خاموش ہو گئی ہو۔
لوگ موجود تھے۔
آوازیں موجود تھیں۔
بس چل رہی تھی۔
لیکن میرے لیے جیسے وقت ٹھہر گیا تھا۔
پھر ان دونوں میں سے ایک نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
وہ مسکراہٹ بہت معمولی تھی۔
شاید کسی اور کے لیے اس میں کوئی معنی نہ ہوتا۔
مگر میرے لیے...
وہ مسکراہٹ ایک سوال بن گئی۔
"کیا یہ واقعی وہی ہیں؟"
میں نے فوراً کھڑکی کی طرف دیکھ لیا۔
کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ بس کے اندر روشنی بدل گئی ہے۔
شام گہری ہو رہی تھی۔
کھڑکی سے باہر آسمان پر سورج کی آخری روشنی پھیل رہی تھی۔
میں نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا۔
اور نہ جانے کیوں...
مجھے اپنے عکس کے پیچھے ایک لمحے کے لیے وہی دو چہرے دکھائی دیے۔
میں چونک کر پلٹا۔
وہ دونوں وہیں تھیں۔
لیکن اب وہ مجھے نہیں دیکھ رہی تھیں۔
میں نے پھر شیشے کی طرف دیکھا۔
صرف میرا عکس تھا۔
میں نے دل ہی دل میں کہا:
"شاید میں تھکا ہوا ہوں۔"
بس آگے بڑھتی رہی۔
مگر میرے اندر ایک جنگ شروع ہو چکی تھی۔
ایک طرف عقل کہتی تھی:
"یہ اتفاق ہے۔"
دوسری طرف دل کہتا تھا:
"نہیں... کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔"
اگلا اسٹاپ آیا۔
ان دونوں میں سے ایک لڑکی کھڑی ہوئی۔
میرا دل بے اختیار دھڑکنے لگا۔
وہ بس کے دروازے کی طرف بڑھی۔
دوسری بھی اس کے پیچھے اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ شاید مجھے معلوم ہو جائے گا کہ یہ کون ہیں۔
دروازہ کھلا۔
وہ دونوں نیچے اتریں۔
میں کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔
وہ چند قدم آگے بڑھیں۔
پھر اچانک...
ان دونوں نے ایک ساتھ پیچھے مڑ کر بس کی طرف دیکھا۔
میری آنکھیں ان کی آنکھوں سے جا ملیں۔
اور اسی لمحے...
بس چل پڑی۔
میں نے گردن موڑ کر آخری مرتبہ انہیں دیکھنے کی کوشش کی۔
وہ سڑک کے کنارے کھڑی تھیں۔
دور ہوتی گئیں۔
چھوٹی ہوتی گئیں۔
پھر لوگوں کے ہجوم میں کہیں گم ہو گئیں۔
میں گھر پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔
گھر کے معمول کے کام چل رہے تھے۔
لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔
مگر میں خاموش تھا۔
میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی:
وہ کون تھیں؟
میں نے خود کو کئی بار سمجھایا کہ شاید یہ محض میری سوچ تھی۔
شاید وہ صرف ملتے جلتے چہرے تھے۔
شاید بچپن کے خواب نے میرے ذہن پر ایسا اثر چھوڑ دیا تھا کہ میں ہر مشابہ چہرے کو اسی خواب سے جوڑنے لگا تھا۔
مگر پھر ایک سوال میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔
اگر وہ صرف مشابہ چہرے تھیں...
تو انہیں دیکھتے ہی میرے اندر وہی خوف کیوں پیدا ہوا؟
اور اگر وہ واقعی وہی تھیں...
تو وہ اتنے سال بعد یہاں کیسے تھیں؟
میں کسی جواب تک نہ پہنچ سکا۔
اس رات میں دیر تک جاگتا رہا۔
پھر نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔
خواب میں میں نے خود کو ایک لمبی سڑک پر کھڑا دیکھا۔
سڑک بالکل خاموش تھی۔
سامنے دور ایک روشنی تھی۔
میں اس روشنی کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک میرے پیچھے کسی کے قدموں کی آواز آئی۔
میں نے مڑ کر دیکھا۔
کوئی نہیں تھا۔
پھر وہی آواز دوبارہ آئی۔
اس مرتبہ پہلے سے قریب۔
میں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔
اندھیرے میں دو سائے کھڑے تھے۔
چہرے واضح نہیں تھے۔
میں آگے بڑھنا چاہتا تھا مگر قدم جیسے زمین سے چپک گئے تھے۔
پھر ان دونوں میں سے ایک سایہ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھا۔
میں نے چیخنا چاہا...
مگر آواز نہ نکلی۔
اور اسی لمحے...
مجھے کسی نے بہت دھیمی آواز میں کہا:
"اب تم ہمیں پہچاننے لگے ہو..."
میری آنکھ کھل گئی۔
میں پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
میں نے اندھیرے میں چاروں طرف دیکھا۔
کوئی نہیں تھا۔
مگر میرے دل میں ایک بات پوری شدت سے اتر چکی تھی۔
وہ دو چہرے...
صرف ایک خواب کا حصہ نہیں تھے۔
یا شاید...
میں ابھی یہ سمجھنے کے لیے بہت چھوٹا تھا کہ وہ حقیقت میں کیا تھے۔
میں نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔
مگر نیند واپس نہ آئی۔
صبح ہونے تک ایک ہی سوال میرے ذہن میں گردش کرتا رہا:
اگر بس میں نظر آنے والی وہ دونوں واقعی وہی تھیں...
تو پھر وہ میری زندگی میں دوبارہ کیوں آئی تھیں؟
اور اس سوال کا جواب...
ابھی بہت دور تھا۔
جاری رہے گا۔۔۔

Address

Bahawalpur

Telephone

+923097045896

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran Online Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Quran Online Academy:

Shortcuts

Share

Category