Future link education academy

Future link education academy

Share

Education

25/10/2021

Admissions Open from playgroup to class 10th.

Untitled album 06/07/2018

Notes For Students.

Photos from Future link education academy's post 13/01/2018

Future link education Academy

24/09/2017

Who invented refrigerator?

March 15, 2011 by 2016 Revision 3 Comments

It was in 18th century that the process of invention of refrigerator started. In 1748 William Cullen of University of Glasgow developed a process for creating an artificial cooling medium. No one took interest in it for commercial or home consumption, it only attracted scientific attention. An American inventor Oliver Evans made the first design for the refrigerator in 1804 but until 1834 none was interested in the same. Jacob Perkins built the first refrigeration machine in 1834. In 1844, a physician John Gorrie built a working unit on the basis of Oliver’s designs. He constructed this unit to create cooling atmosphere for his patients who were suffering from yellow fever.

In 1876 Carl von Linden invented the improved method of liquefying gas and got it patented. This was a great help in the creation of practical refrigerator. Ammonia, sulphur dioxide and methyl chloride were utilized for the formation of this gas which led to many accidents. The need led to the development of Freon and was used in bulk till it was found that it was not environment friendly and affected the ozone layer.

The gas compounds have now changed to safer compounds which compress and heat up working to cool the inside air of the refrigerator. Without this adjustment the working of the refrigerator seems impossible. It has been a work of many great inventors that the present form of refrigerators has simplified the work.

24/09/2017

(The World's First Car)

Karl Benz built the world's first practical automobile in 1885 to be powered by an internal compulsion engine. Karl Benz suggest that he created the first true automobile in 1885/1886.
Inventor: Karl Benz.
Wheels: 3-4.
Fuel source: Gasoline, Hydrogen, Diesel, Natural Gas, Electricity and Vegetable oil. Application: Transportation

Photos 27/12/2016

ارسطوایک عظیم فلسفی

دوستوں آج آپ کو دنیا قدیم کے عظیم فلاسفر ارسطو کے بارے میں بتاتے ہیں۔ارسطو جس کو انگریزی میں "اریس ٹاٹل" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔یہ افلاطون کا سب سے قابل شاگرد تھا۔ اور افلاطون ایک اور قدیم فلاسفر سقراط کا شاگرد تھا۔ارسطو کے بہت سے اقوال آج بھی ضرب مثل کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ جو کہ کافی حکمت بھرے اقوال ہیں۔
ارسطو قدیم یونان کا عظیم ترین نہ صرف فلسفی بلکہ اپنے دور کا سائنس دان بھی تھا۔ اگرچہ آج کے دور میں اس کے بہت سے نظریات متروک ہو چکے ہیں لیکن اس کی عقلی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے علم کی متعدد شاخوں میں اضافے کئے اور نئی روایات قائم کیں۔ یورپ کی تہذیب اور علمی زندگی پر جتنا اثر ارسطو نے ڈالا ہے اتنا کسی دوسرے انسان نے نہیں ڈالا۔ عہدِ قدیم کے اوائل میں اس کا استاد افلاطون دنیا کا بہت بڑا فلسفی اور معلم تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن بارہویں صدی عیسوی کے بعد فکر کے ہر دائرے میں ارسطو آخری سند تسلیم کیا گیا۔آئیے اس کی زندگی کے بارے اپنے پیج کے دوستوں کو بتاتے ہیں۔

ارسطو مقدونیہ کے بادشاہ امینتاس کے ایک درباری طبیب کے ہاں 384 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ باپ کو تشریح اعضاء اور علمِ حیوانات سے بے حدشغف تھا۔ بیٹے نے بھی ابتدا سے انہی علوم میں دلچسپی لی۔ بڑے بڑے فلسفیوں کی طرح وہ اپنی علمی تحقیقات میں بہت زیادہ باریک بین اور محقق تھا۔ ارسطو اگرچہ شاہ امینتاس کے پوتے سکندرِ اعظم کا اتالیق مقرر ہوگیا تھا لیکن حکیم اور عالم ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ ہی نامور رہا۔ سترہ سال کی عمر میں ارسطو، افلاطون کا شاگرد ہوا اور بیس برس تک یعنی افلاطون کے انتقال تک اس سے فیضیاب ہوتا رہا۔ذہن میں رہے یہ وہ ہی افلاطون ہے جو سقراط کا شاگرد تھا۔سقراط افلاطون کے مکالمات کا کم و بیش مرکزی کردار ہے۔ مگریہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ تحریر کردہ دلائل میں سے کون سے افلاطون کے اور کونسے سقراط کے ہیں۔کیونکہ سقراط نے بذات خود کچھ تحریر نہیں کیا۔ افلاطون پر ایک پوسٹ اس دلچسپ معلومات پیج پر گزرچکی ہے۔ اس کے بعد ارسطو بارہ سال تک یونان میں گھومتا پھرتا اور تعلیم دیتا رہا۔ جب سکندر مقدونیہ کا بادشاہ ہوا تو ارسطو ایتھنز واپس آگیا اور یہاں اس نے فلسفہ کا وہ مدرسہ قائم کیا جسے مشائیوں کا مدرسہ کہتے ہیں۔ مشائی’’مشی‘‘ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے ٹہلنا، چونکہ اس مدرسے میں استاد اور شاگرد ایک طویل راستے پر ٹہلتے ہوئے تعلیم دیتے اور تعلیم حاصل کرتے تھے، اس لیے اس کو’’مکتبِ مشائین‘‘ کہا جاتا تھا۔

اگرچہ ارسطو نے ایک مثالیت پسند استاد یعنی افلاطون سے تعلیم حاصل کی تھی لیکن وہ خود حقیقت پسند فلسفی تھا۔ اس نے حیاتیات اور نفسیات کے متعلق ایسی بنیادی معلومات مہیا کیں جو دو ہزار سال کے سائنسی امتحان کے بعد بھی صحیح ثابت ہوئیں۔ حکومت و ریاست کے متعلق ارسطو کا شغف اس قدر زیادہ تھا کہ اس نے ریاستوں اور شہروں کے آئین پر کم سے کم 157 رسالے لکھے۔ افسوس کہ یہ رسالے گزشتہ صدیوں میں کہیں ضائع ہوگئے۔ صرف ’’دستورِ ایتھنز‘‘ کا رسالہ دستبردِ زمانہ سے محفوظ رہ گیا۔ارسطو کی نہایت اہم کتابوں میں ایک کتاب ’’آرگینان‘‘ ہے۔ جس میں علمِ منطق کے متعلق چھ مقالات ہیں: دوسری کتابیں’’مابعد الطبیعات‘‘، ’’تاریخِ حیوانات‘‘، ’’اعضائے حیوانات‘‘، ’’طبیعات‘‘ ،’’فلکیات‘‘ اور’’سیاسیات‘‘ ہیں۔

وہ تمام عظیم مفکر جن کا شاندار کام قدیم زمانے سے ہم تک پہنچا ان میں سے سب سے اہم ارسطو ہے۔ افلاطون کی مقبولیت اگرچہ ارسطو سے زیادہ ہے لیکن ارسطو کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں کیونکہ ارسطو نے بھی اپنے کام کی وجہ سے بہت جلد مقبولیت حاصل کرلی تھی۔ ارسطو نے نظریات کے بجائے حقائق پر زیادہ توجہ دی۔ ارسطو نے تجربات کرنے پر وقت ضائع نہیں کیا۔ ارسطو کے لیے بھی یہ دنیا اتنی ہی پراسرار تھی جتنی کہ افلاطون کے لیے لیکن ارسطو نے اس پراسرایت کو ایک چیلنج سمجھا اور اس کے اسرار جاننے کی کوشش کی۔ اس لیے اس نے فلسفے کے علاوہ فطرت، تاریخ، جغرافیہ، نفسیات، علم الاعضاء، اناٹمی، طبیعات، فلکیات، سیاسیات اور اخلاقیات کے بارے میں لکھا۔ اگرچہ اس کا بہت سا کام دستبردِ زمانہ سے محفوظ نہ رہ سکا لیکن جو ضائع ہونے سے بچا اس میں سے بھی زیادہ کام کو جدید سائنس نے کالعدم قرار دے دیا ہے لیکن ارسطو نے جو کام اخلاقیات کے حوالے سے کیا اس کو جدید زمانے نے بھی سراہا ہے اور اس کی ’’اخلاقیات‘‘ ہر حوالے سے مکمل اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ ارسطو کی ’’اخلاقیات‘‘ کے شاندار حقائق ارسطو کے اپنے زمانے میں بھی دوسرے مفکرین سے مختلف تھے اور اس کی انفرادیت اب بھی قائم ہے۔ ارسطو کا والد بادشاہ مقدونیہ کا طبیب تھا۔ ارسطو کی عمر ابھی چند سال ہی تھی کہ اس کا والد وفات پا گیا۔ جب اس کی عمر 17 سال کے قریب تھی تو وہ خود ہی ایتھنز چلا آیا۔ یہاں اس نے افلاطون کی معروف اکیڈمی میں افلاطون کی شاگردی اختیار کی۔ وہ اس اکیڈمی میں افلاطون کے ساتھ 20 سال تک رہا۔ تب اپنے استاد کی موت کے بعد اس نے اکیڈمی کو چھوڑ دیا اور کئی سالوں تک مختلف شہروں میں تعلیم دیتا رہا۔343 قبل مسیح میں مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے اس کو اپنے بیٹے سکندر کے لیے اتالیق مقرر کیا ہے۔( یہ وہ سکندر تھا جو بعد میں سکندر اعظم کہلایا)۔ بادشاہ فلپ اور اس کے بیٹے سکندر نے ارسطو کا بہت احترام کیا اور وہ اس کے فطری علوم سے بہت متاثر ہوئے۔ جب سکندر ایشیا کو فتح کرنے کی مہم پر روانہ ہوا تو ارسطو ایتھنز لوٹ گیا۔ یہاں اس نے لائسیم (Lyceum) کے گھنے درختوں میں فلسفے کا سکول قائم کیا کیونکہ ارسطو اپنے استاد افلاطون کی طرح اپنے شاگردوں کو تعلیم چل پھر کر دیتا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے شاگردوں سے دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو کرتا تھا۔ سکندر کی موت کے بعد مقدونیہ کے نئے حکمرانوں نے ارسطو کی کوئی مدد نہ کی تو ارسطو بحیرہ اسود کے کنارے کالسس(Chalcis) کے مقام پر چلا گیا۔ یہیں اس نے 322 قبل مسیح میں وفات پائی۔ (کتاب ’’ارسطو:حیات ، فلسفہ اور نظریات ‘‘سے ماخوذ)

Photos 27/12/2016

Speach health is wealth

Photos 27/12/2016
Photos from Future link education academy's post 27/12/2016

Speach 6 September

Photos from Future link education academy's post 27/11/2016
Want your school to be the top-listed School/college in Ahmedpur East?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Kotla Musa Khan Road
Ahmedpur East
63350

Opening Hours

Monday 15:00 - 18:00
Tuesday 15:00 - 18:00
Wednesday 15:00 - 18:00
Thursday 15:00 - 18:00
Friday 15:00 - 18:00
Saturday 15:00 - 18:00