06/06/2025
Hadith of the day|| Hadith || Quran ||
゚viralシ #قرآن
We provide Online Quran Classes For Kids & Adults Living in the All World 🌎 UK USA Canada & Europe
06/06/2025
Hadith of the day|| Hadith || Quran ||
゚viralシ #قرآن
مسجد نبوی ﷺ میں لاکھوں مسلمانوں کی پاکستان کیلئے دعائیں
゚ ゚viralシ
15/04/2025
`يَا سَرِيعَ الرِّضَا أَغْفِرْ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ إِلَّا الدُّعَاء°`
*اے جلد راضی ہونے والی ذات۔"*🤲🏻✨
*معاف کر دے اس بندے کو۔"*
*جس کے پاس دعا کے سوا کچھ نہیں۔"*🥀
゚viralシ #قرآن #الله #صحابہ
24/03/2025
* *تمہارا ایک ہی رب ہے پھر بھی تم اسے یاد نہیں کرتے*
* *لیکن اسکے کتنے بندے ہیں پھر بھی تم کو نہیں بھولتا*
* "🤍✨🌙"
* ~🕋
حافظ قرآن کو ایک قرآن مکمل کرنے پر
ایک کھرب ، 70 ارب، 81 کروڑ، 58 لاکھ ، 80 ہزار نیکیاں ملتی ہیں سبحان اللہ ، ماشااللہ
سب حفاظ کرام کو مبارک
14/03/2025
*السّلَامُ عَلیکمُ وَرَحــَـــــمةُاللّهِ وَبَرَكَآتُهُ* 💕
*❁اللَّهُمَّ صَــّلِ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁*
*❁ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁*
تقوی کیا ہے، حاصل کیسے ہوتا ہے؟!
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۔‘‘ (التوبہ:۱۱۹)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کی صحبت اختیار کرو۔‘‘
اور سچوں سے مراد تقویٰ اختیار کیے ہوئے اہل اللہ و بزرگانِ دین ہیں۔ اس کا علم ایک اور آیت سے ہوتا ہے:
’’أُولٰئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ أُولٰئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ۔‘‘ (البقرۃ: ۱۷۷)
ترجمہ: ’’وہی لوگ سچے ہیں اور وہی تقویٰ والے ہیں۔‘‘
تقویٰ نام ہے: ’’کف النفس عن الھویٰ‘‘ یعنی اپنے نفس کو خواہش کا غلام بننے سے روکنا اور یہ تقویٰ صحبتِ اہل اللہ سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ’’کُوْنُوْا‘‘ امر سے ایمان لانے والوں پر صحبتِ اہل اللہ کو ضروری کر دیا۔
اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
*دل سے دعا کیجیے کہ.....!*
*یا اللہ ..!*
میرے گناہوں کا بوجھ میری ہمت توڑ چکا ہے، میرے دل کی دنیا ویران ہو چکی ہے، میرا نفس بار بار خطا کی طرف مائل ہوتا ہے، اور میں تیری رحمت سے دور جا پڑا ہوں۔
*یا غفور الرحیم ..!*
رمضان کی بابرکت ساعتوں میں تیرا در کھٹکھٹاتا ہوں، آنکھوں میں ندامت کے آنسو، دل میں شرمندگی، اور زبان پر تیرے حضور فریاد ہے۔ میرے گناہوں کی کثرت کو اپنی رحمت کی وسعت سے مٹا دے۔ میرے دل کو پاک کر دے، میرے نفس کو ہدایت دے، اور مجھے اپنی محبت اور قرب عطا فرما۔
*یا رب ..!*
میں کمزور ہوں، خطا کار ہوں، مگر تیرا بندہ ہوں۔ مجھے اپنے فضل سے ایسا بنا دے کہ میں تیرے محبوب بندوں میں شمار ہو جاؤں۔ میرے اعمال درست کر دے، میری نیتوں کو خالص کر دے، اور مجھے ایسا صبر اور استقامت عطا فرما کہ میں دوبارہ تیری نافرمانی کی طرف نہ جاؤں۔
*یا اللہ ...!*
میرے آنسوؤں کو میری مغفرت کا ذریعہ بنا دے، میرے سجدوں کو قبول کر لے، اور میرے رمضان کو میری زندگی کی بخشش کا مہینہ بنا دے۔ میں تیرے بغیر کچھ نہیں، بس اپنی رحمت سے میرا ہاتھ تھام لے، اور مجھے اپنے نور سے منور فرما دے۔
*آمین یا رب العالمین ..!*
10/03/2025
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید والفرقان الحمید
""لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّـٰهَ معنا""
إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ[40]
اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ [40]
.......................................
لفظ بہ لفظ ترجمہ ...تفسیر احسن البیان ... تفسیر القرآن الکریم
تفسیر آیت/آیات، 40،
آغاز ہجرت ٭٭
تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد کر لو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل یا قید یا دیس سے نکال دینے کی سازش کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سچے ساتھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تن تنہا مکہ مکرمہ سے نکل بھاگے تھے تو کون اس کا مددگار تھا۔
تین دن مارے خوف کے اس ڈر سے غار میں گزارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ منورہ کا راستہ لیں۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی ایذاء پہنچائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ”ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔“ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر بن ابوقحافہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کہا کہ ”اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔“ [صحیح بخاری:3922]
3475
الغرض اس موقعہ پر جناب باری سبحانہ و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی تفسیر یہی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مطمئن اور سکون و تسکین والے تھے ہی۔ لیکن اس خاص حال میں تسکین کا از سر نو بھیجنا کچھ اس کے خلاف نہیں۔
اسی لئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی بذریعہ فرشتوں کے۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لیے، دوسرا حمیت قومی کے لیے، تیسرا لوگوں کو خوش کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کلمہء اللہ کو بلند و بالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ اللہ کی راہ کا مجاہد ہے۔“ [صحیح بخاری:2810]
اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی پڑ سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے؟ اس کے سب اقوال افعال، حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ۔
3476
07/03/2025
{وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ} [البقرة: 273].
اور تم نیکی میں سے جو کچھ بھی کرو گے تو بے شک اللہ اسے خوب جاننے والاہے۔ [215]
.......................................
لفظ بہ لفظ ترجمہ ...تفسیر احسن البیان ... تفسیر القرآن الکریم
تفسیر آیت/آیات، 215،
نفلی خیرات ٭٭
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت نفلی خیرات کے بارے میں ہے،
[تفسیر ابن ابی حاتم:419/2]
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اسے آیت زکوٰۃ نے منسوخ کر دیا۔ لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے، مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس طرح خرچ کریں تم انہیں کہدو کہ ان لوگوں سے سلوک کریں جن کا بیان ہوا۔ حدیث میں ہے کہ اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر اور قریبی اور قریبی لوگوں سے،
[دار قطنی:44/3:صحیح]
یہ حدیث بیان فرما کر میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ ہیں جن کے ساتھ مالی سلوک کیا جائے اور ان پر مال خرچ کیا جائے نہ کہ طبلوں باجوں تصویروں اور دیواروں پر کپڑا چسپاں کرنے میں۔
[تفسیر ابن ابی حاتم:620/2]
پھر ارشاد ہوتا ہے تم جو بھی نیک کام کرو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اس پر بہترین بدلہ عطا فرمائے گا وہ ذرے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔
01/03/2025
رمضان مبارک 🌹
...
اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهٗ عَلَيْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی، رَبِّيْ وَرَبُّكَ اللّٰهُ
13/02/2025
شبِ برأت 2025 کو 13 فروری بروز جمعرات کو ہوگی، اور یہ رات مغرب سے لے کر صبح صادق تک جاری رہے گی۔ اس رات کے بعد 14 فروری 2025 کو جمعہ کا دن ہوگا۔
یعنی:
13 فروری 2025 (جمعرات): شبِ برأت
14 فروری 2025 (جمعہ): دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے
اس رات کی عبادت اور دعا کی خصوصیت کو سمجھ کر ہمیں اپنی زندگیوں میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ ہم اس سے مغفرت حاصل کر سکیں۔
اللہ ہمیں اس بابرکت رات کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
شبِ برأت کی فضیلت – قرآن و حدیث کی روشنی میں
شبِ برأت کا تعارف:
شبِ برأت (لیلۃ النصف من شعبان) اسلامی سال کے آٹھویں مہینے شعبان کی 15ویں رات کو کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بابرکت رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور مغفرت نازل ہوتی ہے۔
شبِ برأت کا ذکر قرآن میں:
شبِ برأت کا نام لے کر قرآن میں کوئی آیت موجود نہیں، لیکن بعض مفسرین نے سورۃ الدخان کی درج ذیل آیات کو اس رات کی طرف اشارہ سمجھا ہے:
اللَّهُ تَعَالَىٰ فَرْمَاتَا:
"إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ، فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ"
(سورۃ الدخان: 3-4)
ترجمہ:
"بے شک! ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا، بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اسی میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔"
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہاں "مبارک رات" سے مراد شبِ برأت ہے، جبکہ جمہور مفسرین کے مطابق اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ تاہم، اس رات میں فیصلوں کا کیا جانا اور برکت کا ذکر بعض اہلِ علم کے نزدیک شبِ برأت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
حدیث میں شبِ برأت کی فضیلت:
نبی کریم ﷺ سے شبِ برأت کے بارے میں کئی احادیث مروی ہیں، جن میں اس رات کی فضیلت، مغفرت اور رحمت کا ذکر ملتا ہے:
1. اللہ کی مغفرت کی رات:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ"
(ابن ماجہ: 1390، صحیح الجامع: 771)
ترجمہ:
"جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے اور سب کو بخش دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔"
یہ حدیث مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اس رات اللہ کی عام مغفرت ہوتی ہے، مگر دو قسم کے لوگوں کو معافی نہیں ملتی:
1. مشرک → وہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔
2. کینہ رکھنے والا → وہ شخص جو دوسروں سے بغض اور دشمنی رکھتا ہے۔
2. رزق اور موت کے فیصلے کی رات:
حضرت عطاء بن یسارؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"شعبان کی پندرہویں رات اللہ تعالیٰ پورے سال کے فیصلے فرماتا ہے، رزق اور موت کے امور لکھے جاتے ہیں۔"
(البیہقی فی شعب الإیمان: 3835)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ اس رات تقدیر کے کچھ فیصلے کیے جاتے ہیں، جیسے:
کس کو کتنا رزق ملے گا؟
کون مرے گا اور کون زندہ رہے گا؟
3. اس رات کی عبادت کی ترغیب:
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب شعبان کی پندرہویں رات آئے تو اس میں قیام کرو (عبادت کرو) اور دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ اس رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ‘کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے عافیت عطا کروں؟' یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا ہے۔"
(ابن ماجہ: 1384)
شبِ برأت میں مستحب اعمال:
1. نماز پڑھنا:
نوافل ادا کرنا مستحب ہے، لیکن مخصوص 100 رکعت یا 14 رکعت والی روایات ضعیف ہیں۔
2. قرآن کی تلاوت کرنا:
اس رات قرآن پڑھنا باعثِ برکت ہے، کیونکہ اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
3. دعا اور استغفار:
خاص طور پر درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے:
اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
"اے اللہ! تو معاف کرنے والا، کرم فرمانے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔"
4. دن کا روزہ رکھنا:
نبی کریم ﷺ اکثر شعبان کے روزے رکھتے تھے، اور پندرہویں شعبان کے روزے کا بھی ذکر آیا ہے۔
5. کینہ اور دشمنی سے بچنا:
حدیث میں آیا ہے کہ کینہ رکھنے والے کی مغفرت نہیں ہوتی، اس لیے اس رات دوسروں کو معاف کرنا ضروری ہے۔
کچھ غلط تصورات اور بدعات:
1. شبِ برأت کو مخصوص عبادات اور طریقوں کے ساتھ منانا:
100 رکعت نماز، 6 رکعت مخصوص نماز، یا "برأت کی حلوہ" کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔
2. شبِ برأت کو لازم سمجھ کر منانا:
یہ عبادت کی رات ہے، مگر واجب نہیں، یعنی جو عبادت کرے اسے ثواب ملے گا، لیکن نہ کرنے پر گناہ نہیں۔
3. آتش بازی اور غیر شرعی رسومات:
یہ اسلامی طریقہ نہیں، بلکہ بدعت ہے۔
نتیجہ:
شبِ برأت اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کی رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کو بخش دیتا ہے۔ ہمیں اس رات کو ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ عبادت، دعا، استغفار اور روزے کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ ہمیں اس مبارک رات کی قدر کرنے اور اپنی مغفرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین!