21/12/2024
یہ آج کے ڈان ایڈٹیوریل کا پہلا ٹاپک ہے جس کا عنوان ہے : عجیب دعویٰ
اگرچہ پاکستان ـ یو اس تعلقات شاذونادر ہی مخلص رہے ہیں۔ ایک امریکی افسر کی طرف سے ایک سنسنی خیز دعوے نے اور یو ایس پابندیاں جس کا نشانہ پاکستان کے سرکاری اور نجی ادارے ہوئے نے تعلق کے مستقبل کے متعلق کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ کارنیگی اینڈو منٹ برائے عالمی امن میں گفتگو کرتے ہوئے یوایس ڈپٹی قومی سیکیوریٹی مشیر، جان فائنر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی بیلاسٹک میزائل ٹیکنالوجی اقوام متحدہ کو ایک اُبھرتا ہوا خطرہ پیدا کرتی ہے کہ ایک دن پاکستان کے میزائل امریکہ میں اہداف پر حملہ کرسکتے ہیں۔ یو ایس کا نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس جو کہ ملک کے میزائل پروگرام کا ذمہ دار ہے پر بھی اور تین کراچی کی کمپنیوں پر بھی پابندی لگانے کے بعد متنازع تبصرہ سامنے آیا۔ دفتر خارجہ نے پابندیوں کو امتیازی کی اصطلاح دی اور کہا کہ ایسے فیصلوں کے خطرناک مضمرات ہوتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے یوٹیوب چینل پر ویڈیو ملاحظہ فرمائیں۔
آپ کا میزبان
محمد عابد عثمان
20/12/2024
یہ آج کے ڈان ایڈٹیوریل کا تیسرا ٹاپک ہے جس کا عنوان ہے: مصیبت زدہ سمندر
ایک بحران سے دوسرے میں پھنس کر، پاکستانی ریاست مسلسل اپنے کمزور شہریوں کو مایوس کررہی ہے۔ خبروں کے مطابق سمندر میں تازہ ترین المیہ میں تراسی غیر قانونی تارکین میں سے کم از کم انتالیس پاکستانی تھے جو ایک یونانی جزیرے سے پرے کشتی الٹی ہونے کے بعد ڈوب گئے۔۔۔۔ ایک ناخوشگوار یاد دہانی تھی 262 پاکستانیوں کی جو پچھلے سال اسی سمندر میں ڈوب گئے تھے۔ واقعہ ایک قابلِ توقع سلسلہ رد عمل کو حرکت میں لا چکا ہے۔ خبروں کا چکر ایک اور المیہ کے گرد گردش کرتا ہے۔۔۔۔۔
مزید پڑھنے کے لیے یوٹیوب چینل پر ویڈیو ملاحظہ فرمائیں ۔
آپ کا میزبان
محمد عابد عثمان
20/12/2024
یہ 19 دسمبر 2024 کے ڈان ایڈٹیوریل کا دوسرا ٹاپک ہے جس کا عنوان ہے: کُرم کے مصائب
کُرم ضلع میں خصوصاً پارہ چنار شہر میں بڑھتا ہوا انسانیت کا بحران خطرناک طول پکڑ چکا ہے جو کہ فوری ریاستی مداخلت کا متقاضی ہے۔ اب تک ستر سے زائد دن ہوچکے کہ ضلع کی بڑی شاہراہ جو اسے پشاور سے جوڑتی ہے بند پڑی ہے۔ پارہ چنار کو ایک حقیقی جزیرہ میں بدل دیا جہاں تک رسائی صرف ہوائی سفر سے ہوسکتی ہے۔ نتائج اس کے مکینوں کے لیے تباہ کن ہیں۔ بحران مہلک قبائلی لڑائیوں کا نتیجہ ہے جو گاڑیوں کے ایک قافلے پر ایک نومبر حملہ کے بعد پھوٹیں جس میں کم از کم 43 زندگیوں کے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ جو بھڑک کر باہمی لڑائی بن گئی جو 130 سے زائد لوگوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ جبکہ فوری سبب تو یہ واقع تھا۔ علاقہ زمینی تنازعات پر قبائلی مخالفتوں سے تو عرصے سے بھڑکا ہوا ہے۔۔۔۔
مزید اس ایڈٹیوریل کو اردو میں پڑھنے اور سمجھنے کے لیے یوٹیوب چینل پر ویڈیو ملاحظہ فرمائیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaUgPGsCnA82Cy1sU71E
20/12/2024
یہ 18 دسمبر 2024 کے ڈان ایڈٹیوریل کا پہلا ٹاپک ہے جس کا عنوان ہے:
جغرافیائی سیاسی چالیں
جیساکہ اسد کے بعد جو بھی حکومتی نظام شکل اختیار کرتا ہے، سوالات تو باقی رہیں گے کہ بین الاقوامی برادری جہادیوں جو اب دمشق میں احکامات صادر فرما رہے ہیں کے ساتھ کیسا سلوک کرے گی۔ جبکہ محمد البشیر کو شاید نگران وزیراعظم نامزد کردیا گیا ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ شام میں جس شخص سے بات کرنی ہے وہ باغی جنگجو سردار سے بدلا ہوا سیاستدان ابو محمد الجولانی ہے۔ حیات تحریر الشام یو این کی طرف سے پابندی لگائی گئی عسکریت پسند جماعت کا سربراہ ہے۔ بشر الاسد کے زوال سے مسٹر جولانی دنیا کو باور کرانے میں بڑی مشکلات میں ہے کہ وہ ایک بدلا ہوا آدمی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے یوٹیوب چینل پر ویڈیو ملاحظہ فرمائیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaUgPGsCnA82Cy1sU71E
08/06/2024
Read Dawn Editorial with me daily on my YouTube Channel "Learn English with Abii".