Ejaz Hassan

Ejaz Hassan

Share

Scholar and columnist (M.Phil in Islamic Studies, and holds a master degree in Mass Communication)

14/06/2026

Barah Khalifah
بارہ خلیفہ
Sahih Muslim: 1821 (4708)
MM: 26,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

14/06/2026

Sahaba (Razi Allah Anhum) Ko Bura Bhala Mat Kaho
صحابہ رضی اللہ عنھم کو برا بھلا مت کہو
Sahih Bukhari: 3673
MM: 18,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

13/06/2026

Abu Bakar (Razi Allah Anhu): Rasul Allah (Salla Allah Aleahi Wa Sallam) Kay Khalifa
ابوبکر(رضی اللہ عنہ): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ
Sahih Bukhari: 3659
MM: 28,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

13/06/2026

Udhaer Omar Jannatiyun Kay Sardar
ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار
Jame At-Tirmidhi: 3665 , Sahih
MM: 29,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

12/06/2026

Jis Say Hamara Malik Razi Ho
جس سے ہمارا مالک راضی ہو
Sahih Bukhari: 1303
MM: 14,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

12/06/2026

Mera Baita Sardar Hay
میرا بیٹا سردار ہے
حسن رضی اللہ عنہ
Sahih Bukhari: 3746
MM: 06,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

10/06/2026

Aurat Ka Teen Din Saug Kerna
عورت کا تین دن سوگ کرنا
Sahih Bukhari: 1281
MM: 13,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

10/06/2026

Main Sabar Na Ker Saka
میں صبر نہ کر سکا
حسن اور حسین رضی اللہ عنہما
Abu Dawood 1109, Sahih
MM: 05,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

09/06/2026

Wo Ham Main Say Nahin
وہ ہم میں سے نہیں
Sahih Bukhari: 1294
MM: 11,


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن
Hussain (Razi Allah Anhu) ,,, Hasan (Razi Allah Anhu) ,, Shadat Hussain (Razi Allah Anhu) ,, Ahl Bait (Razi Allah Anhum)
muharram,hussain,imam hussain,hazrat hussain,mera hussain, moharram,mara hussain,han mera imam hussain,hazrat hussain,10 muharram,imam hussain hamare hain hussain,muharram status,new muharram,imam hussain karbala,muharram noha,imam husain,muharram ka status, kaya imam kehna durust ? imam ? , imamat ?, matam?


ماہ محرم #ماہ #محرم #اعجاز #حسن

09/06/2026

پانچواں حصہ
*5۔نکاح، مقاصد شریعت اور مصادر تشریع !*

*(اٹھارہ سال میں نکاح: اسلام ،قانون اور حقائق)*

قلم کار: اعجاز حسن
9 جون 2026ء
23 ذی الحجہ 1447ھ

*عدالتی فیصلہ (نقظہ 8اور9)*
اس پہلو پر اس عدالت کے فل بینچ نے بھی "فاروق عمر بھوجا بنام وفاقِ پاکستان" کے مقدمے میں تفصیل سے بحث کی ہے، جو کہ پی ایل ڈی 2022 ایف ایس سی 1 (PLD 2022 FSC 1) کے طور پر رپورٹ ہوا ہے، ہم مذکورہ بالا فیصلے کے ایک حصے کو یہاں نقل کرنا موزوں اور مناسب سمجھتے ہیں، جو کہ درج ذیل ہے:
8۔اگرچہ مسلمان فقہا کی اکثریت کا یہ موقف ہے کہ نابالغ لڑکی کا نکاح جائز ہے، لیکن کچھ فقہا اس کے مخالف رائے بھی رکھتے ہیں جیسے امام ابن شبرمہ جو عراق میں امام ابو حنیفہ کے ہم عصر مسلم فقیہ تھے، ان کے ساتھ قاضی ابو بکر الاصم بھی مخالف رائے رکھتے تھے۔ ان کے علاوہ چند اور فقہا بھی ہیں جو یہ مخالف رائے رکھتے ہیں، یعنی اسلام میں نابالغ لڑکی کا نکاح جائز نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ مسلم فقہا کے درمیان دونوں نقطہ نظر موجود ہیں۔ (حوالہ: المغنی ابن قدامہ، جلد 7، صفحہ 487؛ مجموعہ قوانینِ اسلام، جلد اول، صفحات 214 اور 215 از ڈاکٹر تنزیل الرحمن)۔
ڈاکٹر تنزیل الرحمن (مرحوم) نے اپنی کتاب مجموعہ قوانینِ اسلام کا ایک مکمل حصہ اس موضوع کے لیے وقف کیا ہے، اگرچہ یہ پورا حصہ اس موضوع کے لیے انتہائی موزوں ہے؛ تاہم، اس مسئلے میں مزید وضاحت لانے کے لیے اس حصے کا متعلقہ حصہ ذیل میں نقل کیا جا رہا ہے:
یہ امر کہ صغر سنی کی شادیوں کو پاکستان میں ممنوع قرار دے دیا گیا ایک سماجی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو خالص مذہبی انداز میں سوچنے کی بجائے سماجی اور معاشرتی پہلو سے بھی سوچنا اور غور کرنا چاہیے۔
دوسری بات جو اس سلسلے میں ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ نابالغوں کی شادیاں کرنا کوئی امر تاکیدی نہیں ہے بلکہ امر مباح ہے۔ مقتدر اعلی یا ملک کا قانون ساز ادارہ معاشرے کے مفاد میں اس کو موقوف معطل یا مقید کر سکتا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہ ہوگا کہ مقتدر اعلی یا قانون ساز ادارہ ایسے نکاح کو ناجائز خیال کرتا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ معاشرتی مصالح کے پیش نظر سماجی برائیوں کے انسداد کی غرض سے اس امر کو موقوف یا مقید کر دیا ہے۔ اسلام میں مقتدر اعلی کے حق کے قانون سازی کو تسلیم کیا گیا ہے اس کو اختیار ہے کہ بندگان خدا کو فتنہ و فساد اور شر سے محفوظ رکھنے کے لیے بعض امور کو (جو اگرچہ مباح ہیں) معطل یا مقید کر دے یا اس میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے امتناعی احکام جاری کرے۔(جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمن مرحوم، مجموعہ قوانینِ اسلام، جلد اول، ص 217)

9۔قانون کے ذریعے لڑکی کے لیے کم از کم 16 سال کی عمر کی حد مقرر کرنے سے عام طور پر لڑکیوں کو کم از کم بنیادی تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ تعلیم کی اہمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں ہے۔ تعلیم کی ضرورت ( جنس) کے امتیاز کے بغیر ہر ایک کے لیے یکساں اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تعلیم کے حصول کو ہر مسلمان پر فرض کیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے، اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔
طلبُ العِلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلمٍ (بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس طرح کے الفاظ کا استعمال مسلم معاشرے میں، اور ہر مسلمان کے لیے تمام اور کسی بھی قسم کے حالات میں تعلیم کی فرضیت پر زور دیتا ہے۔ لہٰذا، ہر انسان کی شخصیت کی نشوونما کے لیے تعلیم بنیادی عوامل میں سے ایک ہے۔
10۔ایک صحت مند ازدواجی زندگی کے لیے نہ صرف جسمانی صحت اور معاشی استحکام وغیرہ ضروری عوامل ہیں، بلکہ ذہنی صحت اور فکری نشوونما بھی یکساں اہم ہیں، جنہیں تعلیم کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے جو کسی بھی فرد اور نتیجتاً کسی بھی قوم کی آئندہ نسل کی ترقی کے لیے ایک کلیدی جزو ہے۔
اسلام میں نکاح کے مقاصد میں سے ایک مقصد کسی بھی شخص کے نسب اور نسل کا تحفظ اور اس کا فروغ ہے۔ یہ تصور "حفظ النسل" کے موضوع کے تحت آتا ہے جو کہ امام شاطبی کے بیان کردہ "مقاصدِ شریعہ" کے تصور کے مطابق شریعت کے اہداف میں سے ایک ہے۔ (ابراہیم بن موسیٰ بن محمد الشاطبی وفات 790 ہجری، الموافقات)۔
11۔ ذاتی سطح پر، کسی لڑکی یا جنس کے امتیاز کے بغیر کسی بھی شخص کے لیے، تعلیم حاصل کرنے کا عنصر "حفظ العقل" یعنی عقل کے تحفظ اور اس کے فروغ کے تصور کے تحت آتا ہے۔ حفظِ عقل بھی شریعت کے طے شدہ پانچ بنیادی اہداف میں سے ایک ہدف ہے، جن کی وضاحت "مقاصدِ شریعہ" کے تصور کے ذریعے بخوبی کی گئی ہے۔
اسلامی شریعت: مقاصد اور مصالح (المقاصد العامة للشريعة الاسلامية)، یوسف حامد العالم، مترجم: محمد طفیل ہاشمی، ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد)
12۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق کسی بچی یا بیٹی کو بہترین تعلیم دینا ان بہترین اعمال میں سے ایک ہے جو انسان کر سکتا ہے، جو کہ جنت کی ضمانت دیتا ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل حدیث سب سے زیادہ متعلقہ ہے:-
مَنْ كَانَتْ لَهُ ابْنَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَوْسَعَ عَلَيْهَا مِنْ نِعَمِ اللهِ الَّتِي أَسْبَغَ عَلَيْهِ، كَانَتْ لَهُ مَنَعَةً وَسِتْرًة مِنَ النَّارِ
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ 'میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کی کوئی بیٹی ہو، وہ اسے ادب سکھائے اور اس کی بہترین تربیت کرے، اسے علم سکھائے اور اچھی تعلیم دے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو نعمتیں دی ہیں ان نعمتوں میں سے اس پر وسعت کرے، تو وہ بچی اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائے گی۔' (المعجم الکبیر للطبرانی 10295)"
اس کی اہمیت کے پیشِ نظر امام بخاری نے اپنی مشہور حدیث کی کتاب جامع البخاری شریف میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کے موضوع پر تقریباً اپنی کتاب بخاری شریف کے آغاز میں ہی ایک مکمل باب "بَابُ عِظَةِ الإِمَامِ النِّسَاءَ وَتَعْلِيمِهِنَّ" (یعنی: امام کا عورتوں کو وعظ کرنے اور انہیں تعلیم دینے کا باب) قائم فرمایا ہے۔

9۔نکاح جیسی مباح (جائز) اور غیر لازمی (فرض) عمل کے لیے شادی کی کم از کم عمر مقرر کرنا اسلام کے احکامات کے عین مطابق ہے، کیونکہ عمر کی کم از کم حد کا ایسا تعین لڑکیوں کو کم از کم بنیادی تعلیم مکمل کرنے کے لیے ایک مناسب وقت فراہم کرتا ہے، جو عام طور پر کسی بھی شخص میں ذہنی پختگی (رشد) پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ شادی کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے کا قانون ساز ادارہ (ایوانِ اقتدار) کا یہ اقدام مقاصدِ شریعہ کے اصولوں کے پہلو سے اور قرآن و سنت کے طے کردہ دیگر اصولوں کے مطابق بھی اسلام کے احکامات کے عین موافق ہے، جن کے مطابق ایک بیوی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق، جائیداد اور عزت کی حفاظت کرے، اور اسلام میں قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق شوہر پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ قوام ہونے کے ناطے اپنی بیوی کے حقوق، جائیداد اور عزت کی حفاظت کرے۔
مقاصدِ شریعہ کے اصولوں کی روشنی میں ایک طرف جہاں مسلم ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت کا بھی تحفظ کرے، پہلی ترجیح کے طور پر اپنے شہریوں کی جان کے تحفظ (حفظِ نفس) کے ہدف کے تحت، اور دوسری ترجیح کے طور پر اپنے شہریوں کی عقل کے تحفظ (حفظِ عقل) کے ہدف کے تحت۔ اسی طرح، اسلامی قانون کے تصور کے تحت بچپن کی شادی سے منسلک ہونے والے نقصانات یا برائی کے ذرائع کو روکنا، جسے "سدِ ذرائع" کہا جاتا ہے۔
سدِ ذرائع (ذرائع کو روکنا) یعنی نقصان کا باعث بننے والے ذرائع کو بند کرنے کے اصول کے مطابق، ریاست قانون سازی کے ذریعے اقدامات کر سکتی ہے اور اس شخص یا افراد کے اس زمرے کے تحفظ کے لیے کسی عمل کو انجام دینے کی کچھ کم از کم حدود مقرر کر سکتی ہے۔ ریاست کی طرف سے اٹھائے گئے ایسے اقدامات "مصالحِ مرسلہ" یعنی مفادِ عامہ (عوامی فائدے) پر غور کے زمرے میں آتے ہیں۔

*عدالتی فیصلہ (نقطہ 8 اور9) ، پر تبصرہ*
فیصلہ 2023 کا صفحہ12 تا 17، پوائنٹ نمبر 8 اور 9 پر راقم کا تبصرہ پیش خدمت ہے۔یاد رہے کہ 2023 کے فیصلہ میں نقطہ نمبر 8 کے تحت، سابقہ فیصلہ 2021 کے 5 نقاط (8،9،10، 11 اور 12) کو نقل کیا گیا ہے۔

*پہلی بات: نابالغہ کا نکاح اور ولی کا اختیار*
اگرچہ چند فقہا بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ اسلام میں نابالغ لڑکی کا نکاح جائز نہیں ہے۔ لیکن اولا یہ رائے صرف چند فقھاء کی ہے۔ ثانیا علمی اعتبار سے بھی یہ رائے کمزور ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فیصلہ میں دو فقھاء کا قول ذکر کر کے نابالغہ کی نکاح پر قدغن لگانے کی بات کی گئی۔ جبکہ دوسری طرف بلوغ پر نکاح کے بارے میں سب فقھاء متفق ہیں ۔لیکن اس اتفاق کے باوجود فیصلہ میں فقھاء کی اس رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا، بلکہ اکیسویں صدی میں ایک نئے معیار"ازدواجی رشد " کے متعارف کروایا گیا۔
0۔نابالغ کے نکاح کے حوالے سے تو اسلامی نظریاتی کونسل نے( اجلاس نمبر 242،مئورخہ 27/مئی 2025ء) ، نقطہ 9 میں یہ لکھا ہے:"ولی (والد وغیرہ ) کو شریعت نے بچوں کے نکاح کرانے کی ولایت اور اس کا اختیار دیا ہے ،تاہم جب بچے بالغ ہوجاتے ہیں ،تو اس وقت ان کو خیار بلوغ کا حق حاصل ہوتا ہے ،جس کے تحت وہ ولی کے کرائے گئے نکاح کو ختم کر سکتے ہیں ۔بچوں کو خیار بلوغ کا حق شریعت نے عطا کیا ہے ۔لیکن کسی قانون سازی کے ذریعے حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ولی کے اختیار ولایت کو بالکلیہ ختم کردے ۔"
0۔ "خیار بلوغ "اور "بلوغ کے بعد رخصتی" جیسے ضابطوں کی موجودگی میں نابالغ کے نکاح کوشریعت، حکیمانہ حفاظت دیتی ہے۔
اگر نابالغہ کے نکاح کی اجازت کا کہیں غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ "خیار بلوغ "اور "بلوغ کے بعد رخصتی" جیسے ضابطوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ تو اس مخصوص معاملے کی اور مخصوص لوگوں کی روک تھام ہونی چاہئے۔ لیکن کلی طور پر ولی کی ولایت کے اختیار کو ختم کر دینا یہ محل نظر ہے۔ بالغوں کو بھی نکاح سے روک دینا اور 18 برس کی شرط عائد کر دینا، یہ حیران کن ہے۔ ایک اور پہلو بھی دیکھئے کہ 18 سال کی عمر میں لڑکی قانونی طور پر خود مختار ہو گی، چاہے تو عدالت میں جا کر ولی کی اجازت بغیر نکاح کر لے۔

*دوسری بات: فرض تعلیم(علم) سے کیا مراد ہے ؟*
0۔ پہلی بات یہ کہ فیصلہ میں بیان کردہ حدیث بخاری میں دستیاب نہیں ہوئی۔ بلکہ یہ صحيح الجامع الصغير وزيادته میں ہے، متن درج ذیل ہے: طلبُ العلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلمٍ ، وإِنَّ طالبَ العلمِ يستغفِرُ له كلُّ شيءٍ ، حتى الحيتانِ في البحرِ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور طالبِ علم کے لیے ہر چیز مغفرت (بخشش) کی دعا کرتی ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔"صحيح الجامع الصغير وزيادته: 3914، صحيح ، الألباني ( أخرجه ابن ماجه: 224 )
0۔ہر مسلمان پر جس علم کا سیکھنا فرض ہے، وہ علم ،"فرض عین" ہے۔ جیسے کہ بطور مسلمان توحید و رسالت ،فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب۔ وضو، غسل، اور نماز وغیرہ کے احکام ۔۔ ان کا بنیادی علم ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
0۔نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری میں یہ ہے کہ وہ تلاوت آیات کریں، لوگوں کو پاک کریں، کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ سورۃ آل عمران ، آیت: 164 گویا کتاب و حکمت (سنت) سے مراد علم ہےاور علم کے ساتھ پاکیزگی (دل و جسم)ضروری ہے۔ مقاصد شریعت میں یہی تزکیہ (پاکیزگی) حفظ دین ، حفظ عقل اور،حفظ نسل میں جھلکتی ہے۔
0۔ سورۃ البقرۃ ، آیت: 120 میں وحی (قرآن و حدیث) کو علم کہا گیا۔ اگر حدیث میں علم کوفرض قرار دیا گیا تو قرآن مجید میں۔۔۔ جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۔۔۔ سے وضاحت بھی ہوئی کہ وحی (قرآن حدیث) وہ"علم" ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔اوراسی کا سیکھنا مسلمان پر فرض ہے۔
0۔ دنیوی علوم کا حصول مباحات میں سے ہے۔ جیسے طب (میڈیکل)، معاشیات (اکنامکس)، اور انجینئرنگ وغیرہ، تو ان کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں کچھ لوگوں کا ان کا علم حاصل کر لینا ہی کافی ہے۔ علم کی ہر قسم (شاخ) کا تعلیم کوئی انسان بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ کوئی فرد بیک وقت انجینئیر ، ڈاکٹر، وکیل، سائنس دان وغیرہ نہیں بن سکتا ۔
ہنر سیکھنا ،بھی دنیوی علم ہی ایک قسم ہے۔ معاشرے کو کسان، مزدور، پورٹر (قلی)، پلمبر، الیکٹریشن ، مستری، بڑھئ، لوہار، سنار ، باورچی وغیرہ کی بھی ضرورت ہے۔

*تیسری بات: خواتین کی تعلیم اور امام بخاری کی تبویب*
0۔فیصلہ میں المعجم الکبیر للطبرانی کے حوالے سے ذکر کردہ حدیث کمزور اور ضعیف ہے۔ ابن حجر نے درج ذیل الفاظ کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ لکھتے ہیں: وشاهده حديث ابن مسعود رفعه من كانت له ابنة فأدبها وأحسن أدبها وعلمها فأحسن تعليمها وأوسع عليها من نعمة الله التي أوسع عليه أخرجه الطبراني بسند واه .( 10/441 ، فتح الباری، بَابُ رَحْمَةِ الوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ)

0۔ امام بخاری باب بَابُ عِظَةِ الإِمَامِ النِّسَاءَ وَتَعْلِيمِهِنَّ کے تحت جو حدیث بیان کی ہے، وہ فیصلہ میں ذکر نہیں ہے۔ ہم وہ حدیث ذکر کرتے ہیں تاکہ وضاحت ہو سکے ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عید کے دن مردوں کی صف سے عورتوں کی جانب) نکلے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ کو خیال ہوا کہ شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی، اس لیے آپ نے انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ و خیرات دینے کا حکم دیا، تو کوئی عورت اپنی بالی اور کوئی اپنی انگوٹھی ڈالنے لگی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ (ان زیورات کو) اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔صحیح بخاری: 98 ، 975
فوائد حدیث: عید کی نماز کے لیے عورتوں کا آنا۔ امام کا عورتوں کو نصیحت اور تعلیم دینا۔ عید کے موقع پر تعلیم دینا۔ خطبہ عیدمیں تعلیم دینا۔ تعلیم کے ساتھ عمل (صدقہ) کی ترغیب دینا اور صدقہ جمع کرنا۔ عورتوں کو علم (وحی) کی تعلیم حاصل کرنا اور علم کے بعد عمل کرنا۔
0۔اس تبویب اورحدیث کے مطابق اگر بچیاں اورخواتین باقاعدگی سے خطبہ جمعہ اور خطبہ عیدین کے لیے جائیں گی تو یہ ان کی تعلیم کا اہم ذریعہ ہے۔

*چوتھی بات: تعلیم اور عمر*
0۔علم شرعی کے لیے تو عمر کی قید نہیں۔ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ چھ یا سات سال کی عمر تک اتنا قرآن مجید سیکھ چکے تھے کہ وہ نماز میں قو م کی امامت کروایا کرتے تھے۔ صحیح بخاری:4302
0۔یورپ کےکئی ممالک میں والدین یا عدالت کی اجازت سے 16 سال کی عمر میں بھی شادی کی اجازت دی جاتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں بلا نکاح رضامندی کی عمر 14 سے 16 سال ہے۔ سوال یہ ہے کہ یورپ میں 18 برس سے کم عمر کی ، تعلیم کا حرج کا معاملہ کیوں نہیں ہے ؟
0۔پڑھنا ،لکھنا سیکھ لیا۔خواندگی کی سطح ہو گئی ۔ پرائمری یا مڈل کر لی تو بنیادی تعلیم کی پہلی منزل بھی ہو گئی۔ فیصلہ میں بنیادی تعلیم پر زور دیا گیا اور Basic Education کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دور حاضر میں Primary Education بھی یہ مفہوم دیتا ہے جبکہ پرائمری کے بعد کی تعلیم کے لیےSecondary Education کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ پرائمری ایجوکیشن 10 سے 11 برس تک حاصل ہو جاتی ہے۔ پرائمری کے بعد کسی نے دوسری سطح کی تعلیم حاصل کرنی ہے۔تو وہ شادی کے بعد بھی تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ بلکہ وطن عزیز میں بھی بہت لوگ ایسے ہیں جو تعلیم ،ڈگری یا پروفیشن کو ترجیح دیتے ہیں اور شادی اپنی مرضی اور حالات کے مطابق 20 بلکہ 25 سال یا اس کے بھی بعد کرتے ہیں۔
0۔اٹھارہ 18 سال تک نوجوان کو شادی سے روکا جا رہا ہے۔ کہ و ہ تعلیم حاصل کرے۔ لیکن کیا وہ واقعی تعلیم حاصل کرے گا، اس کو یقینی بنانے کے لیے کیا فیصلہ میں کیا عملی لائحہ عمل ہے ؟ شاید کوئی بھی نہیں۔تو جب لائحہ عمل بھی نہیں تو تعلیم کے نام پر ایسی پابندی کو حقیقی مصلحت عامہ نہیں کہا جا سکتا !
0۔وطن عزیز میں آزادی کے پچھتر سال گزرنے کے بعد بھی 67 فی صد آبادی میٹرک سے کم تعلیم رکھتی ہے۔1
0۔ تعلیم کے نام پر 18 برس سے قبل نکاح پرپابندی سے بہتر ہے کہ نوجوانوں کو ترغیبی آفر دی جائے۔ مثلا یہ پرکشش آفر یہ ہو سکتی ہے کہ جو شادی سے پہلے یا شادی کے بعد میٹرک پاس کر لے تو حکومت اس کو پچاس ہزار روپے دے گی۔
0۔جہاں اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ بچہ سکول سے باہر ہو۔( 2)۔جہاں 45 فی صد غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہو (3)وہاں تعلیم کے نام پر یہ خواب ہیں۔
0۔وطن عزیز میں حالیہ خواندگی کی شرح تقریبا 62 فی صد ہے۔ 4۔

*پانچویں بات: حفظ عقل اور تعلیم*
یاد رہے کہ مقاصد شریعت کو مراتب (درجات) میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔: ضروریات ، حاجات ، اور تحسینیات ۔
حفظ عقل پر یہ تین مراتب پرمنطبق کئے جائیں تو عقل کی ایسی بنیادی حفاظت جس کے بغیر انسان کا وجود، اس کی انسانیت اور اس کا شرعی مکلف (ذمہ دار) ہونا ہی ختم ہو جائے۔ اگر یہ ضروری درجہ باقی نہ رہے تو معاشرہ پاگلوں اور حیوانوں کی بستی بن جائے۔
اس مرتبے پر شریعت نے عقل کو براہِ راست نقصان پہنچانے والی چیزوں کو قطعی حرام قرار دیا ہے۔ مثلا: شراب، ہیروئن، آئس، چرس اور ہر قسم کے نشے کی سخت ممانعت۔ نشہ کرنے والے پر "حدِ شربِ خمر" (شرعی سزا) کا نفاذ تاکہ عقل کا یہ تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
جادو، توہم پرستی ،ایسی غیب دانی ، علم نجوم جیسے امور سے منع کر دیا۔ ۔۔۔ جو انسان کی سوچ کو مفلوج کر دیں۔ہر مسلمان پر بنیادی شرعی علم کا حصول فرض کیا، تاکہ عقل کی باگ دوڈ جہالت کے ہاتھ میں نہ ہو۔
عدالتی فیصلہ میں ذکر کردہ" ابتدائی برسوں کی رسمی تعلیم "کو زیادہ سے زیادہ حاجاتی اور بلکہ زیادہ درست یہ ہے کہ تحسینی درجہ میں رکھنا چاہئے، کیونکہ یہ تعلیم بھی مباحات کے درجہ میں ہے۔ رسمی اور عصری تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن جس انداز سے اس تعلیم کو حفظ عقل سے، اورنکاح سے اور 18 برس سے منسلک کیا جا رہا ہے وہ محل نظر ہے۔

*چھٹی بات: کیا نکاح مباح ہے ؟*
0۔اگرچہ بعض علماء نے نکاح واجب کہا ہے ۔سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے التَّبَتُّلَ یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا تھا ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہو جاتے ۔ صحیح بخاری: 5073
0۔ حدیث ہے:جب بندہ شادی کر لیتا ہے تو وہ اپنا آدھا دین مکمل کر لیتا ہے، پس اسے چاہیے کہ باقی ماندہ (آدھے دین) میں اللہ سے ڈرے۔" السلسلة الصحيحة: 625، حسن لغيره، الألباني
0۔ لیکن علماء کی اکثریت نے دیگر دلائل کی بنا پر نکاح کو مستحب قرار دیا ہے۔ البتہ نکاح کو مباح قرار دینا محل نظر ہے۔
0۔ یہ باور کروانا کہ نکاح مباح ہے اور غیر لازمی ہے، تو شاید شریعت میں اس کی اہمیت اور اس کے احکام کی حیثیت معمولی ہے۔ یہ سوچ درست نہیں۔
0۔مثال: کھانا پینا اگرچہ مباح ،لیکن مردار کھانا حرام ہے۔
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ۔ ۔ ۔ سورۃ المآئدۃ، آیت:3
مثال: نکاح اگرچہ مباح ہے، لیکن ماں، بیٹی، بہن ، پھپھو، خالہ وغیرہ سے نکاح حرام ہے۔
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ ۔ ۔ ۔ سورۃ النسآء، آیت:23
کیا مباح کےان پہلوؤں کو قانون سےمعطل اور مقید کیا جا سکتا ہے؟ یقینا،نہیں۔
0۔ایک اور انداز میں دیکھئے: عدالتی فیصلہ میں نکاح کو مباح قرار دیا جارہا ہے ،لیکن "مالی رشد" کی طرز پر"ازدواجی رشد" کو necessary ضروری قرار دیا جارہا ہے۔ یعنی نکاح مباح (غیر لازمی)اور جبکہ نکاح کا ذیلی تقاضا، استظاعت ضروری (لازمی) ہے۔
اسی طرح فیصلہ مباح نکاح کے ذیلی تقاضوں مالی استطاعت، صحت اور ذہنی پختگی کو بھی necessary ضروری قرار دیا گیا ہے۔
0۔غور کیجئے،نکاح کو اگرچہ بعض نے "تکلیف شرعی" میں مباح کہا ہے لیکن کیا قانون اس مباح پر پابندی لگا سکتا ہے، نہیں ۔ ۔ ۔ یہ مباح اتنا ضروری ہے کہ اگر قانون اس مباح پر پابندی لگائے گا تو حفظ نسل کا " مقصد شریعت" ہی مکمل تباہ ہو جائے گا۔
0۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔اور بیوی سے تعلق قائم کرنے میں صدقہ ہے۔‘‘ صحابہ کرام ﷺ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بتاؤ اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔‘‘ صحیح مسلم:1006 (2329)

*ساتویں بات: مباح کی تقیید (حد بندی)*
0۔مباح کو جائز اور حلال بھی کہا جاتا ہے۔
دلیل: ﴿ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ﴾ البقرة: 187
0۔مباح کی دو قسمیں ہیں۔
اباحت شرعی: جو نص کے ساتھ مباح ہو۔
مثال :﴿ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ﴾ البقرة: 187
اباحت عام(اباحت عقلی): جو براءت اصلی کے ذریعہ مباح ہو۔ بعض نے کہا جو عموم نص کے ذریعہ مباح ہو۔
دلیل:﴿ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ﴾ [البقرة: 29].
علماء نے لکھا ہے کہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ اباحت شرعی (اجازت) کو ختم کرنے کو 'نسخ' کہا جاتا ہے؛ کیونکہ یہ ایک شرعی حکم ہے۔ جبکہ اباحت عقلی کو ختم کرنا 'نسخ' شمار نہیں ہوتا۔

تشریع صرف اللہ کا حق ہے
اللہ عزوجل کی ذات ہی حاکم اورشارع ہے۔ تشریع صرف اللہ کا حق ہے۔
0۔قولُه تعالى: شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ۔ ۔ ۔ سورۃ الشوریٰ، آیت 13 ۔ ۔ ۔ وقال البَغَويُّ: قَولُه عَزَّ وجَلَّ: شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ بيَّن لكم وسَنَّ لكم

0۔قوله تعالى:إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ} [يوسف: 40].
قوله تعالى في إنكار جعل التشريع لغيره: أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ الشورى: 21

0۔أتيتُ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ وفي عنقي صليبٌ من ذَهبٍ. فقالَ يا عديُّ اطرح عنْكَ هذا الوثَنَ وسمعتُهُ يقرأُ في سورةِ براءةٌ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ قالَ أما إنَّهم لم يَكونوا يعبدونَهم ولَكنَّهم كانوا إذا أحلُّوا لَهم شيئًا استحلُّوهُ وإذا حرَّموا عليْهم شيئًا حرَّموه ۔ الراوي : عدي بن حاتم الطائي ، الترمذي: 3095، حسن، الألباني

0۔الشَّارِعَ وَضَعَ الشَّرَائِعَ، وَأَلْزَمَ الْخَلْقَ الْجَرْيَ عَلَى سُنَنِهَا، وَصَارَ هُوَ الْمُنْفَرِدَ بِذَلِكَ، لِأَنَّهُ حَكَمَ بَيْنَ الْخَلْقِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، وَإِلَّا فَلَوْ كَانَ التَّشْرِيعُ مِنْ مُدْرَكَاتِ الْخَلْقِ لَمْ تُنَزَّلِ الشَّرَائِعُ، وَلَمْ يَبْقَ الْخِلَافُ بَيْنَ النَّاسِ، وَلَا احْتِيجَ إِلَى بَعْثِ الرُّسُلِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ. ص66، الجزء الاول - كتاب الاعتصام للشاطبي ت الهلالي -

0۔اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ سورۃ التحریم ، آیت: 1
مشہور واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پیا ہے ، اب دوبارہ نہیں پیوں گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔۔ صحیح بخاری: 5267۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس کی قسم اٹھا لی ہے۔۔ صحیح بخاری: 4912
احادیث سے ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کو امت کے لیے حرام قرار نہیں دیا تھا، بلکہ صرف خود اسے نہ پینے کی قسم کھائی تھی۔ کھانا پینا مباح امور میں سے ہے اور شہد پینا بھی مباحات میں سے ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین نے تنبیہ کر دی۔

"اباحت شرعی" سے متعلق ضوابط
اگر اباحت شرعی (جائز) معاملے پر لگائی گئی تقیید (حد بندی) عام حکم کی شکل اختیار کر لے، اور مخصوص (وقت) یا اضطراری حالت کے ساتھ خاص نہ ہو—تو ایسا تصرف عام اور مستقل قانون سازی' (التشريع العام) کے قبیل سے ہو جائے گا، اور یہ انسانوں کے دائرہ اختیار (صلاحیت) میں نہیں ہے۔ضروری ہے کہ یہ تقیید (حد بندی) اسی مخصوص حالت کے ساتھ جڑی ہو؛ اس حالت کے وجود میں آنے سے وجود میں آئے اور اس کے زوال سے ختم ہو جائے۔
علاوہ ازیں اباحت شرعی (معاملے) میں تقیید یا پابندی لگانے یا لازم کرنے پر دو شرطیں عائد ہوتی ہیں جن کا پورا ہونا ضروری ہے:
پہلی شرط: حالت اضطرار (مجبوری) کی صورتحال حقیقی ہو، خود ساختہ یا مصنوعی یا وہمی نہ ہو۔ چنانچہ پابندی یا لزوم کے جواز کا فتویٰ دینے سے پہلے مفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سامنے پیش کردہ صورتحال کی سچائی اور حقیقت کی اچھی طرح تصدیق کر لے، خاص طور پر اس وقت جب حکمران (ولی الامر) اس کے ذریعے لوگوں کو کسی چیز کا پابند کرنے والا ہو۔

اس کی ایک (تاریخی) مثال الشیخ عز الدین بن عبد السلام رحمہ اللہ کا واقعہ ہے۔ جب حاکم نے تاتاریوں کے خلاف جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے لوگوں پر ان کے اموال کی زکوٰۃ کے علاوہ مزید ٹیکس (ضرائب) لگانا کا ارادہ ظاہرکیا۔ تو الشیخ نے کہا
کہ تم زکاۃ کے علاوہ رعایا سے مال (ٹیکس کی صورت میں) لے سکتے ہوجس سے تم اپنے جہاد میں مدد حاصل کر سکو، اور سامان جنگ کی تیاری میں مدد حاصل کی جائے ،لیکن دو شرطوں کے ساتھ:
پہلی شرط: یہ کہ بیت المال میں کچھ باقی نہ بچا ہو۔ پس جب ریاست کے تمام اموال ختم ہو جائیں اور فوج کی تیاری میں خرچ ہو جائیں، تو صرف اسی قدر ٹیکس لگانا جائز ہے جس سے فوج کی تیاری ممکن ہو سکے، اس سے زیادہ نہیں۔
دوسری شرط: یہ کہ تم اپنی (ذاتی) املاک اور ساز و سامان کو بیچ دو، اور تم میں سے ہر شخص صرف اپنے گھوڑے اور ہتھیار پر ہی اکتفا کرے، اور تم اور عام لوگ اس معاملے میں برابر ہو جاؤ۔ لیکن عام لوگوں سے مال لینا جبکہ امراء کے پاس اموال باقی ہو، تو یہ ہرگز جائز نہیں ہے۔
ص:11، الجزء التاسع ، (قرار الجهاد ، تجهيز الجيش لقتال التتار ،فتوى الشيخ العز بن عبد السلام حول اقتراح قطز بفرض الضرائب على الشعب) كتاب التتار من البداية إلى عين جالوت، راغب السرجاني۔
و ایضا: ص:72-73، الجزء السابع ، (ما وقع من الحوادث سنة ٦٥٧ ، ذكر سلطنة الملك المظفر قطز على مصر) ، كتاب النجوم الزاهرة فى ملوك مصر والقاهرة ، [ابن تغري بردي]
گویا زمینی اور حقیقی حالات کا جائزہ لے کر ، متبادل حل کا جائزہ لے کر ، مصلحت عامہ کے پیش نظر،وقتی صورت حال کے لیے وقتی حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔
دوسری شرط: یہ کہ اس تقیید( پابندی یا لزومیا حد بندی) کے علاوہ مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کا دوسرا حل موجود نہ ہو۔ اگر متبادل حل موجود ہو، تو اس پابندی کا سہارا لینا جائز نہیں ہوگا۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ وہ جواز ہی مفقود (ختم) ہو جائے گا ۔
نیز (اگر دوسرے حل کی موجودگی میں بھی پابندی لگائی گئی) تو یہ عمل تشریع کے دائرے میں داخل ہو جائے گا، اور اس وقت پیش کردہ عارضی صورتحال محض ایک مستقل قانون سازی پیدا کرنے کا بہانہ بن جائے گی۔

"اباحت عام(اباحت عقلی)"سے متعلق ضوابط
عام دنیاوی معاملات میں اصل (بنیادی حکم) اباحت (یعنی جائز ہونا) ہے۔ چنانچہ انسان کے لیے مباح ہے کہ وہ کرائے کے گھر میں رہے، اس کے لیے یہ بھی مباح ہے کہ وہ کسی گھر کا مالک بن جائے، اس کے لیے یہ بھی مباح ہے کہ اس کا گھر ایک منزلہ ہو یا متعدد منزلوں پر مشتمل ہو، اور اس کے لیے یہ بھی مباح ہے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پیدل چل کر جائے، یا سوار ہو کر جائے، اور اسی طرح کے دیگر معاملات۔
0۔ انسان کو اجازت ہے کہ وہ اپنی پسند سےنقل و حمل اور سفر کا ذریعہ اختیار کرے۔لیکن ذرائع نقل و حمل میں تیز رفتار ترقی اور اس کے نتیجے میں عوام کو پہنچنے والے نقصان دہ حادثات کے پیشِ نظر، حاکم وقت (ولی الامر) کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پر کچھ ایسی پابندیاں عائد کرے جن کی پابندی کرنے سے مفادِ عامہ کا حصول ممکن ہو۔ مثلاً زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد مقرر کرنا جو سڑک کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہو، اور پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص راستے مختص کرنا وغیرہ۔
0۔اس قسم (کے معاملات) میں ضروری ہے کہ یہ تقیید (پابندی) یا لازم کرنا کسی ایسی حقیقی اور مصلحت عامہ کو پورا کرنے کے لیے ہو جو وہمی مصلحت نہ ہو، اور نہ ہی وہ کچھ لوگوں کی کوئی ایسی مخصوص مصلحت ہو جو دوسروں کے لیے نقصان دہ ہو۔ کیونکہ عام طور پر کسی بھی اقدام یا تصرف میں کچھ نہ کچھ فائدہ تو ہوتا ہی ہے۔قاعدہ یہ ہے کہ : أن تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة 'عوام (رعایا) کے معاملات میں حکمران (امام) کا تصرف اور فیصلہ مصلحت کے ساتھ مشروط ہے'۔ چنانچہ اپنے تصرف اور فیصلے میں حکمران کا مصلحت عامہ کا لحاظ رکھنا ہی حاکم کے تصرف کو جائز بناتا ہے۔
0۔الشیخ تقی الدین السبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سلطان (حاکم) یا اس کے نائب پر، جو اس معاملے کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے، یہ واجب ہے کہ وہ عام مسلمانوں کی مصلحت، اس مقامی مصلحت اور آخرت کے فائدوں کو اپنے پیشِ نظر رکھے، اور اخروی مصلحتوں کو دنیوی مصلحتوں پر ترجیح دے۔ سوائے ان ناگزیر دنیوی مصلحتوں کے جن کے بغیر چارہ نہ ہو، اور جو لوگوں کے دین کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہوں۔
اور جب تک کسی متفق علیہ فیصلے پر عمل ممکن ہو ، تو اختلافی معاملے کی طرف رجوع نہ کیا جائے مگر بقدرضرورت ۔ پس جب سلطان (حاکم)کے نزدیک واضح ترجیحی مصلحت ثابت ہو جائے، تو وہ اس (اختلافی حکم) سے روک دے۔ اور جب اس کے سامنے دونوں باتیں (مصلحہ اور مفسدہ)برابر ہو جائیں یا معاملہ مشتبہ (مبہم) ہو جائے، تو اسے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ رک جانا چاہیے یہاں تک کہ بات اس پر واضح ہو جائے۔
اسی طرح، جب کوئی معاملہ (حکم) پہلے سےمستقل طور پر جاری ہو، تو وہ کسی کو بھی اس حکم کو بدلنے کی اجازت نہ دے جب تک کہ ایسی وجہ واضح نہ ہو جائے جو اس تبدیلی کو جائز بناتی ہو۔ اور جب معاملہ عبادات کا ہو، تو وہ (سلطان) ان کی تکمیل، ان کے تسلسل، ان کے جاری رہنے اور ان میں کسی بھی قسم کی نئی بدعت پیدا نہ ہونے دینے کا پورا حریص (خواہشمند) ہو، اور عبادات کی اجتماعی ہیئت کو اسی حالت پر برقرار رکھے جس پر وہ قائم ہیں۔فتاوى السبكي 1/185

*آٹھویں بات: حفظ النسل ، حفظ نفس اور سد ذرائع*
0۔فیصلہ میں دو مقاصد حفظ النسل اور حفظ نفس کا بھی ذکر کیا گیا ہے ، لیکن وضاحت نہیں کی گئی کہ کہ بلوغ کے بعد نکاح سے یہ دونوں مقصد کیسے متاثر ہو تے ہیں۔
0۔سد ذرائع ، تشریع کے ثانوی ماخذ میں سے ہے ۔ زیر بحث معاملہ میں نکاح کی عمر 18 برس کرنا، بنیادی مصدر قرآن مجید کی نص إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ کے خلاف ہے۔ اور حدیث ثلاثةٌ يا عليُّ لا تُؤَخِّرْهُنَّ کے بھی خلاف ہے۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ لا مساغ للاجتهاد في مورد النص۔
0۔فیصلہ میں بچپن کی شادی کا ذکر کیا گیا ہے۔ بچپن کی شادی سے مراد اگر نابالغہ کی رخصتی ہے تو اس پر ہم اوپر تبصرہ کر چکے ہیں، کہ اگر نابالغہ کے نکاح کی اجازت کا کہیں غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ "خیار بلوغ "اور "بلوغ کے بعد رخصتی" جیسے ضابطوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ تو اس متعلقہ معاملے کی اور متعلقہ لوگوں کی روک تھام ہونی چاہئے۔ ان چند لوگوں پر گرفت کرنا معقول بھی ہے اور ممکن بھی ہے ۔جبکہ اس کی بجائے نئی قانون سازی کر کےعوام پر عمومی پر پابندی عائد کرنا درست نہیں۔
0۔ یورپ اور امریکہ نے 14 برس کے بالغوں کی جنسی خواہش کو معقول سمجھا ہے ، لیکن بلا نکاح رضامندی کا طریقہ اختیار کیا ، جو درست طریقہ نہیں۔ یہاں بالغوں کی خواہش کو معقول تصور ہی نہیں کیا جا رہا اور 18 برس کی قید عائد کی جار ہی ہے۔
0۔سد ذرائع کی غلط تطبیق (مثال1): انگور کی کاشت کرنا جائز ہے۔ اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ کوئی شخص ان انگوروں
سے شراب بنا لے۔ لیکن محض اس خدشہ بنیاد پر انگور کی کاشت پر پابندی لگانا سدِ ذرائع کا غلط اور ناجائز اطلاق ہے۔
سد ذرائع کی غلط تطبیق (مثال2):اگر قانون، سدِ ذرائع کے نام پر شادی کی عمر کے لیے بلوغ کی بجائے مزید بڑھا دے، تو
معاشرے میں زنا اور بے راہ روی کے راستے کھل جائیں گے، اوریہ اطلاق درست نہ ہو گا۔
0۔جہاں تک مصلحتِ مرسلہ (المصالح المرسلہ) کا تعلق ہے تو اس کی صحت اور درستی جانچنے کے لیے بھی علماء نے شرائط بیان کی ہیں۔مصلحتِ مرسلہ کے درست ہونے اور اسے "غلط یا مسترد مصلحت" (المصلحة الملغاة) سے الگ کرنے کے لیے لازمی ہے کہ
1۔مصلحت "ضروری" ہو ۔یعنی شریعت کے پانچ بنیادی مقاصد (مقاصدِ خمسہ) میں سے کسی ایک کا تحفظ کرتی ہو۔
2۔مصلحت محض وہمی، خیالی یا شک پر مبنی نہ ہو، بلکہ یقینی یا قطعی ہو۔
3۔مصلحت پورے معاشرے کے لیے مفید ہو۔
0۔مصلحت مرسلہ کی غلط تطبیق (مثال):شراب کی فروخت اور ہوٹلوں میں اس کی اجازت دینے سے بین الاقوامی سیاحت فروغ پاتی ہے، جس سے ملک کو اربوں ڈالرز کا ریونیو (ٹیکس) حاصل ہوتا ہے جو عوامی فلاح پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی مصلحت ہے لیکن قرآنی نص سے ٹکراتی ہے۔

جاری ہے ۔۔۔

*وضاحت:*
" اٹھارہ سال میں نکاح: اسلام ،قانون اور حقائق" کے عنوان سے زیر تحریر مضمون سے مندرجہ بالا (پانچواں) اقتباس پیش خدمت ہے۔

*حوالہ جات:*

1.https://gallup.com.pk/post/39440 (06 June 2026, 14:00)
2.https://www.dawn.com/news/1978857 (26 May 2026, 14:15)
3.https://www.dawn.com/news/1915759 (18 May 2026, 09:48)
4.https://www.mofept.gov.pk/ProjectDetail/NjQ4ZTg2NjItOWM2NC00Y2IxLTkzMDgtMjU2OTFhMjA4NzNh (06 June 2026, 14:01)

Want your school to be the top-listed School/college in Bahawalnagar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Bahawalnagar