Knowledge Hub

Knowledge Hub Here we will share or post only knowledge related videos or posts.

09/08/2026
15/07/2026

🌳ساون آ رہا ہے — آؤ سانسوں کا قرض چکائیں 🌳
اس ساون میں اپنے حصے کاکم از کم ایک پودا ضرور لگائیں

13 جولائی سے ساون کا مہینہ شروع ہو رہا ہے۔
بزرگ کہا کرتے تھے:
⛈️ *“ساون اتنا زرخیز ہوتا ہے کہ اگر سوکھی لکڑی بھی زمین میں گاڑ دی جائے تو سبز ہو جاتی ہے!”*

🌳 *یہی وقت ہے... جب زمین بانہوں کو پھیلا کر زندگی مانگتی ہے۔*

آئیے! اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
درخت لگانے کی تیاری کریں تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو کم کیا جا سکے، اور آنے والی نسلوں کو صاف، ٹھنڈی اور صحت مند ہوا دی جا سکے۔

✅ *نیم — 55 ڈگری کی گرمی اور 10 ڈگری کی سردی برداشت کرنے والا درخت*
✅ *رات کو بھی آکسیجن خارج کرتا ہے*
✅ *12 فٹ کا درخت = تین اے سی کی ٹھنڈک*
✅ *قیمت؟ صرف 50 سے 100 روپے!*

🌳 اس کے علاوہ: بکائن، جامن، شیشم، کچنار، پیپل، پاپولر، پلکن، آم، امرود... یہ سب درخت بھی سایہ، ٹھنڈک اور آکسیجن بانٹتے ہیں۔

🔥 یاد رکھیے:

*درخت نہیں لگائیں گے تو کل آکسیجن خریدنی پڑے گی!*

🌿 *درخت لگائیں — زندگیاں بچائیں!*

🌱 *اس ساون میں وعدہ کیجیے کہ کم از کم ایک درخت لگائیں گے، اور کسی اور کو بھی اس کارِ خیر کے لیے آمادہ کریں گے۔*
🪷 *آج یہ پیغام مت روکیں — آگے شیئر کریں تاکہ ہر شخص جاگے اور ہم سب مل کر اپنی زمین کو پھر سے سانس لینے کے قابل بنا سکیں!* 🪷

یہ وہ ایم ایس صاحب ہیں جنہیں نوکری سے نکال دیا ہے جو ایک تحصیل لیول کے ہسپتال کو احسن طریقے سے چلا رہے تھے  جسے ایک ایمب...
15/07/2026

یہ وہ ایم ایس صاحب ہیں جنہیں نوکری سے نکال دیا ہے جو ایک تحصیل لیول کے ہسپتال کو احسن طریقے سے چلا رہے تھے جسے ایک ایمبولینس مہیا تھی، مطلب سینکڑوں بیڈ والے ہسپتال کو ایک ایمبولینس ؟ اب عوام خود ہی فیصلہ کرے کہ ایک ایمبولینس میت کو لے کر جائے گی؟ ایکسیڈنٹ والے مریض کو لے کر جائے گی؟ ریفر والے مریض کو بڑے ہسپتال لے کر جائے گی؟ جس دن عوام ڈاکٹر سے نفرت بند کرے گی اور گورنمنٹ سے پوچھے گی کہ ہزاروں مریضوں کے لیے ایک ایمبولینس اور ایک وزیر کے لیے سینکڑوں گاڑیاں؟ ۔۔۔۔۔۔

 #ڈاکٹر بننا آسان نہیں، مگر کیا ہر قدم پر ایک نیا امتحان لینا ہی واحد حل ہے؟پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ یا امتحانات کا نہ ختم ہو...
09/07/2026

#ڈاکٹر بننا آسان نہیں، مگر کیا ہر قدم پر ایک نیا امتحان لینا ہی واحد حل ہے؟
پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ یا امتحانات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ؟

پانچ سال کی سخت ترین MBBS تعلیم، ایک سال کی ہاؤس جاب، پھر FCPS Part-I، اس کے بعد انڈکشن کی دوڑ، اور اب جنوری 2027 سے ایک مزید Postgraduate Entrance Test۔

آخر کب تک؟

اگر مقصد صرف میرٹ اور شفافیت ہے تو ایک ایسا مستقل، منصفانہ اور قابلِ اعتماد نظام بنایا جائے جس پر ہر سال نئی شرائط اور نئے امتحانات کا اضافہ نہ کیا جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ انڈکشن پالیسی میں بہت سے سرکاری میڈیکل کالجز کے گریجویٹس، جنہوں نے RHCs، MNHC,THQs، DHQs اور دیگر سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیں، صرف MBBS کے نسبتاً کم نمبروں کی وجہ سے پیچھے رہ گئے، جبکہ کئی نجی اداروں کے امیدوار زیادہ نمبروں کی بنیاد پر آگے نکل گئے۔ اس تناظر میں ایک یکساں امتحان اصولی طور پر قابلِ قبول ہو سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل ایک نیا امتحان ہے؟

آج ایک امتحان، کل دوسرا، پھر نئی پالیسی، پھر نئے قواعد۔ اس مسلسل غیر یقینی صورتحال نے نوجوان ڈاکٹرز کو ذہنی دباؤ، مالی بوجھ اور مایوسی کا شکار کر دیا ہے۔

FCPS Part-I
کا امتحان پہلے ہی بھاری فیس25000 کے ساتھ سال میں کئی بار لیا جاتا ہے، اور اب ایک نیا امتحان بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں: کیا یہ اصلاحات واقعی معیارِ تعلیم بہتر بنانے کے لیے ہیں یا صرف امتحانات اور فیسوں میں اضافہ کرنے کے لیے؟

ہم امتحانات یا میرٹ کے مخالف نہیں۔ ہم ایک ایسے نظام کے حامی ہیں جو:

- شفاف ہو۔
- مستقل ہو۔
- منصفانہ ہو۔
- اور ہر امیدوار کو برابر کا موقع فراہم کرے۔

یاد رکھیں، ایک مضبوط صحت کا نظام صرف ہسپتالوں سے نہیں بنتا بلکہ ایسے ڈاکٹرز سے بنتا ہے جنہیں غیر ضروری رکاوٹوں کے بجائے سیکھنے، تحقیق کرنے اور مریضوں کی خدمت کرنے کے مواقع دیے جائیں۔

امید ہے کہ پالیسی ساز اس فیصلے پر دوبارہ غور کریں گے، ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لیں گے، اور ایسا نظام تشکیل دیں گے جو معیار بھی بلند کرے اور نوجوان ڈاکٹرز کے لیے غیر ضروری مشکلات بھی پیدا نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو انصاف، آسانی اور درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

15/06/2026

پاکستان میں صحت کا بجٹ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد اور تعلیم کا بجٹ بھی 0.8% اتنا ہی ہے جو کہ دنیا میں تقریبا سب سے کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکومت جانتی ہے کہ اب ہسپتالوں کا برا حال ہو گا اور عوام ڈاکٹر کو گالی دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سکولوں کا برا حال ہو گا اور عوام ٹیچرز کو گالی دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔مہنگائی ہو گی تو عوام دکاندار کو گالی دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اس سب کا اصل ذمہ دار ایک سیاستدان یا بڑا افسر کروڑوں کی گاڑی میں بیٹھ کر آئے گا اور عوام کے ساتھ مل کر سب کو دوبارہ گالی دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور اسٹاف پر چیخنے سے پہلے صحت اور تعلیم کا بجٹ دیکھیں اور اپنے حکمرانوں سے اپنا حق مانگیں شکریہ
13/06/2026

ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور اسٹاف پر چیخنے سے پہلے صحت اور تعلیم کا بجٹ دیکھیں اور اپنے حکمرانوں سے اپنا حق مانگیں شکریہ

Attack On Doctor Again In Paeds Emergency LRH Peshawar.The hate culture created between general population and doctors i...
10/06/2026

Attack On Doctor Again In Paeds Emergency LRH Peshawar.
The hate culture created between general population and doctors is at its peak.
In Pakistan, a medical degree alone is not enough to survive this profession anymore. A doctor now needs emotional strength, financial security, influential contacts, legal support, and sometimes even the ability to protect themselves physically because along with treating patients, they are constantly battling pressure, insecurity, violence, and public criticism.

09/06/2026

میڈیکل کا شعبہ اتنا اہم ہے کہ اگر پورے ملک میں ڈاکٹر کام کرنا چھوڑ دیں تو ملک کا دیوالیہ نکل جائے گا۔
پاکستان کے سویلین ڈاکٹرز روزانہ ہسپتالوں میں ہزاروں مریض چیک کرتے ہیں۔ لیکن انہیں ان کی خدمات کا اتنا معاوضہ نہیں ملتا جتنا کے یہ مستحق ہیں۔
مہنگائی دس سے بیس گنا بڑھ جائے گی لیکن ان کی تنخواہیں وہی رہیں گی۔ اور سب سے اہم بات آج کل یہ محفوظ نہیں رہے۔
کبھی کسی پر تیزاب پھینکا جا رہا، کبھی کسی پر قاتلانہ حملہ ہو رہا ہے، کبھی ایک میڈیکل پروسیجر کو گھٹیا بزدل میڈیا نازیبا حرکت کہہ کر ہیڈلائنز پر چلا دیتا ہے۔ عوام کا ایک طبقہ الگ سے ڈاکٹروں کے خلاف زہر اگلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔
اس سب کی ایک ہی بڑی وجہ ہے وہ یہی ہے کہ ڈاکٹروں نے کبھی متحد ہو کر عوام کو، اربابِ اختیارات کو اپنی قدرو قیمت کا احساس نہیں دلایا۔ اسی وجہ سے وہ لوگ اب ڈاکٹروں کی قدر نہیں کرتے۔
ڈاکٹرز، جن میں نوجوان ڈاکٹرز سے سینئرز جن کے پاس اختیارات بھی ہیں اگر سب نے اپنی خودغرضی چھوڑ کر اتحاد دکھایا، اپنے طویل المدت مفادات اور تحفظ کے حصول کےلئے قربانی کا جذبہ دکھا کر حکومت اور عوام کو اپنی قدرو قیمت کا احساس دلایا تو پاکستان میں میڈیکل کا مستقبل سنور سکتا ہے۔
اگر ایسا نا ہوا تو ہم سب ایک ایک کرکے ہر طرح سے، ہر طریقے سے کچلے جاسکتے ہیں۔
سینیئرز ڈاکٹرز سے گزارش ہے وہ پورے پاکستان میں میڈیکل سے وابستہ لوگوں کے درمیان co ordination کو بڑھائیں، میڈیکل سے وابستہ لوگوں کو ایک خاندان کی طرح بنائیں تاکہ ایک اچھا مستقبل بنایا جاسکے اگر خاندان کا ایک فرد درد سے گزرے تو دوسرا اس کا ساتھ دینے کےلئے تیار کھڑا ہو۔
جزاک اللّٰہ۔

یہ ویڈیو بہت دردناک ہے۔ کمزور اعصاب والے احباب تو بالکل ہی دیکھنے سے گریز کریں۔ مضبوط اعصاب والے بھی برداشت نہیں کر سکیں...
06/06/2026

یہ ویڈیو بہت دردناک ہے۔ کمزور اعصاب والے احباب تو بالکل ہی دیکھنے سے گریز کریں۔ مضبوط اعصاب والے بھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔

آج کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں ایک تیزا۔ب گر۔دی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر ہسپتال کے شعبہ جنرل سرجری میں ڈیوٹی پر تھیں کہ ایک شخص نے انہیں تیزا۔ب گرد۔ی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم دروازے پر دستک دیتا ہے اور دروازہ کھلتے ہی بوتل میں موجود تیزاب پھینک کر فرار ہوجاتا ہے۔۔ اس کے بعد والے مناظر دیکھے نہیں جارہے۔۔۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ گھناؤنی حرکت ہسپتال کے لفٹ آپریٹر نے کی ہے۔

ماہ نور ناصر کوئی اجنبی نہیں تھیں۔ یہ پاکستان کی وہ بیٹی تھی جس نے اس سرزمین پر پڑھ کر سخت محنت کر کے ڈاکٹری کی سند حاصل کی اور پھر اسی دھرتی کے لوگوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔ وہ جانتی تھی کہ بلوچستان میں خواتین ڈاکٹروں کی کتنی کمی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہوں گی کہ یہ کمی کیوں ہے؟ شاید اسی لیے وہ رکی۔۔۔ وہاں جہاں رہنا آسان نہیں۔۔۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے!

زخمی خاتون ڈاکٹر کو مزید علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔۔۔ کئی وزراء نے بیانات جاری کیے لیکن یہ سرکاری بیانات آتے ہیں۔۔ رپورٹیں طلب کی جاتی ہیں۔۔ مذمتیں ریکارڈ ہوتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگلی ماہ نور کو بچانے کے لیے کیا بدلے گا؟

تیزاب سے جھلسا چہرہ واپس نہیں آتا۔۔۔ تیزا۔ب گرد۔ی کے شکار ایسے کئی متاثرین ہیں جو مر مر کے زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔۔ ہمارے ہاں بیٹی کو جنم دینا، پالنا، پڑھانا اور پھر اسے کام کاج پر بھیجنا۔۔۔ ہر قدم ایک امتحان ہے۔۔

افسوس کہ جو معاشرہ اپنے ہسپتالوں میں اپنے ڈاکٹروں کو محفوظ نہ رکھ سکے اسے علاج کی نہیں بلکہ آئینے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور بلوچستان کو اس آئینے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔

ملزم نے ایسا کیوں کیا اور ملزم کے ساتھ کیا ہوا؟ اس حوالے سے بلوچستان سے ذین الدین احمد نے رپورٹ بنائی ہے جس کا لنک پن کمینٹ میں فراہم کر رہا ہوں، ملاحظہ کیجیے گا

Address

Bahawalpur Punjab
Bahawalpur
13180

Telephone

+923004227045

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Knowledge Hub:

Shortcuts

Share