جن کاموں کے لیے چندہ کیا جائےتو وہ رقم ان ہی کاموں میں صرف کی جائے ،دوسرے کاموں میں چندہ دہندہ گان کی اجازت کے بغیرخرچ کرنا درست نہیں ۔ #مسائل #نیکی
Islamic Insights by molana Ameer Afsar
تعلیمات اسلام کی آگاہی کے عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے عمل کی توفیق کی دعا لیے اسلامک ان سائٹس،الحمدللہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اچھی اور میٹھی بات بھی صدقہ ہے۔" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف مالی صدقات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ خوش اخلاقی، نرم گفتگو اور دوسروں کے دل کو خوش کرنا بھی عظیم نیکی ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو پاکیزہ رکھے، دوسروں سے محبت اور خیر خواہی کے ساتھ بات کرے، کیونکہ اچھی بات دلوں کو جوڑتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنتی ہے۔
#اخلاقیات #نیکی
سچا مؤمن اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ کسی پر طعن و تشنیع نہیں کرتا، لعنت نہیں بھیجتا، فحش اور بے ہودہ گفتگو سے بچتا ہے اور گالی گلوچ کو اپنی عادت نہیں بناتا۔ اسلام حسنِ اخلاق، نرم گفتگو اور پاکیزہ زبان کی تعلیم دیتا ہے۔
گویا آپ ﷺ نے ان یہودیوں کی ایسی سخت گستاخی کے جواب میں بھی سختی کو پسند نہیں فرمایا، اور نرمی ہی کو اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی۔
اصل حدیث کے مراجع:
صحیح بخاری: 6256، 6030
صحیح مسلم: 2165
خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مخالفین کی بدزبانی اور گستاخی کے جواب میں بھی مسلمان کو اپنی زبان اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ نرمی، حلم اور خوش اخلاقی رسول اللہ ﷺ کی نمایاں سنت ہے۔
ﷺ
#رفق
#نرمی
ﷺ
ﷺ
اس حدیث میں تین اہم اوصاف کی فضیلت بیان کی گئی ہے:
حسنِ سیرت (السمت الحسن): اچھا اخلاق، پاکیزہ کردار اور شائستہ طرزِ زندگی۔
تؤدہ (وقار و اطمینان): جلد بازی سے بچنا، سوچ سمجھ کر اور سکون کے ساتھ کام کرنا۔
اقتصاد (میانہ روی): ہر معاملے میں اعتدال اختیار کرنا اور افراط و تفریط سے بچنا۔
نبی کریم ﷺ نے عبادات، خرچ کرنے، کھانے پینے اور زندگی کے تمام معاملات میں اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ جو شخص ان اوصاف کو اپناتا ہے وہ انبیائے کرام علیہم السلام کے طریقے اور اخلاق سے حصہ پاتا ہے۔
#اخلاق #حلم #اعتدال #سیرت
#مسائل #نمازفجر #سنت #جماعت
#اخلاق #حلم #اطمینان #ترمذی
قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ آیا، اس وفد کے سارے لوگ اپنی سواریوں سے کود کود کر جلدی سے حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے، لیکن رئیس وفد جن کا نام منذر اور عرف اشج تھا، انہوں نے یہ جلد بازی نہیں کی، بلکہ اتر کے پہلے سارے سامان کو یکجا اور محفوظ کیا، پھر غسل کیا اور کپڑے تبدیل کئے، اور اس کے بعد متانت اور وقار کے ساتھ خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس رویہ کو پسند فرمایا، اور اسی موقع پر ان سے یہ ارشاد فرمایاکہ تم میں یہ دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری اور محبوب ہیں، ایک حلم (بردباری) یعنی غصہ سے مغلوب نہ ہونا، اور غصہ کے وقت اعتدال پر قائم رہنا، اور دوسری اناۃ یعنی کاموں میں جلد بازی اور بے صبری نہ کرنا، بلکہ ہر کام کو متانت اور وقار کے ساتھ اطمینان سے انجام دینا۔ #اخلاق #حلم
#قربانی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Attock