Bazm e Faizia توگیرہ شریف

Bazm e Faizia توگیرہ شریف مرکزی بزم فیضیہ آستانہ عالیہ توگیرہ شریف بہاول نگر

آج سے تقریبا 30 سال قبل حضور خواجہ خواجگان شاہ چراغ اللہ توگیروی رحمتہ اللہ علیہ کے خانوادہ میں سے حضرت قبلہ پروفیسر شیر محمد توگیروی علیہ الرحمتہ و حضرت قبلہ سید احمد حسن شاہ فیضی علیہ الرحمتہ (جملیرہ)نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ایک بزم کی بنیاد رکھی جسکا نام باہمی مشاورت سے حضرت قبلہ فیض عالم کے نام نامی کی مناسبت سے "بزم فیضیہ" قرار دیا.
نامساعد حالات کے باوجود بزم بتدریج ارتقاء کی تمام منازل طے کرتی چلی گئ اور نہایت حسن و خوبی سے شب و روز ہمہ تن مصروف عمل رہی.اپنے محدود وسائل کے باوجود بزم نے اشاعت کے شعبہ میں اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دیں جن میں "انوار عظمت، تذکرہ فیض عالم، باباجی حضور ، مسائل و فضائل رمضان، احکام قربانی ، (مدرسہ اسلامیہ عربیہ کمال العلوم توگیرہ شریف کی پچاس سالہ خدمات پرلکھی گئ کتاب) گولڈن جوبلی پروگرام " بطور خاص قابل ذکر ہیں. بزم کے زیراہتمام نیا مجموعہ کلام "انوار فیض" بھی چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے۔

قصیدہ بردہ شریف شعر 154فَإِنَّ مِنْ جُودِكَ الدُّنْيَا وَضَرَّتَهَاوَمِنْ عُلُومِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالقَلَمِ
25/09/2026

قصیدہ بردہ شریف
شعر 154
فَإِنَّ مِنْ جُودِكَ الدُّنْيَا وَضَرَّتَهَا
وَمِنْ عُلُومِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالقَلَمِ

قصیدہ بردہ شریفشعر 153 میں ذکر کردہ حدیث شفاعت کا مکمل حوالہآپ ﷺ کا منصبِ شفاعتِ عظمی پر فائز ہونے کا بیان’’معبد بن ہلال...
25/09/2026

قصیدہ بردہ شریف
شعر 153 میں ذکر کردہ حدیث شفاعت کا مکمل حوالہ
آپ ﷺ کا منصبِ شفاعتِ عظمی پر فائز ہونے کا بیان

’’معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم اہلِ بصرہ اکٹھے ہو کر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے اور ہم ان کے پاس اپنے ساتھ ثابت بُنانی کو لے گئے تاکہ وہ ان سے ہمارے لیے حدیثِ شفاعت کا سوال کریں؟ وہ اپنے گھر میں تھے۔ ہم نے انہیں نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے پایا اور داخل ہونے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی آپ اپنے بچھونے پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا: حدیثِ شفاعت سے قبل آپ ان سے کوئی اور سوال نہ کریں تو انہوں نے عرض کیا: ابو حمزہ! یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے حدیثِ شفاعت کے بارے پوچھنا چاہتے ہیں؟

’’انہوں نے کہا: ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن لوگ دریا کی موجوں کی مانند بے قرار ہوں گے تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، وہ فرمائیں گے: یہ میرا مقام نہیں، تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے جس پر وہ فرمائیں گے: یہ میرا منصب نہیں تم حضرت موسیٰ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں۔ پس وہ حضرت موسیٰ کی خدمت میں جائیں گے تو وہ فرمائیں گے: میں اس لائق نہیں تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہیں۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے: میں اس شفاعت کے قابل نہیں تم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔

’’پس لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا: ہاں! اس شفاعت کے لیے تو میں ہی مخصوص ہوں۔ پھر میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت مل جائے گی اور مجھے ایسے حمدیہ کلمات الہام کئے جائیں گے جن کے ساتھ میں اللہ کی حمد و ثنا کروں گا وہ اب مجھے مستحضر نہیں ہیں۔ پس میں ان محامد سے ﷲ کی تعریف و توصیف کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ سو مجھے کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! اپنا سر اٹھائیں، اپنی بات کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: میرے رب! میری امت، میری امت، پس فرمایا جائے گا: جاؤ اور جہنم سے ہر ایسے امتی کو نکال لو جس کے دل میں جَو کے برابر بھی ایمان ہو پس میں جاکر یہی کروں گا۔ پھر واپس آکر ان محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثنا کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ پس کہا جائے گا: محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے!آپ کو سنا جائے گا، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت! پس فرمایا جائے گا: جاؤ اور جہنم سے اسے بھی نکال لو جس کے دل میں ذرے کے برابر یا رائی کے برابر بھی ایمان ہو۔ پس میں جاکر ایسے ہی کروں گا۔ پھر واپس آکر انہی محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثنا بیان کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدے میں گرجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے، آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: اے میرے پیارے رب! میری امت، میری امت، پس وہ فرمائے گا: جاؤ اور اسے بھی جہنم سے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی بہت ہی کم بہت ہی کم بہت ہی کم ایمان ہو۔ پس میں خود جاؤں گا اور جا کر ایسا ہی کروں گا۔

’’جب ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا: ہمیں حسن بصری کے پاس چلنا چاہئے جو کہ ابو خلیفہ کے مکان میں روپوش ہیں اور انہیں وہ حدیث بیان کرنی چاہئے جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی تو ہم نے ان سے کہا: ابو سعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں سے ہوکر آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی ہے اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی۔ انہوں نے کہا: بیان کرو، ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا: (مزید) بیان کرو، ہم نے ان سے کہا: اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ آج سے بیس سال قبل جب صحت مند تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی، مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے ہیں یا اس لئے بیان کرنا ناپسند کیا ہے کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا: ابوسعید! پھر آپ ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے اس پر آپ ہنسے اور فرمایا: انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لئے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی۔

’’(مگر اس میں اتنا اضافہ کیا کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں چوتھی دفعہ واپس لوٹوں گا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کروں گا پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا: اے میرے پیارے رب ! مجھے اُن کی (شفاعت کرنے کی) اجازت بھی دیجئے جنہوں نے لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ کہا ہے، پس وہ فرمائے گا: مجھے اپنی عزت و جلال اور عظمت و کبریائی کی قسم! میں انہیں ضرورجہنم سے نکالوں گا جنہوں نے لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ کہا ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامة مع الأنبیاء وغیرهم، 6/2727، الرقم: 7072، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب أدنٰی أهل الجنة منزلة فیها، 1/ 182-184، الرقم: 193، والنسائي في السنن الکبری، 6/330، الرقم:11131، وأبو یعلی في المسند، 7/311، الرقم: 4350، وابن منده في الإیمان، 2/ 841، الرقم: 873.

تشریح شعر 153 وَلَنْ يَضِيقَ رَسُولَ اللهِ جَاهُكَ بِيإِذَا الكَرِيمُ تَحَلَّى بِاسْمِ مُنْتَقِمِ
25/09/2026

تشریح شعر 153
وَلَنْ يَضِيقَ رَسُولَ اللهِ جَاهُكَ بِي
إِذَا الكَرِيمُ تَحَلَّى بِاسْمِ مُنْتَقِمِ

قصیدہ بردہ شریف شعر 153 وَلَنْ يَضِيقَ رَسُولَ اللهِ جَاهُكَ بِيإِذَا الكَرِيمُ تَحَلَّى بِاسْمِ مُنْتَقِمِیعنی حضور صلی...
25/09/2026

قصیدہ بردہ شریف

شعر 153

وَلَنْ يَضِيقَ رَسُولَ اللهِ جَاهُكَ بِي

إِذَا الكَرِيمُ تَحَلَّى بِاسْمِ مُنْتَقِمِ

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شان کی پناہ میرے واسطے تنگ نہ ہوگی۔ بروز قیامت منتقم حقیقی کے نام سے اپنی شان ظاہر فرمائیں گے۔

طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف: ص 387

شارح: سید ابو الحسنات محمد احمد قادری







#حضورﷺ






#فیضیہ


















قصیدہ بردہ شریفتشریح شعر 152 يَا أَكْرَمَ الخَلْقِ مَالِي مَنْ أَلُوذُ بِهِ سِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الحَادِثِ العَمِمِ تش...
24/09/2026

قصیدہ بردہ شریف
تشریح شعر 152

يَا أَكْرَمَ الخَلْقِ مَالِي مَنْ أَلُوذُ بِهِ
سِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الحَادِثِ العَمِمِ

تشریح :
مفہوم واضح ہے اور حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا ان کے غلام کے لیے کوئی دستگیر نہیں حتی کہ قرآن کریم بھی اسی شفاعت نگر کا راستہ بتاتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ جب تم اپنی جانوں پر معصیت کی وجہ سے ظلم کر گزرو تو ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آؤ۔ اور توبہ کرو۔ اور ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھاری سفارش کریں تو تم اللہ تعالے کو تواب و رحیم پاؤ گے ۔ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(سورۃ النسا:64)

شر خیر شور سُور شرر دور نارِ نور
بشری کہ بارگاہ یہ خیر البشر کی ہے

مجرم بلائے آئے ہیں جاؤکَ ہے گمراہ
پھر رد ہو کہ یہ شان کریموں کے در کی ہے

بد ہیں مگر انھیں کے ہیں باغی نہیں ہیں ہم
نجدی نہ آئے اس کو یہ منزل خطر کی ہے

بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے
حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے

طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف: ص 387
شارح: سید ابو الحسنات محمد احمد قادری

قصیدہ بردہ شریف شعر 152يَا أَكْرَمَ الخَلْقِ مَالِي مَنْ أَلُوذُ بِهِسِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الحَادِثِ العَمِمِ اے بہترین...
23/09/2026

قصیدہ بردہ شریف

شعر 152

يَا أَكْرَمَ الخَلْقِ مَالِي مَنْ أَلُوذُ بِهِ

سِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الحَادِثِ العَمِمِ

اے بہترین کریم عالم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا میرے لیے کوئی جگہ نہیں جہاں پناہ لوں مصیبتوں کے عام نزول کے وقت

طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف: ص 386
شارح: سید ابو الحسنات محمد احمد قادری



ﷺ

ﷺ




قصیدہ بردہ شریفتشریح شعر 151 وَلَمْ أُرِدْ زَهْرَةَ الدُّنْيَا الَّتِي اقْتَطَفَتْ يَدَا زُهَيْرٍ بِمَا أَثْنَى عَلَى هَ...
23/09/2026

قصیدہ بردہ شریف
تشریح شعر 151
وَلَمْ أُرِدْ زَهْرَةَ الدُّنْيَا الَّتِي اقْتَطَفَتْ
يَدَا زُهَيْرٍ بِمَا أَثْنَى عَلَى هَرِمِ

تشریح:
زھیربن ابی سَلمی(س پر پیش ل پر شد اور زبر م پر زبر ی پر کھڑی زبر پڑھیں) بڑے نامور شعراء سے گزرا ہے۔ عہد عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں اس سے بہتر اشعار کسی کے نہ مانے جاتے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسے ’’اشعر الناس‘‘ فرماتے تھے ۔ اور اس کے صاحبزادے حضرت کعب نے قصیدہ بانت سعاد دربار رسالت میں سنایا تھا۔ اورَو شاح ابن درید میں ہے۔ کہ زہیر کی کنیت ابو بحیرہ تھی اور اس کی موت قبل المبعث ہوئی۔ اور ثعلب ابن عباس اپنی سند کے ساتھ فرماتے ہیں ۔ کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں اپنے بڑے شاعر کے اشعار سناؤ تو میں نے عرض کیا وہ کون ہے۔ تو فرمایا وہ زہیر ہے ۔ اور ابن اعرابی کہتے ہیں کہ زہیر میں ایک خاص بات تھی۔ جو اُس کے سوا اور کسی میں نہیں ملتی ۔ کہ اس کا باپ بھی شاعر وہ بھی شاعر اور اس کے ماموں بھی شاعر اور اس کی بہن سلمی بھی شاعرہ اور اس کے بیٹے حضرت کعب اور بحیرہ دونوں شاعر اور اُس کی دوسری بہن خنساء بھی شاعرہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اہل جہالت کے نامور شاعروں میں زہیر بن ابی سُلَمِی ہے ۔ اور اسلام کے نامور شعرا میں اس کے بیٹے حضرت کعب۔۔زہیر بن ابی اسلمی ملوک عرب میں سے ہرم بن سنان کے حق میں بہت قصیدہ لکھا کرتا تھا۔ اس لیے کہ ہرم انعام بہت دیتا تھا۔۔تو امام محمد بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دولت دنیا حاصل کرنے کو زھیر کی طرح میں ہرم کے لیے مدحت نہیں کرتا ۔ بلکہ دولت عقبیٰ کی امید پر میری منقبت دربار رسالت میں پیش ہے۔ طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف: ص 385 شارح: سید ابو الحسنات محمد احمد قادری

قصیدہ بردہ شریف شعر 151 وَلَمْ أُرِدْ زَهْرَةَ الدُّنْيَا الَّتِي اقْتَطَفَتْيَدَا زُهَيْرٍ بِمَا أَثْنَى عَلَى هَرِمِمی...
23/09/2026

قصیدہ بردہ شریف

شعر 151

وَلَمْ أُرِدْ زَهْرَةَ الدُّنْيَا الَّتِي اقْتَطَفَتْ

يَدَا زُهَيْرٍ بِمَا أَثْنَى عَلَى هَرِمِ

میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح نعت سے وہ تازگی اور بہجت حاصل کرنا نہیں چاہتا جو زہیر بن ابی سلمیٰ مشہور شاعر کے ہاتھوں نے سنان بن ہرم کی تعریف کے صلہ میں حاصل کی۔

طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف: ص 385

شارح: سید ابو الحسنات محمد احمد قادری



ﷺ

ﷺ




قصیدہ بردہ شریف شعر 150وَلَنْ يَفُوتَ الغِنَى مِنْهُ يَدًا تَرِبَتْإِنَّ الحَيَا يُنْبِتَ الأَزْهَارَ فِي الأَكَمِ جو ہا...
22/09/2026

قصیدہ بردہ شریف

شعر 150

وَلَنْ يَفُوتَ الغِنَى مِنْهُ يَدًا تَرِبَتْ
إِنَّ الحَيَا يُنْبِتَ الأَزْهَارَ فِي الأَكَمِ

جو ہاتھ مفلس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ کی طرف بڑھے۔ وہ کبھی دولت لیے بغیر واپس نہ ہو۔ بارش ہوتی ہے تو پہاڑ کی چوٹیوں پر بھی پھول کھلا دیتی ہے۔

طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف: ص 384
شارح: سید ابو الحسنات محمد احمد قادری



ﷺ

ﷺ




قصیدہ بردہ شریفشعر 149 وَمُنْذُ أَلْزَمْتُ أَفْكَارِي مَدَائِحَهُوَجَدْتُهُ لِخَلاَصِي خَيْرَ مُلْتَزِمِ ترجمہ:جب سے میں...
22/09/2026

قصیدہ بردہ شریف
شعر 149
وَمُنْذُ أَلْزَمْتُ أَفْكَارِي مَدَائِحَهُ
وَجَدْتُهُ لِخَلاَصِي خَيْرَ مُلْتَزِمِ
ترجمہ:
جب سے میں نے اپنے افکار میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت گوئی لازم کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے بہترین جائے پناہ لی۔

تشریح:
جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو رد سائل اور محروم کرنے سے منزہ ثابت کر چکے تو اپنی نعت گوئی کسے زینہ کے نتیجہ کو بیان فرماتے ہیں کہ جب میں نے مدحت سرائی اس ہستی مقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو اپنے خیالات و افکار میں لازم کر لیا ہے یعنی اس وقت سے کہ میں اپنے اشعار کو سوائے منقبت حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور کسی کام میں نہیں لاتا ۔ جب ہی سے مَیں اطمینان کر چکا ہوں کہ میں نعت گوئی میرے لیے زبر دست نجات کا ذریعہ ہے۔ اور اسی وقت کو مَیں اپنے لیے بہترین جائے پناہ سمجھتا ہوں ۔

کرے مدح اہل دول رضا پڑے اس بَلا میں میری بَلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پاره نان نہیں

طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ شریف: ص 383
شارح: سید ابو الحسنات محمد احمد قادری



ﷺ

ﷺ




Address

Astana-e-Aliya Togera Sharif
Bahawalnagar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm e Faizia توگیرہ شریف posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Bazm e Faizia توگیرہ شریف:

Shortcuts

Share