28/02/2022
Hazrat Sakhi Sultan Abdul Hakim-R.A
Astana alia Hazrat Sakhi Sultan Abdul Hakim
*A True Religious Place Where You Can Find The Inner Pe
Islam is The complete Code of Life,
And Sufizm is The One Of the Best Guidance For Learning Islam and For Knowing The ONE and Only ALLAH....
28/02/2022
20/06/2020
عُرس سخی سلطان عبدالحکیم سرکار رح
آج رنگ ہے ری ماں رنگ ہے ری
میرے محبوب کے گھر رنگ ہے ری ♥
یہاں روضہ اطہر کے قریب ایک دروازہ ہے باب جبرائیل، آپ ﷺ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے حجرہ مبارک میں قیام فرماتے تھے، افطار کا وقت ہوتا، دستر خوان بچھتا، گھر میں موجود چند کھجوریں اور دودھ کا ایک آدھ پیالہ اس دستر خوان پرچن دیا جاتا، حضرت بلالؓ اذان کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ فرماتے ’’ عائشہؓ باہر دیکھو باب جبرائیل کے پاس کوئی مسافر تو نہیں ‘‘ آپؓ اٹھ کر دیکھتیں، واپس آ کرعرض کرتیں’’ یا رسول اللہ ﷺ وہاں ایک مسافر بیٹھا ہے۔‘‘ آپﷺ کھجوریں اور دودھ کا وہ پیالہ باہر بھجوا دیتے، آج جونہی باب جبرائیل کے قریب پہنچا، میرے پیروں کے ناخنوں سے رانوں کی ہڈیوں تک ہر چیز پتھر ہو گئی، میں وہی بیٹھ گیا، باب جبرائیل کے اندر ذرا سا ہٹ کر حضرت عائشہؓ کے حجرے میں میرے حضورﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا، آج بھی رمضان ہے ابھی چند لمحوں بعد اذان ہو گی، ہو سکتا ہے آج بھی میرے حضورﷺ حضرت عائشہؓ سے پوچھیں ’’ ذرا دیکھئے باہر کوئی مسافرتو نہیں‘‘ اور ام المومنین عرض کریں گی ’’ یا رسول اللہ ﷺ باہر ایک مسافر بیٹھا ہے، شکل سے مسکین نظر آتا ہے، نادم ہے، شرمسار ہے، تھکا ہارا ہے، سوال کرنے کا حوصلہ نہیں، بھکاری ہے لیکن مانگنے کی جرأت نہیں، لوگ یہاں کشکول لے کر آتے ہیں‘ یہ خود کشکول بن کر آ گیا، اس پر رحم فرمائیں یا رسول اللہ ﷺ، بیچارہ سوالی ہے، بے چارہ بھکاری ہے‘‘ اور پھر میرا پورا وجود آنکھیں بن گیا اور سارے اعضاء آنسو😭😭
سلام بر
مولائے کائنات
حیدرِ کرار
آقا و مولا علی رضی اللہ عنہ ♥
حضرت بہلول دانا ؒ کے زمانے میں بغداد کے بادشاہ کی دلی تمنا تھی کہ حضرت بہلول دانا ؒ اس سے ملاقات کریں لیکن آپ رحمتؒ کبھی بھی بادشاہ کے دربار میں تشریف نہ لے گئے .ایک دن یوں ہوا کہ بادشاہ چھت پر بیٹھا تھا کہ اس نے حضرت بہلول دانا ؒ کو شاہی محل کے قریب سے گزرتے دیکھا . فورا حکم دیا کہ حضرت بہلول داناؒ کو کمند ڈال کر محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے .
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا . جب آپؒ بادشاہ کے سامنے پہنچے تو بادشاہ نے پوچھا یہ فرمائیے آپ اللہ تک کیسے پہنچے ؟فرمایا : جس طرح آپ تک پہنچا . بادشاہ نے عرض کی ” میں سمجھا نہیں ” فرمایا ، ” اے بادشاہ ! اگر میں خود آپ تک پہنچنا چاہتا تو نہا دھو کر ، لباس _ فاخرہ پہن کر ، دربان کی منتیں کر کے محل کے اندر داخل ہوتا . پھر عرضی پیش کرتا ، پھر گھنٹوں انتظار کرتا ، پھر بھی ممکن تھا کہ آپ میری درخواست رد کر دیتے . لیکن جب آپ نے خود مجھے بلانا چاہا تو محض کچھ لمحوں میں ہی اپنے سامنے بلا لیا . اسی طرح جب اللہ کو اپنے بندے کی کوئی ادا پسند آتی ہے تو اسے لمحوں میں قرب کی وہ منزلیں طے کروا دی جاتی ہیں جو بڑے بڑے عابدوں کیلئے باعث رشک بن جاتی ہیں.
10/04/2020
عید کا دِن تھا، لوگ عید نماز پڑھ کے واپس آ رہے تھے،
راہ میں کھڑا ایک مجذوب ہر اِک سے پوچھتا،
"سئیں، عید کڈاں..!؟"
لوگ ہنستے اور کہتے،
"او سائیں تیکُوں نہیں پتہ کیا، عید تاں اج ہے."
ایسے میں خواجہ غلام فرید (رح) وہاں سے گزرے تو مجذوب نے آپ سے وہی سوال کیا!
"سئیں، عید کڈاں..!؟"
خواجہ غلام فرید (رح) نے فرمایا،
"یار ملے جڈاں."
مجذوب رونے لگا، اور گویا ہوا،
"حضور! یار ملے کڈاں..!؟"
حضرت خواجہ غلام فرید سرکار (رح) نے فرمایا،
ایہُو "مَیں" مرے جڈاں.
مجذوب نے روتے ہوۓ عرض کی،
"حضور! ایہہ "مَیں" مرے کڈاں..!؟"
حضرت خواجہ غلام فرید (رح) مُسکراۓ، مجذوب کے کندھے پہ تھپکی دی اور یہ کہتے ہوۓ چل دیے،
" یار چاہے جڈاں.♥
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Darbar Sakhi Sultan Abdul Hakim
Abdul Hakim
60000