Alipur-Muzaffargarh

Alipur-Muzaffargarh

Share

The Smart School offer world-class, affordable education in Pakistan.

It is committed to providing an efficient learning environment for your children, helping them compete and excel in the rapidly evolving environment of today.

20/01/2026

𝐀𝐝𝐦𝐢𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐀𝐧𝐧𝐨𝐮𝐧𝐜𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 – 𝐒𝐩𝐫𝐢𝐧𝐠 𝟐𝟎𝟐𝟔!

Admissions are now open for BS, ADP, BS, Diploma Programs, and Certificate Courses for the Spring 2026 academic session.

For more information, dial 0308 2828080

06/09/2024

‏زندگی بھر ایک ہی کارِ ہنر کرتے رہے
اک گھروندہ ریت کا تھا، جس کو گھر کرتے رہے
ہم کو بھی معلوم تھا انجام کیا ہو گا مگر
شہرِ کوفہ کی طرف ہم بھی سفر کرتے رہے
اُڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں
انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے
اک نہیں کا خوف تھا، سو ہم نے پوچھا ہی نہیں
یاد کیا ہم کو بھی وہ دیوار و در کرتے رہے
آنکھ رہ تکتی رہی، دل اس کو سمجھاتا رہا
اپنا اپنا کام دونوں عمر بھر کرتے رہے
یوں تو ہم بھی کون سا زندہ رہے اس شہر میں
زندہ ہونے کی اداکاری مگر کرتے رہے

عنبریں حسیب عنبرؔ

23/08/2024

ایک بی ایم ڈبلیو کار کے دروازے پہ ڈینٹ تھا۔ اسکے مالک نے ڈینٹ والا دروازہ کبھی مرمت نہیں کرایا. کوئی پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا "زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"۔
سننے والا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر قدرے حیران ہوتا اور پھر سمجھتے، نہ سمجھتے ہوئے سر ہلا دیتا؛

-سرگوشی سنو گے یا اینٹ سے بات سنو گے !

ایک نوجوان بزنس مینیجر اپنی برانڈ نیو بی ایم ڈبلیو میں دفتر سے ڈی ایچ اے میں واقع گھر جاتے ہوئے ایک پسماندہ علاقے سے گزرا جو مضافات میں ہی واقع تھا. اچانک اس نے ایک چھوٹے بچے کو بھاگ کر سڑک کی طرف آتے دیکھا تو گاڑی آہستہ کردی. مگر پھر بھی اس نے بچے کو کوئی چیز اچھالتے دیکھا۔ ٹھک کی آواز کے ساتھ ایک اینٹ اس کی نئی کار کے دروازے پر لگی تھی. اس نے فوراً بریک لگائی اور گاڑی سے باہر نکل کر دروازہ دیکھا جس پر کافی بڑا ڈینٹ پڑ چکا تھا.

اس نے غصے سے ابلتے ہوئے بھاگ کر اینٹ مارنے والے بچے کو پکڑا اور زور سے جھنجھوڑا. "اندھے ہوگئے ہو، پاگل کی اولاد؟ تمہارا باپ اس کے پیسے بھرے گا؟" وہ زرو سے دھاڑا

میلی کچیلی شرٹ پہنے بچے کے چہرے پر ندامت اور بے چارگی کے ملے جلے تاثرات تھے.

"سائیں، مجھے کچھ نہیں پتہ میں اور کیا کروں؟

میں ہاتھ اٹھا کر بھاگتا رہا مگر کسی نے گل نئیں سنی." اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کچھ کہا. اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے اور سڑک کے ایک نشیبی علاقے کی جانب اشارہ کیا "ادھر میرا ابا گرا پڑا ہے. بہت بھاری ہے. مجھ سے اُٹھ نہیں رہا تھا، میں کیا کرتا سائیں؟"۔

بزنس ایگزیکٹو کے چہرے پر ایک حیرانی آئی اور وہ بچے کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقے کی طرف بڑھا تو دیکھا ایک معذور شخص اوندھے منہ مٹی میں پڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک ویل چیئر گری پڑی تھی۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ شائد وزن کے باعث بچے سے ویل چیئر سنبھالی نہیں گئی اور نیچے آگری اور ساتھ ہی پکے ہوئے چاول بھی گرے ہوئے تھے جو شاید باپ بیٹا کہیں سے مانگ کے لائے تھے۔

"سائیں، مہربانی کرو. میرے ابے کو اٹھوا کر کرسی پر بٹھا دو." اب میلی شرٹ والا بچہ باقاعدہ ہچکیاں لے رہا تھا۔

نوجوان ایگزیکٹو کے گلے میں جیسے پھندا سا لگ گیا۔ اسے معاملہ سمجھ آگیا اور اپنے غصے پر پر ندامت محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اپنے سوٹ کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ کر پوری طاقت لگا کر کراہتے ہوئے معذور شخص کو اٹھایا اور کسی طرح ویل چیئر پر بٹھا دیا۔ بچے کے باپ کی حالت غیر تھی اور چہرہ خراشوں سے بھرا پڑا تھا۔

وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کی طرف گیا اور بٹوے میں سے دس ہزار نکالے اور کپکپاتے ہاتھوں سے معذور کی جیب میں ڈال دیے۔ پھر ٹشو پیپر سے اس کی خراشوں کو صاف کیا اور ویل چیئر کو دھکیل کر اوپر لے آیا۔ بچہ ممنونیت کے آنسوؤں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر باپ کو لیکر اپنی جھگی کی طرف چل پڑا۔ اس کا باپ مسلسل آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے نوجوان کو دعائیں دے رہا تھا۔

نوجوان نے بعد میں ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے جھگی میں رہنے والوں کے لیے ایک جھگی سکول کھول دیا اور آنے والے سالوں میں وہ بچہ بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھ لکھ کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔

وہ بی ایم ڈبلیو اس کے پاس مزید پانچ سال رہی، تاہم اس نے ڈینٹ والا دروازہ مرمت نہیں کرایا. کبھی کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا "زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"۔

اوپر والا کبھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے اور کبھی ہمارے دل سے باتیں کرتا ہے. جب ہم اس کی بات سننے سے انکار کردیتے ہیں تو وہ کبھی کبھار ہمارے طرف اینٹ بھی اچھال دیتا ہے۔
پھر وہ بات ہمیں سننا پڑتی ہے۔

ہم جہاں ملازمت، بزنس، خاندان، بیوی بچوں کی خوشیوں کے لیے بھاگے جارہے ہیں، وہیں ہمارے آس پاس بہت سی گونگی چیخیں اور سرگوشیاں بکھری پڑی ہیں۔ اچھا ہو کہ ہم اپنے ارد گرد کی سرگوشیاں سن لیں تاکہ ہم پر اینٹ اچھالنے کی نوبت نہ آئے

14/08/2024

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو, زندگی وبال نہ ہو
مرشد موسیو

31/07/2024

آئی پی پیز سے کیا مراد ہے اس کا مطلب کیا ہے؟ کس طرح آئی پی پیز عوام کو لوٹ رہی ہے اور صاحب اقتدار جماعتیں کچھ نہیں کرتیں ؟

1994 ء میں بے نظیر بھٹو نے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے 15 انڈی پینڈنٹ پاور کمپنیز (آئی پی پی) کو بجلی بنانے کے لئے متعارف کروایا۔ ان کے ساتھ معاہدہ ہوا کہ یہ لوگ بجلی کی پیداوار کے لئے پاور پلانٹس خود یا غیر ملکی سرمایہ کاری سے لگائیں گے اور حکومت پابند ہو گی کہ ان کی پیداواری گنجائش (کیپیسٹی پیمنٹس) کے تحت ان سے تمام بجلی خریدے جس کے عوض ادائیگیاں ڈالرز میں کی جائیں گی۔ یعنی کہ اگر کسی آئی پی پی کی پیداوار 1500 میگا واٹ ہے اور حکومت صرف 700 میگا واٹ بجلی خریدے تو ادائیگیاں 1500 میگا واٹ کی ہوں گی
اس وقت جو ریٹ طے ہوا وہ کچھ سے 14 ڈالرز سینٹ فی یونٹ اور کچھ کے ساتھ 15 ڈالرز سینٹ فی یونٹ تھا۔ غلام مصطفی کھر بے نظیر دور میں بجلی و پانی کی وزارت کے انچارج تھے۔ میاں نواز شریف نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر حکومتی منصوبوں کی مخالفت کی۔ قوم کو بتایا کہ ان کارخانوں کی تنصیب کا مقصد عوام کو وافر بجلی فراہم کرنا نہیں بلکہ کمیشن اور کک بیکس کا حصول ہے لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے بھی کسی آبی منصوبے پر کام کرنے کے بجائے انہی آئی پی پیز پر توجہ دی۔
ان کارخانوں کی تنصیب کی حقیقت جاننے کے لیے ماضی میں غلام مصطفی کھر کا بیان کردہ ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ ”جب بین الاقوامی کمپنی کا وفد بنگلہ دیش اور بھارت کے دورے کے بعد اسلام آباد آیا اور وزارت پانی و بجلی کے حکام سے ایک روزہ مذاکرات کے بعد ایم او یو پر دستخط ہوئے تو وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا، کھر نے وفد کے سربراہ سے پوچھا کہ آپ نے بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان تینوں ممالک کے سرکاری اہلکاروں کے برتاؤ ’میں کیا فرق محسوس کیا؟
اس نے کہا اگر آپ برا نہ منائیں تو حقیقت عرض کروں کہ ہم پانچ دن کے لیے ڈھاکہ پہنچے مگر مذاکرات ایک ہفتہ جاری رہے۔ بنگلہ دیشی وفد نے خوب بھاؤ تاؤ کے بعد تین ساڑھے تین سینٹ فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدنے پر آمادگی ظاہر کی۔ بھارت کے لیے ایک ہفتہ کی بکنگ کرائی مگر مذاکرات دس دن تک چلے اور بھارتی حکام اڑھائی سینٹ فی یونٹ کے نرخوں پر آمادہ ہوئے۔ جب معاملہ طے پا گیا تو بھارتی وفد کے سربراہ نے کمیشن طلب کیا‘ ہم چکرا گئے کہ اتنے کم نرخ اور پھر بھی کمیشن کا مطالبہ؟
ہم نے لیت و لعل سے کام لیا تو صاف کہا گیا کہ ٹھیک ہے دیگر کئی کمپنیاں معاہدے کے لیے تیار ہیں۔ مجبوراً ہم نے ڈیمانڈ پوری کی۔ پاکستان کے لیے پندرہ روزہ شیڈول ترتیب دیا۔ خیال تھا کہ پاکستان کی معاشی حالت دگرگوں ہے، لہٰذا سخت سودے بازی ہوگی، مگر ہم پہنچے تو ’ہمیں آرام کے لیے بھیج دیا گیا۔ دوسرے دن مذاکرات کے آغاز میں ہی پوچھا گیا کہ ہمارا کمیشن کتنا ہو گا۔ ہم نے کک بیکس کی یقین دہانی کرائی۔ نرخ طے کیا اور آج ہی وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
2002 ء میں جنرل مشرف نے مزید 15 نئے آئی پی پیز متعارف کروائے۔ یہ معاہدے بھی پیپلز پارٹی حکومت کی طرح تھے یوں 2002 ء تک کل 30 آئی پی پیز بجلی بنانے بلکہ ڈالرز چھاپنے کے انتہائی نفع بخش دھندے میں ملوث ہوئے۔ 2006 ء میں جنرل مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے 38 مزید آئی پی پیز کو ڈالرز چھاپنے کے لائسنس بانٹے اور یوں آئی پی پیز کی تعداد 68 تک جا پہنچی۔ 2015 ء میں مسلم لیگ نون نے 7 مزید سرمایہ کاروں کو آئی پی پیز کے لائسنس جاری کیے اور تعداد 75 ہو گئی اگر چہ مسلم لیگ نے جو پلانٹ لگائے وہ کوئلے سے چل رہے ہیں لیکن یہ بھی پن بجلی کی نسبت کافی مہنگے ہیں۔
🔴 ان کے ساتھ انہی خطوط پر معاہدہ کیا گیا۔ 2023 ء میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ملک بھر میں ان آئی پی پیز کے علاوہ واپڈا کے اپنے پن بجلی و نیو کلیئر ذرائع کے تحت بجلی بنانے کی گنجائش 38 ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے لیکن پاکستان کی اس وقت کل ضرورت 23 / 24 ہزار میگا واٹ سے زیادہ نہیں ہے۔ واپڈا کی پانی کی بجلی صرف 3 روپے 25 پیسے فی یونٹ ہے لیکن ان آئی پی پیز سے جو بجلی واپڈا کو موصول ہوتی ہے اس کی قیمت 80 روپے فی یونٹ ہے۔
2013 ء سے 2023 ء تک 10 سالوں میں ان آئی پی پیز کو 18 ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں جن میں سے خریدی جانے والے بجلی کی مالیت تقریباً 9 ہزار 650 ارب روپے ہے جبکہ پیداواری گنجائش کی مد میں ان آئی پی پیز کو تقریباً 8 ہزار 350 ارب روپے کی ادائیگیاں ڈالرز میں کی جا چکی ہیں۔ جوں ہی ڈالر کی شرح بلند ہوتی ہے، بجلی بھی مہنگی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے مالکان کھربوں روپے کما رہے ہیں جبکہ غریب کے لئے بجلی کے بل موت کا پروانہ بن گئے ہیں۔
کیا ہم بجلی کے بلوں پر بلبلاتے ہی رہیں گے یا ان کا محاسبہ بھی کرینگے جنہوں نے بجلی کے پلانٹس لگائے اور اپنی بوٹی کیلئے ملک و قوم کو حلال کردیا۔

پاکستانیو اب گھر بیٹھنے کا ٹائم نہیں بلکہ سڑکوں پر نکل کر اپنا حق مانگنے کا وقت ہے اگر اب بھی باہر نہ نکلے اور اپنا حق چھین کر نہ لیا تو ہماری نسلیں ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔

سوچئے مت اور زیادہ سے زیادہ دوستوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔

اور ایک بات بتاتا چلوں کہ اس نیچے درج دعا سے کچھ نہیں ہونے والا کیونکہ اللہ تعالٰی بھی فرماتے ہیں کہ کچھ حاصل کرنے کے لئے حرکت کرنا ضروری ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ھے کے ھمارے حکمرانوں کو ھداٸیت عطا فرماۓ اور ھماری جان اس عذاب سے چھڑاۓ

آمین

24/07/2024

دوران ، انٹرویو ۔۔
آپ اس جاب کے لئے کتنی سیلری کی توقع رکھتی ہیں ۔۔؟
کم از کم نوے ہزار ۔۔۔ خاتون نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا ۔۔
کسی کھیل سے دلچسپی ؟؟؟
باس نے پوچھا ۔۔
جی ہاں ۔۔ شطرنج کھیلتی ہوں ۔۔
آہاں ۔۔چلیں اسی حوالے سے بات کرتے ہیں ۔۔
شطرنج کی کون سی گوٹی آپکو زیادہ پسند ہے ۔۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ کس گوٹی سے متاثر ہیں ۔۔۔
خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ وزیر ۔۔
زبردست ،لیکن کیوں ؟ جبکہ میرے خیال میں گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہے ۔۔ باس نے تجسس سے پوچھا ۔۔
بیشک ۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیر میں وہ تمام خوبیاں شامل ہیں جوسب گوٹیوں میں الگ الگ سے پائی جاتی ہیں ۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کو بچا لیتا ہے اور کبھی فيلے کی طرح ترچھا چل پڑتا ہے اور کبھی توپ بن کر بچا لیتا ہے ۔
ویری انٹرسٹڈ۔۔ باس نے متاثرکن انداز میں پوچھا ۔ بادشاہ کے متعلق آپکی کیا رائے ہے۔؟؟
سر ، بادشاہ کو میں سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہوں ،کیوں کہ وہ خود کو بچانے میں صرف ایک قدم چل سکتا ہے جبکہ وزیر اسے چاروں اطراف سے بچا سکتا ہے ۔۔ خاتون کا جواب ۔
نہایت متاثر کن ۔۔ چلیں یہ بتائیے ان تمام گوٹیوں میں سے آپ خود کو کون سی گوٹی تصور کرتی ہیں ۔۔
خاتون نے جھٹ سے جواب دیا ۔۔
بادشاہ ۔۔
لیکن وہ تو آپکے مطابق مجبور ہوتا ہے ،خود کو بچا نہیں پاتا اور وزیر کا مرہون منت ہوتا ہے ۔۔ باس نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔
جی ہاں ،میرے مطابق یہی ہے ۔ میں بادشاہ ہوں اور وزیر میرے شوہر جو میری حفاظت مجھ سے بڑھ کر، کر سکتے ھیں ۔۔۔
ویری نائس ۔ انٹرویو لینے والے نے باقاعدہ ہلکے ہاتھوں تالی بجاتے ہوئے کہا ۔۔
اچھا ایک آخری سوال ، آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔ باس نے دلچسب انٹرویو کا
احتتام کرتے ہوئے پوچھا ۔۔
خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
کیوں کہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔

10/07/2024

𝐀𝐝𝐦𝐢𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐀𝐧𝐧𝐨𝐮𝐧𝐜𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 - 𝐅𝐚𝐥𝐥 𝟐𝟎𝟐𝟒!
Admissions for the following degree programs: MS, BS/B.Ed., Associate Degree Program, Diploma, and Certificate Courses are open for the academic session Fall 2024.
For information, please dial 066-2700011, 0308 2828080 .

20/05/2024

سلطان نور الدین زنگی رحمتہ اللّه علیہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے۔
اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوئے میرے آقا دوعالم ﷺ کو کون ستا رہا ہے .
آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھااور آج پھر چند لمحوں پہلے انھیں آیا جس میں سرکار دو عالم نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں.
اب سلطان کو قرار کہاں تھا انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا .اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا. مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کرواے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا.
اب لوگ آ رہے تھے اور جا رہے تھے ، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں .جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں . تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیح میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں.
سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے. انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء.کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا. آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی.
آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا .وہ سرنگ میں داخل ہویے اور واپس اکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک صلی اللہ علیھ والہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے،
یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت تری ہوگئی .آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہوں.
حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ یہودی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کے گئے ہیں. سلطان یہ سن کر رونے لگے ، اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں.
سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ
💞"میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا"💞
اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آے.سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا.💞
بعض کے نزدیک سلطان کو سرنگ میں داخل ہو کر قبر انور پر حاضر ہو کر قدمین شریفین کو چومنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔💞۔

20/05/2024

روز اسکول جاتے ہوئے راستے میں اسرائیلی فوجی اسے روکتا اور جوتے اتروا کر کہتا :"جاؤ میرے لئے چائے لے کر آؤ ۔"

کم سن لڑکا چائے لے آتا تو معلوم چلتا کہ اسرائیلی فوجی نے اس کے جوتوں میں پیشاب کر دیا ہے ۔

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ۔

ایک دن اسرائیلی فوجی چائے کی چُسکی لیتے ہوئے بڑی حقارت سے کہنے لگا کہ "کیا تم میں اور ہم میں کبھی امن بھی ہو سکتا ہے؟"

عتیق نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا : "بالکل نہیں ، جب تک تم میرے جوتوں میں اور میں تمہاری چائے میں پیشاب کرتا رہوں گا، امن قائم نہیں ہو سکتا ۔"

(عربی سے ماخوذ)

13/05/2024

کہا جاتا ہے کہ یہ درخت لنڈی کوتل کے ایک فوجی کیمپ کے اندر ہے، 1898ء میں ایک انگریز فوجی آفیسر جس کا نام جیمز سکویڈ بتایا گیا ہے، نشے کی حالت میں کسی روز کمرہ سے باہر نکلے تو انہیں یہ درخت اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دی، جس پر انہوں نے فوراً یہ فوجی فرمان جاری کیا کہ اُس (درخت) کو فوراً باندھ دیا جائے۔ واللہ اعلم درخت کی حد تک بات میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا افسانہ لیکن اپنے نظام پر اگر غور کیا جائے تو یہ بعید از عقل و قیاس نہیں کہ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ پسِ نوشت یہ ہے کہ اگر 1898ء سے آج تک 126 سال گزر گئے لیکن یہ درخت آج بھی باندھا ہوا ہے تو جو قوم ایک انگریز آفیسر کا باندھا ہوا درخت نہیں کھول سکتی تو وہ انگریز سامراج کی تشکیل کردہ ریاستی نظام کے سامنے کیسے پَر مار سکتی ہے؟

Want your school to be the top-listed School/college in Alipur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Alipur
34201