Allama Izhar Hussain suharwerdi

Allama Izhar Hussain suharwerdi Allama Izhar Hussain Mahar Suharwerdi

جامعہ بھاء الدین زکريا ۾ آيل دلي دوست مير حسن ڀيو
16/02/2024

جامعہ بھاء الدین زکريا ۾ آيل دلي دوست مير حسن ڀيو

13/02/2024
مولا علي عليہ السلام ئي اسانجي عقيدتن جو مدار آھي. جيڪو مولا عليء عليہ السلام جو آھي سو اسانجي اکين جو ٺار آھي. جيڪو مول...
09/02/2024

مولا علي عليہ السلام ئي اسانجي عقيدتن جو مدار آھي. جيڪو مولا عليء عليہ السلام جو آھي سو اسانجي اکين جو ٺار آھي. جيڪو مولا عليء جو ناھي ان سان ڪوئي تعلق ناھي.

Sahibzada Syed Nasrullah Shah Bukhari اوھانکي سلام ❤️

(22 رجب : نئی نظریاتی جنگ صفین کا نا مسعود آغاز)ہم نہایت افسوس کے ساتھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ 22 رجب کو یوم سیدنا امام جع...
04/02/2024

(22 رجب : نئی نظریاتی جنگ صفین کا نا مسعود آغاز)
ہم نہایت افسوس کے ساتھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ 22 رجب کو یوم سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی جگہ یوم سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مقرر کر کے جس نئی نظریاتی جنگ صفین کا آغاز کیا گیا ہے وہ نہایت نا مسعود ہے.
اہل سنت جو کہ فرقہ خطائیہ کی وجہ سے پہلے ہی رفض و نصب کے دو خانوں میں بٹے ہوئے تھے، سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا 22 رجب کا مشہور بین الجمہور یوم تبدیل کر کے اس تقسیم اور افتراق کو مزید تقویت دی گئی.
بندہ ناچیز نے چار سال پہلے سے ہی متنبہ کرنا شروع کر دیا تھا کہ یوم تبدیلی کا یہ اقدام شدید ترین نقصانات کا سبب بنے گا.. کچھ لوگ یوم امام جعفر صادق منائیں گے اور کچھ یوم امیر معاویہ (رضی اللہ عنہما) اور پھر یہی ہوا..
سب لوگوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ 22 رجب کو ایک طبقے نے ایک یوم منایا اور دوسرے طبقے نے دوسرا. کیا یہ کوئی نیک شگون ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس انتشار کا ذمے دار کون ہے، ظاہر ہے کہ وہی طبقہ جس نے زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے صدیوں سے چلے آنے والے یوم امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو تبدیل کرنے کی نا مسعود ناصبیانہ جسارت کی اور صحابہ والوں کو اہل بیت والوں کے سامنے لا کھڑا کیا. اب اس نئی نظریاتی جنگ صفین کا انجام کیا ہو گا اس کے لیے کچھ زیادہ غور و فکر کی چنداں ضرورت نہیں.
بعض لوگ اس یوم تبدیلی کو بہت ہلکا لے رہے ہیں، حالانکہ دوسری طرف والے اب پر تولے بیٹھے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ایام تبدیل کر دیں.. اور انہیں راستہ انہیں لوگوں نے مہیا کیا ہے جو یوم امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ تبدیل کر کے ابھی تک اسے تقریرا و تحریرا، علما و عملاً ہلکا ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں.
ہم ان نا ہنجاروں سے ایک مرتبہ پھر یہی کہتے ہیں کہ وہ اس غلط حرکت سے باز آ جائیں اور امت میں تفریق و انتشار کا سبب نہ بنیں.
ان نا ہنجاروں کے بد نیتی اسی سے آشکار ہو جاتی ہے کہ ان کی خود اپنی کتب میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یوم وصال 4 رجب لکھا ہوا ہے. مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "حضرت امیر معاویہ" اور دعوت اسلامی کی کتاب "فیضان امیر معاویہ" میں واضح لکھا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا وصال 4 رجب کو ہوا. جبکہ دیگر اقوال کو خود انہیں لوگوں نے بعض مؤرخین کا قول قرار دے رکھا ہے. 22 رجب کا قول تو وہابیہ نے مشہور کر رکھا تھا، جسے انہوں نے نجانے کیوں قبول کر کے یوم امام جعفر صادق تبدیل کرنے کا نا پاک قدم اٹھایا..
خود سوچیے! اگر شیعہ کی مشابہت کی وجہ سے 22 رجب کو یوم امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ منانا درست نہیں ہے تو وہابیہ کی مشابہت میں یوم سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ منانا کیسے درست ہو گیا؟
عربی محاورہ ہے "فر من المطر و قام تحت المیزاب" یعنی بارش سے بچنے کے لیے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہو گیا.
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا بھی اسی موقع کے لیے بولا جاتا ہے.

(22 رجب کے کونڈے : اہل بیت کے تاریخی دن کے خلاف ناص_بیا_نہ سازش)تحریر : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی، جامعہ نظام مصطفی ...
26/01/2024

(22 رجب کے کونڈے : اہل بیت کے تاریخی دن کے خلاف ناص_بیا_نہ سازش)
تحریر : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی، جامعہ نظام مصطفی بہاولپور
✍️(قسط اول)
نوٹ: ہماری اس تحریر کے مخاطب وہابیہ نہیں بلکہ 22 رجب کو ناص_بیا_نہ یوٹرن لینے والے اہل سنت ہیں...نیز ہمارا مقصود کونڈوں کا جواز نہیں بلکہ 22 رجب کے سنی معمول کو تبدیل کرنے والے نا ہنجاروں کی سر کوبی ہے.
________________________________________________
👈تمہید :
بر صغیر کے مسلمانوں میں طویل عرصے سے رواج چلا آ رہا ہے کہ وہ 22 رجب کو اہل بیت کی عظیم ہستی حضرت سیدنا امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کے ایصال ثواب کا اہتمام کرتے ہیں. اسے عرف عام میں کونڈوں کا ختم کہا جاتا ہے.
اس پر وہابیہ طرح طرح کے اعتراض کرتے رہے ہیں جبکہ علماء اہل سنت ان اعتراضات کا جواب دیتے رہے ہیں.
آئیے دیکھتے ہیں اس سلسلے میں اکابر اہل سنت کیا ارشاد فرماتے ہیں.

🌹22 رجب کے کونڈوں کے متعلق اکابر اہل سنت کے فرامین🌹
اکابرین اہل سنت نے ہمیشہ پوری علمی قوت کے ساتھ 22 رجب کے کونڈوں کا دفاع کیا ہے. اس پر بکثرت مضامین، فتاوی اور چھوٹی بڑی کتب تحریر کی ہیں. اکابرین کے چند اہم فرامین ملاحظہ ہوں.

(1) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں ، یہ بھی جائز ہیں. (بہار شریعت ، ج3، ص643، مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

(2) مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اس مہینہ کی 22 تاریخ کو ہند و پاک میں کونڈے ہوتے ہیں، یعنی نئے کونڈے منگائے جاتے ہیں اور.....پوریاں بناکر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرتے ہیں۔‘‘..... مزید فرماتے ہیں:’’رجب کے مہینہ میں 22 تاریخ کو کونڈوں کی رسم بہت اچھی اور برکت والی ہے۔ (اسلامی زندگی ،ص 76، 80 مکتبۃ المدینہ ،کراچی )

(3) مفتی محمد وقار الدین رضوی لکھتے ہیں : اہل سنت کے نزدیک جیسے ہر فاتحہ جائز ہے اسی طرح کونڈوں کی فاتحہ بھی جائز ہے. ( وقار الفتاوی ج 1، ص 202، بزم وقار الدین کراچی)

(4) مفتی عبد المجيد خان سعیدی رضوی لکھتے ہیں : میں 1986 میں اپنے مرشد کریم امام اہل سنت غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے دولت کدے پر حاضر تھا، 22 رجب کو طلوع آفتاب کے بعد آپ کے گھر کونڈوں کا ختم دلایا گیا. اور بندے کی معلومات کے مطابق اب بھی حضرت کے گھر ہر سال 22 رجب کو کونڈے کیے جاتے ہیں ( کونڈوں کی شرعی حیثیت، ص 26،اویس رضا لائبریری حیدر آباد سندھ)

(5) امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری لکھتے ہیں : رجب المرجب کی 22 تاریخ کو مسلمان حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کے لیے کھیر پوریاں پکاتے ہیں جنہیں کونڈے شریف کہا جاتا ہے. ( کفن کی واپسی، مکتبۃ المدینہ کراچی)

(6) مفتی محمد ہاشم خان عطاری لکھتے ہیں : مسلمان عام طور پر 22 رجب کو بالخصوص حضرت امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کے ایصال ثواب.... کا اہتمام کرتے ہیں... یہ شرعا بالکل جائز ہے ( فتوی کونڈوں کی نیاز حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے یا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے لیے؟)

(7) اسی طرح فتاوی مصطفویہ میں مفتی اعظم ہند حضرت مفتی مصطفی رضا خان نے.. فتاوی خلیلیہ میں حضرت مفتی خلیل خان برکاتی نے.. جنتی زیور میں حضرت مولانا عبد المصطفی اعظمی نے.. رشد الایمان میں حضرت مولانا عبد الرشید قادری رضوی نے.. ثواب العبادات میں حضرت مولانا محمد شفیع اکاڑوی نے.. کونڈے جائز ہیں میں حضرت مفتی فیض احمد اویسی نے.. تفہیم المسائل جلد دوم میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب نے.. فتاوی فقیہ ملت میں حضرت مفتی جلال الدین امجدی نے..فتاوی بحر العلوم میں حضرت مفتی عبد المنان اعظمی نے.. صراط الابرار حصہ سوم میں مولانا محمد شہزاد قادری ترابی نے.. کونڈے بھی ایک مقصد رکھتے ہیں، میں مولانا محمد مجاہد عطاری نے 22 رجب کے کونڈوں کا دفاع کیا ہے.

🌹کیا 22 رجب کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یوم وصال ہے؟🌹
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی 22 رجب کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یوم وصال ہے؟ اس سلسلے میں علماء اہل سنت کیا فرماتے ہیں.

1...حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صفحہ 41 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات میں لکھتے ہیں : امیر معاویہ ( رضی اللہ عنہ) کی وفات 4 رجب سن 60 ہجری میں مقام دمشق میں لقوہ کی بیماری سے ہوئی.

2..مفتی محمد ہاشم خان عطاری اپنے فتوی میں لکھتے ہیں : 22 رجب کو حضرت امیر معاویہ کی تاریخ وفات قراردینا کوئی یقینی امر نہیں ہے ، بلکہ یہ آپ کی تاریخ وفات کے بارے منقول اقوال میں سے ایک قول ہے ، کیونکہ مؤرخین کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال شریف ساٹھ ہجری میں ہوا ، لیکن تاریخ کیا تھی ؟ اس میں چار اقوال ہیں : (1) یکم رجب المرجب... (2) 4 رجب المرجب... (3) 15رجب المرجب...(4) 22رجب المرجب

3..کتاب فیضان امیر معاویہ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ صفحہ 247 پہ لکھا ہے : حضرت سیدنا سلیمان بن احمد طبرانی رحمہ اللہ حضرت سیدنا نورالدین علی بن ابوبکر ہیثمی رحمہ اللہ کی ذکر کردہ روایت اور امام یوسف بن زکی مزی رحمہ اللہ کے مطابق حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا وصال مبارک 4 رجب المرجب سن 60 ہجری میں ہوا.
(اس کے بعد دیگر تین اقوال کا ذکر کیا گیا ہے)

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مذکورہ تینوں حوالہ جات میں 4 رجب کی تاریخ کو اولیت و فوقیت دی گئی ہے.
اب یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ جس تاریخ کو اولیت و فوقیت حاصل ہے اسے ترک کر کے خاص اس 22 تاریخ کو جس میں سالہا سال سے اہل سنت سیدنا امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کا یوم مناتے چلے آ رہے ہیں... سیدنا امیر معاویہ کا یوم منانے کا آغاز کر دینا کون سی وجوہات کے تحت ہے. جبکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یوم 4 رجب کو بلا نکیر منایا جا سکتا ہے جسے اولیت و فوقیت بھی حاصل ہے.

👈عجوبہ :
حال ہی میں یہ بھی عجوبہ ہوا کہ مخصوص نا_ص_بی فکر کے حضرات کو سیدہ کائنات فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا 20 جمادی الثانیہ کو یوم منانا بھی سخت نا گوار گزرا اور انہوں نے باقاعدہ تحریریں لکھ لکھ کر نعوذبااللہ اس سے منع کیا، ان کے بقول یہ رو_اف_ض کی سازش ہے اور اس سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے یوم مبارک پہ زد پڑتی ہے. حیرت ہے کہ دو دن پہلے تو سیدہ کائنات کا یوم منانا راف_ض_یت قرار پائے لیکن عین اہل بیت کے صدیوں سے چلے آنے والے دن کو مکمل تبدیل کر دینا نا_صب_یت کی بجائے سنیت قرار پائے. اسی موقع پر کہتے ہیں :
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
و الی اللہ المشتکی

🌹کیا 22 رجب کے کونڈے روا_ف_ض کی مشابہت یا ان کے ایجاد کردہ ہیں؟🌹
اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ کیا 22 رجب کو یوم امام جعفر صادق علیہ الرحمہ منانے سے رو_اف_ض کی مشابہت لازم آتی ہے یا یہ ان کے ایجاد کردہ ہیں ؟ تو دیکھیے اس سلسلے میں علماء اہل سنت کیا فرماتے ہیں.

1.. مفتی محمد ہاشم خان عطاری اپنے فتوے میں لکھتے ہیں : کونڈوں کے ختم کو بدمذہبوں کا طریقہ کہہ کرممنوع قراردینا اور اس سے بدمذہبوں سے تشبہ سمجھنا بھی باطل ہے ، کیونکہ کفار و بدمذہبوں سے مشابہت کے ممنوع ہونے کے بارے قاعدہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ وہی تشبہ ممنوع ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو... یا وہ شے ان بدمذہبوں کا شعار خاص ہو.. یا اس چیز میں فی نفسہ شرعاً کوئی حرج ہو. بغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں... کچھ سطروں بعد لکھتے ہیں : سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نماز عید کے بعد معانقہ کے عدم جواز پربطور دلیل پیش کی ہوئی ایک عبارت ، جو اس بات پر مشتمل تھی کہ’’ نمازکے بعد مصافحہ کرنا سنت ِروافض ہے‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یوں ہی مصافحہ بعد نماز فجر وعصر اگر کسی وقت کے رو_اف_ض نے ایجاد کیا اور خاص ان کا شعار رہا ہو، اور بدیں وجہ اس وقت علماء نے اہلسنت کے لئے اسے ناپسند رکھا ہو تو معانقہ عید کا زبردستی اسی پر قیاس کیونکر ہو جائے گا، پہلے ثبوت دیجئے کہ یہ ’’را_فض_یوں کا نکالا اور انہیں کا شعار خاص ہے۔‘‘ورنہ کوئی امر جائز کسی بدمذہب کے کرنے سے ناجائز یا مکروہ نہیں ہوسکتا ۔ لاکھوں باتیں ہیں جن کے کرنے میں اہلسنت ورو_اف_ض بلکہ مسلمین وکفار سب شریک ہیں۔ کیا وہ اس وجہ سے ممنوع ہوجائیں گی؟

2..مولانا محمد حسن علی رضوی اپنی کتاب کونڈوں کی فضیلت صفحہ 4 پہ لکھتے ہیں : ہمارے دادا صاحب سنی صحیح العقیدہ تھے، وہ پابندی سے کونڈے بھرتے تھے. اپنی والدہ مرحومہ اور ماموں وغیرہ کے ہاں کونڈے بھرے جانے کے تذکرے کرتے تھے، خلاصہ یہ کہ 114 سال سے تو ہمارے خالص سنی بریلوی خاندان میں کونڈے رائج ہیں.... اگر بالفرض راف_ضی_وں نے کونڈوں کو اپنایا بھی ہے تو ہم اہل سنت کے بہت بعد. ثابت ہوا کہ یہ تقریب راف_ضیو_ں کی ایجاد کردہ نہیں ہے اور اس پر راف_ض_یوں کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے.
مزید اسی کتاب کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں : محدث اعظم پاکستان علامہ محمد سردار احمد لائل پوری فرماتے ہیں، سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی فاتحہ کے لیے 22 رجب کو کونڈے بھی شرعا جائز و باعث خیر و برکت ہیں.
ابو البرکات علامہ سید احمد قادری رضوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : 22 رجب کو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی نیاز کے لیے کونڈے بھرنا بھی اہل سنت کے معمولات میں سے ہے.
مخدوم اہل سنت علامہ ابو داؤد محمد صادق فرماتے ہیں : سیدنا امام جعفر صادق کی یاد میں 22 رجب کا ختم شریف و ایصال ثواب اہل سنت و جماعت میں معمول و معروف ہے.
مزید لکھتے ہیں : مرکز اہل سنت بریلی شریف میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے شہزادگان کرام اور خانوادہ کے افراد میں 22 رجب کے کونڈوں کی تقریب منائی جاتی ہے. مزید لکھتے ہیں : رف_ض کا بہتان جھوٹا ہے، اور یہ کہنا بالکل باطل ہے کہ معاذ اللہ کونڈوں کی رسم راف_ضی_وں تبرائیوں کی جاری کردہ ہے. ( کونڈوں کی فضیلت، حضرت علامہ حسن علی رضوی بریلوی، مطبوعہ جمعیت اشاعت اہل سنت کراچی)

3.. امیر دعوت اسلامی مولانا الیاس عطار قادری رضوی لکھتے ہیں : حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات میں اختلاف ہی سہی، اور 22 رجب المرجب آپ کے وصال کا دن نہ بھی ہو تب بھی مسلمانوں میں اس دن آپ کے ایصال ثواب کے لیے کونڈے شریف رائج ہیں. ( کفن کی واپسی، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

4.. مفتی محمد انس رضا عطاری لکھتے ہیں : جو کونڈوں کی نیاز کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ اہل تشیع کی ایجاد ہے، اور اہل تشیع حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کی خوشی میں یہ کرتے ہیں... جبکہ یہ دونوں باتیں خود ساختہ اور بے دلیل ہیں. اہل سنت کئی سالوں سے یہ نیاز دیتے آئے ہیں. اور اہل سنت کے جید علماء نے اس کی اجازت دی ہے. جہاں تک شیعوں سے مشابہت کا تعلق ہے تو اہل تشیع بھی رجب کے کونڈے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے ایصال ثواب کے لیے کرتے ہیں..... بالفرض اگر اہل تشیع حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کی خوشی میں کونڈوں کی نیاز دلاتے ہیں تو یہ ان کا فعل ہے، اہل سنت تو ایسا نہیں کرتے، پھر تشبہ کس بات کی؟ ( فتوی مفتی محمد انس رضا قادری 2018)

👈تبصرہ و تنبیہ :
مذکورہ تمام حوالہ جات سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ اہل سنت و جماعت شروع دن سے ہی 22 رجب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کے کونڈے کرتے چلے آ رہے ہیں. لیکن افسوس کہ چند سالوں سے نا_صب_یانہ ذہنیت کے لوگوں نے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ 22 رجب کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یوم وصال مشہور کر کے ان کا یوم منانا شروع کر دیا اور سیدنا امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کا یوم 15 رجب کی طرف منتقل کر دیا. ہم ان کے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اہل سنت کو اس کے مفاسد کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں .

1..انہوں نے اہل بیت سے منسوب اہل سنت کے ایک تاریخی یوم کو تبدیل کرنے کی جسارت کی جس کا ان کے پاس قطعا کوئی اختیار نہیں تھا. پس انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا.

2..انہوں نے علماء اہل سنت کے اس سلسلے کے تمام تر علمی و تحقیقی دفاع کو آن واحد میں غتر بود کر دیا، یعنی اب تک کی ان کی تمام تر تحقیقات بے کار قرار پائیں.

3..انہوں نے وہابیہ کے اعتراضات کو ایک گونہ تسلیم کر لیا اور اپنے اس عمل سے انہیں تقویت پہنچائی. یعنی وہ جو کہتے تھے کہ 22 کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یوم وصال ہے اور یہ شیعہ کے ساتھ مشابہت ہے لہذا تم اس تاریخ کو امام جعفر صادق کا یوم نہ مناؤ.. تو انہوں نے ان کی رائے کو تسلیم کر کے 22 کو ان کا یوم منانا بند کر دیا اور ان کے ساتھ مل کر کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یوم منانا شروع کر دیا.

4..انہوں نے اپنے اس عمل سے عوام اہل سنت کے دلوں میں ناصبیت کا بیج بویا، کہ جس دن اہل سنت اہل بیت سے محبت کا اظہار کرتے تھے انہیں اس دن سے ہٹا دیا. یہ بھی سخت ترین قابل اعتراض فعل ہے.

اب یہ اہل سنت کا فرض ہے کہ وہ ان کے اس عمل کے خلاف بھرپور صدائے احتجاج بلند کریں اور ان کا سخت محاسبہ کرتے ہوئے اکابر اہل سنت کے معمول کو آگے بڑھائیں.

✍️(قسط دوم)
(22 رجب کے کونڈے ، اہل سنت اکابرین کی تاریخی روایت کا تحفظ کیجیے)

سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کے ایصال ثواب کے لیے ہمارے اہل سنت اکابرین سے 22 رجب کے کونڈوں کی جو حسین تاریخی روایت چلی آ رہی ہے اس کے تحفظ کے لیے میں نے جو مدلل تحریر لکھی تھی وہ تمام سنجیدہ اہل علم نے نہ صرف پسند فرمائی بلکہ اسے ہر طرف دھڑا دھڑ شئیر بھی کیا.
ہاں البتہ نا_ص_بی ذہنیت کے بعض نا پختہ کار لوگوں نے اس کے حوالے سے نہایت غیر علمی انداز میں کمزور ترین تحفظات اور شبہات کا اظہار کیا.
اگرچہ فی نفسہ مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہ تھی، لیکن چونکہ جن تحفظات و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا ان سے کم علم لوگوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ تھا اس لیے یہ دوسری آخری قسط لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی.

🌹مشہور بین الجمہور ایام کی اہمیت🌹
سب سے پہلے تو ہم اپنا اصولی نقطہ نظر واضح کر دیں کہ ہمارے نزدیک اسلاف سے چلے آنے والے معروف و متوارث ایام کو ان کی جگہ سے ہٹانا نہ صرف بہت بڑی غلطی بلکہ فتنہ پروری ہے.
اسلاف نے جن ایام کو عرفا متعین کر دیا اور تقریر و تحریر سے ان کا دفاع کیا ہماری ذمے داری ہے کہ ہم انہیں کو آگے بڑھائیں اور ان میں کسی قسم کا رد و بدل ہرگز نہ کریں، نہ ہی ہمیں رد و بدل کا کوئی حق حاصل ہے.

🌹مشہور بین الجمہور ایام بارے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا فیصلہ🌹
عرفی طور پر متعین ایام کی اہمیت کے حوالے سے حجۃ اللہ علی الارض اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (جنہوں نے تقریباً ہر ضروری مسئلے کا حل پیش فرمایا) اپنے مشہور و معروف علمی و تحقیقی رسالے نطق الہلال میں حرف آخر اور قول فیصل ضابطہ کچھ یوں ارشاد فرماتے ہیں.
1.. "شرع مطہر میں مشہور بین الجمہور ہونے کے لیے وقعت عظیم ہے اور مشہور عندالجمہور 12 ربیع الاول ہے جبکہ علم ہیأت وزیجات کے حساب سے روزولادت شریف 8 ربیع الاول ہے، کما حققناہ فی فتاوٰنا....تعامل مسلمین' حرمین شریفین و مصروشام بلاد اسلام و ہندوستان میں 12 ہی پر ہے اس پرعمل کیاجائے، اورروزولادت شریف اگر آٹھ...ہو جب بھی 12 کوعیدمیلاد کرنے سے کون سی ممانعت ہے. "
( نطق الہلال فتاوی رضویہ، جلد 26)
دیکھ لیجیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے کتنا واضح لکھ دیا کہ ان کے نزدیک اگرچہ تحقیق یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ پیدائش 8 ربیع الاول ہے لیکن چونکہ مشہور بین الجمهور کو زبردست اہمیت حاصل ہے اس لیے 12 کو ہی بطور یوم میلاد جاری رکھا جائے.
جب اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی تحقیق مختلف ہونے کے باوجود مشہور بین الجمہور کو برقرار رکھا تو ہم کون ہوتے ہیں اسلاف سے چلی آنے والی تواریخ کو بدلنے والے؟

2..اعلی حضرت علیہ الرحمہ مزید ارشاد فرماتے ہیں :
مسلمانوں کا روز عید الفطر و عید الاضحی و روز عرفہ سب اسی دن ہے جس دن جمہور مسلمین خیال کریں..و ان لم یصادف الواقع و نظیرہ قبلۃ التحری ( اگرچہ وہ واقع کے مطابق نہ ہو، اس کی نظیر قبلہ تحری ہے) لا جرم عید میلاد والا بھی کہ عید اکبر ہے قول و عمل جمہور مسلمین ہی کے مطابق بہتر ہے.. فلاوفق العمل ما علیہ العمل ( یعنی بہترین و مناسب ترین عمل وہی ہے جس پر جمہور مسلمانوں کا عمل ہو)
(نطق الہلال فتاوی رضویہ، جلد 26)
غور فرمائیے! اعلی حضرت علیہ الرحمہ بھی آج کل کے چار حرف پڑھے ہوؤں کی طرح یہ کہہ کر کہ "میلاد تو کسی بھی دن منایا جا سکتا ہے" 12 ربیع الاول شریف کی تاریخ کو 8 ربیع الاول شریف کی طرف منتقل فرما سکتے تھے لیکن چونکہ آپ عظیم دانش ور عبقری شخصیت تھے اس لیے آپ نے مشہور بین الجمہور کو قائم رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا . فللہ الحمد.

پس 22 رجب کی تاریخ کو جب اسلاف نے سیدنا امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کے ایصال ثواب کے لیے عرفی طور پر متعین کر دیا تو اب اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا قطعا دانش مندی نہیں. البرکۃ مع اکابرکم ( برکت اکابر کے ساتھ چلنے میں ہیں)

👈ہمارا واضح نقطہ نظر :
کچھ لوگوں نے ہماری تحریر پڑھ کر الزام ما لا یلزم کے طور پر زبردستی ہم پر کچھ الزامات ٹھونسنے کی کوشش کی. لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنا نقطہ نظر اچھی طرح واضح کر دیں.
ہمارا نقطہ نظر یہ تھا اور ہے کہ صدیوں سے چلی آنے والی اجلہ علماء اہل سنت کی پختہ، مستند اور لاجواب علمی تحقیقات جنہیں لاکھوں مسلمانوں نے دل و جان سے قبول کر کے سر تسلیم خم کیا ان کے سامنے عقل نارسا کی اعتزالی و انحرافی ٹامک ٹوئیوں کا چراغ نہ پہلے کبھی جل سکا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جل سکے گا. بقول اقبال
ز اجتہاد عالمان کم نظر
اقتدا بر رفتگان محفوظ تر
لہذا جو دن اسلاف سے چلے آ رہے ہیں انہیں قطعا تبدیل نہ کیا جائے، ہاں اگر کسی اور ہستی کا دن منانا مقصود ہو تو اس کے لیے متبادل تاریخ کا تعین کیا جائے.
مذکورہ گفتگو سے یہ سوال بھی بے معنی (بلکہ وہابیانہ) ہو کے رہ گیا کہ 22 رجب کو امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کی ولادت ہوئی یا وفات ؟ بھائی کچھ بھی نہ ہو جب اسلاف اس تاریخ میں ان کا یوم مناتے اور اس کا دفاع کرتے چلے آ رہے ہیں تو یہی ہمارے لیے حجت ہے، جیساکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے یہی ارشاد فرمایا.

🌹مشہور بین الجمهور ایام کو بدلنے کا انجام🌹
اگر تواریخ کی بنیاد پر مشہور بین الجمہور ایام کو تبدیل کرنے کا رواج پڑ گیا تو پھر آئے دن نیا فتنہ اٹھ کھڑا ہو گا.
کوئی 12 ربیع الاول شریف کا یوم تبدیل کر دے گا... کوئی گیارہویں شریف کا یوم تبدیل دے گا... کوئی معراج شریف کا یوم تبدیل کر دے گا... کوئی یوم عثمان غنی تبدیل کرے گا... کوئی یوم فاروق اعظم تبدیل کرے گا.. غرض ایک افرا تفری پھیل جائے گی. پس تاریخی ایام میں تبدیلی لانے کے رواج کو سختی کے ساتھ کچلنے کی ضرورت ہے.

👈عجیب و غریب اعتراض اور اس کا جواب :
بعض عقل مندوں نے اعتراض اٹھایا کہ ایصال ثواب تو کسی بھی دن ہو سکتا ہے، لہٰذا وہ 15 کو کرو یا 22 کو، اس میں کوئی حرج نہیں..
ان حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایصال ثواب کا ہر وقت جائز ہونا علیحدہ امر ہے جبکہ کسی دن کا کسی شخصیت کے ایصال ثواب کے لیے عرفا مخصوص ہو جانا بالکل علیحدہ امر ہے، انہیں گڈمڈ کر کے سادہ لوح عوام کو دھوکہ نہ دیجیے.
جب ہر دن ایصال ثواب جائز ہے تو پھر خود آپ حضرات نے 15 رجب کو کونڈوں کے لیے کیوں متعین کیا؟ یہاں بھی کہہ دیتے کہ بابا ہر دن ایصال ثواب جائز ہے لہذا نہ 22 کی ضرورت ہے نہ 15 کی.. بس کسی بھی دن کر لیا کرو ایصال ثواب.
پتہ چلا کہ عرفی تعیین کی ایک اپنی اہمیت ہے. فللہ الحجۃ السامیۃ.
اگر آپ کے مذکورہ فارمولے کے مطابق تاریخی ایام کو تبدیل کرنا درست قرار دے دیا جائے... تو پھر میلاد بھی ہر دن کرنا جائز ہے لہذا 12 ربیع الاول کا تاریخی دن بھی تبدیل کر دیجیے... معراج شریف بھی کسی بھی دن منانا جائز ہے لہذا 27 رجب کا تاریخی دن بھی تبدیل کر دیجیے... گیارہویں شریف بھی کسی بھی دن منانا جائز ہے لہذا گیارہویں کا دن بھی تبدیل کر دیجیے. و ھلم جرا.
اور اگر تاریخی ایام کو بدلنے کے لیے اختلاف روایات کو بنیاد بنائیں تو اختلاف روایات تو تقریباً ہر تاریخی یوم میں پایا جاتا ہے، پھر ہر کسی کو اجازت دیجیے کہ وہ جب مرضی جس تاریخی دن کو تبدیل کر دے.

👈افتراق و انتشار سے بچنا ضروری ہے :
خود سوچیے! اگر اس طرح تاریخی ایام کو تبدیل کرنے کی ریت پڑ گئی تو کیا اس سے انتشار و افتراق پیدا نہیں ہو گا؟
اب بھی 22 رجب کی تاریخ تبدیلی کی وجہ سے کچھ لوگ 15 رجب کو کونڈے کریں گے اور کچھ حسب سابق 22 رجب کو. کیا یہ کوئی خوش گوار عمل ہو گا؟

👈 آپ یوم معاویہ کب منا رہے ہیں؟
ہماری سابقہ تحریر پر ہم سے ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ خود یوم معاویہ کب منا رہے ہیں؟
جس پر ہم نے جواب دیا کہ الحمد للہ ہم حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی بیان فرمودہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ وصال 4 رجب کو باقاعدہ ان کا یوم منا چکے ہیں، ہمارے خراج تحسین کی خود "تاریخیں بدلنے والی قوم" بھی تحسین کر چکی ہے. وہ تحریر یہیں ہماری آئی ڈی پہ دیکھی جا سکتی ہے.

👈مخلصانہ مشورہ :
ہمارا مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ اہل بیت کے لیے مشہور بین الجمہور تاریخ کو تبدیل نہ کیا جائے.. اس طرح اہل بیت اور صحابہ کے ایام میں مخاصمت پیدا کرنا قطعا کوئی دانش مندی نہیں.
آپ یوم معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے حضرت حکیم الامت کی بیان کردہ 4 رجب کی یا کوئی دوسری مناسب تاریخ مقرر کر لیجیے، تمام اہل سنت ان شاء اللہ مل جل کر یہ یوم بھی دھوم دھام سے منائیں گے.
اور اگر آپ ضد کے پکے ہیں تو پھر ہم آپ سے بھی بڑھ کر اسلاف کی راہ پر چلنے کے پکے ہیں. ان شاء اللہ تعالیٰ اکابر کے طریقہ کار کے عین مطابق 22 رجب کو سیدنا امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کے کونڈوں کا سلسلہ حسب سابق رواں دواں رہے گا.

✍️خلاصہ کلام :
تواریخ ولادت و وفات کی علمی تحقیقات کو بنیاد بنا کر مقدس ہستیوں کے ایام پر اعتراض بازی یا ان میں ہیرا پھیری منہج اہل سنت نہیں بلکہ منہج وہابیہ ہے.
منہج اہل سنت یہ ہے کہ جس ہستی کے ذکر خیر/ایصال ثواب کے لیے جو ایام عرفا مقرر ہو جائیں اور اسلاف سے متوارث چلے آ رہے ہوں انہیں ان کی جگہ برقرار رکھا جانا ضروری ہے. اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ایسے ایام کو "مشہور بین الجمہور" ایام کے نام سے یاد فرمایا ہے.
فلہذا 12 ربیع الاول کو یوم میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. یکم محرم کو یوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ.. 18 ذی الحج کو یوم عثمان غنی رضی اللہ عنہ...22 رجب کو یوم امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ چونکہ امت میں عرفا متعین ہو چکے ہیں، لہذا ان میں کسی قسم کی اعتراض بازی یا ہیرا پھیری کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے.
جو لوگ 18 ذی الحج کو یوم عثمان غنی اور یکم محرم کو یوم فاروق اعظم پہ تواریخ کی علمی تحقیقات کو بنیاد بنا کر اعتراض بازی کرتے ہیں وہ بھی منہج اہل سنت سے منحرف ہیں اور جو لوگ 22 رجب کو یوم امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خلاف اسلاف ہیرا پھیری کے مرتکب ہیں وہ بھی منہج اہل سنت سے منحرف ہیں. ہر دو گروہ اپنا اپنا قبلہ درست کریں.
عرفی تعیین کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امت نے کسی ہستی کے ذکر خیر/ایصال ثواب کے لیے کوئی دن مقرر کر دیا، اب چاہے ولادت و وفات کی علمی تحقیقات کچھ بھی ہوں عرفا مقرر کردہ ایام کو ان کی جگہ سے ہرگز نہیں ہٹایا جا سکتا.
آج کل ایک زہریلی فضا بن چکی ہے کہ جیسے ہی مقدس ہستیوں کے ایام قریب آتے ہیں ان پر اعتراض بازی کے لیے ہر ہر گروہ تواریخ ولادت و وفات کی علمی تحقیقات کے سکرین شارٹس لے کر سوشل میڈیا کے میدان کارزار میں کود پڑتا ہے.
اگر آج ایک گروہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا 22 رجب کا دن تبدیل کرنے کا جرم کرے گا تو کل کو دوسرا گروہ حضرت عثمان غنی اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کے ایام تبدیل کرنے کے درپے ہو جائے گا. فلہذا یہ دروازہ بند ہی رہنے دیا جائے اور ایام تبدیل کرنے کے فتنے کو ہوا نہ دی جائے.
جیسے حسب فرمان الہی شمسی و قمری سالوں، مہینوں، ہفتوں اور دنوں میں تبدیلی و اعتراض بازی ممنوع ہے ویسے ہی بزرگوں کے ذکر خیر کے لیے امت کی طرف سے مقرر کردہ تاریخی ایام میں بھی تبدیلی و اعتراض بازی ممنوع ہے.

نوٹ. ہمیں معلوم ہے کہ ہماری یہ تحریر پڑھ کر بہت سے لوگوں کو پریشانی ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ انہیں جواب لکھنے کا شوق چرائے، تو ہم یہاں مفتی محمد ہاشم خان عطاری صاحب کا فتوی بھی ساتھ ہی پوسٹ کر رہے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ پہلے مفتی ہاشم عطاری صاحب کے فتوے کا جواب لکھیں اور پھر ہماری تحریر کا.

وڌيڪ ويڊيوز جي لاء اسانجي چينل کي سبسڪرائيب ڪندا. ڪيترن ئي اصلاحي موضوعات تي علمي ۽ مفيد سنڌي زبان ۾ تقريرون موجود آھن.
25/01/2024

وڌيڪ ويڊيوز جي لاء اسانجي چينل کي سبسڪرائيب ڪندا. ڪيترن ئي اصلاحي موضوعات تي علمي ۽ مفيد سنڌي زبان ۾ تقريرون موجود آھن.

Islamic knowledge, Naat bayanat, scholars debates in sindhi. can join us on ://www.facebook.com/profile.php?id=100063634283...

Address

Abdoo

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Izhar Hussain suharwerdi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share