23/05/2026
ایک دن شیخ سعدی اپنے سفر سے واپس آ رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے ایک مزدور کو دیکھا جو سخت دھوپ میں اینٹیں اٹھا رہا تھا۔ اس کے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے تھے اور چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔
شیخ سعدیؒ اس کے قریب گئے اور محبت سے پوچھا: “بھائی! تم اتنی محنت کے باوجود اتنے پریشان کیوں ہو؟”
مزدور نے افسوس سے جواب دیا: “میں سارا دن محنت کرتا ہوں، مگر مالک میری پوری مزدوری نہیں دیتا۔ کبھی ڈانٹ دیتا ہے اور کبھی حق مار لیتا ہے۔”
یہ سن کر شیخ سعدیؒ کچھ دیر خاموش رہے، پھر نرمی سے فرمایا: “کیا تم نے کبھی غصے میں بددعا دی یا لڑائی کی؟”
مزدور نے کہا: “جی، کئی بار غصہ آتا ہے، مگر پھر خاموش ہو جاتا ہوں۔”
شیخ سعدیؒ نے فرمایا: “صبر کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ لیکن ظلم برداشت کرتے رہنا بھی درست نہیں۔ اپنے حق کے لیے نرمی، حکمت اور اچھے اخلاق سے بات کرو۔ یاد رکھو، جو انسان دوسروں کا حق مارتا ہے، وہ اللہ کی نظر میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔”
پھر شیخ سعدیؒ خود اس مزدور کے مالک کے پاس گئے اور نہایت ادب سے اسے سمجھایا: “محنت کرنے والے کا حق پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنا چاہیے۔”
مالک کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے مزدور سے معافی مانگی اور اس کی پوری مزدوری ادا کر دی۔
مزدور کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ اس نے شیخ سعدیؒ کا شکریہ ادا کیا اور کہا: “آپ نے مجھے صرف میرا حق ہی نہیں دلایا بلکہ صبر اور عزت کا راستہ بھی سکھایا۔”
✨ سبق:
محنت کرنے والے کی عزت کرنا اور اس کا حق ادا کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ نرمی، حکمت اور اچھے اخلاق سے انسان دل بھی جیت لیتا ہے اور انصاف بھی حاصل کر لیتا ہے۔