10/06/2025
Al Quran Online Academy 36
Al Quran Academy is committed and reliable for Quranic, Hadith and Islamic education.
we are pleased to give you pure and practicable teaching of Nadhra, Hifz ... !
10/06/2025
24/01/2025
صحت_ﺍﻟﺮﭦ !
ﯾﮧ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻻﺯﻣﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺁﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺴﺎ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﮈﺍﮐﭩﺮ Available ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﺒﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺮ ﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Panadol, Panadol Extra, Releif
ﻧﺰﻟﮧ، ﺯﮐﺎﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Arinac Fort
ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﺩﺭﺩ، ﻣﻮﺷﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Flygel, Imodium, ORS
ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Caflam 50, Spasrid
ﮨﺎﺋﯽ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Cepoten
ﺳﯿﻨﮯ ﯾﺎ ﮔﻠﮯ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Augmentin
ﺍﻟﭩﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Gravinate tablet
ﮔﯿﺲ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Gaviscon syp
Mucan syp
ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Risek 20, Zantac
ﺯﺧﻢ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ
PolyFax, payodin, ﺯﺧﻢ ﭘﭩﯽ
ﺩﺍﻧﺖ ﯾﺎ ﺩﺍﮌﮪ ﺩﺭﺩ ﮐﮯﻟﯿﮯ
CalmoX 625 mg
Caflam 50
ﭘِﮭﻨﺴﯽ ﭘﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯﻟﯿﮯ
Double sptran
ﺑﭽﻮﮞ / ﺑﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Brofin syp
ﻧﻮ ﻧﮩﺎﻝ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﮯﻟﯿﮯ
Panadol Drop
ﻧﻮ ﻧﮩﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺩﺭﺩ ﯾﺎ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
Colic Drops
ﻧﻮ ﻧﮩﺎﻝ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﻥ ﭘﯿﻤﭙﺮﺯ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺯﺧﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ
Hydrozole Cream
ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﮯﻟﺌﮯ
Pulomonol, Hydriline, Siroline, Cough Rest
ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺰﯾﺪ ۔۔۔۔ ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔۔ (ﺷﮑﺮﯾﮧ)
سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔۔۔!
حضرت مصعب بن عمیر کا تعلق مکہ کے اس طبقے سے تھا جسے ھماری دنیا میں اشرافیہ سمجھا جاتا ھے اور ان کی اولادیں برگر کہلاتی ہیں۔ مکہ کی جس بھی گلی سے جب یہ حسین و جمیل نوجوان گزرا کرتا تو جھروکوں کی چلمنیں اٹھ جاتیں اور آنکھیں اسے ہزار اشتیاق و وفور سے تکتی تھیں۔ خوش گوار مہک سارے میں بس جاتی اور ہر ایک پہ آشکار ہوتا کہ آج مصعب کا ادھر سے گزر ہوا ھے۔ وہ مصعب جس کا ہر شاہانہ پیرہن یمن سے سِل کر آتا اور صرف ایک ہی بار پہنا جاتا اور جو خوشبو لگاتے ، وہ اتنی گراں قدر ہوتی کہ مکہ کے معدودے چند ہی مالدار ترین لوگوں کو میسر ہوتی تھی۔ اس خوش باس و خوش لباس جوان کو اپنی ماں سے بے حد محبت تھی کہ اس کا کہا کوٸی حکم نہیں ٹالتے تھے مگر ایک دن اس بے فکر نوجوان کے کانوں نے اس آواز کو سنا جو تیزی سے مکہ کی سرزمین کو حیران کیے جا رہی تھی ۔۔۔۔ یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی صدا تھی جو منجانب اللہ توحید کی مشعل لے کر ظلمت کے مد مقابل ابھرے تھے ۔ اس صدا نے سارے سماج اور معروض میں ہلچل مچا دی تھی۔ مکہ کے صغیر و کبیر ، غلام و آزاد ، امیر و غریب ، حاکم و محکوم ، مشرکین ، یہود ، نصاریٰ ، خاص و عام ، یعنی مکی معاشرے کی ہر کمیونٹی میں موضوع گفتگو محمد ﷺ کی وہ دعوت تھی جو شرک و طاغوت کے خلاف کھلی بغاوت کی صورت اُبھر رہی تھی ، بتدریج یہ دعوت اہل مکہ کو متاثر کرنے لگی اور مشعل رسالتﷺ کے ارد گرد توحید کے پروانے جمع ہونے لگے۔ مصعب نے بھی اس صداۓ حق کو سنا ، مضطرب ہوۓ اور اس کاروانِ توحید میں جا شامل ہوۓ، لیکن اس قافلے کی نوعیت و ماہیت ہی جدا تھی۔ یہ غرباء کہلاتے تھے۔ مکہ کی فضاؤں نے وہ دن دیکھے ہیں جب کلمہ شہادت پڑھ کر مرجانا زندہ رہنے سے زیادہ مشکل تھا۔ صہیب ، بلال ، سمعیہ سمیت نجانے کتنے تھے جو مشرکین مکہ کے ستم بلاخیز کا نشانہ بنے ، ثابت قدم رہے اور رہتی دنیا تک امر ہوگئے۔ مصعب نے جب اس راہ پُرخار پر چلنے کا عزمِ مصمم کیا تو پھر الفتِ مادری ، تزک و احتشام بھری زندگی ، آساٸشات و تعیش ، تفریح غرض یہ کہ سب کچھ دین متین کے لیے بلاجھجھک تج دیا ۔ لمحے بھر کا بھی تؤقف نہ کیا۔
پہلا ، فوری اور سخت ترین ردعمل ماں کی طرف سے آیا۔ وہی ماں جس کے لیے مصعب ہتھیلی کا چھالا تھا ، اُس نے ساری سہولیات و رعایتیں سلب کیں اور پا بہ جولاں مقید کر دیا۔ پھر تشدد و ترغیب کا ہر حربہ آزمایا گیا تاکہ مصعب پلٹ کر باطل کی قدیمی روش پر آۓ مگر ۔۔۔ سب تدبیریں اکارت گٸیں۔ ساری مار پیٹ اور لالچ بے اثر ثابت ہوٸی۔ جس طرح قید سے رہائی پائی وہی جانتے تھے یا ان کا رَبّ۔ نٸی غلامی کی شان ہی نرالی تھی۔ اب ان کی آزاد گردن میں محمد عربی ﷺ کی غلامی کا طوق تھا۔ محبس سے سیدھے نبی علیہ السلام کی انجمن میں پہنچے تو حال یہ کہ وجود پر کھردرے ٹاٹ کا فقط ایک ہی پارچہ تھا جسے ببول کے کانٹوں سے جوڑنے کی ناکام سعی کی گئی تھی اور ستر پوشی کا تقاضا بمشکل پورا ہو رہا تھا۔ سرکار دوجہاں ﷺ کا چہرہ۶ اقدس مصعب کو دیکھ کر کِھل اٹھا۔ اپنے ہر صحابی کے جوہر و خواص ان پر بخوبی عیاں تھے۔ پھر جلد ہی وقت آیا جب سیدنا مصعب بن عمیر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داعی و سفیرِ حق بنا کر مدینہ بھیجا۔ انتخاب بھی کیا خوب تھا، فہم و فراست کے پیکر کے دلنشیں انداز بیاں اور دعوت فکر نے مدینہ کے چند نمایاں قبائل میں آتش شوق بھڑکا دی۔ نتیجتاً اہل مدینہ جوق در جوق اسلام کی پناہ میں آنے لگے۔
معرکہ۶ بدر کی نوبت آٸی تو ان کی تیغ اپنے مشرک اقربا پہ بجلی بن کر برسی۔ اختتام پر مشرک قیدیوں کے پاس سے گزرے، اچانک نظر اپنے ہی سگے بھائی پر پڑی جس کی مشکیں ایک صحابی۶ رسول کَس رھے تھے۔ مصعب مسکراۓ اور فرمایا : ”اس کے ہاتھ خوب اچھی طرح باندھو ، اس کی ماں بہت مالدار ھے۔ تگڑا فِدیہ دے گی۔“
میدانِ اُحد میں اترے تو جان نثاری کی ان مٹ مثال قائم کر دی ، حضور ﷺ کی حفاظت کرتے ہوۓ شہید ھوئے۔ وہ دن اہل حق پہ سخت کٹھن تھا جب سیدنا حمزہ سمیت کتنے ہی بطلِ جلیل خدا کی بارگاہ میں پہنچے۔ اتنی مشکل گھڑی تھی کہ باعثِ تخلیقِ کاٸنات کے دندان مقدس شہید ہوئے۔ اپنے اعزا و احباب کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھ کر اشک ہاۓ رنج و غم رخساروں پہ بہہ نکلے۔
جی ہاں وہی سنگین دن تھا۔ مصعب کے دونوں علم بردار بازو کٹے ہوۓ تھے اور خون آلود وجود پہ تب بھی ایک ہی کپڑا تھا جسے کفن بنایا گیا۔ منظر یہ تھا کہ سر چھپایا جاتا تو پیر ننگے اور پیر ڈھانپے جاتے تو سر کُھل جاتا۔ یہ بھانپ کر رسول مہربانﷺ نے فرمایا : ” سَر پہ کپڑا اور پیروں پر اذخر (ایک نوع کی گھاس) رکھ دو۔“ اور آقاﷺ نے جب ستارہ صورت مصعب کے چہرے پہ نگاہ کی تو بے اختیار رو دیے۔ فرمایا : ”مکہ کی گلیوں نے اس سے زیاد٥ بانکا جوان نہیں دیکھا ہو گا۔“
خداۓ برحق کی قسم ! اسلام ، ہم امت تک کبھی نہ پہنچتا اگر مصعب جیسے نبی ﷺ کے پروانے اس کی ترویج و فروغ کے لیے بے جگری سے قربان نہ ہوتے، بے شک یہ مطہر ہستیاں ہی تھیں جنھوں نے دنیا سے جو کچھ لیا ، اس سے ہزار گنا بڑھ کر لوٹا دیا۔
رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین ۔۔۔۔!
19/05/2024
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتیٰ کہ جـنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں ۔۔۔ یہ حکم صادر ھوا خلیفہ اوّل کی طرف سے۔۔۔
مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی ان میں 600 صحابہ کرام ایسے بھی تھے جوکامل حافظ قرآن تھے.
اور اس جنگ میں 27000 کفار وصل جہنم ہوئے .
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔
13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"
چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوںبمیں آخری خطبہ دیا:
والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"
اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!
ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا
*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔
کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کہتے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔
اور اسی جنگ میں وحشی ابن حرب نے مسیلمہ کذاب کو جہنم واصل کیا۔ اسی جنگ کے بعد وہ کہتے تھے کہ شائد حمزہ رضی اللہ کا کفارہ ادا ھو سکے۔۔
تب کے مسلمانوں نے اپنا سب کچھ ختم نبوت پر قربان کر دیا اور خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق اکیلے مدینہ منورہ میں رہے۔ کہتے ہیں کہ وہ اتنے بے چین تھے کہ معلوم ھوتا تھا انگاروں پر پاؤں دھرے ہیں۔
اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو!
آخر میں میری آپ تمام دوستوں سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کیجئے.
واللہ الموفق والمعین ۔۔۔۔!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Bahawalpur