شب براءت کا روزہ رکھنا کیسا ہے ؟
سوال
شب براءت کا روزہ رکھنا کیسا ہے ؟
جواب
پندرہ شعبان کے روزے سے متعلق حدیث موجود ہے، اگرچہ وہ حدیث ضعیف ہے، تاہم ضعیف حدیث سے بھی فضیلت کا ثبوت ہو جاتا ہے،نیز یہ ایام ،ایام بیض کے بھی ہیں اس لیے پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
سنن ابنِ ماجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
"رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو، اس لیے کہ اس میں غروبِ شمس سے طلوعِ فجر ہونے تک آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں :ہے کوئی مغفرت کا طلب گار کہ میں اس کی مغفرت کروں! ہے کوئی روزی کا طلب گار کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں ہے ! یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ "
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا، حتى يطلع الفجر."
(سنن ابن ماجہ، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان،ج:۱،ص:۴۴۴،ط:دارالمعرفہ بیروت)
فقط والله اعلم
Jama Masjid Saad BIN Waqas
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jama Masjid Saad BIN Waqas, Education Website, Bahawalpur.
حدیثِ مبارکہ # 31
*`آپ کے اور آپ کے گھر والوں کے مسلسل فاقے`*
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم *يَبِيْتُ اللَّيَالِيَ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا هُوَ وَاَهْلُهٗ لَا يَجِدُوْنَ عَشَاءً وَاِنَّمَا كَانَ عَشَاؤُهُمْ خُبْزُ الشَّعِيْرِ*
(رواه الترمذي رحمه اللّٰه تعالىٰ)
*ترجمہ* حضرت عبداللّٰہ بن عبّاس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی *بہت سی راتیں پے در پے اس حالت میں گزرتی تھیں کہ آپ اور آپ کے گھر والے خالی پیٹ فاقے سے رہتے تھے، کیونکہ رات کا کھانا نہیں پاتے تھے (اور جب کھاتے) تو ان کا رات کا کھانا عام طور سے بس جَو کی روٹی ہوتی تھی*۔
(ترمذی)
حدیثِ مبارکہ # 30
*`میں اِس دنیا میں اُس مسافر کی طرح ہوں جو سایہ کے لیے کسی درخت کے نیچے بیٹھ گیا ہو`*
عَنِ بْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلى اللّْه عليه وسلم نَامج عَلىٰ حَصِيْرٍ فَقَامَ وَقَدْ اَثَّرَ فِيْ جَسَدِهٖ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لَوْ اَمَرْتَناَ اَنْ نَبْسُطَ لَك وَنَعْمَلَ فَقَالَ مَالِيْ وَ لِلدُّنْياَ وَمَا اَنَا وَالدُّنْيَا اِلاَّ كَرَاكِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا
(رواه احمد والترمذي وابن ماجه رحمهم اللّٰه تعالىٰ)
*ترجمہ* حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) کھجور کی چٹائی پر سوئے ،پھر جب سو کے آپ اٹھے، تو جسم مبارک میں اس چٹائی کی بناوٹ کے نشان پڑے ہوئے تھے، (تو اس حالت کو دیکھ کر اس سے متاثر ہو کر) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ اگر حضور فرمائیں تو ہم حضور کے لیے بستر کا انتظام کریں اور کچھ بنائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے دنیا سے کیا تعلق اور کیا لینا! میرا تعلق دنیا کے ساتھ بس ایسا ہے جیسا کہ کوئی سوار مسافر کچھ دیر سایہ لینے کے لیے کسی درخت کے نیچے ٹھہرا اور پھر اس کو اپنی جگہ چھوڑ کر منزل کی طرف چل دیا۔
حدیثِ مبارکہ #29
*`نیک مقاصد کے لیے دنیا کی دولت حاصل کرنے کی فضیلت`*
عن ابي هريرة قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم *مَنْ طَلَبَ الدُّنْياَ حَلاَلاً اِسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْئَلَةِ وَسَعْيًا عَلىٰ اَهْلِهٖ وَتَعَطُّفاً عَلىٰ جَارِهٖ لَقِيَ اللّٰهَ تَعَالىٰ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهٗ مِثْلُ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالاً مُكَاثِراً مُفَاخِراً مُراَئِياً لَقِيَ اللّٰهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضَبَانُ* ۔
(رواه البيهقي في شعب الايمان وابو نعيم في الحلية)
*ترجمہ* حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ *جو شخص دنیا کی دولت حلال طریقے سے اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے، تاکہ اس کو دوسروں سے سوال کرنا نہ پڑے اور اپنے اہل و عیال کے لیے روزی اور آرام و آسائش کا سامان مہیا کر سکے، اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی وہ احسان اور سلوک کر سکے، تو قیامت کے دن وہ اللّٰہ کے حضور میں اس شان کے ساتھ حاضر ہوگا، کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن اور چمکتا ہوگا ۔اور جو شخص دنیا کی دولت حلال ہی کے ذریعے سے اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے کہ وہ بہت بڑا مالدار ہو جائے، اور اس دولت مندی کی وجہ سے وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھا سکے، اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کے لیے داد و دہش کر سکے، تو قیامت کے دن وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں حاضر ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہوگا*۔
حدیثِ مبارکہ # 28
*`دولت اگر صلاح و تقوے کے ساتھ ہو' تو وہ بھی اللہ کی نعمت ہے`*
عَنْ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلىَّ اللّٰه عليه وسلم اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الَّتقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ (رواه مسلم رحمه اللّٰه تعالىٰ)
*ترجمہ* حضرت سعد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلیَّ اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اُس متقی دولت مند بندہ سے جو (تقویٰ اور دولت مندی کے باوجود) نامعروف اور چھپا ہوا ہو۔
حدیثِ مبارکہ # 27
*`کافروں، فاجروں کی خوشحالی پر رشک نہ کرو`*
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلىَّ اللّٰه عليه وسلم لاَ تَغْبِطَنَّ فَاجِراً بِنِعْمَةٍ فَاِنَّكَ لاَ تَدٔرِيْ مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهٖ اِنَّ لَهٗ عِنْدَ اللّٰهِ قَاتِلًا لَايَمُوْتُ يَعْنِي النَّارَ (رواه البغوي في شرح السنة)
*ترجمہ* حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلیَّ اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی بدکار (کافر یا فاسق) پر کسی نعمت اور خوشحالی کی وجہ سے کبھی ہرگز رشک نہ کرنا، تم کو معلوم نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اس پر کیا کیا مصیبتیں پڑنے والی ہیں ، اللّٰہ کے ہاں (یعنی آخرت میں) اس کے لیے ایک ایسا قاتل ہے جس کو کبھی موت نہیں ۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مطلب اس قاتل سے دوزخ کی آگ ہے،(یعنی وہ بیچارہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہنے والا ہے، پس ایسے شخص پر رشک کرنا کتنی بڑی حماقت اور گمراہی ہے)۔
حدیثِ مبارکہ # 25
*`کسی کی ظاہری خستہ حالی اور غربت کی وجہ سے اس کو حقیر نہ سمجھو`*
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ مَدْفُوْعٍ بِالْاَبْوَابِ لَوْ اَقْسَمَ عَلىَ اللّٰهِ لَاَبَرَّهٗ
(رواه مسلم رحمه اللّٰه تعالىٰ)
*ترجمہ* حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت سے پراگندہ بالوں والے گرد و غبار میں اٹے ہوئے جن کو دروازوں پر دھکے دیے جائیں( اللّٰہ کے نزدیک ان کا مقام یہ ہوتا ہے کہ )اگر اللّٰہ پر وہ قسم کھا جائیں تو ان کی قسم کو اللّٰہ ضرور پورا کرے۔
*`فتنہ وفساد کی عام وجہ`*
اس سلسلہ میں بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ دنیا میں فتنہ و فساد اور قتل و خونریزی کیوں ہوتی ہے، اور اس کے اسباب کیا ہیں؟
تو تاریخ کو سامنے رکھ کر تجزیہ کریں گے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ امن و امان کو جو چیز تباہ کرتی ہے وہ انسان کی تنگ نظری ہے، کوئی مذہب کے نام پر تلوار اٹھاتا ہے، کوئی رنگ و نسل کے نام پر معرکہ آرائی کیلئے میدان کار زار گرم کرتا ہے، کوئی وطن اور ملکی حدود کے تعصب میں مبتلا ہو کر انسانی خون سے ہولی کھیلتا ہے۔
*اسلام کا نظامِ امن* ص:71۔
حدیث مبارکہ # 25
*`اپنے سے کم درجہ والوں کو دیکھ کر صبر و شکر کا سبق لیا کرو`*
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم اِذَا نَظَرَ اَحَدُكُمْ اِلىٰ مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ اِلىٰ مَنْ هُوَ اَسْفَلَ مِنْهُ
(رواه البخاري ومسلم رحمهما اللّٰه)
*ترجمہ* حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلیَّ اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال و دولت اور جسمانی بناوٹ یعنی شکل و صورت میں اس سے بڑھا ہوا ہو (اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں حرص تما اور شکایت پیدا ہو) تو اس کو چاہیے کہ کسی ایسے بندے کو دیکھے جو ان چیزوں میں اس سے بھی کم تر ہو (تاکہ بجائے حرص و طمع اور شکایت کے صبر و شکر پیدا ہو۔)
16/01/2025
یہ سؤال وجواب ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث مبارکہ # 24
*`بہت سے غریب اور خستہ حال ایسے ہیں کہ ان کی برکت اور دعا سے رزق ملتا ہے`*
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ رَاٰى سَعْدٌ اَنَّ لَهٗ فَضْلاً عَلىٰ مَنْ دُوْنَهٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ اِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ۔
(رواه البخاري رحمه اللّٰه تعالىٰ)
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد سعد کو (اللّٰہ تعالیٰ نے جو خاص صلاحیتیں بخشی تھیں ، مثلا شجاعت، سخاوت، فہم و فراست وغیرہ ان کی وجہ سے ان کا) کچھ خیال تھا کہ (جو غریب اور کمزور قسم کی مسلمان ان چیزوں میں) ان سے کم تر ہیں، وہ ان کے مقابلے میں فضیلت اور برتری رکھتے ہیں ، پس رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے (ان کے اس خیال اور حال کی اصلاح کے لیے) فرمایا اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے تم لوگوں کی جو مدد ہوتی ہے ، اور تم کو جو نعمتیں ملتی ہیں، وہ (تمہاری صلاحیتوں اور قابلیتوں کی بنیاد پر نہیں ملتیں ، بلکہ) تم میں جو بے بیچارے کمزور اور خستہ حال ہیں ، ان کی برکت اور ان کی دعاؤں سے ملتی ہیں۔
حدیث مبارکہ # 23
*`اگر حسن عمل کی توفیق ہو، تو زندگی بڑی نعمت ہے`*
عَنْ اَبِيْ بَكْرَةَ اَنَّ رَجُلاً قَالَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ *اَيٌّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهٗ وَحَسُنَ عَمَلُهٗ قَالَ اَيٌّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهٗ وَسَاءَ عَمَلُهٗ*
( رواه احمد )
*ترجمہ* حضرت ابوبکرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللّٰہ! *آدمیوں میں کون بہتر ہے؟ (یعنی کس قسم کا آدمی آخرت میں زیادہ کامیاب اور فلاحیاب رہے گا ) آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ جس کی عمر لمبی ہوئی اور اس کے اعمال اچھے رہے ۔ پھر اسی سائل نے عرض کیا کہ آدمیوں میں زیادہ برا (اور آخرت میں زیادہ خسارہ میں رہنے والا )کون ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا جس کی عمر لمبی ہوئی اور اعمال اس کے برے رہے*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Culinary Team
Attire
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bahawalpur
63100