IQRA Schools Thana Ahmad Yar

IQRA Schools Thana Ahmad Yar

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from IQRA Schools Thana Ahmad Yar, High School, Thana Ahmad Yar, Arifwala.

IQRA School aims to establish institutions that intend to build a generation of practical Muslims having abilty to lead in every sphere of life as ambassadors of islam and representatives of Muslim Ummah.

12/09/2022

ہمارے سکولوں میں بچے چیٹنگ کیوں کرتے ہیں؟
کیا ہم اپنے بچوں کو یہ تک بھی سکھا نہیں سکتے کہ جتنا پیپر یا ٹیسٹ تمہیں آتا ہے۔ تم نے صرف وہی لکھنا ہے۔ نہ تو کسی دوسرے بچے کا پیپر دیکھنا ہے۔ نہ کسی سے کچھ پوچھنا ہے۔
مجھے سمجھ نہیں آتی۔ جو بچے دس سال کی عمر میں ایگزیمز میں دوسرے بچوں کی نقل کر رہے ہیں۔ وہ بڑے ہو کر کیسے معاشرے کیلیے کار آمد وجود بن سکتے ہیں؟
ہماری قوم کی تنزلی اور ترقی نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارا بچہ خود نہیں سوچ رہا۔ وہ بس دوسرے بچوں کی نقل کیے جا رہا ہے۔
بہت افسوس ناک صورتحال ہے۔

01/12/2021

جتنا وقت ہمارے ادارے بچوں کو سائنس پہ مسلمانوں کے احسانات یاد کروانے میں لگاتے ہیں اس سےنصف بھی سائنس سیکھانے پہ لگائیں تو ہم بھی دیگر اقوام کیطرح اس میدان میں ترقی کر سکتے ھیں!
اور جدید علوم کو سیکھنے کا واحد طریقہ یہ ھے کہ انکو مقامی زبان میں منتقل کیا جائے تاکہ ہر عام و خاص ان سے فائدہ اٹھا سکے ۔۔۔۔۔۔

26/09/2020

1092 نمبر کے باوجود کوئی آئن سٹائن نیوٹن کیوں پیدا نہیں ہوتا؟

👈جب جب رزلٹ جاری ہوتا ہے کچھ حضرات کا صرف یہی کمنٹ ہوتا ہے۔۔۔
پہلی بات تو بہت آسان ہے کہ آئن سٹائن ،نیوٹن یا جابر بن حیان کوئی خود نہیں بن سکتا۔۔۔ایک انسان کو اس مقام تک پہنچانے والے اساتذہ،والدین اور سب سے بڑھ کر معاشرہ اور معاشرے کا نظام ہوتا ہے۔
سب سے پہلے تو سوال کیجیے خود سے کیا آپ ان بچوں کو وہ سسٹم مہیا کر رہے ہیں جن میں بچے کی گرومنگ اس انداز میں ہو کہ وہ عملی طور پر کچھ بڑا کر سکے؟
👈کیا آپ بچے کو وہ مواقع دے رہے ہیں جن میں وہ تھیوری سے نکل کر پریکٹیکل پر فوکس کر سکے؟
کیا آپ بچے کو وہ moral values اور ethics سکھا رہے ہیں جو ایک مہذب معاشرے کا اوڑھنا بچھونا ہوتے ہیں؟
کیا آپ اپنے بچے کو ان نمبروں کی ریس سے نکالنے کےلیے عملی اقدامات کر رہے ہیں یا پھر یہ نعرہ محض ایک Jealousy والا نعرہ ہے کہ اگر ہمارے بچے،بہن یا بھائی کے نمبر اتنے ہوتے تو ہم ڈھول بجاتے اور اگر کسی اور کے آ گئے تو اس کو داد دینے کی بجاۓ اس بچے پر طنز ۔۔

👈یقین کیجیے ہمارے بچوں کو جس dimenion میں آپ دوڑا رہے ہیں وہ اس میں اپنا 100% دے رہے ہیں۔آپ نے بچپن سے بچے کے ذہن میں ڈالا کہ اگر ڈاکٹر انجینئر بننا ہے تو اچھے مارکس لینے ہیں تو بچہ مارکس کےلیے جان مارے گا اور بلاشبہ ہمارے بچے جان مارتے بھی ہیں۔تو جب بچے کو بطور سوسائٹی آپ نے مارکس کے پیچھے دوڑایا ہے تو اسے کامیابی پر طنز کا نشانہ بنانے کی بجاۓ گلے لگائیں۔

👈بچے پر طنز کر کے اسے یہ کہہ کر کہ نیوٹن تو نہیں پیدا ہو رہا آپ اپنے معاشرے کا وہ چہرہ سامنے لا رہے جو اچھالنا نہیں چاہیے۔۔۔بطور سسٹم اگر آپ میں کمیاں کوتاہیاں ہیں تو ان کو دور کر کے ایک نئے سرے سے سسٹم کو ترتیب دیں۔بچے کو ڈاکٹر انجینئر کی دوڑ سے نکال کر زندگی کے گر سکھائیے۔۔۔۔بچے کو سکلز سکھائیے۔۔۔۔بچے کو اس کے شوق کے مطابق اس کی ذاتی راۓ والی فیلڈ میں پراگریس پر گریڈنگ دیجیے۔۔۔۔بچے کو بزنس آئیڈیاز اور نئے سٹارٹ اپ کے گر سکھائیے۔۔۔۔جب آپ کلاس روم سے گھر تک صرف مارکس مارکس اور مارکس کا کہیں گے تو وہ مارکس لاۓ گا اب اس پر رونا دھونا کہ نیوٹن لاؤ آئن سٹائن لاؤ۔۔۔محض بے وقوفی ہے۔۔اب ایک ماں بچے کو چینی لینے بھیجے اور بچہ چینی لاۓ تو ماں کا فرض ہے نا کہ وہ رونے بیٹھ جاۓ کہ ہاۓ نمک کیوں نہیں لاۓ۔۔۔۔ذرا سوچیے ہم ایسا ہی تو کر رہے ہیں۔۔۔۔

👈لہذا دل بڑا کیجیے اچھے مارکس پر بچے کو حوصلہ دیں۔اور کم مارکس والے بچے کی بھی دل شکنی نا کریں۔اس سسٹم کو اس معاشرتی سوچ نے تبدیل کرنا ہے۔اگر آپ کو جابر بن حیان کی ضرورت ہے تو سب سے پہلے تعلیم سے کمرشلزم کو نکالیے۔۔۔۔پھر نمبروں کی بجاۓ سکلز پر بچوں کو گریڈ کرنے کا فارمولا بنائیے اور آہستہ آہستہ نئے معاشرے میں قدم رکھیے۔۔۔میرا یقین ہے جب آپ پریکٹیکل سکلز میں بچوں کو دوڑائیں گےتو لوگ ایجادات اور ٹیکنالوجی میں آئن سٹائن کو بہت جلد بھول کر پاکستانی عظیم بچوں کے گن گائیں گے۔

👈یہ مٹی۔۔۔۔۔ٹیلنٹ سے بھرپور ہے بس ضرورت ہے تو ٹیلنٹ کےلیے سازگار ماحول مہیا کرنے کی۔۔۔۔۔۔!!!

پاکستان زندہ باد

15/09/2020

السلام علیکم

*الحمدللہ*

ایک طویل بندش کے بعد سکول آج دوبارہ سےکھل رہے ہیں اے میرے پروردگار ہمارے پھول جیسے بچوں، اساتذہ اور سکول انتظامیہ کو ہر قسم کی بیماری سے بچا اور تعلیمی نظام کو ایک نئے جذبے سے شروع کرنے کی توفیق عطا فرما، اور اسکو ہم سب کیلئے آسان فرما

*آمین*

13/09/2020

اقراسکولز کاقیام۔۔۔پسِ منظر۔۔۔
🌄دورِحاضر کی اہم ضرورت🌅
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقوام عالم کی ترقی و خوشحالی میں انفرادی و اجتماعی سطح پر جس چیز کا سب سے زیادہ کردار رہا وہ تعلیم ہی ہے-بدقسمتی سے اس حوالے سے ارض پاک کا تصور ہمیشہ سے بانجھ پن والا رہا-طبقاتی نظام تعلیم نے ملا و مسٹر کی اصطلاح قائم کر کے ایک ایسی لکیر کھینچ دی ہے جس نے دین داری و بے دینی اور ضلالت و صداقت کی حدوں کو چھو دیا-جس سے سادہ لوح مسلمانوں کے لیے زبردست نفسیاتی مسئلہ پیدا ہو گیا کہ وہ دینی و دنیاوی میں سے ایک تعلیم کا انتخاب کریں- اگر وہ دنیا کا انتخاب کرتے ہیں جیسا کہ عموماً ہوتا ہے اور جس کے متعلق خود قرآن کہتا ہے *(بل تؤثرون الحیوة الدنيا)* تو اس آخرت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جس کے متعلق قرآن نے کہا *(والآخرة خیر و ابقی)* یہ طبقاتی نظام تعلیم ہی کے اثرات ہیں کہ لوگ نہ صرف سکول و مدرسہ کے حوالے سے مختلف رائے رکهتے ہیں بلکہ اپنے تجربات سے بهی وہ انہیں دو الگ راہیں سمجھتے ہیں-ایسے میں ضرورت اس امر کی تهی کہ طبقاتی نظام تعلیم کی اس فرسودہ رسم کا خاتمہ کیا جائے اور ایک ایسا ہمہ گیر تعلیمی و تربیتی نظام متعارف کروایا جائے جو جہاں نئی نسل کو اخروی نقطہ نظر سے دینی ، عملی و نظریاتی راہ دے سکے وہیں انہیں دنیا میں بهی با عزت و قابل قدر مقام دلا سکے-
💐🎓ہماراویژن🌷📚
Pehly Deen Phir Duniya
Pehly Tarbiat Phir Taleem.
Principal.

23/08/2020

👈ساری قوم کے منہ پہ طمانچہ مارا گیا کہ جس قوم کے مذہب کا آغاز اور بنیاد " اقراء "یعنی پڑھنے کے حکم سے ہے اس کے لیے اس دورِ ظلمات میں پڑھنا جرم قرار دیا گیا ہے ۔
👈مت بھولنا کہ
ان بطش ربک لشدید . . .

24/07/2020

👈تعلیم_کاپیغام
محترم والدین حالات کسی بھی نہج پر پہنچ جائیں ، کورونا سے پیدا ہونے والی صورت حال ان شاء اللہ ضرور بدلے گی اور زندگی پھر سے رواں دواں ہوگی۔ اس صورت حال سے مایوس مت ہو جائیے گا۔امید کی شمع جلا کے رکھیےگا.

اپنے حصے کا کردار ادا کیجیے۔ تعلیم کی فراہمی میں مشکلات ضرور آئی ہیں، لیکن یہ مشکلات جلدٹل جائیں گی اورعلم کی کرنیں پوری آب و تاب سے چہار سو پھیلیں گی۔

اسکول کھل جائیں گے ، بچے پھر سے بستے بغل میں لیے اسکول کی جانب گامزن ہوں گے۔

اس مشکل وقت میں ثابت قدم رہیے ۔ یہ آپ کے بچے کے سنہری مستقبل کا سوال ہے۔

اس مشکل وقت میں آپ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس پیغام کو عام کرنے کے لیے شیئر کیجیے۔ شکریہ

30/05/2020

⁦••⁩◍☆⁩ " #اقرا " چار الفاظ کا ایک لفظ ہے......
⁦••⁩◍☆⁩ اور یہ چار لفظ چار باتوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔

⁦••⁩◍☆⁩ " الف ".......... اللّٰہ
⁦••⁩◍☆⁩ " ق ".......... قران
⁦••⁩◍☆⁩ " ر ".......... رسول ( ﷺ)
⁦••⁩◍☆⁩ " الف ".......... انسان

⁦••⁩◍☆⁩ یہ آخری " الف " ہمیشہ پہلے " الف " کی جستجو میں رہتا ہے اور یہ اسے تب تک نہیں پاسکتا جب تک قرآن پاک کی تعلیمات جو کہ حضور ﷺ کا عملی طرز زندگی ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، اُسے دل سے تسلیم نہیں کر لیتا، ان سے محبت نہیں کرتا_!!! ☆⁩◍••

⁦••⁩◍☆⁩ جب وہ رب ذوالجلال والاکرام معجزے کرنے پر آتا ہے نا
تو ساری کائنات کُن_فیکوُن کی تسبیح کرتی ہے۔ ••◍☆⁩

⁦••⁩◍☆⁩ سبـــــحان_اللّٰہ_وبحمدہ_سبحان_اللّٰہ_العظیم ••◍☆⁩

20/05/2020

👈محترم والدین
آپ کے بچے ہمارے پاس پرائیویٹ سکولوں میں عرصہ دراز سے پڑھ رہے ہیں۔ یہ آپ کا ھم پر اعتماد ھے کہ آپ نے اپنی عزیز ترین متاع اور اپنا مستقبل ہمارے حوالے دھائیوں سے کر رکھا ھے۔ ھم اس پر آپ کے انتہائی شکر گزار ہیں۔ ھم اچھا پڑھا رہے ہیں یا برا پڑھا رہے یہ فیصلہ آپ کے سپرد ھے۔ یقینا" کوئی ماں باپ اپنی اولاد کو کسی مافیا کے پاس تعلیم تربیت کے لیے نہیں بھیج سکتا۔ انسان تو خیر ھے ہی اشرف المخلوقات ھے۔۔۔۔قدرت بھی ھمیں دکھاتی ھے کہ کوئی جانور بھی اپنی اولاد کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔اور اپنی اولاد کو ھمیشہ وہ ماحول دیتے ہیں جہاں ان کے بچوں کی ذندگی کو امان ملے
👈محترم والدین
اس وقت پوری دنیا ایک وبائی مرض کے نرغے میں ھے۔ جس کی وجہ سے باقی کاروبار زندگی کی طرح آپ کے بچوں کے سکول بھی اچانک بند کر دئیے گئے ہیں۔ھم جانتے ہیں کہ سوائے سرکاری ملازمین یا بیرون ملک بسنے والے والدین کے علاؤہ تمام والدین اس لاک ڈاؤن سے شدید متاثر ھوئے ہیں۔ مسلسل دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد حکومت نے سکولوں کو چھوڑ کر باقی تمام شعبہ ذندگی کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی شروع کر دی ھے۔ تمام کاروبار اور فیکٹریاں کھل چکی ہیں۔ جبکہ سکولوں کو یکم جون سے کھولنے کی بجائے 15 جولائی کو کھولنے کا عندیہ دیا ھے۔ جبکہ دبے دبے الفاظ میں بتایا جا رہا ھے کہ شاید 15 جولائی کو بھی سکول اوپن نہ کیے جا سکیں۔
👈محترم والدین
سکول بند ھونے کے باوجود ھمیں مسلسل یوٹیلیٹی بلز بھی مل رہے ہیں۔ ہمیں باقاعدہ ٹیکس بھی ادا کرنے پڑ رھے ھیں۔ ھمیں کوئی بلڈنگ کا کرایہ بھی معاف کرنے کو تیار نہیں ھے۔ اوپر سے ہمارے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے ہماری بھی ضروریات ہیں۔۔۔۔ ہمارے لاکھوں سٹاف کے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے۔۔۔۔وہ بھی انسان ہیں سب سے بڑھ کر وہ آپ کے بچوں کے استاد بھی ہیں ۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کے بچے کی فیس سے ہی سکول چلتے ہیں۔ کسی پرائیویٹ سکول کو نہ کوئی حکومتی امداد ملتی ہے نہ کسی این جی اوز کی نظر کرم اس شعبہ پر پڑتی ھے۔ این جی اوز کے بارے میں آپ خوب جانتے ہیں کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر پر کیوں کر مہربان ھوں گے کیونکہ ھم نے اس گئے گزرے دور میں بھی آپ کے بچوں کو اسلام اور نظریہ پاکستان سے کماحقہ جوڑ رکھا ھے۔۔۔۔ ھم آج بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر پہرہ دے رہے ہیں۔۔۔۔ ھم آج بھی اپنے بچوں کو صحابہ کرام اہلبیت عظام اور اولیائے کرام کے اسباق پڑھا رہے ہیں اور ھم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ھم مستقبل میں بھی سکول بند کر دیں گے لیکن کسی این جی اوز کے چند ٹکوں پر اسلام اور نظریہ پاکستان کا سودا نہیں کریں گے۔
👈محترم والدین
ان گونا گوں حالات میں ھم یکم جون سے حکومتی وعدے کے مطابق سکول کھولنے کا مطالبہ کریں تو کہا جاتا ھے کہ آپ کو ہمارے بچوں کی ذندگی کی پرواہ ہی نہیں ھے۔
محترم والدین کیا آپ اکیلے اپنے بچوں کے والدین ہیں؟؟؟ کیا اللہ نے ایک استاد کو اپنے شاگردوں کا روحانی باپ نہیں کہا ھے؟؟؟؟ کیا ہمارے بچے آپ کے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں پڑھیں گے؟؟؟ ھم اگر فیس کا مطالبہ کریں تو آگے سے کہا جاتا ھے سکول بند ہیں فیس کس بات کی ھے۔۔اور پھر ھمیں لالچی اور پتہ نہیں کیا کیا خطاب دیئے جاتے ہیں
ھم اگر فیس دینے کا حکومت سے مطالبہ کریں تب بھی آپ تماشہ دیکھتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتا دیں کہ ھم کدھر جائیں؟؟؟ کیا یہ چھٹیاں ھم نے دی ہیں؟؟؟ کیا یہ وباء ھم نے پھیلائی ھے؟؟؟ یا پھر ھم آپ کے بچوں کے سکول بند کر دیں اور آپ کے بچوں کے اساتذہ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیں؟؟؟ خدارا اپنی ذات سے کچھ آگے سوچیں۔۔ ھمیں آپ کی ضرورت ھے ۔۔۔۔پلیز اپنے بچوں کی خاطر ھمارا ساتھ دیں ھم سب جانتے ہیں کہ حکومت ہر بچے کی تعلیم کی زمہ دار ھے۔۔۔ ریاست تو ماں جیسے ھوتی ھے۔ اب تو حکومت مختلف محکموں کو بونس تنخواہیں دینے کا اعلان کر رہی ھے۔۔۔ ہر شعبے کے لیے مراعات کا اعلان کر رہی ھے۔۔۔ اربوں روپے کی بیرونی امداد اللوں تللوں میں بانٹ رہی ھے۔۔۔ کیا وہ حکومت آپ کے بچے کے سکول کے اخراجات صرف دو چار ماہ کے لیے نہیں اٹھا سکتی؟؟؟ ھم سکول اونر جیسے تیسے اپنی زندگی گزار لیں گے۔ ھم پر ایک پیسہ بھی کسی امداد کا حرام ھے۔ ھمیں صرف اساتذہ کرام کی تنخواہیں بلڈنگز کے کرایے اور یوٹیلیٹی بلز سرکاری خزانے سے ادا کیے جائیں جہاں ہمارے اربوں روپے سود کھانے کے لیے عرصہ دراز سے پڑے ھوئے ہیں۔
👈محترم والدین
جس طرح آپ نے ہمارے اوپر اعتماد کر کے اپنے جگر گوشے ہمارے حوالے کیے ہیں آج بھی ھم پر اعتماد کریں
آئیں ہمارے ساتھ مل کر اپنے بچوں؛ ان کے سکولوں اور ان کے اساتذہ کے لیے آواز اٹھائیں تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ قوم کے ان بچوں کا بھی کچھ خیال کرے جو اپنا حق رکھتے ہوئے بھی کبھی سرکاری خزانے پر بوجھ نہیں بنے اور آج دن تک اپنی مدد آپ کے تحت علم حاصل کر رہے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے ہر وقت حاضر ہیں . . .

19/04/2020

پرائیویٹ سکولز اونرز اور اساتذہ کون ہیں ؟؟؟؟
معزز والدین !

پرائیویٹ سکولز اونرز اور استاذہ جنہیں ہمیشہ میڈیا اور کچھ ارباب اختیار نے ایک مافیا بنا کر پیش کیا کون ہیں ؟؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں
پرائیویٹ سکولز کے اونرز وہ لوگ ہیں ۔۔۔۔
جنہوں نے آپ کے بچوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔۔۔۔۔۔ بہترین فرنیچر، کلاس رومز، سہولیات، فیکلٹی، سکیورٹی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ماحول دیا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو ضرورت پڑی تو آپ کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 4،4 ماہ کی فیسیں ادھار کیں ۔۔۔۔۔۔ بیسیوں دفعہ والدین نے اس ادھار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور سکول معہ ادھار چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے والدین پر کیس کیا نہ راستہ روکا ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سال کا کورس کمزور مالی پوزیشن رکھنے والے والدین کو ادھار دیا ۔۔۔۔۔۔ تاکہ ان کے بچوں کا حرج نہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔
پرائیویٹ سکولز اساتذہ بلاشبہ بہت کم مراعات کے باوجود دن رات آپ کے بچوں کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ۔۔۔۔۔
ڈیلی پراگریس رپورٹس، ویکلی رپورٹس، منتھلی رپورٹس، سالانہ رپورٹس، ٹیسٹ میکنگ اور چیکنگ، پلانرز، کاپیز اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے باوجود انتھک اور بے لوث لگن ۔۔۔۔۔
سب سے بڑھکر یہ گروپ یعنی اونرز اور ٹیچرز ہمہ وقت آپ کے بچوں کے روشن مسقبل کے لئے مصروف عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، بولنا اور آگے بڑھنا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ سب سر جھکا کے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ستائش ملنی چاہیئے تھی، تنقید کی گئی، حوصلہ ملنا چاہیئے تھا، حوصلہ شکنی کی گئی، تعاون ملنا چاہیئے تھا ، رکاوٹیں ڈالی گئیں مگر پھر بھی انہوں نے آپ کو بچوں کو پڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز والدین ۔۔۔۔۔
اب موجودہ حالات میں آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کا سر نہ جھکنے دیں ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگوں کی بلڈنگز کرائے کی ہیں، ہر ماہ کی دس تاریخ کو مالک بلڈنگ کرایہ لینے آجاتا یے ۔۔۔۔۔۔ یہ اساتذہ انہیں مجبوری سنائیں تو وہ بھی انہیں مافیا سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بلڈنگز سے بے دخل کرنے کا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر ماہ کے آغاز پر سکول اساتذہ انہی لوگوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بجلی، گیس، پٹرول، سکیورٹی گاردز اور نجانے کون کون سی پیمنٹس ان کی منتظر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں یہ فرمان آتا ہے ۔۔۔۔ آپ فیسیں نہ لیں ۔۔۔۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے سکول نہیں گئے تو ان کا کون سا خرچہ ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خرچے میں ایک روپے کی کمی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ الٹا جن والدین ادھار بکس لیں تھیں، 4،4 ماہ کی فیس دینی تھی وہ فون سننے کے روادار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھئے انہی لوگوں نے آپ کے بچوں کو سر اٹھا کے چلنا اور جینا سکھایا ہے اور سکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھیں اور آج ان کا سر جھکنے سے بچائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت پر اپنی فیسیں ادا کرکے اپنے بچوں کے اداروں کو بند ہونے بچائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے جو کچھ پڑھایا اور سکھایا ہے وہ اپنی تاثیر کھودے ۔۔۔۔۔!!!

Want your school to be the top-listed School/college in Arifwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Thana Ahmad Yar
Arifwala

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00