17/04/2026
شیطانِ بزرگ
علی پورچٹھہ اور گردونواح میں سوشل میڈیا کے نام پر ایک ایسا کردار بھی سرگرم ہے جسے بجا طور پر “شیطانِ بزرگ” کہا جا سکتا ہے۔ ہاتھ میں مائیک تھام کر خود کو عوام کی آواز کہلوانے والا یہ شخص درحقیقت عزتیں اچھالنے اور کردار کشی کو ذریعہ معاش بنا چکا ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق یہ نام نہاد مسیحا دن رات پیسے کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ غریبوں کی آواز بننے کا دعویٰ بھی اسی وقت جاگتا ہے جب اس کے عوض چند ہزار کی خوشبو آئے۔ جو پہلے ہی حالات کا مارا ہو، اسی کو مزید استعمال کرنا اس کا ہنر بن چکا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اپنی ذات میں بے ترتیبی اور انتشار کا شکار یہ کردار دوسروں پر انگلی اٹھانے میں سب سے آگے ہے۔ سوشل میڈیا پر مائیک ہاتھ میں آتے ہی اس کی کیفیت کچھ یوں ہو جاتی ہے جیسے بندر کے ہاتھ ماچس آ جائے۔ نہ تحقیق، نہ ذمہ داری، بس الزامات، شور اور تماشہ۔
کبھی کسی ادارے کا نام، کبھی کسی شخص، کبھی مقام و محل وقوع ہر طرف انگلیاں اٹھانا، شکوک و شبہات پھیلانا اور خود کو واحد سچ کا علمبردار ظاہر کرنا اس کی پہچان بن چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی ہر “مسیحائی” کا مرکز صرف اپنی جیب اور اپنی شکم سیری ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کردار وقتی شہرت کے نشے میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ اسے سچ اور جھوٹ کی تمیز بھی باقی نہیں رہی۔ ہر دروازے پر دستک، ہر محفل میں موجودگی اور ہر طاقتور کے قریب ہونے کی کوشش یہ سب اسی بے چین خواہش کا اظہار ہے جس کا محور صرف مفاد ہے۔
کبھی کبھار اس نے خود کو سماجی خدمت کے علمبردار (ایدھی ثانی) کے طور پر بھی پیش کرنے کی کوشش کی، مگر خدمت اور اخلاص کے درمیان فاصلہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ محض دعووں، کیمرے اور مائیک سے انسانیت کی خدمت نہیں ہوتی۔ اس کیلئے کردار، دیانت اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
یہ “شیطانِ بزرگ” صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک رویے کی علامت ہے۔ ایسا رویہ جو معاشرے میں بداعتمادی، انتشار اور اخلاقی زوال کو فروغ دیتا ہے۔ ایسے عناصر وقتی طور پر شور تو پیدا کر لیتے ہیں، مگر سچ کی روشنی میں ان کی حقیقت زیادہ دیر چھپی نہیں رہتی۔
لہٰذا عوام کو چاہیے کہ ہوشیار رہیں، ہر آواز کو سچ نہ سمجھیں اور تحقیق کے بغیر کسی کے بارے میں رائے قائم نہ کریں۔ کیونکہ سچ ہمیشہ چیخنے سے نہیں، کردار سے ثابت ہوتا ہے اور کردار کی گواہی وقت خود دے دیتا ہے۔