The Jinnah Middle School
High Higher still Higher mission of Jinnah
12/03/2023
Quaid day
Han yad h
سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبرات حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا۔
استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائیں اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائی وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیوں کہ وہ پٹھے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آگئی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔
جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔
میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملا سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔ ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوات اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے😥😥😥😥😭😭😭
# مشہور زمانہ بزرگ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی وفات کے بعد ان کے ایک مرید نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ کیا حال ہے ؟
انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے اپنے قریب کھڑا کر کے فرمایا
اے شبلی ! کیا تجھے معلوم ہے کہ میں نے کس عمل کی برکت سے تجھے بخش دیا ؟
*میں نے عرض کیا
اے اللہ ! آپ نے کسی نیک عمل کی برکت سے مجھے بخش دیا ہوگا ۔
اللہ تعالی نے فرمایا : نہیں ۔
میں نے عرض کیا کہ اخلاص فی العبادات کی وجہ سے ۔
فرمایا : نہیں ۔
میں نے عرض کیا کہ نیک لوگوں کی زیارت اور طلب ِ علم کے لیے دور دراز سفر کرنے کی وجہ سے ۔
فرمایا : نہیں ۔
میں نے عرض کیا کہ میں تو انہی اعمال خیر کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوں اور انہی کے وسیلہ سے آپ کے عفو و کرم کو حاصل کرنے کا حسن ِ ظن کیے بیٹھا ہوں ۔
اللہ تعالی نے فرمایا کہ ٹھیک ہے یہ سب نیک اعمال ہیں ، مگر تیری مغفرت ان اعمال کی وجہ سے نہیں ہوئی ۔
میں نے عرض کیا : اے اللہ پھر کس عمل کے طفیل میری بخشش ہوئی ؟
اللہ تعالی نے فرمایا کہ تجھے یاد ہے تو ایک مرتبہ بغداد کی ایک گلی میں جا رہا تھا ، راستہ میں ایک بلی پر تیری نظر پڑی ، جو سخت سردی کی وجہ سے حرکت کرنے سے عاجز تھی اور برف باری اور سردی کی شدت کی وجہ سے وہ دیوار سے چمٹ رہی تھی ، تونے اس پر ترس کھا کر اس کو اپنی پوستین میں چھپالیا تا کہ وہ کچھ حرارت اور گرمی حاصل کر لے ۔
میں نے عرض کیا کہ ہاں اے میرے رب مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا ہے ۔
*اللہ تعالی نے فرمایا کہ بس اس بلی پر رحم و شفقت کرنے کی وجہ سے میں نے تجھ پر رحم کیا اور تجھے بخش دیا ۔
# وما توفیقی الا باللہ...
اللہ کریم ھمیں سمجھ اور خلوص نیتی کیساتھ عمل کی توفیق عطا فرماۓ
اور ھمیں بھلائ کا عمل اپنے ارد گرد سے کرنا چاھیے...
آمین یا رب العالمین
یا ارحم الراحمین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Arifwala