30/04/2024
حادثہ کے منتظر ادارے ۔۔میرے پڑوس بلکہ ایک عزیز کے شیلٹر کے عقب میں بمقام رنگ روڈ کہنہ موہری سڑک ایک عرصہ سے پیٹ نکالے یعنی دراڑیں پڑی سیلٹر کی طرف سرک رہی تھی مالک دفتر کے چکر کاٹتا رہا محکمہ کے مجاز آفیسران سے رجوع در رجوع کی مشق ستم جاری رہی مگر شنوائی نا ھو سکی اور ھونی بھی نہیں تھی چونکہ ھم نے بطور معاشرہ بطور آفیسر یہ طے کر لیا ھے کہ کس کی سننی ھے اور کس کو فقط کل اور پرسوں کے داہرے میں گھما کر اتنا بے زار کر دینا ھے کہ وہ مشکل سے یوں شناس ھو کہ بول پڑے مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ھو گی ، شکر خدا کا کہ یہ شیلٹر غیر آباد تھا چند ماہ قبل تک ایک فیملی اس میں آباد تھی جو بوجہ ہجرت نقل مکانی کر گی وگرنہ حادثہ کے منتظر ادارے فوٹو سیشن بیوہ و بچوں کے سر پہ ہاتھ رکھے خوب داد وصول کر رہے ھوتے اور عوام عظیم آفیسر بہترین انتظامیہ اور دبنگ تھانیدار کی گردان پوسٹ کے نیچے لکھ لکھ غائبانہ نماز جنازہ طرز خوشامد کا چورن خوب بیچ رہی ھوتی ہمیں حادثہ کے تدارک سے زیادہ حادثہ کی رپوٹنگ سے غرض ھے ھم تھرل چاہتے ہیں ھم اس مہاراج کی ماند ہیں جس نے ایک بار محل کی بالکنی سے پہاڑ سے ہاتھی گرتے دیکھا اور اس منظر سے یوں لطف اندوز ھوا کہ اذاں بعد فوجی لگا کر پہاڑ سے ہاتھی نیچے گراتا اور اس خوفناک سے خوب لطف اثھاتا ھم وہ ہجوم ہیں کہ جہاں تلخ کلامی شروع ھو کھڑے ھو جاتے ہیں کہ کب دونوں پارٹیاں گھتم گھتا ھوں اور ھم شوٹنگ سے متاثر ھوں خیر ھم بطور معاشرہ بطور ادارہ حادثہ کے منتظر ہیں سوچیے گا آپ بھی اس ٹوٹے پھوٹے شیلٹر کی تصویر سے لطف لیجیے گر ویڈیو بن جاتی تو لطف دوبالا ھو جاتا
30/10/2016
09/10/2015
26/09/2015
30/08/2014
25/06/2014
24/04/2014
22/04/2014
19/04/2014
19/04/2014