12/11/2023
ڈاکٹر محمد شفیع شاکر شجاع آبادی ❤️❤️
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دے دی گئی ہے، اب وہ ڈاکٹر محمد شفیع شاکر شجاع آبادی کہلائیں گے _
__________________________________________
جِتھاں شاکر مُک کائنات ونجے
وت سامنڑے ڈیکھیں, میں ہوساں
____________________________
شاکر جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر بھی کہا گیا , جتنا میں نے انہیں پڑھا ہے , میں سمجھتا ہوں شاکر سرائیکی زبان کا غالب بھی ہے، جالب بھی ہے، فیض بھی ہے ، فراز بھی ہے _ انکا اندازِ سخن جون ایلیاء اور محسن نقوی جیسا ہے مگر زبان مختلف ہونے کے سبب قسمت اور مقام میں بھی بہت فرق ٹھہرا _
شاکر وسیب کی آواز تھے , جو بیماری کے باعث ناتواں تو ضرور ہوئی ہے مگر انکی قلم آج بھی چلتی ہے اور وسیب کی محرومیوں پر وہ آج بھی نوحہ کِناں ہیں _
شاکر کا جب قلم چلا تو اسکی زَد میں سب ہی آئے چاہے وہ کوئی آمر ہو یا کرپٹ سیاستدان ہو , سرکاری افسر ہو یا کوئی روایتی جاگیردار _
کل خاب ڈٹھم جو مر گیا ہاں ، جگ سوگ منیندا رہ گئے
کوئی تیار میڈے جنازے دا، اعلان کریندا رہ گئے
چن آروں ویاروں ٹُر تاں پئے، او قدم گِھلیندا رہ گئے
گئے غیر جنازہ چا شاکرؔ، اور پیر دھوویندا رہ گئے
____________________________
جیویں عمر نبھی ہے شاکرؔ دی
ہک منٹ نبھا پتہ لگ ویندے
____________________________
میڈا حال ثبوت هے اجڑن دا،
آغاز وی میں انجام وی میں.
بندے جانڑدے هن پہچانڑدے نئیں،
مشہور وی میں گمنام وی میں.
اوہ نئیں ملیا، مت مل گئ ہے،
کامیاب وی میں ناکام وی میں.
میڈے "شاکر" گناہ هن گردن تائیں،
معصوم وی میں بدنام وی میں
_____________________________
فکر دا سج ابھردا ہئے سوچیندیاں شام تھی ویندی
خیالیں وچ سکون اجکل گولیندیاں شام تھی ویندی
انھاں دے بال ساری رات روندین، بُھک توں سُمدے نئی
جنھاں دی کہیں دے بالاں کوں کھڈیندیاں شام تھی ویندی
غریباں دی دعا یارب خبر نہیں کن کریندا ہیں
سدا ہنجوؤاں دی تسبیح کُوں پھریندیاں شام تھی ویندی
کڈھیں تاں دُکھ وی ٹل ویسن کڈھیں تاں سکھ دے ساھ ولسن
پُلا خالی خیالاں دے پکیندیاں شام تھی ویندی
میڈا رازق رعایت کر ، نمازاں رات دیاں کردے
جو روٹی شام دی پوری کریندیاں شام تھی ویندی
میں شاکر بُھک دا ماریا ہاں مگر حاتم تُوں گھٹ کائینی
قلم خیرات میڈی ہے چلیندیاں شام ت