Arslan Waqar Chaudhary Clinical Psychologist
This is the personal and official page of Hafiz Arslan Waqar Chaudhary.
31/07/2025
کیا امائیں چھٹیوں میں تھکنے کا حق نہیں رکھتیں ؟ جب کہ اُن کی بھی چھٹیاں ہوں اور وہ مزے سے صوفے پر پاؤں پسارے بیٹھ کر کسی کتاب پڑھنا چاہتی ہوں ، اپنے لگاۓ ہوۓ پھول پودے کانٹ چھانٹ کرکے اُن سے باتیں کرنا چاہتی ہوں ، ادھر سے اُدھر بس گنگناتی کھلکھلاتی پھرنا چاہتی ہوں لیکن اُن کو آواز آۓ کہ آج آپ کیا پکا رہی ہیں ؟ یا جب وہ زمین پر قدم رکھ کر بے فکری سے ٹہل رہی ہوں تو پاؤں میں کبھی کسی کا جوتا ، کبھی کسی کھلونا ، کبھی کسی کی فٹ بال یا کتاب آجاۓ اور وہ جھنجھلا کر کہیں بھی تم لوگ اپنی چیزیں سمیٹ لیا کرو ۔ اور جواب میں گھر کی عوام میں کوئ ہلچل نظر نہ آۓ اور پھر اماں اپنی تفریح بھول کر سمیٹنے میں لگ جائیں ۔ بس پھر تھکی ہوئ اماں ایک خطرناک خاتون بن جاتی ہیں ۔
ایسی ہی ایک اماں نے اعلان کردیا آج میں کچھ نہ پکاؤں گی جس کو جو دل چاہے کھالے پکا لے ۔ خود میں پاپ کارن بناکر کھارہی ہوں اور آج خوب خوب ناول پڑھوں گی ۔ گھر میں سب اپنے اپنے بلوں سے نکل آۓ اور تشویش کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھا۔
کوئ بات نہیں میں تو کچھ آرڈر کرلوں گا۔
اور میں تو آلو کے چپس بنالوں گی۔
اور میں تو اپنا چیز سینڈوچ ۔
اور میں کیا کروں گا۔؟
یہ آوازیں سن کر اماں کو اس نفسا نفسی پر مزید غصہ آیا۔
جی نہیں یہ سب نہیں ہوگا ۔ میں اور تمہارے ابا کیا بھوکے رہیں گے ؟ انتظام کرو ہمارا بھی ۔ ہاں ہم نان لادیں گے تاکہ کام آسان ہو تمہارا ۔
اس دھمکی سے ایک نے آلو کاٹے اور کاٹتے کاٹتے اُنگلی بھی کاٹ کر شہیدوں میں نام پیدا کرلیا ۔
بھی میں اب مزید آلو نہیں کاٹ سکتا ورنہ میرا خون آلو میں لگ جاۓ گا۔اور یہ کہہ کر آلو مع چھلکے چھوڑ وہ مرہم پٹی کے لیے روانہ ۔
ایک نے دھنیا کاٹا اور مشرق و مغرب میں دھنیا دھنیا کردیا۔
تیسری اٹھیں بہت فاتحانہ انداز میں اور بقیہ آلو کاٹ کر دیگچی مین ڈالے ساتھ جتنا پانی نلوں میں آرہا تھا وہ بھی اور آلو پانی میں تیرنے لگے۔ پھر مصالحہ ڈال کر خوشی خوشی ڈھکن بند کرکے تھکن اُتارنے رخصت ۔
اماں ابا پہلے ہی ان حالات کی تاب نہ لاتے ہوۓ بھوک مٹانے واک کرنے روانہ ہوچکے تھے ۔
واپسی پر چپکے سے اماں کچن میں آئیں ڈھکن کھولا تو خود بھی پانی کے دریا میں گرنے والی تھیں لیکن سنبھل کر چولھے کی آنچ بڑھائ اور ڈھکن کھول دیا ۔ کچھ دیر بعد سالن کی شکل بہتر ہونے لگی ۔ صورت نہ بھی اچھی ہو سیرت پر کام ہونا چاہیے۔ بہرحال کچھ دیر بعد سالن پک گیا۔ ایک محترم جس فارغ پھر رہے تھے اُن سے دھنیا ڈلوایا گیا ۔ اب جب سالن چکھا تو وہ معجزاتی طور پر بہت ہی مزے کا پک گیا تھا۔ سب یہ خوشخبری سُن کر بھاگے بھاگے کچن میں آۓ اور اماں زیرلب مسکراتی جاتیں ۔
کبھی کبھی اماؤں کی دھمکی سے کام ہوجاتے ہیں ۔
31/07/2025
یہ فلم کسی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی نہیں ھے۔۔۔ اکیلے میں دیکھنے کے قابل ھے۔۔۔ اب اچھا تو نہیں لگتا لوگوں کے سامنے قہقہے لگانا، سسکیاں بھرنا، ھنسنا، آنسو پونچھنا، قہقہے لگانا، آنسو پونچھنا، پھر مسکرا دینا۔۔۔ ایسی فلمیں بھی بہت کم ھوتی ھیں۔۔۔
ون آف مائی آل ٹائم فیورٹس 8٫5/10*😊
پنجاب حکومت کی کارکردگی پر اپنی
رائے دیں
شکریہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bahawalpur