*اللہ نے عورت کو حجاب کا ہرگز حکم نہیں دیا!!*
ڈاکٹر جاسم صاحب کہتے ہیں، میرے پاس ایک طالبعلم لڑکی آئی اور پوچھا:
طالبہ : کیا قران پاک میں کوئی ایک بھی ایسی آیت ہے جو عورت پر حجاب کی فرضیت یا پابندی ثابت کرتی ہو؟
ڈاکٹر جاسم : پہلے اپنا تعارف تو کراؤ...
طالبہ: میں یونیورسٹی میں آخری سال کی ایک طالبہ ہوں، اور میرے بہترین علم کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو حجاب کا ہرگز حکم نہیں دیا، اس لیے میں بے پردہ رہتی ہوں۔ تاہم میں اپنے اصل سے بالکل جڑی ہوئی ہوں اور اس بات پر اللہ پاک کا بہت بہت شکر ادا کرتی ہوں۔
ڈاکٹر : اچھا تو مجھے چند ایک سوال پوچھنے دو.
طالبہ : جی بالکل.
ڈاکٹر جاسم : اگر تمہارے سامنے ایک ہی مطلب والا لفظ تین مختلف طریقوں سے پیش کیا جائے تو تم کیا مطلب اخذ کرو گی؟ طالبہ: میں کچھ سمجھی نہیں۔
ڈاکٹر جاسم : اگر میں تمہیں کہوں کہ مجھے اپنا یونیورسٹی گریجویشن کی ڈگری دکھاؤ۔
آپ نے پھر کہا: یا میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجویشن کا رزلٹ کارڈ دکھاؤ۔
آپ نے پھر کہا: یا پھر میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجویشن کی فائنل رپورٹ دکھاؤ-
تو تم کیا نتیجہ اخذ کرو گی؟
طالبہ: میں ان تینوں باتوں سے یہی سمجونگی کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ان تینوں باتوں میں کوئی بھی تو ایسی بات پوشیدہ نہیں ہے جو مجھے کسی شک میں ڈالے کیونکہ ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سب ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر جاسم : بس، میرا یہی مطلب تھا جو تم نے سمجھ لیا ہے۔
طالبہ: لیکن آپ کی اس منطق کا میرے حجاب کے سوال سے کیا تعلق ہے؟
ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں تین ایسے استعارے استعمال کیے ہیں جو عورت کے حجاب پر دلالت کرتے ہیں۔
طالبہ: (حیرت سے) وہ کیا ہیں اور کس طرح؟
ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالی نے پردہ دار عورت کی جو صفات بیان کی ہیں انہیں تین تشبیہات یا استعاروں (الحجاب – الجلباب – الخمار) سے بیان فرمایا ہے جن کا مطلب بس ایک ہی بنتا ہے۔ تم ان تین تشبیہات سے کیا سمجھو گی پھر؟
طالبہ : خاموش.
ڈاکٹر جاسم : یہ ایسا موضوع ہے جس پر اختلاف رائے تو بنتا ہی نہیں بالکل ایسے ہی جیسے تم ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سے ایک ہی بات سمجھی ہو۔
طالبہ: مجھے آپ کا سمجھانے کا انداز بہت بھلا لگ رہا ہے مگر بات مذید وضاحت طلب ہے۔
ڈاکٹر جاسم : پردہ دار عورتوں کی پہلی صفت (اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں – وليضربن بخمرهن على جيوبهن)
باری تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو دوسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں –یايها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو تیسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (گر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو – وإذا سألتموهن متاعا فأسالوهن من وراء حجاب}
ڈاکٹر جاسم : کیا ابھی بھی تمہارے خیال میں یہ تین تشبیہات عورت کے پردہ کی طرف اشارہ نہیں کر رہیں؟ طالبہ: مجھے آپ کی باتوں سے صدمہ پہنچ رہا ہے۔
ڈاکٹر جاسم : ٹھہرو، مجھے ان تین تشبیہات کی عربی گرائمر سے وضاحت کرنے دو۔عربی گرایمر میں “الخمار” اس اوڑھنی کو کہتے ہیں جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے، تاہم یہ اتنا بڑا ہو جو سینے کو ڈھانپتا ہوا گھٹنوں تک جاتا ہو۔ اور “الجلباب” ایسی کھلی قمیص کو کہتے ہیں جس پر سر ڈھاپنے والا حصہ مُڑھا ہوا اور اس کے بازو بھی بنے ہوئے ہوں۔فی زمانہ اس کی بہترین مثال مراکشی عورتوں کی قمیض ہے جس پر ھُڈ بھی بنا ہوا ہوتا ہے۔تاہم “حجاب” کا مطلب تو وییسے ہی پردہ ہی بنتا ہے۔
طالبہ: جی میں سمجھ رہی ہوں کہ مجھے پردہ کرنا ہی پڑے گا۔
ڈاکٹر جاسم : ہاں، اگر تیرے دل میں اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے تو۔اور ایک اور بات جان لے کہ: لباس دو قسم کے ہوتے ہیں:پہلا جو جسم کو ڈھانپتا ہے۔یہ والا تو فرض ہے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حکم ہے۔دوسرا وہ جو روح اور دل کو کو بھی ڈھانپتا ہے۔ یہ دوسرے والا لباس پہلے سے زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ : ً(اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے – ولباس التقوى ذلك خير)۔ہو سکتا ہے کہ ایک عورت نے ایسا لباس تو پہن رکھا ہو جس سے اس کا جسم ڈھکا ہوا ہو لیکن اس نے تقویٰ کا لباس نا اوڑھ رکھا ہو۔ تو ٹھیک طریقہ یہی ہے کہ وہ دونوں لباس زیب تن کرے۔
Naila learning official
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naila learning official, Education, Bahawalpur.
05/12/2021
مسافر تھا۔
پردیسی تھا۔
تمھارے ملک اسلامی جمہوریہ میں اپنے حصے کا رزق لینے آیا تھا۔
نوکری کرنے آیا تھا بس۔ مہمان تھا۔
غیر مسلم تھا، عربی نہیں پڑھنا آتی تھی اسے۔
کیا معلوم کہ درود لکھا ہے یا کلمہ۔ پھاڑ کے پھینک دیا، گناہ کیا؟ اگر کوئی دیوانہ، مجنون، پاگل قرآن کا صفحہ پھاڑ کر پھینک دے تب کیا کرو گے؟ مار ڈالو گے؟ پاگل دیوانے پر دنیا جہان کا کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا۔ اسی طرح غیر مسلم پر شرعی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ اسے تو عربی پڑھنا نہ آتی تھی ، شعور ہی نہ تھا کہ کیا لکھا ہے۔ سمجھا دیتے اسے۔ پیار سے۔ محبت سے۔ وضاحت کردیتے کہ یہ درود لکھا ہے۔ اس میں ہمارے نبی کا نام لکھا ہے۔ مسکراتے۔ سمجھاتے۔ وہ شرمندہ سا ہوجاتا۔ معذرت کرتا۔ وہ تم سے معذرت کرتا۔ وہ کہتا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ قابلِ احترام شے تھی۔ وہ معذرت کرتا۔
مگر۔۔۔ مگر کیا کیا تم نے؟ مار ڈالا تم نے اسے؟؟ پکڑ لیا۔ گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ وہ گھبرایا۔ اسے تو پنجابی نہ آتی تھی۔ انگریزی میں پوچھتا رہا ہوگا کہ بھائی کیا کیا ہے میں نے۔ تم نے تھپڑ دے مارے۔ پھر گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئے۔ "گستاخ ۔ گستاخ" کے نعرے لگائے۔ مزید عوام اکٹھی کی۔ لوگ بھڑکائے۔ پھر کیا کیا؟ پھر اس کے سر میں ڈنڈے مارے اور چہرے پہ پتھر پھینکے؟ تب اسے ماں یاد آئی ہوگی۔ ہاں۔ ماں یاد آئی تو ہوگی اسے۔ سری لنکا کے کسی خاموش محلے کے کونے والے گھر میں سبزی بناتی ہوئی ماں۔
مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ ہیں ناں؟ تمھاری بھی تو ہے۔ ماں۔ مگر تم نہ رکے۔ نہ تھمے۔ ادھ مرے کو ٹانگ سے پکڑ کر سڑک پر گسیٹتے رہے؟ اور پھر۔۔۔ اور پھر جلا دیا؟ تم نے بندہ جلا دیا؟؟؟ ارے۔۔۔ بندہ ہی جلا دیا۔ آگ میں جلا دیا۔ پھر کیا کیا ؟ سیلفیاں لیں جلتے انسان کے ساتھ ؟ سیلفیاں۔ لبیک یا رسول اللہ کے نعرے۔ الامان۔ بندہ جلا دیا۔
میں کیا لکھوں اور تم کیا پڑھو گے۔ سکوت سا ہے ہر سو۔ عجب سا۔ فضا میں بُو ہے۔ گوشت جلنے کی بُو؟ دیکھو تو ذرا۔ آگے بڑھ کے دیکھو آیا گوشت جلنے کی بُو تو نہیں ؟ نہیں۔
تم سب کے ضمیر جلنے کی بُو ہے بدبختو۔ اس کی ماں کو اب تک خبر مل گئی ہوگی۔ بیوی بچے بھی ہونگے۔ بھائی بھی اور اس کی بہنیں۔ بہنوں کو کون صبر دلائے گا اب؟
مسافر تھا۔ ۔
پردیسی بھی۔ ۔
مہمان بھی تھا۔ ۔
غیر مسلم بھی تو تھا۔ ۔
جانے دیتے۔ ۔
تمھارا کیا جاتا؟
از قلم ۔۔۔🌺
جب کوئی کہتا ہے نا
میری دعا قبول نہیں ہو رہی
میں نے کتنی دعائیں کی
میں نے کتنی کوشش کی
میرے نصیب میں یہ نہیں، کیوں نہیں
اسکو تو بن مانگے مل گیا
اس کے پاس سب ہے
بس ایک ہی بات میرے ذہن میں آتی ہے
🌹نہ تیرا خدا کوئ اور ہے نہ میرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو راستے ہیں جدا جدا
یہ "معاملہ" کوئی اور ہے🌹
اللہ تو سب کا ہے
سب کو دینا ہے اس نے
اس ☝️ کے لیے سب برابر ہیں
سوائے تقویٰ اور پرہیزگار کے
اس لیے
اپنے اندر کی کمی کو ڈھونڈیں
کہاں کمی ہے؟
یقین میں،
صبر میں،
محنت میں،
اخلاق میں،
عبادت میں،
فرمانبرداری میں،
اپنے اندر کو تلاش کریں
اللہ رب العزت بہت اچھے ہیں
کبھی کبھی اللہ کی اتنی بےشمار رحمتیں اپنے گرد محسوس ہوتی ہیں کہ دل بھر آتا ہے… اسکی محبت یوں شدت سے محسوس ہوتی ہے، کہ آنکھیں چھلک پڑتی ہیں، اپنا آپ حقیر محسوس ہوتا ہے کہ یا رب میں تو کسی قابل نہیں ہوں، اللہ جی مجھے اپنی محبت کا حق ادا کرنے والا بنا دیں... یا ربی میں چاہتی ہوں کہ یہ دل ہمیشہ آپ کی محبت سے لبریز رہے، میری آنکھیں آپ کو یاد کرکے بہتی رہیں، میں ہمیشہ یوں ہی آپ کا ساتھ محسوس کروں، مجھے ساری کائنات آپ کی یاد دلائے، میں کبھی آپ سے غافل نہ ہوں...
دل چاہتا ہے کہ سب آپ کی طرف آ جائیں، میں سب کو آپ سے محبت کرنا سیکھاوں.. اللہ.. سب کو آپ کی پہچان ہو جائے.. کوئی آپ سے بدگمان نہ ہو، کوئی آپ سے شکوے نہ کرے... سب کے دلوں میں آپ بس جائیں.. سب کو وہ نظر مل جائے جو آپ کی مہربانیاں، آپ کی رحمتیں دیکھ سکے..❤️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Bahawalpur