SM Lingua

SM Lingua Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from SM Lingua, Education, Bahawalpur.

🌐 Multi-Language Enthusiast | Independent Educator | 📝 Teaching English • Urdu • Basic Arabic • & More
✨ "زبانیں سیکھیں، دنیا بدلیں"
(Learn languages, change the world)
📩 DM for classes or inquiries!

29/09/2026

Urdu words that are mispronounced commonly | Learn to speak urdu correctly

25/09/2026

Comparison between Standard British English and General American English presenting days of the week

24/09/2026

Speak urdu amd english eloquently | High-flown expressions in urdu and english #اردوشاعری

23/09/2026

Urdu words that are mispronounced commonly

19/09/2026

TITLE: Important Announcement / اہم اعلان

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

کل بروز جمعہ دوپہر 1 بجے سے شام 7 بجے کے درمیان میرا فون چوری ہو گیا ہے۔ میرا تمام ڈیٹا اور میرے مرحوم والد صاحب کی قیمتی یادیں جو فون میں تھیں، سب ختم ہو گئیں۔

الحمدللہ میں نے ابھی اپنا فیس بک اکاؤنٹ ریکور کیا ہے اور آپ سب کو اطلاع دے رہا ہوں۔

جب تک میں پہلے جیسا اچھے کیمرے والا فون دوبارہ نہیں لے لیتا، میری روزانہ کی ریلز اور ویڈیوز میں تاخیر ہوگی۔ مجھے نہیں معلوم اس میں کتنا وقت لگے گا اور کتنے دن لگیں گے۔

تب تک آپ میری پرانی ریلز دیکھ سکتے ہیں اور اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں۔

---

Inna Lillahi wa inna ilayhi raji'un.

My phone was stolen yesterday on Friday between 1 PM - 7 PM. I lost all my data and precious memories of my late father.

I have just recovered my Facebook account and I am informing you all.

My daily reels and content will be delayed until I can arrange a new phone with a good camera like before. I don't know how long it will take or how many days.

Please keep watching my old content and remember me in your duas.

JazakAllah Khair.

16/09/2026

اردو تلفظ کا معمہ: لغت بمقابلہ رواج

اردو زبان کے تلفظ اور صحتِ الفاظ کا مسئلہ ہمیشہ سے علمی اور ادبی حلقوں میں بحث و تکرار کا مرکز رہا ہے۔ اس تناظر میں دو ایسے گروہ آمنے سامنے نظر آتے ہیں جو صدیوں سے ایک دوسرے کو 'مسندِ جہل کا وارث' ثابت کرنے پر برسرِ پیکار ہیں، اور یہ مسئلہ آج بھی جوں کا توں برقرار ہے۔ دونوں مکاتبِ فکر اپنے موقف کی تائید میں انتہائی ٹھوس اور گہرے دلائل پیش کرتے ہیں:

۱۔ پہلا گروہ: "دریائے لطافت" اور "ضرورتِ شعر" کے علمبردار
یہ روایتی اور کٹر پسند گروہ میر انشا اللہ خان انشا کی شہرہ آفاق تصنیف "دریائے لطافت" کے اصولوں اور "ضرورتِ شعر" (Poetic License) کو اپنا حاکمِ مطلق مانتا ہے۔ ان کے بنیادی دلائل درج ذیل ہیں:

رواجِ عام کا اصول (جو مشہور ہو جائے): "دریائے لطافت" کا یہ بنیادی، سنہری اور سب سے مشہور اصول ہے کہ "جو لفظ مشہور ہو جائے، وہ فصیح ہے، خواہ اس کی اصل کچھ بھی ہو"۔ انشا کا استدلال ہے کہ زبان کا حقیقی مالک کوئی لغت نویس یا قواعد دان نہیں بلکہ 'اہلِ زبان' خود ہیں۔ اگر اہل زبان نے کسی غیر ملکی لفظ کو بگاڑ کر یا بدل کر رواج دے دیا ہے، تو اب اردو میں اس کا وہی بدلا ہوا روپ ہی صحیح اور مستند مانا جائے گا۔ لغت کے پرانے قواعد کے پیچھے بھاگنا نادانی ہے۔

ضرورتِ شعر کی سند: اس گروہ کا دوسرا بڑا تکیہ "ضرورتِ شعر" پر ہے جس کے مطابق "شعر کا وزن اور بحر قائم رکھنے کے لیے شاعر کو لفظ کے اعراب (حرکات و سکنات) تبدیل کرنے کی مکمل اجازت ہے"۔ مثال کے طور پر اگر کسی لفظ میں اصل کے مطابق 'زبر' ہے لیکن بحر میں 'زیر' کی ضرورت ہے، یا کسی ساکن حرف کو متحرک کرنا ہو (جیسے 'شمع' کو 'شمعَ') تو اساتذہ کا ایسا کرنا عیب نہیں بلکہ ان کا مروجہ حق کہلاتا ہے کیونکہ تخلیق کار کو صوتی حسن برقرار رکھنے کی کھلی رخصت ہے۔

سمع و ذوق بمقابلہ خشک قواعد: ان کا استدلال ہے کہ لفظ کا اصل مقصد کانوں کو بھلا لگنا اور زبان کی روانی کو برقرار رکھنا ہے۔ شاعری کا حسن اور الفاظ کا رواج خشک لغوی اصولوں اور گرامر دانوں کا محتاج نہیں ہو سکتا۔

۲۔ دوسرا گروہ: لغات، ماہرینِ لسانیات اور دستاویزی نظام کے پاسبان
دوسری جانب وہ گروہ ہے جو زبان کو ایک منظم, سائنسی اور دستاویزی اصول کے تحت پرکھتا ہے۔ اس گروہ کے سب سے بڑے ستون "اردو لغت بورڈ" کی ۲۲ جلدوں پر مشتمل تاریخی لغت اور شان الحق حقی کی مرتب کردہ مایہ ناز تصنیف "فرہنگِ تلفظ" ہیں۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں:

علمی اشتقاق اور ماخذ کا تحفظ: ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ اردو میں شامل عربی، فارسی یا سنسکرت کے الفاظ کا ایک خاص تاریخی اور علمی پس منظر (Etymology) ہوتا ہے۔ "اردو لغت بورڈ" کے اصولوں کے مطابق، الفاظ کے اصل اعراب اور ساخت کو برقرار رکھنا لسانی دیانت داری ہے، ورنہ زبان کا خمیر ہی مسخ ہو جائے گا۔

رائج فصیح اور دستاویزی معیار: شان الحق حقی نے "فرہنگِ تلفظ" میں یہ واضح کیا ہے کہ تلفظ کا ایک طے شدہ دستاویزی معیار ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے لغت میں نہ صرف اصل بلکہ مروجہ فصیح تلفظ کو اعراب اور صوتی اشاروں سے دستاویزی شکل دی، تاکہ ابہام ختم ہو سکے۔ ان کی دلیل ہے کہ انفرادی پسند، وقتی رواج یا کسی ایک شاعر کے رواج کو مستقل قانون نہیں بنایا جا سکتا۔

عوامی بول چال بمقابلہ انفرادی رخصت: ماہرین کا استدلال ہے کہ "ضرورتِ شعر" شاعر کی ذاتی مجبوری یا وقتی علمی رخصت تو ہو سکتی ہے، لیکن اسے لغت کا مستقل حصہ بنا کر پوری قوم کے روزمرہ اور معیاری تعلیمی نصاب پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہر شاعر اپنی مرضی سے اعراب بدلنے لگے تو زبان میں انتشار پھیل جائے گا۔

مجوزہ حل: ایک معتدل درمیانی راستہ (The Middle Ground)
صدیوں پرانی اس بحث کو ختم کرنے اور زبان کے حسن و بقا کے لیے ایک ایسی معتدل راہ اختیار کی جا سکتی ہے جہاں لغت کا وقار بھی برقرار رہے اور رواجِ عام کی تخلیقی آزادی بھی متاثر نہ ہو:

1. لغت میں متوازی تلفظ کی گنجائش: "اردو لغت بورڈ" اور "فرہنگِ تلفظ" کی طرح نئی لغات میں الفاظ کے 'اصل ماخذ' کے ساتھ ساتھ 'مروجہ عوامی یا شعری تلفظ' کو بھی جگہ دی جانی چاہیے۔ لغت میں واضح لکھا جائے کہ "اصل تلفظ یہ ہے، مگر اردو میں یہ بھی فصیح مانا جاتا ہے" (جیسے 'شمع' کا اصل تلفظ مِیم کے سکون کے ساتھ ہے، مگر شاعری میں مِیم کے زبر کے ساتھ 'شمعَ' پڑھنا بھی لغت میں درج ہو)۔

2. ضرورتِ شعر کو رخصت مانا جائے، عزیمت نہیں: شاعر کو بحر اور وزن کی حد تک اعراب بدلنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، لیکن اس بدلے ہوئے تلفظ کو روزمرہ کی تعلیمی اور نثری زبان پر زبردستی مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ شاعری کی زبان کو 'تخلیقی رخصت' کے طور پر الگ تسلیم کیا جائے۔

3. اہلِ زبان کا ارتقا: زبان ایک زندہ حقیقت ہے۔ اگر کوئی لفظ بدل کر عوام اور اساتذہ کے ہاں اتنا رائج ہو چکا ہے کہ اصل تلفظ اجنبی محسوس ہوتا ہے، تو ماہرینِ لسانیات کو ہٹ دھرمی چھوڑ کر رواجِ عام کو قبول کر لینا چاہیے، کیونکہ زبان عوام سے بنتی ہے، عوام زبان سے نہیں بنتے۔

✍️ کمنٹ باکس: آپ کی کیا رائے ہے؟
معزز قارئین، آپ نے دونوں گروہوں کے دلائل اور پیش کردہ حل ملاحظہ کیا۔ اب مائیک آپ کے پاس ہے! نیچے کمنٹ باکس میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں:
کیا آپ لغت کی علمی سختی کے حق میں ہیں یا انشا اللہ خان انشا کے رواجِ عام کے اصول سے اتفاق کرتے ہیں؟
آپ کے خیال میں اس مسئلے کا سب سے بہترین حل کیا ہو سکتا ہے؟ نیچے کمنٹ کریں!

#اردو #اردوادب #اردوتلفظ

15/09/2026

Urdu words that are commonly mispronounced

14/09/2026

Urdu words that are mispronounced

12/09/2026

Commonly mispronounced words in urdu | speak urdu correctly

10/09/2026

Different ways to say "Memorize it" in Urdu | Speak with high-flown expressions & eloquence #اردوشاعری

Address

Bahawalpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SM Lingua posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share