The Victorious College

The Victorious College Put your dreams into action join victorious make your lives posrperious

11/06/2026

والدین اور نوجوانوں کے نام ایک کھلا خط

بڑے خوابوں کی ہی بقا ہے۔۔۔ بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا

محترم والدین اور عزیز نوجوانو

السلام علیکم!

یہ خط آپ دونوں کے نام ہے، کیونکہ مستقبل کے فیصلے ایک طرف والدین کی رہنمائی اور دوسری طرف نوجوانوں کے عزم اور محنت سے تشکیل پاتے ہیں۔ آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ فیصلے حقائق، گہری سمجھ اور دور اندیشی کی بنیاد پر کریں۔

جیسے جیسے انسان پڑھتا ہے، ویسے ویسے اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنا کم جانتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں جب میں نے کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، جدید فزکس، میٹیریلز سائنس، بائیو ٹیکنالوجی اور دیگر علوم کو سمجھنے کی کوشش کی تو بار بار یہی احساس ہوا کہ دنیا بہت بڑی ہے اور ہم میں سے اکثر ابھی تک اس کے ابتدائی تعارف ہی میں مصروف ہیں۔ شاید سیکھنے کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ یہ انسان کے اندر موجود جھوٹے اطمینان کو ختم کر دیتا ہے اور اسے اپنی محدودیت کا احساس دلاتا ہے۔

والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ کے بچوں کا مستقبل صرف ایک ڈگری یا ایک نوکری کے انتخاب کا نام نہیں۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی اصل طاقت صرف امتحان میں اچھے نمبر لینے میں نہیں، بلکہ مسلسل سیکھنے، مسائل حل کرنے اور نئی راہیں تلاش کرنے میں ہے۔

سائنس کا ہر مضمون اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ Mathematics ہو، Physics ہو، Chemistry ہو، Biochemistry ہو، Biotechnology ہو یا Artificial Intelligence، ہر میدان میں ایسے مسائل موجود ہیں جن کے حل نئی صنعتوں کو جنم دے سکتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک کامیاب تحقیق، ایک نئی ایجاد، ایک مؤثر سافٹ ویئر، ایک جدید دوا، یا ایک صنعتی حل نہ صرف ایک فرد کی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پوری قوم کی سمت بھی متعین کر سکتا ہے۔

میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ جو ملک درآمدی بل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو، اسے metals، materials، manufacturing اور engineering کی دنیا میں گہرائی سے داخل ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ چیزیں بنتی کیسے ہیں، memory chips کیسے تیار ہوتے ہیں، processors کیسے ڈیزائن ہوتے ہیں، جدید مواد کیسے وجود میں آتے ہیں، اور وہ کون سی سائنسی بنیادیں ہیں جن پر صنعتی ترقی کھڑی ہوتی ہے۔

جیسے جیسے ان موضوعات کا مطالعہ کیا، یہ بات واضح ہوتی گئی کہ Physics کے بغیر ان میں سے بہت سی چیزوں کا تصور بھی ممکن نہیں۔ MRI، CT Scan، کینسر کی تشخیص اور علاج، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، توانائی کے جدید نظام، روبوٹکس اور مواصلاتی نظام، سب کی بنیاد فزکس پر قائم ہے۔ اسی طرح Chemistry صرف تجربہ گاہ کی سائنس نہیں، بلکہ ادویات، بیٹریز، کھادوں، جدید مواد اور صنعتی مصنوعات کی تخلیق کا بنیادی ذریعہ ہے۔

بائیو کیمسٹری اور Biotechnology مستقبل کی صحت، زراعت اور انسانی بہبود کے اہم ترین ستون ہیں۔ Carbon Credit Markets آنے والی معیشت کے اہم شعبوں میں سے ایک بن سکتی ہیں۔ Mathematics ان تمام علوم کی زبان ہے، جبکہ Artificial Intelligence ان سب کی رفتار بڑھانے والا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔

لیکن شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ خوابوں کے چھوٹے ہونے کا ہے۔ ہم نے اپنی سوچ کو محدود کر لیا ہے۔ والدین اکثر اپنے بچوں کے لیے صرف محفوظ راستے تلاش کرتے ہیں، جبکہ نوجوان بعض اوقات صرف فوری نتائج اور آسان راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکن دنیا اب مسائل حل کرنے والوں، تخلیق کاروں اور مسلسل سیکھنے والوں کی تلاش میں ہے۔

ہمارا ایک اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ چاہے مذہبی علوم ہوں یا سائنسی علوم، ہم اکثر تعارفی اور ابتدائی سطح سے آگے نہیں بڑھتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم ایک پچاس ابواب پر مشتمل کتاب ہو، لیکن ہم پوری زندگی پہلے پانچ ابواب ہی پڑھتے اور پڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ پانچ ابواب غلط ہیں، بلکہ وہ تو بنیاد ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ علم صرف انہی پانچ ابواب تک محدود نہیں۔

عمر گزر گئی مگر ہم تعارفی اور بنیادی باتوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ہم نے ابتدا کو منزل سمجھ لیا۔ ہم نے بنیادیں تو رکھیں، لیکن ان پر عمارت تعمیر نہ کی۔ ہم نے اصطلاحات یاد کیں، تعارف حاصل کیا، لیکن گہرائی، تحقیق، تخصص اور اختراع کے مرحلے تک بہت کم پہنچ سکے۔

محترم والدین! آپ کی ذمہ داری صرف اپنے بچوں کو کسی تعلیمی ادارے میں داخل کروانا نہیں، بلکہ انہیں سیکھنے، سوال پوچھنے، تحقیق کرنے اور بڑے خواب دیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ آپ کے فیصلے خوف، معاشرتی دباؤ یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حقائق اور تحقیق کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

عزیز نوجوانو! آپ کی ذمہ داری صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اس سطح تک لے جانا ہے جہاں آپ مسائل حل کر سکیں، نئی value پیدا کر سکیں، اور اپنے معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔ دنیا کو صرف ملازمین نہیں، بلکہ سوچنے والے، تخلیق کرنے والے اور قیادت کرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔

بازار میں موجود ہر شخص آپ کے بہترین مفاد کے مطابق مشورہ نہیں دے گا۔ بہت سے لوگ اپنے ذاتی مفادات، محدود تجربات یا وقتی رجحانات کی بنیاد پر کہانیاں سنائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اور نوجوان دونوں حقائق جانیں، تحقیق کریں اور فیصلے معلومات کی بنیاد پر کریں۔

آج AI Systems نے ہمیں ایک غیر معمولی موقع فراہم کیا ہے۔ اب علم تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ان نظاموں کی مدد سے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، عالمی رجحانات سمجھے جا سکتے ہیں، اور مستقبل کے لیے زیادہ باخبر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں چھوٹے خوابوں کے پورا ہونے کے امکانات پہلے جیسے نہیں رہے۔ ایک وقت تھا جب ایک ڈگری، ایک نوکری اور ایک محدود دائرۂ کار ایک محفوظ زندگی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ لیکن Artificial Intelligence، Automation اور عالمی مسابقت نے دنیا کے اصول بدل دیے ہیں۔ اب صرف بنیادی مہارتیں کافی نہیں رہیں۔ اب بقا مسلسل سیکھنے، مسائل حل کرنے اور نئی value پیدا کرنے میں ہے۔

اب بقا بڑے خوابوں کی ہے۔ بڑے خواب صرف زیادہ دولت کمانے کا نام نہیں۔ بڑے خواب ایسے مسائل حل کرنے کا نام ہیں جو انسانیت کے لیے اہم ہوں۔ بڑے خواب نئی صنعتیں پیدا کرنے، تحقیق کو عملی شکل دینے، Intellectual Property تخلیق کرنے، نئی کمپنیاں قائم کرنے اور دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنے کا نام ہیں۔

بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا۔ اپنی سوچ میں، اپنی محنت میں، اپنے علم میں اور اپنے منصوبوں میں۔ والدین کو اپنے بچوں کے خوابوں کو وسعت دینی ہوگی، اور نوجوانوں کو ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت کرنی ہوگی۔ ہمیں صرف روزگار تلاش کرنے والے نہیں، بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بننا ہوگا۔ ہمیں صرف صارف نہیں، بلکہ تخلیق کار بننا ہوگا۔ ہمیں صرف علم حاصل کرنے والے نہیں، بلکہ علم کو عمل میں تبدیل کرنے والے بننا ہوگا۔

آخر میں، والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کے خوابوں کو محدود نہ کریں، اور نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو محدود نہ سمجھیں۔ سوال پوچھیں، سیکھتے رہیں، نئے میدان دریافت کریں، اور بڑے مسائل حل کرنے کی ہمت پیدا کریں۔

کیونکہ شاید اس دور کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ اب بقا بڑے خوابوں کی ہے۔

اور اگر بڑے خواب دیکھنے ہیں، تو پھر بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا۔

خلوص کے ساتھ،

ڈاکٹر عمران جاوید

02/06/2026

بیٹری کا کام سیکھیں ۔ ری فربش کیسے کرنا ہے پرانے سیلز کیسے بدلنے ہیں لیتھیئم بیٹری کو دوبارہ قابل استعمال کیسے بنانا ہے۔
چند مہینے لگا کر یہ کام سیکھ جائیں ۔ پھر اپنی شاپ یعنی ورکشاپ کھول دیں ۔ لوگوں سے پرانی بیٹریاں خرید لیں ۔ ان میں نئے سیلز ڈالیں اُنھیں دوبارہ قابل استعمال بنائیں اور اچھے پیسے بنائیں
لوگوں کی بیٹریاں مرمت کریں ٹھیک کریں۔ خوب پیسے بنائیں
نئی اور پرانی بیٹریاں بیچیں ۔ پیسے کمائیں ۔ یہ مستقبل کا بزنس ہے جو آپ کو اگلے دس بیس سالوں میں بیروزگار نہیں ہونے دے گا آپ کا کام بڑھتا چلا جائے گا ۔ آپ مجھے دعائیں دیں گےبیٹری کا کام سیکھیں ۔ ری فربش کیسے کرنا ہے پرانے سیلز کیسے بدلنے ہیں لیتھیئم بیٹری کو دوبارہ قابل استعمال کیسے بنانا ہے۔

30/05/2026

کیریئر کا پانی اب پہلے سے زیادہ گہرا ہے
آج کا مڈل کلاس نوجوان صرف روزگار کی تلاش نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو تیزی سے بدل رہی ہے۔ محدود وسائل، معاشی دباؤ اور سماجی توقعات کے باوجود وہ بڑے خواب دیکھتا ہے، مگر اکثر اسے ایسے تعلیمی اور پیشہ ورانہ نظام کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو موجودہ دور کی ضروریات سے پیچھے رہ چکا ہے۔ اب صرف ڈگری یا روایتی تعلیم کامیابی کی ضمانت نہیں رہی؛ اصل ضرورت جدید مہارتوں، تخلیقی سوچ، مؤثر ابلاغ، ٹیکنالوجی کی سمجھ اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت کی ہے۔
اس تبدیلی کو یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے زمین کے اندر پانی وقت کے ساتھ مزید گہرائی میں چلا جاتا ہے۔ پہلے جو پانی کم گہرائی سے حاصل ہو جاتا تھا، آج اس تک پہنچنے کے لیے جدید مشینیں اور بہتر طریقے درکار ہیں۔ بالکل اسی طرح "کیریئر کا پانی" بھی اب گہرائی میں جا چکا ہے۔ جو نوجوان خود کو نئے علم، AI، ڈیجیٹل ٹولز اور مسلسل سیکھنے کے ذریعے اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں، وہی اس گہرائی تک پہنچ پاتے ہیں جہاں حقیقی مواقع موجود ہیں۔ آج کی دنیا میں کامیابی کا راز وسائل سے زیادہ سیکھنے کی صلاحیت، درست سمت اور بدلتے حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے میں پوشیدہ ہے۔

"Exams Over? Don’t Waste Your Summer! Build Your Future with 7 In-Demand Skills in Just One Program. 🔥""3-4 Months Left?...
29/05/2026

"Exams Over? Don’t Waste Your Summer! Build Your Future with 7 In-Demand Skills in Just One Program. 🔥"
"3-4 Months Left? Don’t Regret Later. Start Building Your Career Today! 💰"
"7 Skills. 1 Program. Complete Fee Only ₹12,700. Limited Seats! Enroll Now! 🚀"
"From Zero to Freelance Hero in One Course. AI + Digital Skills = Your Bright Future! ✨"
Engaging & Emotional Captions
"Exams finished but future still unclear? Stop worrying. The Victorious College Baddomalhi presents the ultimate skill bundle to turn your summer into success! 💪"
"Decide today or regret tomorrow. Master AI, Freelancing, Graphic Design, YouTube, and more — all in one powerful program. Only at Victorious College!"
"Your friends will be wasting time. You’ll be building your empire. 7 Skills. 1 Amazing Program. Only 12,700 PKR. Who’s ready? 👀"
Call-to-Action Focused
"Limited Seats Available!
Join the Summer 2026 Batch now.
Call/WhatsApp: 0331-9675239 | 0315-0777185
The Victorious College Baddomalhi"
"Want to earn while you learn?
This is your chance.
7 High-Income Skills in One Program.
DM us or call today! 📲"
"Stop scrolling. Start growing.
Master the skills that actually matter in 2026 and beyond.
Enroll Now at Victorious College Baddomalhi!

28/05/2026

🚀🌞 **3 Powerful AI Programs —
گرمیوں کی چھٹیوں میں سیکھیں بھی اور کمائیں بھی!** 💰🔥

💸 **کیا آپ بھی 𝐀𝐢 ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں؟🔥 𝐀𝐢 ویڈیو کریشن کورس اور ایپلیکیشن حاصل کریں اور آج ہی اپنے موبائل سے پروفیشنل 𝐀𝐢 ویڈیوز بنانا
🔥 **Our 3 Special AI Programs:**
🧒 𝐀𝐈 𝐟𝐨𝐫 𝐊𝐢𝐝𝐬
👩‍🏫 𝐀𝐈 𝐟𝐨𝐫 𝐄𝐝𝐮𝐜𝐚𝐭𝐨𝐫𝐬
💼 𝐀𝐈 𝐟𝐨𝐫 𝐏𝐫𝐨𝐟𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥𝐬

💡 سیکھیں:
🎨 Image Generation
🎬 Video Generation
✍️ Content Writing
🎙️ Voice Generation
🤖 Automation Tools

🎁 **Special Discount!**
⏳ Hurry Up —

🎯 AI سیکھیں، Skills بنائیں، اور Online Earning شروع کریں! 🚀💎

28/05/2026

ڈگری، سسٹم اور اصل دنیا: آج کے نوجوان سے توقع کیا ہے؟

آج کے نوجوان سے توقع صرف ڈگری لینے کی نہیں بلکہ مسئلہ حل کرنے والے انسان بننے کی ہے۔ جب بھی کسی ادارے میں جاب نکلتی ہے تو دراصل اس پوزیشن پر کسی ایسے شخص کی تلاش ہوتی ہے جو کسی مسئلے کو سمجھے، نظام کو دیکھ سکے، اور ادارے کی ضرورت کے مطابق اپنا کردار ادا کر سکے۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی آرگنائزیشن صرف ایک محدود کام کے لیے بندہ نہیں رکھتی۔ اداروں کو ایسے لوگ چاہییں جو سسٹم کو سمجھتے ہوں، مختلف چیزوں کے درمیان تعلقات دیکھ سکتے ہوں، اور اپنی ویلیو واضح کر سکیں۔

پاکستان میں مسئلہ صرف روزگار کی کمی نہیں ہے، اصل مسئلہ تعلیم اور عملی دنیا کے درمیان موجود گیپ ہے۔ نوجوان اکثر اس مقام پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی تعلیم مکمل ہو گئی ہے، جبکہ حقیقت میں وہاں سے اصل سیکھنے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ادارے اپنے standards کم نہیں کریں گے کیونکہ انہیں نتائج، کارکردگی، adaptability اور problem solving چاہیے۔ اس لیے یہ خلا نوجوان کو خود پُر کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ کسی بڑے انڈسٹریلسٹ، کاروباری شخصیت، یا کسی بڑی آرگنائزیشن کے ہیڈ سے ملیں تو آپ فوراً محسوس کریں گے کہ وہ صرف اپنے ایک شعبے کا آدمی نہیں ہوتا بلکہ پورے نظام کو سمجھنے والا انسان ہوتا ہے۔ اسے production کا بھی پتہ ہوتا ہے، distribution کا بھی، raw material کی complexities کا بھی، customer relationship کی اہمیت کا بھی، technology کے اثرات کا بھی، internal operations کا بھی اور external linkages کا بھی۔ وہ صرف ایک department نہیں دیکھ رہا ہوتا بلکہ پورا ecosystem دیکھ رہا ہوتا ہے۔

اسی وسیع understanding کی وجہ سے اس کے لہجے میں اعتماد ہوتا ہے۔ اس کا confidence صرف عہدے سے نہیں آتا بلکہ اس exposure، تجربے، system understanding اور انسانوں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت سے آتا ہے جو اس نے وقت کے ساتھ develop کی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ صرف technical معاملات پر بات نہیں کرتے بلکہ values، professionalism، ادب، اختلافات کو handle کرنے، teamwork، communication، اور لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے طریقوں پر بھی بات کرتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا صرف technical skills پر نہیں چلتی، دنیا لوگوں کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت پر بھی چلتی ہے۔

آج بہت سے نوجوان courses، certificates اور degrees کو کامیابی سمجھ لیتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ڈگری خود میں ایک structure ہوتی ہے۔ ہر degree کے اندر Breadth اور Depth دونوں شامل ہوتے ہیں۔ Breadth کا مقصد مختلف چیزوں کی exposure دینا ہوتا ہے تاکہ انسان مختلف systems اور disciplines کی language سمجھ سکے، جبکہ Depth کا مقصد کسی خاص شعبے میں اس سطح تک جانا ہوتا ہے جہاں انسان کی expertise واضح ہو جائے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اکثر نوجوان یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہیں کون سا course کیوں پڑھایا جا رہا ہے۔ Mathematics والا programming پر سوال اٹھاتا ہے، Computer Science والا statistics کو غیر ضروری سمجھتا ہے، Business والا analytics یا operations research کی اہمیت نہیں سمجھتا، جبکہ AI کا طالب علم linear algebra، probability یا logic کی relevance سے واقف نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ تمام چیزیں مل کر ایک intellectual architecture بناتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ماحول میں نہ Breadth پوری طرح develop ہوتی ہے اور نہ ہی Depth۔ جہاں مختلف چیزوں کا meaningful exposure دینا چاہیے وہاں superficial coverage ہوتی ہے، اور جہاں mastery develop ہونی چاہیے وہاں بھی اکثر بات introduction سے آگے نہیں جاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان صرف امتحان پاس کرنے کی کوشش کرتا ہے، سمجھنے کی نہیں۔ اور جب کوئی چیز سمجھے بغیر پڑھی جائے تو اس سے اصل فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ Breadth آپ کو entry دیتی ہے جبکہ Depth آپ کو منواتی ہے۔ Breadth آپ کو مختلف systems، industries اور technologies کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے، جبکہ Depth آپ کی professional identity بناتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے market میں آپ کی value پیدا ہوتی ہے اور لوگ آپ کی capability کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

آج کے نوجوان کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ “degree مکمل کیسے کرنی ہے”، بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ “میں کس نظام کو سمجھ رہا ہوں؟”، “میں کون سا مسئلہ حل کر سکتا ہوں؟”، “میں مختلف انسانوں کے ساتھ کیسے کام کروں گا؟”، اور “میں اپنی learning کو کسی organization کی ضرورت کے مطابق کیسے align کر سکتا ہوں؟”

کیونکہ مستقبل صرف degree holders کا نہیں ہے، بلکہ system understanding رکھنے والے، adaptable، mature، اور problem solving mindset رکھنے والے لوگوں کا ہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

27/05/2026

دنیا کا سب سے “غیر منطقی” کام کیا ہے؟

بچہ پیدا کرنا۔

جی ہاں۔

اگر انسان صرف feasibility…
صرف business plan…
صرف profit and loss…
صرف ROI دیکھ کر فیصلے کرتا…

تو شاید آدھی دنیا پیدا ہی نہ ہوتی۔

بچہ مہنگا ہوتا ہے۔
بچے وقت لیتے ہیں۔
نیند ختم کرتے ہیں۔
پریشان کرتے ہیں۔
رسک ہوتے ہیں۔
کوئی guarantee نہیں ہوتی کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے۔

پھر بھی لوگ بچے پیدا کرتے ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ کچھ چیزیں spreadsheet سے بڑی ہوتی ہیں۔

محبت۔
امید۔
مقصد۔
خوشی۔
وراثت۔
زندگی کا مطلب۔

لیکن عجیب بات یہ ہے…

جب کوئی نوجوان دنیا بدلنے والا startup بنانا چاہتا ہے…
لوگ فوراً کہتے ہیں:

“اس میں profit کیا ہے؟”
“Business model کیا ہے؟”
“Investor کہاں سے آئے گا؟”
“Fail ہوگئے تو؟”

بھائی…
اگر ہر عظیم چیز feasibility سے شروع ہوتی…
تو ہوائی جہاز نہ بنتا۔
Internet نہ بنتا۔
Tesla نہ بنتی۔
پاکستان میں غریب بچوں کو AI سکھانے کا خواب بھی کوئی نہ دیکھتا۔

دنیا کے بڑے کام اکثر پاگل لگتے ہیں…
شروع میں۔

عبدالستار ایدھی اگر business feasibility دیکھتے…
تو شاید لاکھوں لوگ بغیر مدد کے مر جاتے۔

Elon Musk اگر صرف short-term profit دیکھتا…
تو reusable rockets مذاق لگتے رہتے۔

اصل میں دنیا بدلنے والے startup…
اکثر business plan سے نہیں…

“Happiness Plan” سے بنتے ہیں۔

وہ startup کامیاب ہوتے ہیں…
جنہیں بناتے ہوئے انسان زندہ محسوس کرے۔

اپنے آپ سے پوچھیں:

• کیا میں یہ کام 10 سال بغیر guarantee کے کرسکتا ہوں؟
• کیا failure کے باوجود مجھے اس پر فخر ہوگا؟
• کیا یہ انسانوں کی تکلیف کم کرے گا؟
• کیا یہ دنیا کو بہتر بنائے گا؟
• کیا یہ کام مجھے اندر سے خوشی دیتا ہے؟

کیونکہ صرف پیسہ…
انسان کو کچھ مہینے motivate کرتا ہے۔

Mission…
انسان کو پوری زندگی چلاتا ہے۔

کچھ startup پیسہ کمانے کے لیے نہیں بنتے…

وہ بنتے ہیں:
صاف پانی کے لیے۔
تعلیم کے لیے۔
غریب بچوں کے لیے۔
ذہنی سکون کے لیے۔
انسانوں کو جوڑنے کے لیے۔
دنیا کو بہتر بنانے کے لیے۔

کبھی کسی ماں باپ نے نومولود بچے سے پوچھا ہے:

“تمہارا revenue model کیا ہے؟”

نہیں۔

وہ صرف یقین کرتے ہیں:

“یہ زندگی اہم ہے۔”

شاید ہمیں startup بھی اسی جذبے سے بنانے چاہئیں۔

کیونکہ کبھی کبھی…
دنیا بدلنے والے سب سے بڑے ideas…
شروع میں سب سے زیادہ “غیر منطقی” لگتے ہیں۔

— ریحان اللہ والا

:

27/05/2026
“میرا مقصد صرف اپنی زندگی میں کامیاب ہونا نہیں، بلکہ ایسا علم، ایسی سوچ اور ایسا کام چھوڑ کر جانا ہے جو آنے والے وقتوں م...
26/05/2026

“میرا مقصد صرف اپنی زندگی میں کامیاب ہونا نہیں، بلکہ ایسا علم، ایسی سوچ اور ایسا کام چھوڑ کر جانا ہے جو آنے والے وقتوں میں بھی انسانیت کے کام آئے۔ اصل کامیابی وہ نہیں جو صرف انسان کو مشہور کرے، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کی زندگی میں روشنی پیدا کرے۔”

Address

The Victorious College
Baddomalhi
51700

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923334672983

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Victorious College posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to The Victorious College:

Shortcuts

Share

Category