Marifat ul Quran

Marifat ul Quran

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Marifat ul Quran, Education, people's colony, Attock City.

04/05/2023

Assalamualaikum....

01/05/2023

Assalamualaikum

28/04/2023

Jumma Mubarak

08/04/2023

غزوہ بدر ۔ مسلمانوں کی پہلی فتح عظیم

ماہ رمضان کی 17 تاریخ سنہ 2 ہجری تاریخ اسلام کا وہ عظیم الشان یادگار دن ہے جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی اور مٹھی بھر مسلمانوں کو کفار کے لشکر پر فتح عظیم حاصل ہوئی۔

مقام بدر میں تاریخ اسلام کا وہ عظیم الشان یادگار دن ہے جب17 رمضان المبارک کے روز اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جس میں کفار قریش کے طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملنے کے ساتھ مٹھی بھر مسلمانوں کو وہ ابدی طاقت اور رشکِ زمانہ غلبہ نصیب ہوا جس پر آج تک مسلمان فخر کا اظہار کرتے ہیں۔

غزوہ بدر کو دیگر غزوات پر کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے۔ اسے کفر و اسلام کا پہلا معرکہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خود حضور اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کو ایک فیصلہ کن معرکہ قرار دیا اور قرآن مجید نے اسے یوم الفرقان سے تعبیر کر کے اس کی اہمیت پر مہرثبت کر دی۔

13 سال تک کفار مکہ نے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، ان کا خیال تھا کہ مُٹھی بھر یہ بے سرو سامان ‘سر پھرے’ بھلا ان کی جنگی طاقت کے سامنے کیسے ٹھہر سکتے ہیں، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

اللہ کی خاص فتح ونصرت سے 313 مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لاؤ و لشکر کو اس کی تمام تر مادی اور معنوی طاقت کے ساتھ خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔

دعائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور جذبہ ایمانی سے ستر جنگجو واصل جہنم ہوئے،چودہ صحابہ کرام نے داد شجاعت کی تاریخ رقم کر کے شہادت پائی۔
اس دن حضور ﷺ نے یہ دعا فرمائی تھی۔
’’اے اﷲ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنا وعدہ اور اقرار پورا کر، یا اﷲ! اگر تیری مرضی یہی ہے (کہ کافر غالب ہوں) تو پھر زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا‘‘۔

اسی لمحے رب کائنات نے فرشتوں کو وحی دے کر بھیجا:’’میں تمھارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کے قدم جماؤ، میں کافروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا، سنو! تم گردنوں پر مارو (قتل) اور ان کی پور پور پر مارو۔‘‘ (سورۂ انفال آیت 12)۔

مقام بدر میں لڑی جانے والی اس فیصلہ کن جنگ نے یہ ثابت کیا کہ مسلمان نہ صرف ایک قوم بلکہ مضبوط اور طاقتور فوج رکھنے کے ساتھ بہترین نیزہ باز، گھڑ سوار اور دشمن کے وار کو ناکام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر اسلام کے فلسفہ جہاد نقطہ آغاز ہے، یہ وہ اولین معرکہ ہے جس میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والے جنت میں داخل ہونے میں بھی پہل کرنے والے ہیں، قرآنِ پاک کی کئی آیات اور احادیث مبارکہ غزوہ بدر میں حصہ لینے والوں کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں۔

ایک آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ :
’’میں ایک ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔‘‘

(سورۂ انفال آیت9)

غزوہ بدر کو چودہ سو سال گذر چکے ہیں لیکن اس کی یاد آج کے گئے گذرے مسلمانوں کے ایمان کو بھی تازہ کر دیتی ہے، صدیوں بعد آج بھی مقام بدر کفار مکہ کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی گواہی دیتا ہے، مقام بدر کے آس پاس رہائش پذیر شہریوں کو اس مقام کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا ادراک ہے۔

جنگ بدر کے حوالےسے مختلف شعرا کرام نے اشعار لکھے اور کہے.

فضائے بدر کو اک آپ بیتی یادہے اب تک

یہ وادی نعرہ توحید سے آباد ہے اب تک

غزوہ بدر کو چودہ سو سال بیت چکے ہیں لیکن اس کی یاد آج کے گئے گذرے مسلمانوں کے ایمان کو بھی تازہ کر دیتی ہے۔ صدیوں بعد آج بھی مقام بدر کفار مکہ شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی گواہی دیتا ہے، موجودہ دور میں مسلمانوں زوال پزیری اور کفار کے غالب آنے وجہ یہی ہے کہ آج مسلمانوں کے تمام وسائل موجود ہونے کے باوجود بھی وہ بدر و احد کے جذبے سے آری ہیں۔

ہتھیار ہیں اوزار ہیں افواج ہیں لیکن

وہ تین سو تیرہ کا لشکر نہیں ملتا

شرکائے بدر کی تفصیل
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بابرکت قیادت میں حق وباطل کے درمیان مشہور معرکہ"غزوہ بدر" 17 رمضان المبارک 2 ھ بروز جمعہ منعقد ہوا۔

اس جنگ میں کفار مکہ کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی ۔ یہ ہر طرح کے سامان جنگ سے لیس تھے۔ جب کہ مسلمانوں کی تعداد محض تین سو تیرہ (313) تھی اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس صرف 2 گھوڑے، 6 زرہیں، 8 تلواریں اور 70 اونٹ تھے۔ ( تفسیر الجمل، آل عمران، تحت آیۃ: 13]

حق وباطل کے اس معرکے میں جملہ عشرہ مبشرہ شریک تھے۔

ان کے مبارک اسما درج ذیل ہیں:
1 حضرت ابوبکر صدیق ۔ 2حضرت عمر بن خطاب ۔ 3حضرت عثمان بن عفان ۔ 4 حضرت علی بن ابی طالب ۔ 5 حضرت طلحہ بن عبید اللہ ۔ 6 حضرت زبیر بن عوام ۔ 7 حضرت عبدالرحمن بن عوف ۔ 8حضرت سعد بن ابی وقاص ۔ 9حضرت سعید بن زید ۔ 10 حضرت ابو عبیدہ بن جراح ( رضی اللہ تعالیٰ عنھم)

( حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی سیدہ رقیہ جو حضرت عثمان کی زوجہ مطہرہ تھیں، غزوہ بدر کے موقع پر سخت بیمار تھیں، ان کی تیمارداری کے لیے حضرت عثمان کو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہی چھوڑا بدر میں ساتھ نہ لے گئے۔

حتی کہ حضور کے پیچھے ہی ان کی وفات ہو گئی اور دفن کردی گئیں۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان ﷲ تعالٰی کے کام اور اس کے رسول کی خدمت میں گئے ہیں، میں ان کو بدری شمار کرتا ہوں چناں چہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غنیمت میں سے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا ان کے سوا کسی غائب شخص کا حصہ مقرر نہ کیا۔ )

شہداے بدر
غزوہ بدر میں کل 14 صحابہء کرام شہید ہوئے۔
(مہاجرین میں سے 6 اور انصار میں سےآٹھ ( 2 اوسی اور 6 خزرجی ) اور 70 کفار مارے گئے اور اتنے ہی قیدی بنائے گئے۔

شہداے کرام کے اسمائے گرامی ، یہ ہیں۔
1- عبیدہ بن حارث بن عبد المطلب بن عبد مناف
شہادت کے وقت عمر شریف63 سال تھی۔ حضور کے چچا زاد بھائی ہیں۔ بدر میں شدید زخمی ہوئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاکر جنت کی طرف قدم بڑھایا۔ قبر شریف ”صفراء” میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے اسلامی سریہ کے سردار یہی بنائے گئے تھے۔
2- مہجع بن صالح
غزوہ بدر میں سب سے پہلے یہی شہید ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق کے آزاد کردہ غلام تھے۔ قوم عک سے تعلق رکھتے تھے۔
3- عمیر بن ابی وقاص
حضرت سعد بن ابی وقاص کے بھائی ہیں۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 16 سال کی تھی۔
4- عاقل بن بکیر بن عبد ياليل۔
5- عمیر بن عبد عمرو بن نضلہ۔
ذوالشمالین ، لقب اور کنیت ابو محمد تھی۔ بنو زہرہ کے حلیف تھے۔
6- حارث یا (حارثہ) بن سراقہ بن حارث۔
ان کی والدہ انس بن مالک کی پھوپھی ہیں۔ حلق میں تیر لگنے کی وجہ سے شہادت پائی۔
7- عوف یا(عوذ) بن عفرا۔
یہ انصاری صحابی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام عفرا اور والد کا نام حارث تھا۔
8- معوذ بن عفرا۔
یہ عوف بن عفرا کے بھائی ہیں۔
( انہی بھائیوں نے ابو جہل کو ٹھکانے لگایا تھا)
9- یزید بن حارث یا (حرث) بن قیس بن مالک۔
انصاری صحابی ہیں۔
10- رافع بن معلی بن لوذان۔
یہ بھی انصاری صحابی ہیں۔
11- عمیر بن حمام بن جموح بن زید بن حرام۔
انصاری صحابی ہیں۔ حضرت عبید ہ بن حارث کے ساتھ مواخات تھی۔ دونوں ایک ہی میدان میں سرخرو ہو کر رونق افروز جنت ہوئے۔
12- عمار بن زیادہ بن رافع۔
انصاری صحابی ہیں۔
13- سعد بن خیثمہ انصاری۔
کنیت ابو عبد اللہ، لقب سعد خیر تھا۔ ان کے والد نے غزوہ بدر میں جانے سے انھیں منع کیا تھا ان کی خواہش تھی کہ میں خود جاؤں لیکن حضرت سعد نے کہا مجھے جنت میں جانے سے نہ روکیں۔ ان کے والد خیثمہ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔
14- مبشر بن عبد منذر بن زبیر بن زید۔
انصاری صحابی ہیں۔

یہ وہ چودہ خوش نصیب صحابہ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ان کے علاوہ اور بھی نام ذکر کیے جاتے ہیں جو مختلف فیہ ہیں۔

شہداے بدر میں سے تیرہ حضرات تو میدان بدر ہی میں مدفون ہوئے. البتہ حضرت عبیدہ بن حارث نے چونکہ بدر سے واپسی پر منزل ”صفراء” میں وفات پائی اس لیے ان کی قبر شریف ”صفراء” میں ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین ۔
( شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية ، أبو عبد اللہ محمد بن عبد الباقي الزرقاني المالكي۔)

30/03/2023
29/03/2023

ایک دِل کو موہ لینے والی تحریر

ایک بچے کے والدین ہرسال اسے ٹرین میں اس کی دادی کے پاس گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے لے جاتے۔ پھر وہ اسے چھوڑ کر اگلے دن واپس آجایا کرتے تھے۔

پھر ایک سال ایسا ہوا کہ بچے نے ان سے کہا: "میں اب بڑا ہو گیا ہوں، اگر اس سال میں دادی کے پاس اکیلا چلا گیا تو کیا ہوگا ؟"

والدین نے مختصر بحث کے بعد اتفاق کر لیا اور پھر مقررہ دن اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پپہنچ گٸے والد نے جونہی کچھ سفرکی ہدایات دینا شروع کیں
تو بیٹا اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہنے لگا
: اباجان ! "میں ہزار مرتبہ یہ ہدایات سن چکا ہوں !"

ٹرین کے روانہ ہونے سے ایک لمحہ پہلے، اس کے والد اس کے قریب آئے اور اس کے کان میں سرگوشی کی:
"یہ لو، اگر تم خوفزدہ ہو یا بیمار ہو تو یہ تمہارے لیے ہے" اور اپنے بچے کی جیب میں کچھ ڈال دیا۔

بچہ پہلی بار والدین کے بغیر ٹرین میں اکیلا بیٹھا تھا،
وہ کھڑکی سے زمین کی خوبصورتی کو دیکھتا رہا اور اپنے اردگرد اٹھنے والے اجنبیوں کا شور سنتا رہا ،کبھی اپنی سیٹ سے اٹھ کر کیبن سے باہر نکلتا تو کبھی اندر چلاجاتا۔

یہاں تک کہ ٹرین کے ٹی ٹی نے بھی حیرانگی کا اظہار کیا اور اس سے بغیر کسی ساتھی کے اکیلے سفر بارے سوال کیا۔
اسی طرح ایک عورت نے اسے اداس دیکھ کر گھورا ۔
لڑکا شدید الجھن میں تھا یہاں تک کہ اس نے محسوس کیا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

پھر وہ خوفزدہ ہو گیا... یہاں تک کہ وہ اپنی کرسی پر سے گر گیا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
اس لمحے اسے اپنے باپ کی سرگوشی یاد آئی کہ فلاں لمحے اس نے میری جیب میں کچھ ڈالا تھا۔

اس نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے جیب میں تلاش کیا تو چھوٹا سا کاغذ ملا۔ اس نے اسے کھولا: تو لکھا تھا
’’بیٹا، میں ٹرین کے آخری ڈبے میں ہوں۔‘‘
یہ الفاظ پڑھتے ہی گویا اس کی روح لوٹ آٸی ۔

🔹 ! زندگی بھی ایسی ہی ہے، ہم اپنے بچوں کے پروں کو چھوڑتے ہیں، انہیں خود پر اعتماد دلاتے ہیں.. لیکن جب تک ہم زندہ ہیں، ہمیں ہمیشہ آخری کیبن میں موجود رہنا چاہیے.. اس لیے کہ یہ ان کے لیے تحفظ کے احساس کا ذریعہ ہے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Attock City?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


People's Colony
Attock City
43600

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00