Learn & Play

Learn & Play

Share

If you are looking for the best nursery in Arif Wala for your little preschool kids, then please take time to read on to find out what makes us Best.

05/04/2021

بچوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور مت کریں
جیسے
بیٹا کہہ دو! کہ ابو گھر نہیں ہیں
بتا دو امی سو رہی ہیں

بچوں کے سامنے ہمیشہ سچ بولیں




Like - Comment - Share

Learn & Play

04/04/2021

ایک بچے کے حق میں بہترین سیکیورٹی ماں باپ کا آپسی تعلق ہے جو خوشگوار ہونا چاہیے۔۔۔ ایسے ماں باپ جو ایکدوسرے کی عزت/احترام کرتے ہوں۔ اس کے برعکس ایکدوسرے پر گرجنا برسنا، الزام تراشی کرنا، طنز و تضحیک کا تبادلہ، لڑائی جھگڑے والی فضا پیدا کیے رکھنا ۔۔۔ بچے کی اپنی انفرادی دنیا کا چین سکون چھین لیا کرتا ہے۔ وہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔




Like - Comment - Share
Learn & Play

03/04/2021

وَحلُل العُقدۃ مّن لّسانی ـــ یعنی میری زبان پر لگی گرہ کھول دے۔ اِس دُعا میں stammering یا stuttering یعنی ہکلاہٹ/ توتلاہٹ کے لئے خدائی طاقتوں سے مدد طلب کی گئی ہے۔ ایک پیغمبرِ خدا کو خصوصیت کیساتھ سکھائی گئی یہ دُعا قرآنِ مقدّس میں بھی درج ہے، گویا اس میں یقینی علاج دھرا ہے چونکہ قرآن کا ہر لفظ معجزہ ہے۔ اگر کوئی اِسے بادلِ نخواستہ یعنی casual انداز میں پڑھ کر فارغ نہ ہو جائے، بلکہ خوب رغبت سے پڑھتا رہے تو یقینی علاج ہے۔۔۔ ہم خوب آگاہ ہیں کہ علاج معالجہ کیطرف رُجوع کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئیے، تاہم کون انکار کر سکتا ہے کہ ادویات، سرجری، تھراپیز، مہنگے ہسپتالوں میں متعیّن مستند ترین ڈاکٹرز کے اختیار کا دائرہ مضحکہ خیز حد تک محدود ہے۔

بالخصوص ہکلاہٹ کا کوئی خاص علاج ہے بھی نہیں۔ جو ادویات تجویز کی جاتی ہیں، سائیڈ ایفیکٹس رکھتی ہیں کہ وہ سب ادویات ہکلاہٹ کیساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں رکھتیں بلکہ ڈپریشن اور نفسیاتی خوف سے متعلق ہیں، یعنی ری لیکس کرنا، تناؤ کم کرنا اُنکا فنکشن ہے۔ اس کی ٹریٹمنٹ بیشتر سپیچ تھراپیز کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔ ایسی تھراپیز میں مشق کرائی جاتی ہے کہ سانس کس طور لینا ہے، اور منہ اندر مَسلز کو آپس میں کس طور کوآرڈینیٹ کرانا ہے۔ پیچیدگی کی شدّت و مقدار پر منحصر ہے کہ کتنا وقت لگے گا صحتیاب ہونے میں۔ صحتیابی کسقدر میسر آئے گی، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔

تو بات ہِر پِھر کر دعا کے آسرے پر آگئی۔۔۔۔۔ ہر آیتِ کریمہ کیساتھ آسمانی توانائی کا ایک پیکیج سا بندھا ہے۔ جب آپ دُعا پڑھتے ہو، اور بار بار اُسے دوہراتے ہو تو کسی سٹیج پر توانائی کا وہ پیکیج ایکٹو ہو جاتا ہے۔ ہمارے عقیدہ کیمطابق یہ توانائی اصل میں فرشتے ہیں جو آسمان سے اترتے اور ہمیں درپیش پیچیدگی یا مشکل کو dissolve کر دیا کرتے ہیں۔ آپ اسے فرشتے کہہ لیں یا محض توانائی۔ بات ایک ہی ہے چونکہ فرشتے توانائی سے بنی ایک مخلوق ہے جو عام انسانی نگاہ سے اوجھل ہے، جبکہ فرمانِ رسولؐ کیمطابق مُرغ اُن کو دیکھ سکتا ہے (جیسا کہ اب سٹڈی بھی کر لیا گیا) چونکہ اس کی آنکھ یا وژن میں UV یعنی الٹرا وائلیٹ شعاؤں کا بسیرا ہے۔ کچھ اور پرندے بھی ایسے ہیں اور اُن پر کی گئی ریسرچ بتاتی ہے کہ وہ زمین کا magnetic field دیکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی آفات جیسے زلزلہ وغیرہ کے اوقات میں پرندوں اور دیگر مخلوقات کی جانب سے ردّ عمل ذرا قبل از وقت یا پُراسرا سا رہتا ہے، یعنی چرند پرند کی حسیات حادثہ ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی الارم بجا دیا کرتی ہیں، وہ اپنے ردّ عمل کا اظہار کر دیا کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ




Like - Comment - Share

Learn & Play

02/04/2021

بچے مارتے کیوں ہیں؟ کیسے روکا جائے؟
اکثر بچوں پر یہ مرحلہ آتا ہے کہ وہ زیادہ اشتعال/ایگریشن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے بچوں کو اور حتٰی کہ خود ماں کو بھی ہِٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔ پہلے یہ نکتہ سمجھ لیں کہ بچوں کی زندگی میں یہ ایک نارمل بات ہے۔ اُن کی معصوم دنیا میں یہ ابلاغ کا ایک موثر ذریعہ ہے، اور بعض مثالوں میں تفریح کے حصول کا ذریعہ بھی۔ نتیجتاً، اِس پر آپ اندر فرسٹریشن کا پیدا ہونا، اور گاہے دوسروں کے سامنے شرمندہ ہونا بھی ایک فطری بات ہے۔ اب اس کا ردّ عمل کیسے دینا ہے، ساری پیچیدگی اس میں ہے۔ اگر جواباً آپ گرجنا، برسنا، اور مارپیٹ کرنا شروع کر دیں گے تو یہ آپ کی ناکامی ہے، نہ کہ بچے کو اُس کے کیے پر مزہ چکھا دینے میں کامیابی۔ اگرچہ ایک آدھ بار رُعب دار آواز میں بول جانے، یا کمر پر ہلکی سی چپت لگا کر بچے کو اس مخصوص صورتحال سے ہٹا لینا درست ہو سکتا ہے، تاہم یہ طرزِ عمل اس مسئلہ کا مستقل علاج نہیں۔ بچہ اپنی سطح پر اپنے مسائل کا یہی حتمی اور درست حل لیے ہے کہ ہِٹ کرو اور راستہ بناؤ۔ بچے کی زندگی میں یہ محض ایک مرحلہ ہے جو چند ہفتوں یا چند ماہ تک محیط ہو سکتا ہے۔ردّ عمل میں اگر آپ کی طرف سے متواتر اشتعال برتا گیا تو ایسا رویّہ بچے کے دل ودماغ میں دو عدد لازمی نتائج کو جنم دے گا:
1۔ آپ اس سے محبّت نہیں کرتے۔ بلکہ دوسروں کی طرفداری کرتے ہیں۔
2۔ ڈانٹ ڈپٹ یا مار پیٹ سے وہ مزید قائل ہو گا کہ خلافِ مزاج بات پرمشتعل ہونا اور ہاتھ چلا جانا ہی درست طرزِعمل ہے۔ چونکہ آپ نے اُس کے سامنے یہی کچھ رول ماڈل کِیا ہے۔

عام طور پر ردّ عمل یوں دیا جاتا ہے:
آؤ دیکھا نہ تاؤ، پکڑ کر دو چار تھپّڑ جڑ دئیے۔ساتھ میں ایسے جملے ادا کر دئیے: "پھر مارا؟! میں تمہارا منہ توڑ دوں گی/گا۔۔۔"
سخت گرجدار آواز میں گالی گلوچ، یا دھمکی آمیز جملے: "دفع ہو جاؤ ، اب مارا تو ہاتھ توڑ دوں گی/گا ۔۔۔"

تو پھر کیا کیا جائے؟ درست طرزِعمل یا مستقل حل / علاج کیا ہے؟
پہلی بات۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ بچے میں ایسا ایگریشن آیا کہاں سے؟ اس نے اپنا سیلف کنٹرول یا اِمپلس کنٹرول کیوں کھو دیا؟ یعنی سب سے پہلے اس کی وجوہ کو کھوجنا ہو گا۔ تب اس کے تدارک پر بات ہو گی کہ مارپیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ کیے بنا بچے کو روکا کیسے جائے۔ اس میں بائیولوجیکل، ڈویلپمنٹل، نفسیاتی و حسّیاتی وجوہ حائل ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے تا کہ ایسے بچے کی مدد کی جا سکے۔ اسے ایک مختلف طرزِ عمل پر آمادہ وشِفٹ کیا جا سکے۔ذیل میں درج وجوہات کو خوب توجہ سے پڑھیں، اور دل و دماغ کو پہلے اِس پہلو پر تربیت /گرُوم کریں کہ بچے ایسا کرتے کیوں ہیں۔ تب اس مسئلہ کے حل پر بات ہو گی۔

بچے کیوں مارتے ہیں؟ پہلی وجہ: حِسّی یعنی Sensory
حسیاتی وجہ سے مراد ہے کہ بعض بچوں میں محسوس کرنے، چھونے، اور ایکسپلور کرنے کا مادّہ دیگر بچوں یا ایک عام انسان سے نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ نتیجتاً، وہ گردوپیش میں موجود اشیا کو دانتوں سے کاٹنے، منہ میں چبانے، بھینچنے، چبھونے، دھکا دینے کے مظاہرے کرتے نظر آئیں گے۔ یہی سب کچھ وہ دوسرے بچوں پر بھی ایپلائی کر سکتے ہیں۔ ایسا رویّہ و طرزِ عمل بالعموم ایک مخصوص عمر تک محدود ہو سکتا ہے۔ ذرا زیادہ وقت بھی لے سکتا ہے۔ حل کیا ہے؟ ایسے بچوں کومدد کی ضرورت ہوتی ہے کہ کیسے وہ اِن ضروریات کو پورا کر سکیں۔ جیسے: اِن بچوں کو بھینچ کر پیار کرنا، اور ایسے کھلونوں اور کھیلوں کے ساتھ مشغول کرنا ضروری ہے جو اِن کی حسیاتی ضرورتوں کی پیاس بجھا سکیں۔ سات برس تک کی عمر کے بچوں کے ساتھ ہر روز کچھ دیرکھیلنا اورانہیں کھیل کے مواقع فراہم کرنا اہم ترین بات ہے۔ تحریر کے اِس حصے سے آگے کچھ تدابیر شیئر کی گئی ہیں۔

بچے کیوں مارتے ہیں؟ دوسری وجہ: تجسّس
بچہ اس دنیا میں نیا نیا وارد ہوا ہے۔ اس کے معصوم ذہن میں سوالات ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اگر میں اپنے جسم کو یوں حرکت دوں، تب کیا ہو گا؟ اگر اِس شے کو دھکّا دوں، یا نیچے گرا دوں، یا اس پر بوجھ ڈالوں، یا بھینچوں، یا دانتوں سے کاٹوں، تب کیا ہو گا؟ اِس ذہنی رویے کا نشانہ گردوپیش میں موجود دوسرے بچے بھی بن سکتے ہیں۔ حتٰی کہ بعض بڑے بھی۔ بظاہر یہ وجہ پہلی وجہ کیساتھ منسلک ہے۔ تاہم، یہاں فوکس تجسس اور سوال پر ہے، جبکہ وہاں فوکس حسیاتی مادّے کا زیادہ مقدار میں پایا جانا ہے۔ اب یہاں بھی ضرورت ہے کہ ایسے بچے پر کام کیا جائے ۔ اسے کسی طور بتایا جائے کہ معاشرتی اعتبار سے قابلِ قبول رویّہ کیا ہے۔تحریر کے اِس حصے سےآگے کچھ تدابیر شیئر کی گئی ہیں۔

بچے کیوں مارتے ہیں؟ تیسری وجہ: توانائی
چھوٹے بچے بکری کے بچے یا کتّے کے پِلّے کی مانند اپنے اندر توانائی لیے ہوتے ہیں۔ وہ ہر روز کچھ دیر ذرا سے جنونی انداز میں اچھل کُود کرتے نظر آئیں گے، اور اپنی حسیاتی ضروریات کو پورا کرنے، کرتب دِکھا کر کارنامہ انجام دینے اور اس پر تحسین کی خواہش لیے نظر آئیں گے۔ اس انرجی کے اخراج کے لیے باقاعدہ اہتمام کرناہو گا کہ بچوں کو مثبت انداز کی سرگرمیاں میسر آئیں، جیسے پارک میں لگے جھولے، سلائیڈز وغیرہ جہاں اچھل کُود اور شور شرابا کرنے میں کوئی شے مزاحم نہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ تھک جائیں۔ جب یہی کچھ گھر اندر برپا ہوگا تو نری تخریب کاری بن کر رہ جائے گا۔ پہلے سات برس اسے برداشت بھی کرنا ہو گا، مثبت انداز کی سرگرمیاں مہیا کرنا ہوں گی، اور درست رویّے اپنانے کو ذرا سمارٹ انداز میں رہنمائی بھی دینا ہو گی۔

بچے کیوں مارتے ہیں؟ چوتھی وجہ: بذریعہ زبان اظہار نہ کر سکنے کی رکاوٹ
بچے جب تک اپنے جذبہ و احساس کو زبان دے سکنے کے قابل نہیں ہو جاتے، وہ جسمانی حرکات و سکنات کو اپنا ذریعہ اظہار بناتے نظر ائیں گے۔ یہ ایک طرح کا کمیونیکیشن ہے۔ مارنا بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ توجّہ حاصل کرنا، اپنی ضرورت پوری کرانا، یا کسی بات پر احتجاج ریکارڈ کرانا مقصد ہے۔

بچے کیوں مارتے ہیں؟ پانچویں وجہ: نفسیاتی
یعنی خلافِ خواہش بات پر غیر ضروری اشتعال، یا اداسی، ناکامی، خوف، حسد، جذبہِ مسابقت، اور بھوک لگنے پر چڑچڑاہٹ وغیرہ۔ بچہ ہِٹ کرتا ہے چونکہ اُس کے ہاں اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں پایا جاتا۔ شومئی قسمت، اُدھر والدین کے ہاں بھی اگر آپشنز نہ ہوں کہ ردّ عمل میں ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کے علاوہ بھی کسی طور نبٹا جا سکتا ہے تو معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے۔

حل کیا ہے؟ سوال و جواب کی طرز پر ریفلیکٹو گفتگو کرنا، اور ایسا بار بار کرنا؛ کسی ایک بچے کی طرفداری ہر گز نہ کرنا، بلکہ بچوں کو ایکدوسرے سے جدا کر لینا۔ جس چیز پر جھگڑا ہے اُسے اپنے قابو میں لے لینا۔ بچوں کو مخالف اطراف میں جانے کا کہنا، اوربعد میں گفتگو کرنا اور قائل کرنا کہ کیوں نہیں مارنا، اور مارنے کی بجائے کیا کرنا ہے ـــ جیسے یہ جملے بار بار ادا کرنا: "منہ سے بول کر بتایا کریں"، یا "مارنے سے pain ہوتا ہے"؛ تھوڑی منصوبہ بندی کر رکھنا کہ بچوں کو کن سرگرمیوں میں مشغول رکھنا ہے، اندازے قائم کرنا کہ فلاں وقت میں فلاں بچہ کس سیچوئیشن میں ہو گا اور کس چیز کی ضرورت ہو گی؛ خود بچوں کے ساتھ کچھ دیر کھیلنا؛ پارک وغیرہ میں لے جا کر اُنہیں موقع دینا کہ وہ اپنی توانائی مثبت طور کنزیوم کر سکیں؛ چھوٹے چھوٹے قوانین یعنی رُولز بنا کر بچوں سے اُن پر بات چیت کرنا، ایسا بار بار کرنا؛ چیخنے چلانے والے ردّعمل سے سخت پرہیز برتنا، اور سزا سناتے وقت بھی لب و لہجہ کو نارمل رکھنا؛ سزا کا مطلب ہے بچے سے کوئی privilege واپس لے لینا ــــ جیسے کھلونا، یا کوئی اور چیز؛ "ایسا مت کرو" جیسے منفی جملے بولنے سے گریز، اور اس کی بجائے درست طرزِ عمل اختیار کرنے پر رہنمائی دیتے مثبت جملے ادا کرنا، یعنی بچہ جان لے کہ اُسے کیا کرنا ہے۔

اب ذرا مزید وضاحت۔
پہلی بات: ردّ عمل بچے کے طرزِ عمل پر نہیں، اس کے احساس پر دینا ہوتا ہے۔ جہالت یہ ہے کہ آپ پھٹ پڑیں، مارپیٹ پر اُتر آئیں، یا گالی گلوچ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کریں۔ بچہ بھی یہی کچھ سیکھے گا، اور اگلے وقوعے میں ایگریشن کا اظہار ہی کرے گا چونکہ اُس نے آپ سے عملاً یہی کچھ سیکھا۔ اِس جہالت کے مقابل تعلیم وتہذیب پر مبنی رویّہ یہ کہتا ہے کہ آپ:
اس کی وجوہ کو بہ نظرِغائر دیکھیں۔ ان وجوہ کودل و دماغ میں سختی سے جما کر رکھیں۔ مسٹر اینڈ مسز اس موضوع پر آپس میں بات چیت کریں۔ ایکدوسرے سے سوال کریں، بجائے ایکدوسرے پر الزام تراشی کے۔ سات برس تک کے بچے سے آپ ہر روز یہ توقع کریں، اور اس خاطر ذہنی طور پر تیار رہیں۔

خود کو ایجوکیٹ کر لیں کہ ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کے علاوہ آپشنز کیا ہیں جن کے ذریعے بچے کی مدد کرنا ہے تا کہ وہ اس رویّے سے باہر آ سکے۔ بچے کا دوسرے بچوں کیساتھ تصادم ختم یا کم ہو جائے۔ بچے کے معصوم ذہن کو چھوٹے چھوٹے hooks دینا ہوتے ہیں۔ یہ بچہ کل صبح، اور پرسوں ، اور اس سے آگے بھی یہ سب کچھ دوہرائے گا چونکہ ہِٹ کرنا اس کی دنیا میں کمیونیکیٹ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

دوسری بات: رسپانڈ کرنے/ ردّ عمل دینے کے طریقے
اب، ردّ عمل اگر اس کے طرزِ عمل پر نہیں دینا تو اس کے باطن میں برپا جذبہ و احساس کو کیسے رسپانڈ کیا جائے؟
راقم نے اپنی تحاریر اور گفتگو میں متعدّد بار عر ض کیا ہے کہ سات برس تک کا بچہ نہیں جانتا دوسروں کے احساسات کیا ہوتے ہیں۔ یہ بول کر بتانا پڑتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ریفلیکٹو گفتگو کرنا ہوتی ہے، اور اکثر اُس وقت جب بچہ نارمل مُوڈ میں ہو۔ آج دو عدد واقعات ہو چکے۔ آپ نے بچوں کو ایکدوسرے سے جدا کر لیا تھا۔ کل یا پرسوں دوبارہ ویسی ہی صورتحال متشکّل ہو گی۔ چنانچہ آپ حفظِ ما تقدّ م کے طور پر درج ذیل نکات پر عمل کریں:

پہلا: ریفلیکٹو گفتگو
بچے کو الگ سے بٹھا کر بات کریں۔ "آپ یہاں آئیں۔ مجھے کچھ بات کرنی ہے۔ آپ نے اپنی بہن کو مارا تھا؟
بچہ: اس نے میری گاڑی لے لی تھی۔وہ مجھے اچھی نہیں لگتی۔ میں پھر ماروں گا۔
آپ: ہاں جب کوئی گاڑی لے لے تو غصہ تو آتا ہے۔۔۔(یعنی پہلے بچے کی کیفیت کو ایکنالج کریں)۔لیکن کیا اُس نے آپ کو مارا؟ دیکھیں، مارنے سے pain ہوتا ہے۔ وہ رو پڑی تھی۔
بچہ: اس نے میری گاڑی کیوں لی؟
آپ: میں نے اس کو بتایا ہے کہ آپ کی گاڑی نہ لے۔ اور پہلے پرمِشن لیا کرے۔لیکن کیا اس نے آپ کو مارا تھا؟
نہیں۔
آپ: تو آپ نے بھی اس کو نہیں مارنا۔مارنے سے سخت pain ہوتا ہے۔اگر کوئی آپ کو مارے تو آپ کو کیسا لگے گا؟
بچہ: مجھے غصّہ آگیا تھا۔بس وہ میری گاڑی نہ لیا کرے۔ ورنہ میں ماروں گا۔
آپ: اگر کوئی آپ کو تھپّڑ مارے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ پین ہوگا نا؟ اِس لیے ہاتھ سے مارنا، یا دھکّا دینا سخت بری بات ہوتی ہے۔آپ اچھے بچے ہو۔ اچھے بچے ہاتھ نہیں چلاتے۔ آپ صرف یہ کہا کریں: میری گاڑی نہیں لو۔ واپس کرو۔آپ وہیں جم کر کھڑے ہو جایا کریں، اور مجھے آواز دیا کریں۔ہاتھ روک لیا کریں، اور منہ سے بولا کریں۔
بچہ: مجھے غصّہ آ گیا تھا۔ اُس نے میری گاڑی ۔۔۔
آپ: لیکن مارنے سے سخت pain ہوتا ہے، اور پھر سزا بھی ملتی ہے۔ منہ سے بول کر بتایا کریں۔ اچھا میں آپ کو دو طریقے بتاتی ہوں:
پہلا طریقہ: جب آپ کو غصّہ آجائے تو آپ کیا کریں گے؟ دونوں ہاتھ آپس میں یوں باندھ کر سٹیچو بن جائیں گے (بچے کے معصوم ذہن کو چھوٹے چھوٹے hooks دینا ہوتے ہیں) ۔ایک جگہ جم کر کھڑے ہو جائیں۔ پھر مجھے آواز دیا کریں۔ میں بھاگ کر آجاؤں گی۔
اب دوسرا طریقہ: جب زیادہ غصہ آئے تو آپ بھاگ کر اپنے کمرے میں جائیں گے۔ وہاں تکیے کو ٹَین 10 مکّے مارا کریں گے، خوب زور سے۔ بلکہ 20 مُکّے مارا کریں تا کہ غصّہ نکل جائے۔ لیکن بہن کو نہیں مارنا۔ مارنے سے سخت پین ہوتا ہے۔اور سزا بھی ملتی ہے۔اب اگر مارا تو سزا ملے گی۔ پھر میں آپ کی گاڑی لے لوں گی۔ تب آپ بھی نہیں کھیل سکو گے۔"
یہ ہوتی ہے ریفلیکٹو گفتگو۔

دوسرا نکتہ: ایسے بچے کو کہانیاں سنائیں جس میں آپ مطلوبہ کردار اسی طور ڈویلپ کریں۔ کہانی کے ہیرو میں ایک آدھ بری عادت ڈال دیں۔ تب بتائیں کہ کیسے ہیرو نے اپنی اُس عادت پر قابو پایا۔

تیسرا نکتہ:
1۔ نظر رکھیں کہ کب ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
2۔ دونوں بچوں کو الگ الگ ایکٹوٹیز میں مشغول کرنے کا اہتمام کریں۔
3۔ جب بچے اکٹھے نظر آئیں تو خوشگوار انداز میں بلند آہنگ ہو کر فیملی رُولز اناؤنس کر دیں، یعنی ریمائنڈر دینا ہے۔
3۔ بچّہ پھر بھول جائے گا۔ آپ دوبارہ ریفلیکٹو گفتگو کریں۔ سوال و جواب چلائیں، اور ہر گز مایوس نہ ہوں۔ ایک تدبیر ایک بار کارگر نہیں ہوئی تو اس کا یہ مطلب نہیں آپ اپنے پرانے/ جاہلانہ طور طریقوں پر لوٹ جائیں۔
4۔ تیسری بار ہو تو آپ بچے سے اس کا کھلونا لے کر چھپا دیں۔ کچھ دیر رو لینے دیں۔ اور اپنی بات دوہراتے رہیں، تا کہ اس کو غلط طرزِ عمل کے نتائج از بر ہو جائیں۔ ہر گز کمپرومائز نہ کریں۔ اسے بتائیں کہ اس کی گاڑی تین گھنٹوں کے بعد واپس ملے گی۔ اپنا لب و لہجہ نارمل رکھیں۔ چیخنے چلّانے سے سخت پرہیز برتیں۔وہی جملے بار بار دوہراتے رہیں۔

چوتھا نکتہ: سات برس تک کے بچوں میں انرجی بھری ہوتی ہے جس کا اظہار وہ جسمانی اچھل کُود کے ذریعے ہی کیا کرتے ہیں۔ سات برس تک کے بچوں کو متواتر پارک وغیرہ تک لے کر جانا، اور گھر میں بھی سرگرمیوں اور کھلونوں کی دستیابی کا اہتمام ۔ نیز، ساتھ مل کر کھیلنا۔

اس سلسلہ میں راقم کی تحریر "غصّے میں بپھرے بچوں سے نبٹنا" ضرور پڑھیں۔اس میں بچوں سے گفتگو کا طریقہ زیادہ تر وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ




Like - Comment - Share
Learn & Play

01/04/2021

اللہ کو نا پسند لوگ!




Like - Comment - Share

Learn & Play

31/03/2021

جہالت اور جاہلوں سے بچنے کی قرآنی دُعا!




Like - Comment - Share
Learn & Play

30/03/2021

قضائے حاجت روک کر نماز پڑھنا!




Like - Comment - Share
Learn & Play

29/03/2021

بہن اور بیٹی کے رشتے کا تقدّس!




Like - Comment - Share
Learn & Play

27/03/2021

سونے سے قبل بستر جھاڑیں اور دُعا پڑھیں!

سونے سے قبل بستر جھاڑیں اور دُعا پڑھیں!




Like - Comment - Share
Learn & Play

26/03/2021

پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنا عذابِ قبر کا سبب!




Like - Comment - Share
Learn & Play

25/03/2021

موسمِ سرما کے فوائد!




Like - Comment - Share
Learn & Play

24/03/2021

گیس اور ہیٹر کے حادثات سے بچاؤ!




Like - Comment - Share

Learn & Play

Want your school to be the top-listed School/college in Arifwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


C Block
Arifwala

Opening Hours

Monday 08:30 - 12:30
Tuesday 08:30 - 12:30
Wednesday 08:30 - 12:30
Thursday 08:30 - 12:30
Friday 08:30 - 12:30
Saturday 08:30 - 12:30
Sunday 08:30 - 12:30