18/03/2025
لاگ ان
اردو
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
16 رمضان 1446ھ 17 مارچ 2025 ء
سرورق
دارالافتاء
بینات
کتابیں
دعائیں
آن لائن داخلہ
تلاش کریں
دارالافتاء
قبر میں حیات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر امّت اسلامیہ کا اجماع (تفصیلی فتویٰ)
سوال
میں اپنے عقیدے کے حوالے سے بہت پریشان ہوں ، کوئی کہتا ہے کہ: انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ : زندہ نہیں ہیں، اب مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کون سا عقیدہ اپنانا چاہیے ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جو شخص "حیات الانبیاء " (یعنی وفات کے بعد انبیاءِ کرام علیہم السلام کی حیات) کا منکر ہو ، وہ اہلِ سنت والجماعت سے خارج ہے، ایسے شخص کی امامت میں نماز ادا کرنا بھی مکروہِ تحریمی ہے۔
نیز واضح رہے کہ ہمارے ہاں حیات النبی ﷺ اور انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اپنی قبروں میں زندہ ہونے سے متعلق متعدد سوال موصول ہوتے رہے ہیں اور سوال کے مطابق ان کے جوابات بھی جاری کیے جاتے رہے ہیں، نیز کئی لوگوں کی طرف سے یہ درخواست کی گئی کہ اس مسئلہ کا مکمل تفصیلی فتویٰ جاری کیا جائے، آپ کا سوال بھی اسی نوعیت کا ہے ؛ لہذا مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ سے متعلق جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے سابق رئیس دارالافتاء حضرت مولانا مفتی محمد عبد السلام چاٹگامی صاحب رحمہ اللہ کا اس مسئلہ پر خود نوشتہ تفصیلی فتویٰ جو انہوں نے (5/10/1421) کو اسی نوعیت کے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے، وہ مکمل نقل کردیا جائے، لہذا ذیل میں اسے ملاحظہ فرمائیے:
حامداً ومصلیاًومسلماً! أمابعد:
حیات النبی ﷺ بلکہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام وشہداءِ کرام کی حیات کا عقیدہ نصوصِ شرعیہ اور اجماع سے ثابت ہے، باتفاقِ علماءِ اہلِ سنت والجماعت خاص کر اَکابرین علمائے دیوبند اس کوجماعتِ دیوبندیہ کے لیے معیار قراردیتے ہیں، اور اس کے خلاف منکرینِ حیات النبی والانبیاء والشہداء کو مبتدع اور اہلِ سنت والجماعت سے خارج قرار دیتے ہیں، ان منکرینِ حیات النبیﷺ کی اقتدا اور امامت کو مکروہِ تحریمی فرماتے ہیں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ :
حیات النبی ﷺ بلکہ حیات انبیاء علیہم السلام اورشہداء تو نصوصِ قرآنی ، احادیث اور آثار کثیرہ سے ثابت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور شہداء کی ارواح کا تعلق وربط ا