15/07/2026
PECA (ترمیمی ایکٹ 2025) — ہر پاکستانی کو کیا معلوم ہونا چاہیے؟
آج کل ہماری زندگی کا بڑا حصہ موبائل، واٹس ایپ، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے PECA 2016 میں 2025 کی اہم ترامیم کی ہیں۔
اگر آپ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو یہ چند باتیں جاننا ضروری ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ یہ قانون کس لیے ہے؟
اس قانون کا مقصد:
✔ سائبر جرائم کی روک تھام
✔ آن لائن فراڈ، ہیکنگ اور بلیک میلنگ سے شہریوں کا تحفظ
✔ سوشل میڈیا پر بعض اقسام کے غیر قانونی مواد کو روکنا
✔ آن لائن شکایات کے لیے نیا نظام قائم کرنا
اس مقصد کے لیے نئے ادارے بھی بنائے گئے ہیں، جن میں سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA)، سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) شامل ہیں۔
اگر آپ سائبر کرائم کا شکار ہو جائیں تو کیا کریں؟
اگر...
✅ آپ کا فیس بک یا واٹس ایپ ہیک ہو جائے۔
✅ کوئی آپ کی جعلی آئی ڈی بنا لے۔
✅ آپ کو آن لائن بلیک میل کیا جائے۔
✅ آپ کی تصاویر یا ویڈیوز بغیر اجازت شیئر کی جائیں۔
✅ کوئی جعلی لنک یا فراڈ کے ذریعے پیسے لے لے۔
✅ کوئی آپ کو دھمکیاں دے یا مسلسل ہراساں کرے۔
تو فوراً یہ اقدامات کریں:
✔ تمام ثبوت محفوظ کریں۔
✔ اسکرین شاٹس لیں۔
✔ لنکس، فون نمبر، ای میل اور چیٹ محفوظ رکھیں۔
✔ پاس ورڈ تبدیل کریں۔
✔ اگر مالی فراڈ ہوا ہے تو فوراً بینک کو اطلاع دیں۔
✔ متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں۔
✔ سنگین معاملے میں NCCIA سے شکایت درج کروائیں۔
نئی ترمیم میں ایک اہم تبدیلی
اگر کسی شخص کے بارے میں جعلی یا جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہوں تو متاثرہ شخص نئی اتھارٹی سے درخواست دے سکتا ہے کہ وہ اس مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کا حکم دے، اور قانون کے مطابق اتھارٹی کو ایسی درخواست پر جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔
جھوٹی خبر شیئر کرنے سے پہلے سوچیں
2025 کی ترمیم کے بعد اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسی جھوٹی یا جعلی معلومات پھیلائے جس سے معاشرے میں خوف، بدامنی، انتشار یا بے چینی پیدا ہونے کا امکان ہو، تو اسے تین سال تک قید، بیس لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس لیے:
❌ ہر فارورڈ شدہ پیغام سچ نہیں ہوتا۔
❌ بغیر تصدیق کے خبر آگے نہ بھیجیں۔
❌ صرف اس لیے کسی پوسٹ کو شیئر نہ کریں کہ وہ آپ کے نظریات سے ملتی ہے۔
کن چیزوں سے بچنا چاہیے؟
❌ کسی کی جعلی آئی ڈی نہ بنائیں۔
❌ کسی کی نجی تصاویر یا ویڈیوز بغیر اجازت شیئر نہ کریں۔
❌ کسی کے بینک اکاؤنٹ، OTP یا پاس ورڈ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔
❌ ہیکنگ، بلیک میلنگ یا دھمکیاں نہ دیں۔
❌ نفرت انگیز یا تشدد پر اکسانے والا مواد شیئر نہ کریں۔
❌ ایسی معلومات شیئر نہ کریں جن کے جھوٹا ہونے کا آپ کو علم ہو یا جن کے جھوٹا ہونے کی معقول وجہ موجود ہو۔
اگر آپ پر مقدمہ بن جائے تو؟
سب سے اہم بات...
صرف شکایت درج ہو جانا جرم ثابت ہونا نہیں ہوتا۔
ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ:
✔ اسے الزام سے آگاہ کیا جائے۔
✔ وہ اپنا مؤقف پیش کرے۔
✔ وکیل کرے۔
✔ ثبوت پیش کرے۔
✔ متعلقہ فورم پر اپیل کرے۔
قانون کے مطابق تحقیقات کرنا NCCIA کا کام ہے، جبکہ فیصلے متعلقہ قانونی فورمز اور عدالتیں کرتی ہیں۔
یاد رکھنے والی پانچ باتیں
✅ ہر وائرل خبر سچ نہیں ہوتی۔
✅ اپنی ذاتی معلومات کسی سے شیئر نہ کریں۔
✅ مضبوط پاس ورڈ اور Two-Factor Authentication استعمال کریں۔
✅ ہر الزام کا جواب قانون کے ذریعے دیں، سوشل میڈیا پر لڑائی سے نہیں۔
✅ اگر آپ متاثرہ ہیں تو خاموش نہ رہیں، ثبوت محفوظ کریں اور قانونی طریقے سے شکایت کریں۔
انٹرنیٹ آزادی بھی دیتا ہے، لیکن ذمہ داری بھی۔ ایک پوسٹ، ایک فارورڈ یا ایک تبصرہ بعض اوقات قانونی نتائج پیدا کر سکتا ہے، اس لیے شیئر کرنے سے پہلے تصدیق ضرور کریں۔