خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
ماہ نومبر ، ماہِ اقبال
CSS PCS URDU
اردو ادب کے طلبہ کے لیے
علامہ اقبال کی شاعری میں امت مسلمہ کے لیے حیاتِ نو ہے۔
تری دعا ہے کہ پوری ہو آرزو تیری
مِری دعا کہ تری آرزو بدل جائے
اقبال رح
آج اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور براڈ کاسٹر اے حمید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور براڈ کاسٹر اے حمید 25 اگست 1928ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ میٹرک امرتسر سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے اور یہاں پر پرائیویٹ طور پر ایف اے پاس کر کے ریڈیو پاکستان میں اسسٹنٹ اسکرپٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان میں ملازمت کے بعد وائس آف امریکہ سے وابستہ ہوئے۔
اُن کے افسانوں کا پہلا ہی مجموعہ ’’منزل منزل‘‘ بے حد مقبول ہوا جو اُن کی رومانوی افسانہ نگار کے طور پر پہچان بن گیا۔ افسانوں کے علاوہ طویل عرصہ تک اخبارات میں باقاعدہ کالم نویسی بھی کرتے رہے۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن کے لیے بہت سے پروگرام لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ افسانہ نویسی اُن کی بے حد پسندیدہ اور مقبول صنف ادب ہے
83 سالوں میں 200 کتابیں، کیا کوئی اور ہو گا جس اکیلے نے اس قدر کام کیا ہو۔ افسانے، ناول، قسط وار ناول، کالم، ریڈیو کالم، اخباری کالم، ٹی وی ڈرامے، جاسوسی کہانیاں، سفر نامے کون سا موضوع ہے جو ان کے قلم کی دسترس میں نہ رہا ہو۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر موضوع اور صنف پر اس قدر لکھنے کے باوجود ان کی پہچان رومانوی افسانہ نگار کی ہی رہی،
بقول منٹو:
’’وہ تو کھمبا دیکھ کر بھی رومانٹک تحریر لکھنے پہ قادر ہے۔‘‘
شاید اصل وجہ کچھ اور ہی ہوگی۔ افسانہ نگاری ان کی محبت تھی۔ باقی ساری تحریریں ضرورت اور روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے میں معاون و مددگار…وہ ہمارے ان معدودے چند ادیبوں میں سے تھے جو قلم کے مزدور تھے۔ کسی سرکاری نوکری کے بغیر، کسی ادارے کی ماہانہ سرپرستی سے دُور سمن آباد کے ایک چھوٹے سے گھر میں اپنے کمرے میں بچھی چارپائی اور کونے میں دھری میز کرسی پہ بیٹھتے اور بے تکان لکھتے ہی جاتے۔
این 454 سمن آباد کے وہ کب مقیم ہوئے، ہم نے تو اُنہیں روز
اوّل سے وہیں دیکھا۔ وہیں وہ ہفتہ بھر جوگی کی طرح چلہ کاٹتے اور پھر ایک مخصوص دن نکلتے اور فیروز سنز، ریڈیو پاکستان اور روزنامہ نوائے وقت کے دفتر جاتے۔ بیچ میں کبھی مقبول اکیڈمی یا اُردو بازار کچھ کام ہوتا تو وہاں بھی چلے جاتے۔
وہ اُن ادیبوں میں سے تھے جو تقریبات میں رونمائی کم ہی کراتے ہیں۔
یہ ہم نے دھوپ جو اوڑھی ہوئی ہے
ہماری چھاؤں چوری ہوگئی ہے
ن م راشد جدید اردو نظم کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ ان کے بعد میراجی اورپھر مجید امجد کا نام آتا ہے۔
بھوپال کے ’خدا بخش ‘ مثالی کتاب دوست ، ادیب اور براڈکاسٹر محمد خالدؔ عابدی کا انتقال
ممبئی7 جولائی(ندیم صدیقی) بھوپال سے معروف شاعر اور ناظم بدرؔ واسطی سے ملنے والی اطلاع کے مطابق دورِ حاضر میں اُردو کی مثالی شخصیت (73 سالہ) محمد خالد عابدی جنہیں ان کی کتاب دوستی کے سبب ’’بھوپال کا خدا بخش‘‘ کہا گیا، آج اس تاریخی شہر میں انتقال کر گئے۔
محمد خالد عابدی بھوپال ہی میں 7اگست1947ع کوپیدا ہوئے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم دِینی درس سے ہوئی ،انہوں نے اندور یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا، بعدہٗ پروفیسر عبد القوی دسنوی کی زیر نگرانی’’ بیسویں صدی میں مکتوباتی ادب‘‘ جیسے موضوع پر مرحوم نے پی ایچ ڈی کی تیاری کی، بتایا جاتا ہے کہ اُن کا تحقیقی مقالہ تقریباً تیار ہو چکا تھا کہ سوئے اتفاق جس سرکاری کوارٹر میں اُن کا کنبہ رہتا تھا ناگہانی طور پر وہ سیلاب کی زد میں آگیا اور گھر بارکی تمام اشیا کے ساتھ یہ مقالہ بھی نذرِ آب ہوگیا ، مگر سیلاب اُن کی علم دوستی کاکچھ بگاڑ نہ سکا ۔
کتاب سے اُن کا عشق پورے بھوپال میں مشہور ہی نہیں بلکہ مثالی ہے ۔ ان کا ’’مکتبۂ عابدیہ‘‘ محض ایک ذاتی لائبریری نہیں وہ علمی تحقیقی جستجو کے حامل لوگوں کے لیے ایک معروف علمی و تحقیقی مرکز بن گیا ہے۔ محمد خالد عابدی نے اوائل عمری ہی سے کتاب کے حصول اور جمع کر نے کو اپنی زندگی کا ایک مشن بنا رکھا تھا، تحقیق و ریسرچ کرنے والے نہ صرف ان کے کتب خانے سے مستفید ہوتے تھے بلکہ اس سلسلے میں ذاتی طور پرعابدی کی مدد بھی شامل ہوتی تھی، کتاب کے تعلق سے انکی معلومات غیر معمولی تھی اگر متلاشی کی مطلوبہ کتاب انکے مکتبے میں نہیں ہے توحافظہ ٔعابدی اسے بتا تا تھا کہ یہ کتاب ملک میں کہاں دستیاب ہو سکتی ہے۔ ان کےکتابی تجسس اور کتاب کے حصول کے جذبے کی شاید و باید ہی کہیں نظیر ملے، ان کے اس وصف کا ایک تجربہ راقم کو بھی ہے2016 میں میری کتاب ’’ پُرسہ‘‘ کے تعلق سے محمد خالد عابدی نے کسی رسالے یا کہیں کچھ پڑھا تو خط لکھ کر ہی نہیں بلکہ کتاب کی پیشگی قیمت بھی منی آرڈر کر کے انھوں نے کتاب طلب کی تھی، راقم کی ستر سالہ عمر میں یہ تجربہ کسی اُردو لکھنے پڑھنے والے کا پہلا عمل تھا۔
محمد خالد عابدی کی پیشہ ورانہ زندگی ریڈیو میں گزری وہ آل انڈیا ریڈیو( بھوپال) میں ایک طویل ملازمت کے بعد مارچ2010 میں پروگرام ایکزیکٹیو کے منصب سے سبکدوش ہوئے تھے۔
فورٹ ولیم کالج
فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ اردو نثر کی تاریخ میں خصوصاً یہ کالج سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ کالج انگریزوں کی سیاسی مصلحتوں کے تحت عمل میں آیا تھا ۔ تاہم اس کالج نے اردو زبان کے نثری ادب کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھول دیں تھیں۔ سر زمین پاک و ہند میں فورٹ ولیم کالج مغربی طرز کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جو لارڈ ولزلی کے حکم پر 1800ءمیں قائم کیا گیاتھا۔
اس کالج کا پس منظر یہ ہے 1798 میں جب لارڈ ولزلی ہندوستان کا گورنر جنرل بن کر آیا تو یہاں کے نظم و نسق کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ انگلستان سے جو نئے ملازمین کمپنی کے مختلف شعبوں میں کا م کرنے یہاں آتے ہیں وہ کسی منظم اور باقاعدہ تربیت کے بغیر اچھے کارکن نہیں بن سکتے ۔ لارڈ ولزلی کے نزدیک ان ملازمین کی تربیت کے دو پہلو تھے ایک ان نوجوان ملازمین کی علمی قابلیت میں اضافہ کرنا اور دوسرا ان کو ہندوستانیوں کے مزاج اور ان کی زندگی کے مختلف شعبوں ان کی زبان اور اطوار طریقوں سے واقفیت دلانا ۔
پہلے زبان سیکھنے کے لئے افسروں کو اناونس دیا جاتا تھا لیکن اُس سے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے تھے۔ اس لئے جب لارڈ ولزلی گورنر جنرل بن کر آئے تو اُنھوں نے یہ ضروری سمجھا کہ انگریزوں کو اگر یہاں حکومت کرنی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ کمپنی کے ملازمین کا مقامی زبانوں اور ماحول سے آگاہی کے لئے تعلیم و تربیت کا باقاعدہ انتظام کیاجائے۔ ان وجوہات کی بناءپر ولزلی نے کمپنی کے سامنے ایک کالج کی تجویز پیش کی ۔ کمپنی کے کئی عہداروں اور پادرویوں نے اس کی حمایت کی۔
اور اس طرح جان گلکرسٹ جو کہ ہندوستانی زبان پر دسترس رکھتے تھے۔ کمپنی کے ملازمین کو روزانہ درس دینے کے لئے تیار ہو گئے۔اور لارڈ ولزلی نے یہ حکم جاری کیا کہ آئندہ کسی سول انگریز ملازم کو اس وقت تک بنگال ، اڑیسہ اور بنارس میں اہم عہدوں پر مقرر نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قوانین و ضوابط کا اور مقامی زبان کا امتحان نہ پاس کر لے۔ اس فیصلے کے بعد گلکرسٹ کی سربراہی میں ایک جنوری 1799 میں ایک مدرسہOriental Seminaryقائم کیا گیا۔ جو بعد میں فورٹ ولیم کالج کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ کچھ مسائل کی وجہ سے اس مدرسے سے بھی نتائج برآمد نہ ہوئے جن کی توقع تھی ۔ جس کے بعد لارڈ ولزلی نے کالج کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا۔
مِلتا نہ عمر بھر ہمیں مفہومِ زندگی
لیکن تِری نظر کے اشارے سے مل گیا
عدم
السلام علیکم ناظرین!
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اردو زبان کے وہ کون سے حروف تہجی ہیں جو فارسی زبان میں نہیں آتے؟
اپنا جواب ضرور دیں۔
رشید احمد صدیقی اردو کے اہم...... ہیں۔
ا. افسانہ نگار
ب. خاکہ نگار
ج. مزاح نگار
د. انشائیہ نگار
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اٹک میں پنجاب ٹیلنٹ ہنٹ 2022ء کے ضلعی مقابلوں کا انعقاد:
آج 18 جنوری 2022ء بروز منگل گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اٹک میں آرٹس کونسل راولپنڈی کے زیر اہتمام پنجاب ٹیلنٹ ہنٹ کے ضلعی سطح کے مقابلے ہوئے_ ان مقابلوں میں چھ مختلف کیٹگریز میں پنجاب کے رہائشی سولہ سے چالیس سال کی عمر کے افراد نے حصہ لے کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا_ گزشتہ دن کے ابر آلود موسم اور بارشوں کی پیشگوئی سے ان رنگا رنگ پروگراموں کے متاثر ہونے کا کچھ خطرہ تھا تاہم آج تمام دن سورج پوری آب و تاب سے چمکتا رہا، ان ڈور کے ساتھ ساتھ آؤٹ ڈور مقابلے بھی عمدگی سے انجام پزیر ہوئے، کالج کے سبزہ زاروں میں میلے کا سماں رہا اور بڑی تعداد میں طلباء و طالبات، والدین اور مہمانوں نے ان مقابلوں کا خوب لطف اٹھایا_
تمام کیٹگریز کے لیے آرٹس کونسل نے اپنے مخصوص انداز میں سٹیج، پنڈال اور میدان سجا رکھے تھے، قد آدم سجاوٹی فلیکس اور آرٹ کے نمونوں سے سجے بینر اپنی بہار دکھا رہے تھے_ مختلف مقابلے صبح نو بجے شروع ہوئے اور دو بجے تک جاری رہے_ حسب سابق زیادہ رونق گیت سنگیت کے پنڈال میں رہی جہاں نوجوان گلوکار اپنے سر جگا رہے تھے_ اس سال تھیٹر اور لوک رقص کے ایونٹ بھی ان مقابلوں کا حصہ تھے جن میں حاضرین نے بھرپور دلچسپی لی_ افسانہ نویسی کے مقابلے کے شرکاء علامہ اقبال ہال میں خامہ فرسائی کررہے تھے تو کالج کے خوبصورت سبزہ زار میں پینٹنگ اور کرافٹ کے مقابلوں میں شریک ہنر مند اپنے کمالات دکھا رہے تھے_ قائداعظم ہال میں تھیٹر قائم تھا جہاں چار مختلف ڈرامے ایکٹ کیے گئے_
مقابلوں کے اختتام پر ہر کیٹگری کے تین تین ماہر ججوں کے پینلز نے اپنے اپنے نتائج مرتب کیے جن کا اعلان تقسیم انعامات کی پروقار تقریب میں کیا گیا_ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر آرٹس کونسل راولپنڈی جناب وقار احمد نے پنجاب ٹیلنٹ ہنٹ مقابلوں کے اغراض و مقاصد بیان کیے_ گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اٹک کے پرنسپل جناب ماجد وحید بھٹی نے منظم اور خوبصورت مقابلوں کے انعقاد پر اپنے سٹاف اور طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور تمام مہمانوں اور ججز کا شکریہ ادا کیا_ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کو پرتکلف چائے پیش کی گئی_ چھ مختلف ضلعی مقابلوں میں نتائج کی صورتحال کچھ یوں رہی:
سٹیج ڈراما:
اول: سرفراز احمد اور ان کی ٹیم، حضرو، اٹک
دوم: محمد عبید اور ان کی ٹیم، گورنمنٹ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Attock