Jammu Kashmir National Students Federation Italy
platform for friends in italy
Ciao a tutti! 🌟 Potete sostenermi inviandomi stelle - le stelle mi aiutano a guadagnare denaro per continuare a creare i contenuti che amate.
Ogni volta che vedete l'icona di Stars, significa che potete inviarmi stelle!
٭ سب سے پہلے مظفرآباد ۔ گوجرہ میں عوام کے لئے سٹیڈیم بنا جس پر فوج نے دفاع کے نام پر قبضہ کیا ۔
٭ پلیٹ میں گراونڈ تھا فوجیوں نے قبضہ کیا اور فورفیلڈ بنا ۔
٭ زلزلہ میں پولڑی فارم پلیٹ کی جگہ ہسپتال بنا پھر فوجیوں نے قبضہ کیا ۔
* دومیل پل کے نیچے پارک ایم ڈی اے نے بنایا وہ ملٹری نے اپنی فیملی پارک بنا دیا.
* منظور گیلانی صاحب کے گھر کے ساتھ میونسپل کارپوریشن کا گراونڈ ملٹری نے اپنی فیملیز کی واک کییلیے مختص کرتے ہوئے بند کر دیا یاد رہے اس گراونڈ میں سہیلی سرکار کا میلہ بھی لگا کرتا تھا.
* اس گراونڈ کے ساتھ وہاں ہی ایک چھوٹا گراونڈ تھا اس پر ملٹری نے سی ایس ڈی بنا دی
* نیلم پبلک سکول کا گراونڈ بھی آرمی نے چاردیواری لگا کر بند کر لیا اور اب گوجرہ میں جنازے روڈ پر پڑھاے جاتے ہیں.
* عسکری بینک کے سامنے 400 کنال رقبہ جو دریا کے ساتھ تھا کو جانے والی روڈ بند کرکے اس رقبہ کو بھی ملٹری کے بچوں کے لیے گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا گیا.
* آج کل نیلم پارک پارلے اڈے کے ساتھ جہاں دریا پر ملبہ ڈالا جا رہا ہے اور منڈی وغیرہ لگائی جاتی ہے وہاں بھی 70 کنال رقبہ پر ملٹری کہ گاڑیوں کی ورکشاپ بن رہی ہے جہاں سے کل کلاں شاید ملٹری سروس بھی چلے گی.
*آرمی جونیئر کا گراونڈ اور زمین بھی میونسپل کارپوریشن کی ملکیت تھی جس کو بند کرکے روڈ والی طرف 20 دکانیں بھی بنا لی گئی ہیں.
*چہلہ بانڈی میں مقامی لوگوں کیلیے پہلے دریا پر جانے والے رستے بند کیے گے پھر قلعہ پلیٹ کے سامنے والا سارا رقبہ تحویل میں لے لیا گیا وہاں نیچے 3 یا 4 گراونڈََز اور ریت کے بیلے ہیں جہاں گرمیوں میں لوگ جاتے تھے مگر اب دفاع کی خاطر بند ہے.
* اب یونیورسٹی کا رقبہ اور بلڈنگز بھی گئی.
! سی ایم ایچ بھی ان کے پاس
! ماچس فیکٹری بھی ان کے پاس
! پیرچناسی ٹاپ بھی ان کے پاس
! گوجرہ قلعہ ان کے پاس
!ائرپورٹ پر بھی آرمی قبضہ
کوئی نہ پوچھتا ہے نہ کوئی روکتا ہے نہ کسی کو شرم آتی ہے
آواز بنیں اپنے کل کی لڑیں اپنے حق کے لیے
افتخار فیروز: ایک یتیم لڑکے سے آزادکشمیر بھر کے تاجروں کے قائد تک
راولاکوٹ پولیس اسٹیشن میں اقدام قتل کے ایک جعلی مقدمہ میں اپنے چھ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ قید سردار افتخار فیروز آج آزادکشمیر بھر کے تاجروں کے صدر اور تاجروں کے ہر دل عزیز قائدکے طور پر جانا جاتا ہے۔ افتخار فیروز کو راستے سے ہٹانے کےلئے گزشتہ چھ سال میں متعدد حربے اپنائے گئے ہیں، بالآخر افتخار فیروز کی قیادت میں ایک پر امن ریلی پر مسلح حملہ کرکے افتخار فیروز کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی، مسلح لوگوں میں سے اپنی ہی گولی سے ایک شخص زخمی ہوا، افتخار فیروز کو قتل کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو پانے پر اسکے خلاف اقدام قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ قائم کروا کر اسے لمبے عرصے تک جیل بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ مذکورہ منصوبہ پر عملدرآمد کسی حد تک کامیابی سے جاری و ساری ہے۔
افتخارفیروز ہمیشہ سے اتنی طاقتور عوامی حمایت رکھنے والا نہیں تھا۔ نہ ہی اسکا کوئی بہت بڑا خاندانی پس منظر تھا۔ ایک معمولی تاجر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جس کو زمانہ طالبعلمی میں ہی والد کی شفقت سے محروم ہونا پڑا اور زمانے کی سختیاں جھیلنے والد کے چھوٹے سے کاروبار کو سنبھالا دینے تعلیمی کیریئرکو خیرآباد کہتے ہوئے اس نے تجارت کو ہی اپنا مقصد حیات بنا لیا۔
اس وقت راولاکوٹ شہرمیں تاجروں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ انتظامیہ، پولیس ، کارپوریشن سمیت دیگر ادارے تاجروںکی عزت نفس مجروح کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے تھے۔ مالکان دکانداروں کے ساتھ اپنے زرخرید غلاموں کی طرح کا سلوک کرتے تھے۔ چوریاں اور ڈاکے پڑتے تو کوئی تاجروں کا پرسان حال نہ ہوگا۔ اس سب سے بڑھ کر کوئی چار لوگ بھی شہر کی سڑکوں پر نکل کر دکانوں پر پتھر مارتے اور دکانیں بند کروا دیتے تھے، دکانوں کے شیشے توڑنا روز کا معمول تھا ، جس کی وجہ سے تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔
افتخار فیروز ایک کم عمر نوجوان ہونے کے باوجود طالبعلموں کی مقبول ترین انقلابی تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ ہونے کی وجہ سے سیاسی طور پر باشعور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے تاجروں کے حقوق کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ سولہ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد افتخار فیروز انجمن تاجران کے الیکشن ایک بھاری اکثریت سے جیت کر صدر منتخب ہوا۔صدر منتخب ہوتے ہی افتخار فیروز نے تاجروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا، شہر کے تحفظ کو یقینی بنایا اور مالکان کے زیر عتاب آنے والے متعدد تاجروں کے ناصرف نقصان کا ازالہ کروایا بلکہ تاجروں کو باعزت طریقے سے کاروبار کرنے کا راستہ فراہم کیا۔
یہ مشرف دور کے اختتام کا زمانہ تھا۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بائیس گھنٹے تک جا پہنچا تھا۔ کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا تھا۔ مہنگائی اور بیروزگاری نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ افتخار فیروز نے انجمن تاجران راولاکوٹ کا صدر ہونے کی حیثیت سے تاجروں کے حقوق کی بازیابی کےلئے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی کال دی، گرڈ اسٹیشن کی طرف ہزاروں شہریوں اور تاجروں کا جلوس جا رہا تھا جس پر پولیس نے فائرنگ کر دی۔ متعدد لوگ زخمی ہوئے۔ شہر میدان جنگ بن گیا، افتخار فیروز نے کو گرفتار کیا گیا۔ اسکو دبانے اور ڈرانے کا ہر حربہ اپنایا گیا لیکن اس نے جھکنے سے انکار کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ پہلے پونچھ ڈویژن بھر کے تاجروں نے افتخار فیروز کے حق میں شٹر ڈاﺅن کیا اور اسے بلامقابلہ پونچھ ڈویژن کا صدر بنایا۔ پھر آزادکشمیر بھر کے تاجروں نے افتخار فیروز کو مرکزی صدر منتخب کر کے آزادکشمیر بھر کے تاجروں کی قیادت کا فریضہ سونپ دیا۔
اب افتخار فیروز ایک ایسی طاقت بن چکا تھا کہ وہ نہ صرف ریاست کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتا تھا بلکہ نام نہاد سیاسی قبضہ مافیا، مالکان اور شہر کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے والوں کو بھی افتخار فیروز کی صورت ایک خطرے کی گھنٹی بجتی دکھائی دینے لگی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عام لوگوں کو مزارعوں کے درجے پر رکھنے کےلئے تھانے کچہری کا بے جا استعمال کرنے والے ان طاقتور مالکان کے اندھے راج کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ اب ہر شخص انصاف کے حصول، اپنے حق کے دفاع اور عزت نفس کی بحالی کےلئے افتخار فیروز کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ اور وہ مظلوموں کے ساتھی کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ جب افتخار فیروز نے اپنی آئینی مدت پوری ہونے پر راولاکوٹ شہر میں تاجروں کے الیکشن کا اعلان کیا تو پورے پونچھ کے تمام سیاسی قائدین، دائیں و بائیں بازوں کی جماعتیں، قوم پرست و بنیاد پرست قیادتیں ایک ٹیبل پر بیٹھ گئیں اور افتخار فیروز کو الیکشن میں شکست دینے کےلئے راولاکوٹ شہر میں مہم چلانی شروع کر دی ۔ ایک طرف شہر کی ہر طاقت ور کڑی موجود تھی اور دوسری طرف اکیلا افتخار فیروز اور اسکے چند تاجر ساتھی موجود تھے۔ تاجروں کو دھمکیاںدی گئیں، افتخار فیروز کی ذات پر کیچڑ اچھالا گیا۔ اس کے پینل کے امیدوار پر قاتلانہ حملہ کروایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود الیکشن والے دن تاجروں نے اپنے ہر دل عزیز قائد کو پھر ووٹ کی طاقت سے کامیاب کر لیا اور تمام سیاسی قائدین کی سیاست داﺅ پر لگا دی۔
طاقت ور مالکان اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو یہ شکست ناگوار گزری اور انہوں نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور متوازی تنظیم کھڑی کر کے حلف اٹھایا اوراپنی جیت کا دعویٰ بھی کر دیا۔ سیاست سے صحافت تک انکے خوف اور طاقت کے آگے سرنگوں ہو گئے لیکن افتخار فیروز نے پھر جھکنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد افتخار فیروز کو آج سے تین سال قبل دن دیہاڑے قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ سربازار اس پر بندوقیں اور پستول لیکر حملہ کیا گیا۔ تاجروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سب کے باوجود وہ کامیاب نہ ہو پائے۔
افتخار فیروز کو دل کا دورہ پڑنے پر مافیا نے سکھ کا سانس لیا اور شہر میں یہ مہم چلانی شروع کر دی گئی کہ افتخار فیروز انکے خوف سے شہر چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔ لیکن افتخار فیروز لاک ڈاﺅن کے دوران بھی خرابی صحت کے باوجود تاجروں کے حقوق کے تحفظ کےلئے سرگرداں رہا۔ بجلی کے بلات میں فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیکس سمیت دیگر جبری ٹیکسوں، بلدیاتی ٹیکسوں، فوڈ اتھارٹی کے نام کے ٹیکس، لوڈشیڈنگ اور بغیر مالی مدد کے تاجروں کو لاک ڈاﺅن پر مجبور کرنے کی حکومتی پالیسی کے خلاف ایک بار پھر افتخار فیروز نے تاجروں کے حقوق کی بازیابی کےلئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔
افتخار فیروز نے مسائل کے حل کےلئے حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دی تو اگلے ہی دن متوازی قبضہ گروپ نے گرڈ اسٹیشنوں کے گھیراﺅ کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد افتخار فیروز نے خاموشی اختیار کر لی۔ وہ بھی اس لئے کہ شاید انہی کے احتجاج کی وجہ سے تاجروں کو حقوق مل سکیں۔ لیکن انہوں نے احتجاج نہیں کرنا تھا بلکہ ریاست کی سہولت کاری کرنی تھی۔ اس لئے احتجاج والے دن سے چند گھنٹے پہلے رات کے اندھیرے میں وزیر جنگلات سے باغ کے ایک جنگل میں جا کر ملاقات کی گئی اور احتجاج نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد تاجروں کے مجبور کرنے پر افتخار فیروز نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔
افتخار فیروز نے احتجاج کی کال دی تو شہر کے تمام جرائم پیشہ افراد نے تاجروں کو شٹر ڈاﺅن نہ کرنے کےلئے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی شروع کیا گیا ۔ گالم گلوچ اور دھمکیاں سرعام دی جانے لگیں۔ یہ تک اعلان ہوا کہ افتخار فیروز اور اسکے ساتھیوں کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
افتخار فیروز کی ٹیم نے سوشل میڈیا پر ہونے والی اس تمام سرگرمی کے دستاویزی ثبوت انتظامیہ کو دیئے، اناﺅنسمنٹ کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی اس کی بابت بھی آگاہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے تمام شکایات پر کوئی نوٹس نہیں لیا۔ جس سے شرپسند عناصر اور قبضہ گروپ کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔
31اکتوبر کی صبح پورا راولاکوٹ شہر مکمل بند تھا۔ افتخار فیروز اور اسکی ٹیم ابھی گھروں میں موجود تھی کہ قبضہ گروپ نے تاجروں کو دھمکانے اور زبردستی دکانیں کھلوانے کےلئے تمام تر حربے استعمال کئے، انتظامیہ اور پولیس یہ تمام تماشہ دیکھتی رہی۔ گیارہ بجے جب افتخار فیروز کی قیادت میں تاجروں نے بلدیہ اڈہ سے جلوس کی شکل میں شہرکی طرف مارچ شروع کیا تو راستے میں بار بار جلوس کو روک کر افتخار فیروز نے یہ اعلان کیا کہ جو شٹر کھولنا چاہتا ہے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی، اسکے ساتھ کوئی زور زبردستی نہ کرے۔ افتخار فیروز نے بار بار انتظامیہ سے شہر میں شرپسندی کی کوششوں کو روکنے کےلئے کردار ادا کرنیکی بھی اپیل کی لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی ہی رہی۔ جب جلوس نالہ بازار میں پہنچ گیا۔ جلسہ شروع ہو رہا تھا تو جلوس پر مسلح افراد نے متوازی تنظیم کے صدر کی قیادت میں حملہ کر دیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں یہ آوازیں صاف سنائی دیتی ہیں کہ وہ افراد افتخار فیروز کو قتل کرنے کے اعلانات کرتے ہوئے اس تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال ہو رہا تھا۔ ہوائی فائرنگ ہو رہی تھی۔ اسی طرح ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ اسی حملہ آور گروپ کا ایک شخص فائرنگ کرنے کی کوشش میں ایک شخص کی ٹانگ میں گولی مارتا ہے، پھر ہوائی فائر کرتا ہے اور زخمی ساتھی کو اٹھانے کی بجائے موقع سے پیچھے چلا جاتا ہے۔ پستول اپنی کمر کے ساتھ باندھنے کے بعد وہ اپنے زخمی ساتھی کی طرف جاتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود افتخار فیروز کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ اس نے دکان کے اندر گھس کر فائرنگ کی اور زخمی نے اپنی چھاتی اور سر بچانے کےلئے زمین پر لیٹ کر ٹانگیں اوپر کیں جس کی وجہ سے اسکی ٹانگ میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ افتخار فیروز آج تھانے میں اپنے ساتھیوں سمیت قید ہے۔ دل کا مریض ہے، شوگر کا مریض ہے، وہ کوئی سیاسی شخصیت بھی نہیں ہے۔ لیکن متذکرہ بالا تمام تر رووداد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسکو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ صرف اس لئے بنایا جا رہا ہے کہ وہ تاجروں ، مظلوموں اور غریبوں کے حقوق کا محافظ ہے۔ راولاکوٹ سمیت پورے آزادکشمیر کے تاجر افتخار فیروز کے ساتھ ہیں۔ افتخار فیروز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کے ذمہ دار جہاں ریاست اور اسکے ادارے ہونگے ، وہیں اس شہر پر قبضے کی کوشش میں مصروف شکست خوردہ عناصر بھی اتنے ہی ذمہ دار ہونگے۔
افتخار فیروز کل بھی حق پر تھا اور سرخرو تھا۔۔۔آج بھی حق پر ہے اور سرخرو ہے۔۔۔۔افتخار فیروز کل بھی سرخرو ہوگاcopied
شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں، لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کر سکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔
*شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔*
*اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔*
*آپ کی اپنی ایک طاقت ہے، اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔*
*کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں، بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔*
*یاد رکھیں، ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔*
*اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے، خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں۔*
*وقت کا بدترین استعمال، اسے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے۔*
*مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں۔ جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اس کی وجہ سے مر سکتے ہیں۔*
*کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں۔ اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں ۔*
*جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا، ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگار ہو۔*
خُدا کے عطاء کردہ تحفوں، نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں، جو خُدا نے دوسروں کو دیے ہیں۔
خوش رہیں آباد رہیں
مثبت سوچیں خوش رہیں
سوچ بدلیں معاشرہ بدلیں
نوٹ: بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں لہذا متاثرہ فیملی کا نام و مقام سے اجتناب۔
میرپور(رپورٹ ظہیر اعظم جرال) سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزادکشمیر ابراہیم ضیاء چوہدری کا بیٹاارسلان ضیاء میڈیکل کی طالبہ کو بلیک میل، ہراساں اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دینے پر میرپور پولیس نے گرفتار کر لیا، ملزم اپنے باپ کی سرکاری حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتا رہا، طالبہ کو اغواء کی کوشش بھی کی، پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کردیا، مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کوٹلی کی سکونتی طالبہ کے والد جو ایک قانون دان ہیں نے ایس ایس پی میرپور عرفان سلیم کو درخواست دی کہ میری بیٹی سال 2014 تا2019 مظفرآباد میڈیکل کالج میں زیر تعلیم رہی جہاں وہ دیگر طالبات کے ہمراہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزادکشمیر ابراہیم ضیاء چوہدری کے ملکیتی زینب گرلز ہاسٹل میں رہائش پذیر رہی جہاں ارسلان ضیاء اکثر اوقات ہاسٹل کی بلڈنگ دیکھنے آتا رہا اور اکثر بلڈنگ کی چھت پر کھڑا رہتا، دسمبر2018 بیٹی نے ایک دن نوٹ کیا کہ مذکور ہاسٹل کی چھت پر کھڑے ہو کر طالبات کے خفیہ طور پر فوٹو بناتا ہے کچھ روز بعد سائل کی بیٹی کو مختلف نامعلوم نمبروں سے کالیں اور میسجز آنے شروع ہو گئے،مذکور نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بیٹی کو اپنے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا، انکار پر دھمکانا شروع کردیا اور کہا کہ میں چیف جسٹس کا بیٹا ہوں اگر مجھ سے تعلقات نہ بناؤ گی تو جبراََ اٹھوا لوں گا، مذکور اکثر سپریم کورٹ کی سرکاری گاڑیوں پر CMH اور عباس انسی ٹیوٹ مظفرآباد میں جاتے ہوئے پیچھا کرتا تھا اور جبراََ گاڑی پر بیٹھنے کیلئے مجبور کرتا رہتا تھا، ایک روزمظفرآباد شہر میں سرکاری کار میں زبردستی بیٹھانا چاہا تو ٹریفک پولیس کانسٹیبل کی مداخلت پر بھاگ گیا، مذکور آئی ٹی ایکسپرٹ ہے جس نے بیٹی کی فیس بک، وٹس ایپ اور دیگر ایپلی کیشن ہیک کی اور اس کی تصاویر،میسج اور ذاتی اشیاء حاصل کر لیں اور پھر اسے مزید بلیک میل کرنا شروع کر دیا، مذکور بیٹی کی تمام نقل وحمل نوٹ کرتا رہتا تھا،ایک مرتبہ راولپنڈی اڈا پر بیٹی کو جبراََ روکے رکھا اور سرکاری کار میں شادی کیلئے جبراََ اغواء کرنے کی کوشش کی لیکن بیٹی کے شور شرابا پر بھاگ گیا، اڈا پر جبراََ روکے رکھنے کی ویڈیو بھی موجود ہے، سائل کی بیٹی اپریل2020 میں ایم بی بی ایس مکمل کرکے میرپور آکر ہاؤس جاب شروع کی لیکن مذکور اس دوران بھی بیٹی کو مسلسل بلیک میل کرتا رہا اور مختلف فون نمبروں سے دھمکی آمیز کالیں اور میسج کرتا رہا جو فون میں محفوظ ہیں، مذکور گزشتہ تین چار روز سے میرپور آیا ہوا ہے جس نے گزشتہ روز 5 اکتوبر2020 دوران ڈیوٹی بوقت 11 بجے دن ڈاکٹر احمد کیانی جو بیٹی کے سینئر ڈاکٹر ہیں کو دھمکایا اور بیٹی کو جبراََ شادی کیلئے ساتھ لے جانے کیلئے مجبور کیا بصورت دیگر بیٹی کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور اسی نوعیت کے میسج بھی کیے اور تین چار گھنٹے ہسپتال کے ایریا میں موجود رہا ڈاکٹر احمد کیانی نے مظہر کو گزشتہ شام صورتحال سے مطلع کیا جس پر سائل میرپور آ گیا اور تمام معلومات حاصل کیں، بیٹی انتہائی خوفزدہ اور ڈپریشن میں ہے ارسلان ضیاء مذکور نے اپنے والد کے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سائل کی بیٹی کو طویل عرصہ جبراََ شادی کیلئے بلیک میل کیا اور عزت برباد کرنے کی کوشش کی ہے اس کی فیس بک آئی ڈی ہیک کرکے پرسنل ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی حاصل کی اور اسے غلط استعمال کیا، برائے مہربانی ارسلان ضیا کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے دیگر پس پردہ افراد کو بھی منظر عام پر لایا جائے اور انکے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے جس پر تھانہ سٹی پولیس میرپور نے زیر دفعہ 489/ایچ، 489 زیڈ ایکس ڈی، 506/ضمن 2، اے پی سی 11/زیڈ ایچ اے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا، پولیس ذرائع کے مطابق ملزم اپنے والد کی سرکاری حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری گاڑیوں میں دیگر اوباش دوستوں سے ملکر شریف گھرانوں کی لڑکیوں کا ڈیٹا چوری کر کے انہیں مبینہ ہراساں کرنے میں ملوث رہا ہے اس لیے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے دیگر تمام بھیانک کرداروں کو بھی قانون کی گرفت میں لاتے ہوئے حقائق کو سامنے لایا جائے گا اس لیے تفتیش میں مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ ابراہیم ضیاء کے بیٹے نے اپنے غیر قانونی دھندوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکما دینے کیلئے سرکاری گاڑی کا خلاف قواعد استعمال معمول بنا رکھا تھا اور گزشتہ سال بیٹے سے سرکاری گاڑی کھائی میں گرنے کی بازگشت بھی سامنے آئی لیکن ملزم کے والد ابراہیم ضیاء نے اپنی سرکاری حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے معاملہ کو دبا دیا تھا۔
باغ۔۔ جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی/جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نےاحتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا۔6 تاریخ کو پہلا دھرنا کوہالہ پل پر دیا جائے گا پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کو اپنے أئین میں ترمیم کرتے ھوۓ صوبہ بنانے اور تقسیم کشمیر کو ممکنہ حتمی شکل دینے کے خلاف میدان عمل میں أنا پڑے گا ریاست کے باغیرت باسی اس تحریک میں عملی طور پر شریک ھو کر مادرے وطن کے خلاف ھونے والی سازشوں کو بے نقاب کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. لیاقت حیات ، وقاص خالق۔صدور JKNAP/JKNSF..
متحدہ ریاست جموں و کشمیر کے عظیم بانی اور ریاست کی واحدانیت کو ہمیشہ قائم رکھنے والے شری مہاراجہ ہری سنگھ کا آج جنم دن ہے ، شری مہاراجہ ہری سنگھ اب ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کے جنم دن پر میں انکی اعلی ظرفی کو، انصاف پسندی کو اور انسانیت کے اعلی اقدار کو سلام پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔!
انکی خوبیاں کیا تھی اور انہوں نے ریاست میں کیا اصلاحات عمل میں لائی تھی مختصراً اس تحریر میں جانئیے ۔۔۔۔!
مہاراجہ ہری سنگھ نے 1928 میں ہائیکورٹ آف جموں و کشمیر کا قانون بنایا جس کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کے باشندگان کے تمام سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی اور ہائیکورٹ اور سیشن کورٹس کا قیام عمل میں لا کر ان عدالتوں کو رِٹ پٹیشن کے اجراء کا اختیار دیا ۔ حتیٰ کہ عوام کو سرکار کے خلاف بھی رٹ پٹیشن کا حق دیا گیا ....!
جولائی 1931 میں سرینگر میں پولیس نے مشتعل مظاہرین پر گولی چلائی جس سے متعدد شہری ہلاک ہو گئے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے اس واقعے پر سوموٹو ایکشن لیا اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیئے انگریز افسر کی قیادت میں ایک کمیشن بنایا جسے تاریخ میں گیلینسی کمیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، مہاراجہ نے اس کمیشن کی سفارشات پر دو ماہ کے قلیل عرصے میں عملدرامد کیا اور ذمہ دار پولیس افسروں کو تحت ضابطہ قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا ۔ قارئین کرام اب خود تجزیہ کر لیں کہ آج کے جمہوری اور عوامی دور میں کیا اس قسم کا انصاف اور ایسے انتظامی اقدامات ممکن ہیں؟ بہت سے قارئین کرام اس حقیقت سے بے خبر ہوں گے کہ 1931 کی اس تحریک کے لیڈر مولوی عبدالرحیم کو 1934 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے جج تعینات کیا ۔ مولوی عبدالرحیم کی یہ تعیناتی مہاراجہ ہری سنگھ کے عدل، میرٹ کی پاسداری اور سیاسی بغض و نفرت سے پاک انتظامی قابلیت کا انمٹ ثبوت ہے ۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے 1934 میں ریاست کے اندر پارلیمانی سیاست کو متعارف کیا اور ریاستی پارلیمنٹ پرجہا سبھا کے انتخابات منعقد کیئے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے مرزا افضل بیگ جیسے قانونی ماہرین کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو برِصغیر کا پہلا حکمران ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس نے ریاست کو ایک آزاد آئین عطا کیا جس کی بدولت ریاست کے اندر آزاد عدلیہ اور منتخب سیاسی نمائندوں اور ریاستی اسمبلی پرجہا سبھا کا قیام عمل میں آیا ۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے پہلگام، ڈچیگام اور گلمرگ جیسے سیاحتی مراکز تعمیر کر کے ریاست جموں و کشمیر کو عالمی سیاحتی نقشے پر روشناس کرایا ۔
جموں و کشمیر کی 86% آبادی مسلمان تھی مگر
مہاراجہ کے زمانے میں ریاست کے اندر کہیں بھی مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا نام و نشان تک نہ تھا ۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے دور میں اس امر کو یقینی بنایا کہ سیاسی مخالفین کو بھرپور سہولیات اور آزادی فراہم کی جائے ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں (بلکہ 101 سالہ ڈوگرہ دور میں) سرکاری تحویل میں کسی کی ہلاکت کا ایک واقعہ بھی وقوع پزیر نہیں ہوا ۔مہاراجہ ہری سنگھ نے اس امر کو یقینی بنایا کہ سیاسی مخالفین ریاستی مشینری اور پولیس کے ہاتھوں کسی قسم کی زور زبردستی کا شکار نہ ہوں ۔
جب 1947 میں پاکستان اور بھارت دنیا کے نقشے پر ابھرے تو مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں و کشمیر کو بھوٹان، سری لنکا، برما اور نیپال کی طرز پر ایک آزاد و خودمختار ملک بنانے کا فیصلہ کیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے علاوہ ریاست کے تمام سرکردہ سیاسی اور مذہبی قائدین ریاست کو بھارت یا پاکستان میں ضم کرنے کے لیئے سرگرمِ عمل تھے ۔ یوں آزاد و خودمختار ریاست جموں و کشمیر کے نظریئے کا خالق مہاراجہ ہری سنگھ ہے
پاکستان کے گورنر جنرل محمد علی جناح اور دیگر پاکستانی قائدین اس امید میں تھے کہ ریاست کے عوام کی غالب مسلمان اکثریت کے باعث ریاست کو پاکستان میں شامل کر دیا جائے گا مگر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے اس توقع کے برعکس ریاست کو آزاد و خودمختار ملک بنانے کا فیصلہ کیا تو 22 اکتوبر 1947 کی رات کو پاکستان نے اپنے تابع ریاستی سیاسی رہنماوں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے مذہب کی آڑ لے کر قبائلی جتھوں اور باقاعدہ فوج کے ذریعے ریاست پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زیادہ معصوم اور نہتے ریاستی شہری قتل ہوئے، ہزاروں عورتوں کو اغوا کر کے پنجاب اور سرحد میں لے جایا گیا اور ہزاروں عورتوں کے ساتھ جبری نکاح کر کے انہیں زبردستی مسلمان بنا دیا گیا ۔ بچوں کے سامنے والدین کو اور ماں باپ کے سامنے ان کے جگر گوشوں کو کاٹا گیا ۔ بہنوں کے سامنے بھائیوں کو قتل کیا گیا اور بھائیوں کے سامنے بہنوں کی عزتوں کو تاراج کیا گیا ۔ یہ سب ریاست کو ہری سنگھ کے نظامِ حکومت اور ڈوگرہ حکمرانوں سے آزادی دلانے کے نام پر ہوا ۔
ہماری نئی نسل کو تاریخ کشمیر سے دور رکھا گیا انہیں مطالعہ پاکستان پڑھا کر سُدھ بُدھ بنا گیا انہیں بتایا گیا کے مہاراجہ ظلم تھا لیکن تاریخ کریدیں تو حقائق اسکے برعکس ہیں مہاراجہ کے خلاف پراپیگنڈا کرنیوالے الحاق نواز اور عہدوں کی خاطر بکنے والے ضمیر فروش وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس دھرتی کو بیچ کر اپنا اور اپنی اولادوں کا اُلو سیدھا کیا ۔۔۔۔!
ڈوڈیال میں تنویر احمد کو گرفتار کرلیا گیا سوشل میڈیا پر مذمت کے ساتھ ساتھ دوسرے آپشن پر بھی کام کیا جانا چاہئے اس لئے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ ذیل میں دی گئی اپیل کاپی کر کہ آخر میں اپنا نام لکھ کر ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ای میل کریں ، ای میل ایڈریس بھی دیا گیا ہے !!
Amnesty International,
I am gravely concerned to receive reports of the arrest of Mr. Tanveer Ahmed who is a prominent free Lance journalist, a vocal human rights advocate and activist, in the town of Dudiyal, Pakistan Administered Jammu Kashmir on 21 August 2020. I am particularly concerned that Mr. Tanveer Ahmed, during his arrest, was mistreated and manhandled, and it revealed that in the detention centre, he had been severely tortured. I seek your attention to get assurances from concern authorities in Pakistan Administered Jammu Kashmir that while being held in detention, Mr. Tanveer Ahmed will be treated fairly and humanely by international humanitarian and human rights law.
[email protected]
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Bagh