28/12/2025
اکثر بچوں کے ساتھ یہ صورتحال ہوتی ہے کہ کوئی بھی شخص—چاہے وہ کینٹین والا ہو یا راہ چلتا—اگر انہیں کوئی چیز دے دے تو بچے فوراً اس کے قریب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جہاں سے اپریسی ایشن ملے یا کوئی گفٹ ملے، وہاں جھکاؤ بڑھ جاتا ہے۔
لیکن والدین کی حیثیت سے ہمیں یہ بات ضرور، بار بار اور بیٹھ کر اپنے بچوں کو سکھانی چاہیے کہ اگر کوئی باہر چیز دے تو کیا کرنا ہے۔
اگر کوئی محلے میں سب بچوں کو کینڈیز یا کوئی چیز بانٹ رہا ہو، تو ٹھیک ہے، اس صورت میں لے سکتے ہیں۔
لیکن اگر کوئی خاص طور پر صرف آپ کے بچے کو بلائے اور کہے کہ “بیٹا یہ لے لو”، تو بچے نے ہرگز وہ چیز نہیں لینی۔
پچھلے دنوں میری بیٹی نے آ کر کہا:
“ماما، آپ کو پتا ہے کینٹین والے انکل ہم سے بہت پیار کرتے ہیں۔”
میں فوراً الرٹ نہیں، بلکہ ہائی الرٹ ہو گئی۔
میں نے بچی کو بٹھایا اور آرام سے سمجھایا کہ آئندہ کینٹین والے انکل سے پیار نہیں لینا۔
میں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ بابا اور بھیا کے علاوہ کسی سے چیز نہیں لینی۔
دادا ابو، نانا ابو، ماموں، تایا جان اور چاچو جان کے علاوہ کسی سے بھی چیز نہیں لینی۔
اور اگر کوئی پیار کرے بھی تو بچے نے کہنا ہے:
“انکل، ایسے پیار نہیں کرتے۔”
صرف سر پر ہاتھ پھیرنا ٹھیک ہے،
گال پر پیار نہیں کروانا،
کسی کی گود میں نہیں بیٹھنا،
اور کسی سے ہاتھ نہیں ملانا۔
میں یہ جملے بچوں کو روز کی بنیاد پر سمجھا رہی ہوں، کیونکہ ہمارا دور بہت حساس ہو چکا ہے۔
ڈیڑھ سال کی بچیوں کو زندہ نہیں چھوڑا جاتا،
دو سال کی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات عام ہیں۔
یاد رکھیں، آپ کا بچہ صرف آپ کا ہے۔
اس پر حد سے زیادہ نگرانی رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
میرے ہمسائے میں ایک بچی ہے، میں حیران رہ جاتی ہوں۔ وہ بچی رات کے بارہ بجے بھی گھر سے نکل جاتی ہے اور ماں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں گئی ہے۔
جب ہوش آتا ہے تو چھت سے چیخ چیخ کے آوازیں دی جا رہی ہوتی ہیں:
“آ جاؤ، آ جاؤ۔”
یقین کریں، اگر وہ بچی کبھی میرے گھر آ جائے تو سارا دن یہیں رہتی ہے اور اس کی ماں کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ اسے واپس بلانا ہے۔
یہ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔
اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ:
کسی کے گھر کتنی دیر رہنا ہے
کسی کے گھر کیسے رہنا ہے
اور وقت پر واپس آنا ہے
وہ بچی میرے گھر آ کر نہا بھی لیتی ہے، حالانکہ وہ کوئی بہت چھوٹی نہیں، آٹھ نو سال کی سمجھدار
28/12/2025
https://youtu.be/bmMwCHSQ0KE?feature=shared
First Kalima Tayyab for Kids 🌙 | Learn Kalima with Beautiful Animation | Islamic Kids Rhyme
First Kalima Tayyab for Kids 🌙 | Learn Kalima with Beautiful Animation | Islamic Kids RhymeWelcome to a beautiful and peaceful Islamic rhyme for children 🌸...
13/08/2025
پیر 11اگست کو وزیرِ تعلیم کے حکم پر صوبے بھر میں چھاپے، اسکول سیل۔ پولیس اور پیرا فورس الرٹ کی گئ ، تاکہ تعلیم دینے کی ہر کوشش کو بروقت روکا جا سکے۔ اڑھائی کروڑ آؤٹ آف اسکول بچوں کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر آنے والے ملک میں اب علم دینا بھی جرم قرار پائے گا، اور ہر کوشش کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
حکومتی احکامات اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، ہم ریاست کے وفادار اور فرمانبردار ہیں، لیکن زمینی حقائق سے آنکھ بند کر لینا حقیقت سے فرار ہے۔
جون اور جولائی کی جھلسا دینے والی دوپہروں میں جب پنجاب بھر میں "سمر کیمپ" کے نام پر تین گھنٹے کی تدریس کی اجازت دی گئی، یہ کہا گیا کہ مختصر دورانیے کی تعلیم گرمی کی شدت کو مات دے سکتی ہے۔ مگر آج، جب بارشوں کا زور ٹوٹ چکا اور جنوبی پنجاب جیسے علاقوں میں درجہ حرارت 36 سے 40 ڈگری کے درمیان ہے، تو اداروں کو بند کر دینا کس منطق کے تحت ہے؟
کیا یہ دھوپ ان بچوں کے قدم روک سکتی ہے جو کھلے آسمان تلے کھیتوں میں ہل چلاتے اور کٹائی کرتے ہیں؟ اگر وہ زمین کی تپش سہہ سکتے ہیں، تو کیا اسکول کی چھت کے نیچے بیٹھ کر علم حاصل کرنا ان کے لیے ناممکن ہے؟
اداروں کی سیلنگ عزت و وقار کا قتل ہے۔
کسی اسکول کو سیل کرنا محض تالہ لگانا نہیں، بلکہ اس کی عزت، وقار اور عوامی اعتماد پر کاری ضرب ہے۔ یہ عمل بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر گھولتا ہے کہ شاید تعلیم یا استاد کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہی سوچ قوم کے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
ہمارے پاس وقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دسویں جماعت کے پاس صرف 87 دن، باقی جماعتوں کے پاس 122 دن۔ بار بار کی تعطیلات کے ساتھ 12 ماہ کا نصاب چند مہینوں میں مکمل ہونا کس طرح ممکن ہے؟
ہمارے آقا ﷺ نے غزوہ بدر کے قیدیوں کو محض اس لیے آزاد کیا کہ وہ مسلمانوں کے بچوں کو پڑھا سکتے تھے۔ مدینہ اس وقت خطرات میں گھرا تھا، مگر تعلیم کی شمع بجھنے نہ دی گئی۔ آج ہمیں بھی یہی روح اپنانی چاہیے ہر گلی، کوچہ، مسجد اور مدرسہ علم کا مرکز بنے، اسکولوں کو غیر ضروری تعطیلات اور ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا جائے۔
بندش کے بجائے تدریسی دورانیہ کم کیا جائے۔
یا نصاب میں کمی بیشی کے واضح احکامات دیے جائیں۔
اسکول سیل کرنے کے بجائے متبادل تدابیر اپنائی جائیں تاکہ اداروں اور اساتذہ کی عزت محفوظ رہے۔
خدارا! تعلیم کے چراغ بجھانے کے بجائے ا
28/04/2025
الحمدللہ!
نیکسس کے طلبہ کی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پرامن واک اور احتجاج کو میڈیا میں نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا۔
نیکسس ایجوکیشن سسٹم کے تمام کیمپسز میں رواں ہفتہ مسلم کلچر ویک فلسطین کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی اور حمایت کے طور پر منایا گیا۔
مختلف کیمپسز میں طلباء و طالبات نے اپنے اپنے انداز میں اپنے جذبات اور احساسات کا والہانہ اظہار کیا۔
یہ مناظر نہایت پرجوش اور روح کو جھنجھوڑ دینے والے تھے، جنہوں نے مظلوموں کے لیے محبت، ہمدردی اور اخوت کا بے مثال پیغام دیا۔
25/04/2025
Youm E Saeed
Muslim Culture Week Day 5
24/04/2025
This is not just a protest.
This is our stand for humanity.
For truth. For justice.
Free Palestine – Now and Forever!
"If they silence Gaza,
We will be its voice.
From Nexus to the world
Free Free Palestine🇵🇸🇵🇸🇵🇸
24/04/2025
From Nexus to Gaza — One Voice:
FREE PALESTINE!"🇵🇸🇵🇸🇵🇸
"نیکسس سے غزہ تک – ایک ہی آواز:
فلسطین کو آزادی دو!"