14/08/2022
جو ساز سے نکلی ہے وہ دھن سب نے سنی ہے
جو تار پے بیتی ہے وہ کس کو پتہ ہے 🙂 ۔۔۔۔ یہ تھی ہماری آزادی ایسے لی تھی ہم نے آزادی یہ بات کہہ دینا بھت آسان ہے کے ہمارے بڑوں نے قربانی دی اور ملک حاصل کیا ۔ آج ہم بڑے فخر سے اپنی نئی نسل کو بتاتے ہیں لیکن ہم نے کبھی یہ سوچا کہ کل ہماری نسلیں نئی نسل کو کیا بتاے گے ہمارے بڑوں نے 14اگست کو باجے بجا کر اس آزادی کا حق ادا کیا اور ہر سال ایک نیا ملی نغمہ پیش کر کے ملک و ملت کا نام روشن کیا ۔ ہم کو ایک زمہ پاکستانی بننا ہوگا ۔ پاکستان ہے تو ہم ہے یہ سب بہار ہے جو کچھ ہے پاکستان کی بدولت ہے ۔ خدارا ہم لوگ اپنی سیاسی پارٹیوں کے نظریے سے نکل کر پاکستان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہر ایک کا اپنا سیاسی نقطہ نظر ہے سب کا احترام لازمی ہے لیکن ان سب نظریات سے پہلے اور بڑھ کے نظریہ ہے وہ ہے نظریہ پاکستان ۔ پاکستان ( لا الہ الااللہ) کے نظریے پر ہی بنا تھا اور اس میں ہی اس کی بقاء ہے ۔ آج ہماری قوم کی حالت دیکھ کر علامہ اقبال ر۔ح کا ایک شعر یاد آگیا ایسا شعر کے جس مسلم اقوام کا عروج و زوال بیان کیا فرماتے ہیں کہ۔
``` آ تجھ کو بتاؤں تقدیر امم کیا ہے``۔
شمشیر وسناں طاؤس و رباب آخر
قوموں کا عروج تب ہوتا ہے جب ان کے ہاتھوں میں اسلہ اور تلواریں ہوتی ہیں اپنے وطن نظریہ سوچ فکر کے لے تب قومیں عروج پاتی ہیں اور جب ان کا زیور ناج گانا ہوتا ہے تب یہ قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں ۔ اللہ پاک میرے ملک کا حامی ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد ❤️🇵🇰🇵🇰
پاکستان پائندہ باد ❤️🇵🇰🇵🇰
از قلم بندہ مطیع الرحمان 😌