مینڈک کی بے ہوشی
Khalid Nazir
Educational motivation and help
اساں مرشد لوگ فقیر ہیسے
10/05/2026
صدیوں کا بیٹا
تحریر: پروفیسر خالد نذیر
اگر آپ کو بھی میری طرح "ادھوری زندگی" کے کسی "مکمل کردار" سے ملنے کا شوق ہے تو پھر سید علی رضا کاظمی سے ضرور ملیے۔
بعض لوگ اپنی عمر سے نہیں، اپنے اندر آباد زمانوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ بظاہر ہمارے درمیان چلتے پھرتے انسان ہوتے ہیں مگر ان کی آنکھوں میں صدیوں کی گرد، لہجوں میں بچھڑے ہوئے قافلوں کی تھکن اور یادداشت میں گم شدہ زمانوں کی آوازیں بسی ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ وقت کی سیدھی لکیر پر نہیں چلتے بلکہ ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک پراسرار پل کی طرح زندہ رہتے ہیں۔ سید علی رضا کاظمی بھی مجھے ہمیشہ ایسا ہی ایک کردار محسوس ہوا، جیسے وہ اس عہد کا آدمی نہیں بلکہ صدیوں کے سفر سے لوٹا ہوا کوئی مسافر ہو۔
بچپن میں ایم اے راحت کا ناول صدیوں کا بیٹا پڑھا تھا۔ اس ناول کا ہیرو ایک ایسا شخص تھا جو وقت کی قید سے آزاد تھا۔ وہ ہر دور میں، ہر عہد میں، کسی نہ کسی صورت موجود رہتا تھا۔ کبھی سپاہی، کبھی فقیر، کبھی مسافر اور کبھی درویش۔ اس کردار نے میرے تخیل پر عجیب اثر چھوڑا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید دنیا میں واقعی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک زندگی نہیں جیتے بلکہ کئی زمانوں کی دھڑکن اپنے سینے میں سنبھالے پھرتے ہیں۔ سید علی رضا کاظمی سے ملاقات ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے ناول کا وہ کردار حقیقت بن کر میرے سامنے کھڑا ہو۔ احمدپور شرقیہ کی تاریخ پر ان کے مضامین پڑھ کر میں پہلے ہی حیران تھا۔ ان تحریروں میں صرف معلومات نہیں تھیں بلکہ ایک جیا ہوا زمانہ سانس لیتا محسوس ہوتا تھا۔ پرانی گلیوں کی خاموشی، شکستہ حویلیوں کی اداسی، گلی کوچوں میں گزرنے والے قافلوں کی چاپ، سب کچھ ان کے لفظوں میں زندہ دکھائی دیتا تھا۔ مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ یہ آدمی شاید دو سو سال پرانا ہے، جس نے وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جسے وہ لکھتا ہے۔
اسی تجسس میں ایک دن میں اپنے پرانے دوست ڈاکٹر حافظ محمد احمد رضا شاہ کے ساتھ ان کی دکان پر جا پہنچا۔ میرا پہلا سوال یہی تھا: “علی بھائی! آپ کی عمر کتنی ہے؟”
انہوں نے مسکرا کر اپنی عمر بتائی تو معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے ایک سال چھوٹے ہیں۔ میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہ گیا۔ پھر میں نے پوچھا: "آپ نے وہ زمانے کیسے لکھ دیے جو آپ نے دیکھے ہی نہیں؟"
وہ ہلکا سا مسکرائے اور بولے: "
بزرگوں کے قصے سن کر، اور شاید پرانی یادوں کی بازیافت کی صلاحیت کی وجہ سے۔"
پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے: “خالد بھائی! جب میں کسی پرانی عمارت یا تاریخی مقام کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں یہ سب پہلے جی چکا ہوں۔
یہ کہتے کہتے ان کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش اتر آئی۔لہجہ گلو گیر ہوگیا پھر وہ دھیرے سے بولے: "خالد بھائی! گزشتہ زمانوں کے ہر بڑے اور چھوٹے سانحے کو میں اپنے دل میں اس طرح محسوس کرتا ہوں جیسے میں خود ہر وقوعے میں کہیں موجود رہا ہوں۔ تاریخ کے ہر مظلوم کا دکھ میرے اندر یوں جاگ اٹھتا ہے جیسے وہ میرے اپنے وجود پر بیتا ہو۔ جب کسی اجڑی ہوئی بستی، کسی ویران حویلی یا کسی شکست خوردہ قافلے کا ذکر پڑھتا ہوں تو میرے اندر ایک نامعلوم اداسی اترنے لگتی ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، ان راستوں پر چلا ہوں، ان لوگوں کے ساتھ رویا ہوں اور ان کے بچھڑنے کی اذیت اپنے سینے میں اٹھائی ہے۔"
وہ کچھ دیر خاموش رہے، جیسے ماضی کی کسی دھند میں گم ہوگئے ہوں۔ پھر نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہنے لگے: "شاید اسی وجہ سے تاریخ کے ہر مظلوم کا دکھ میری آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔ کسی معصوم کے قتل، کسی بے بس انسان کی آہ یا کسی شکست خوردہ عہد کی داستان کو پڑھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت میرے اندر زندہ ہو اٹھا ہو۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اپنی زندگی نہیں جیتے بلکہ صدیوں کے رنج، صدیوں کی محرومیاں اور گزرے ہوئے زمانوں کے زخم بھی اپنے ساتھ اٹھائے پھرتے ہیں۔ شاید میرا تعلق بھی انہی لوگوں سے ہے جو حال میں رہتے ہوئے بھی ماضی کی دھڑکن اپنے دل میں سنبھالے رکھتے ہیں۔"
یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ کچھ لوگ واقعی اپنے وجود میں صدیوں کے دکھ اٹھائے پھرتے ہیں۔ وہ ایک زندگی نہیں جیتے بلکہ تاریخ کے زخم اپنے دل میں سمیٹے رہتے ہیں۔ شاید یہی لوگ اصل معنوں میں "صدیوں کے بیٹے" ہوتے ہیں۔
جب میں علی بھائی کی دکان سے اٹھ کر واپس آنے لگا تو اس سے بولا:
"علی بھائی! صدیوں کے دکھ کو اپنے سینے میں سنبھال کر زندگی جیے جانا کچھ آسان نہیں ہوتا"
میں نے اپنی کتاب " ادھوری زندگی مکمل کردار "انہیں پیش کی اور کہا :"علی بھائی! اکثر دوست جب میری کتاب کے عنوان کو دیکھتے ہیں تو مجھ سے سوال پوچھتے ہیں ؛کہ اگر زندگی آپ کے نذدیک ادھوری ہے تو پھر اس زندگی کے کردار مکمل کیسے ہو سکتے ہیں؟ تو میں ان لوگوں کو بتاؤں گا۔اگر وہ کسی مکمل کردار سے ملنا چاہتے ہیں تو آپ سے ضرور ملیں۔۔
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو
جگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہو
انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف
اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرف
چوڑیوں پر بھی کئی طنز کیئے جائیں گے
کانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کَسے جائیں گے
پھر کہیں گے کہ ہنسی میں بھی خفا ہوتی ہیں
اب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیں
لوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گے
باتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گے
ان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا
ورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گے
چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سے
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
کفیل امروہی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bahawalpur