11/06/2026
والدین اور نوجوانوں کے نام ایک کھلا خط
بڑے خوابوں کی ہی بقا ہے۔۔۔ بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا
محترم والدین اور عزیز نوجوانو
السلام علیکم!
یہ خط آپ دونوں کے نام ہے، کیونکہ مستقبل کے فیصلے ایک طرف والدین کی رہنمائی اور دوسری طرف نوجوانوں کے عزم اور محنت سے تشکیل پاتے ہیں۔ آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ فیصلے حقائق، گہری سمجھ اور دور اندیشی کی بنیاد پر کریں۔
جیسے جیسے انسان پڑھتا ہے، ویسے ویسے اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنا کم جانتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں جب میں نے کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، جدید فزکس، میٹیریلز سائنس، بائیو ٹیکنالوجی اور دیگر علوم کو سمجھنے کی کوشش کی تو بار بار یہی احساس ہوا کہ دنیا بہت بڑی ہے اور ہم میں سے اکثر ابھی تک اس کے ابتدائی تعارف ہی میں مصروف ہیں۔ شاید سیکھنے کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ یہ انسان کے اندر موجود جھوٹے اطمینان کو ختم کر دیتا ہے اور اسے اپنی محدودیت کا احساس دلاتا ہے۔
والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ کے بچوں کا مستقبل صرف ایک ڈگری یا ایک نوکری کے انتخاب کا نام نہیں۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی اصل طاقت صرف امتحان میں اچھے نمبر لینے میں نہیں، بلکہ مسلسل سیکھنے، مسائل حل کرنے اور نئی راہیں تلاش کرنے میں ہے۔
سائنس کا ہر مضمون اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ Mathematics ہو، Physics ہو، Chemistry ہو، Biochemistry ہو، Biotechnology ہو یا Artificial Intelligence، ہر میدان میں ایسے مسائل موجود ہیں جن کے حل نئی صنعتوں کو جنم دے سکتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک کامیاب تحقیق، ایک نئی ایجاد، ایک مؤثر سافٹ ویئر، ایک جدید دوا، یا ایک صنعتی حل نہ صرف ایک فرد کی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پوری قوم کی سمت بھی متعین کر سکتا ہے۔
میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ جو ملک درآمدی بل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو، اسے metals، materials، manufacturing اور engineering کی دنیا میں گہرائی سے داخل ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ چیزیں بنتی کیسے ہیں، memory chips کیسے تیار ہوتے ہیں، processors کیسے ڈیزائن ہوتے ہیں، جدید مواد کیسے وجود میں آتے ہیں، اور وہ کون سی سائنسی بنیادیں ہیں جن پر صنعتی ترقی کھڑی ہوتی ہے۔
جیسے جیسے ان موضوعات کا مطالعہ کیا، یہ بات واضح ہوتی گئی کہ Physics کے بغیر ان میں سے بہت سی چیزوں کا تصور بھی ممکن نہیں۔ MRI، CT Scan، کینسر کی تشخیص اور علاج، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، توانائی کے جدید نظام، روبوٹکس اور مواصلاتی نظام، سب کی بنیاد فزکس پر قائم ہے۔ اسی طرح Chemistry صرف تجربہ گاہ کی سائنس نہیں، بلکہ ادویات، بیٹریز، کھادوں، جدید مواد اور صنعتی مصنوعات کی تخلیق کا بنیادی ذریعہ ہے۔
بائیو کیمسٹری اور Biotechnology مستقبل کی صحت، زراعت اور انسانی بہبود کے اہم ترین ستون ہیں۔ Carbon Credit Markets آنے والی معیشت کے اہم شعبوں میں سے ایک بن سکتی ہیں۔ Mathematics ان تمام علوم کی زبان ہے، جبکہ Artificial Intelligence ان سب کی رفتار بڑھانے والا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔
لیکن شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ خوابوں کے چھوٹے ہونے کا ہے۔ ہم نے اپنی سوچ کو محدود کر لیا ہے۔ والدین اکثر اپنے بچوں کے لیے صرف محفوظ راستے تلاش کرتے ہیں، جبکہ نوجوان بعض اوقات صرف فوری نتائج اور آسان راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکن دنیا اب مسائل حل کرنے والوں، تخلیق کاروں اور مسلسل سیکھنے والوں کی تلاش میں ہے۔
ہمارا ایک اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ چاہے مذہبی علوم ہوں یا سائنسی علوم، ہم اکثر تعارفی اور ابتدائی سطح سے آگے نہیں بڑھتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم ایک پچاس ابواب پر مشتمل کتاب ہو، لیکن ہم پوری زندگی پہلے پانچ ابواب ہی پڑھتے اور پڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ پانچ ابواب غلط ہیں، بلکہ وہ تو بنیاد ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ علم صرف انہی پانچ ابواب تک محدود نہیں۔
عمر گزر گئی مگر ہم تعارفی اور بنیادی باتوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ہم نے ابتدا کو منزل سمجھ لیا۔ ہم نے بنیادیں تو رکھیں، لیکن ان پر عمارت تعمیر نہ کی۔ ہم نے اصطلاحات یاد کیں، تعارف حاصل کیا، لیکن گہرائی، تحقیق، تخصص اور اختراع کے مرحلے تک بہت کم پہنچ سکے۔
محترم والدین! آپ کی ذمہ داری صرف اپنے بچوں کو کسی تعلیمی ادارے میں داخل کروانا نہیں، بلکہ انہیں سیکھنے، سوال پوچھنے، تحقیق کرنے اور بڑے خواب دیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ آپ کے فیصلے خوف، معاشرتی دباؤ یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حقائق اور تحقیق کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔
عزیز نوجوانو! آپ کی ذمہ داری صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اس سطح تک لے جانا ہے جہاں آپ مسائل حل کر سکیں، نئی value پیدا کر سکیں، اور اپنے معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔ دنیا کو صرف ملازمین نہیں، بلکہ سوچنے والے، تخلیق کرنے والے اور قیادت کرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔
بازار میں موجود ہر شخص آپ کے بہترین مفاد کے مطابق مشورہ نہیں دے گا۔ بہت سے لوگ اپنے ذاتی مفادات، محدود تجربات یا وقتی رجحانات کی بنیاد پر کہانیاں سنائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اور نوجوان دونوں حقائق جانیں، تحقیق کریں اور فیصلے معلومات کی بنیاد پر کریں۔
آج AI Systems نے ہمیں ایک غیر معمولی موقع فراہم کیا ہے۔ اب علم تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ان نظاموں کی مدد سے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، عالمی رجحانات سمجھے جا سکتے ہیں، اور مستقبل کے لیے زیادہ باخبر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں چھوٹے خوابوں کے پورا ہونے کے امکانات پہلے جیسے نہیں رہے۔ ایک وقت تھا جب ایک ڈگری، ایک نوکری اور ایک محدود دائرۂ کار ایک محفوظ زندگی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ لیکن Artificial Intelligence، Automation اور عالمی مسابقت نے دنیا کے اصول بدل دیے ہیں۔ اب صرف بنیادی مہارتیں کافی نہیں رہیں۔ اب بقا مسلسل سیکھنے، مسائل حل کرنے اور نئی value پیدا کرنے میں ہے۔
اب بقا بڑے خوابوں کی ہے۔ بڑے خواب صرف زیادہ دولت کمانے کا نام نہیں۔ بڑے خواب ایسے مسائل حل کرنے کا نام ہیں جو انسانیت کے لیے اہم ہوں۔ بڑے خواب نئی صنعتیں پیدا کرنے، تحقیق کو عملی شکل دینے، Intellectual Property تخلیق کرنے، نئی کمپنیاں قائم کرنے اور دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنے کا نام ہیں۔
بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا۔ اپنی سوچ میں، اپنی محنت میں، اپنے علم میں اور اپنے منصوبوں میں۔ والدین کو اپنے بچوں کے خوابوں کو وسعت دینی ہوگی، اور نوجوانوں کو ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت کرنی ہوگی۔ ہمیں صرف روزگار تلاش کرنے والے نہیں، بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بننا ہوگا۔ ہمیں صرف صارف نہیں، بلکہ تخلیق کار بننا ہوگا۔ ہمیں صرف علم حاصل کرنے والے نہیں، بلکہ علم کو عمل میں تبدیل کرنے والے بننا ہوگا۔
آخر میں، والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کے خوابوں کو محدود نہ کریں، اور نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو محدود نہ سمجھیں۔ سوال پوچھیں، سیکھتے رہیں، نئے میدان دریافت کریں، اور بڑے مسائل حل کرنے کی ہمت پیدا کریں۔
کیونکہ شاید اس دور کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ اب بقا بڑے خوابوں کی ہے۔
اور اگر بڑے خواب دیکھنے ہیں، تو پھر بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا۔
خلوص کے ساتھ،
ڈاکٹر عمران جاوید