12/05/2024
اقبال میونسپل لائبریری مری
یہ لائبریری مری مال روڈ پر واقع ہے۔ اس دانش گاہ کا اصل نام نہرو لائبریری تھا۔ جس کی بنیاد ہندو قوم پرستوں نے ١۹٣۲ء میں رکھی تھی۔ ابتدا میں لائبریری عزیز شہید روڈ پر قائم ہوئی تھی۔ قیام کے وقت لائبریری میں زیادہ تر بنگالی, ہندی اور گورمکھی زبان کی کتب تھیں۔ لطیف کاشمیری صاحب پر تحریر کردہ تحقیقی مقالے میں مقالہ نگار ثوبیہ صاحبہ لائبریری کی تاریخ کے متعلق فرماتی ہیں "(اس لائبریری کا) مقصد ہندؤں کی تہذیب اور معاشرے سے متعلق کتابوں کے ذریعے علم کو عام لوگوں تک پہنچانا تھا اور ہندؤں کے رسم و رواج و اقدار سے باخبر کرنا تھا۔ ١۹٤٤ء کو انگریز افسیر جو اس وقت راولپنڈی ڈویژن میں تعینات تھے اُس کی نظر اس لائبریری پر پڑی تو انہوں نے محسوس کیا کہ چونکہ مری میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ لیکن معاشی طور پر علم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لیے انہوں نے اس لائبریری کو مقامی بلدیہ کی تحویل میں دینے کی سفارش کی۔" مقامی بلدیہ کی تحویل میں آنے کے بعد لائبریری کا نام تبدیل کر کے " میونسپل پبلک لائبریری" رکھ دیا گیا اور لائبریری میں صرف ہندو مذہب کی کتب کی بجائے مختلف موضوعات کی نئی کتب بھی شامل کی گئیں۔
سن ١۹٥٦ء اس لائبریری کی تاریخ کا بے حد اہم سال ہے۔ اس سال لائبریری کو نمایاں کرنے کے لیے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر جناب امان اللہ خان نیازی نے ہدایت دی کہ لائبریری کو مال روڈ پر منتقل کر دیا جائے اور اسی سال اس لائبریری کے منتظم بابو ممتاز صاحب خرابی صحت کے باعث مستعفی ہوگئے مگر لائبریری کا انتظام و انصرام لطیف کاشمیری صاحب کو سونپ دیا گیا۔ لطیف کاشمیری صاحب کیونکہ خود کتاب دوست و ادیب تھے اس لیے وہ اس کتاب گھر کی حقیقی قدر و قیمت سے بھی بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے دیگر اہل علم مصطفیٰے زیدی, نعیم حیدری, ملک مظفر قادر وغیرہ کے ساتھ مل کر لائبریری کی ترقی و توسیع کا کام شروع کیا۔ مال روڈ پر منتقل ہونے کے بعد لائبریری میں آنے والوں کی تعدا میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور سیاح بھی یہاں سے مستفید ہونے لگے نیز لائبریری میں نئی علمی, تحقیقی و ادبی کتب بھی شامل کی گئیں۔
١۹٦٧ء میں ایس ڈی ایم اور چیرمین بلدیہ محمد عارف صاحب کی تحویز پر اس لائبریری کا نام اقبال میونسپل لائبریری" رکھ دیا گیا۔ نیز مری لٹریری سرکل جو کہ پہلے موجود تو تھا مگر فعال نہ تھا۔ لطیف کاشمیری صاحب کی کاوشوں سے اس سرکل کو بھی منظم کیا گیا اور لائبریری میں مری لٹریری سرکل کے اجلاس شروع ہو گئے۔ یوں لطیف صاحب کی ذاتی دلچسپی و محنت سے لائبریری علم و ادب کا گہوارہ بن گئی۔ کئی ایک علمی و ادبی مجالس کا اہتمام کیا گیا۔ ان محافل میں بہت سے نامور لوگوں نے شرکت کی مثلاً فیض احمد فیض, احمد فراز, حفیظ جالندھری, جوش ملیح آبادی ممتاز مفتی, قدرت اللہ شہاب, امجد سلام امجد, سید ضمیر جعفری, مختار مسعود, ڈاکٹر وزیر آغا, ڈاکٹر جمیل جالبی, ڈاکٹر انور سجار, پروفیسر احمد رفیق اختر, رحمان مذنب, عرش صدیقی,احمد ندیم قاسمی, حبیب جالب, انور مسعود, استاد دامن, منشا یاد, اے حمید، ایس ایم ظفر وغیرہ۔ اب بھی یہاں گاہے بگاہے تقاریب کا اہتمام کیا جاتا رہے۔ خیر مری لٹریری سرکل کو رواں دواں, متحرک اور سر گرمِ عمل کرنے میں لطیف صاحب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ لائبریری کا زرین دور تھا۔
جمیل یوسف صاحب اپنے ایک مضمون میں ماضی میں لائبریری کا منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں "(میں اپنے دوست کو مال روڈ پر چھوڑ کر) لائبریری کے ہال میں جا پہنچا۔ ہال میں داخل ہوتے ہی میری نظر چھت پر پڑی, میں نے لکڑی کا بنا ہوا اتنا خوبصورت چھت پہلے کہیں نہیں دیکھا تھا۔ چھت کی ساری سیلنگ اخروٹ کی لکڑی کے گل بوٹوں سے مزین تھی۔ میں چند لمحے اردگرد سے بے خبر چھت کے حسن میں کھویا رہا پھر جو نظر وہاں سے ہٹائی تو دیواروں پر چاروں طرف آویزاں ادباء و شعراء کی تصویروں میں جا اٹکی۔ محسوس ہوا جیسے دنیائے شعروادب کے ستاروں کی ایک کہکشاں اتر آئی ہو۔ جدھر نگاہ اٹھتی کسی نہ کسی مشہور و معروف ادبی شخصیت پہ جا ٹھہرتی۔۔۔۔ گویا پورا اردو ادب نظروں کے سامنے گھوم گیا۔ تصویروں کا ایسا رنگا رنگ گل دستہ میں نے اس سے قبل کسی لائبریری میں نہیں دیکھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اور کہیں تھا بھی نہیں۔ میں دنیا و مافیہا سے بے خبر کسی اور عالم میں ہی پہنچ گیا۔ یوں لگا جیسے کسی ماورائی ادب گاہ میں آگیا ہوں جو کوہ مری کی بلندی پر واقع ہے۔" لطیف صاحب ١۹۹١ء میں لائبریری سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اپنی افکار و اقوال پر مبنی کتاب "زعفران کے پھول" میں لکھتے ہیں "لائبریری کے بعض منتظموں کو دیکھ کر مجھے ان گدھوں کا خیال آ جاتا ہے جن کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوں یعنی ایک لائبریرین کا کتاب دوست و علم دوست ہونا بھی ضروری ہے۔" اور لطیف صاحب اپنے اس قول پر کھرے اترے۔ آپ مزید فرماتے ہیں "میں منتظم کتب ہونے کو حاکمِ زمانہ ہونے پر ترجیح دیتا ہوں۔" آپ کا ایک اور قول ہے " کتب خانے خدا کا گھر ہیں کہ خدا حق و صداقت کا دوسرا نام ہے اور حق و صداقت تک رسائی علم کے بغیر ممکن نہیں۔"
لطیف صاحب کے بعد محمد امین بٹ صاحب اس لائبریری سے منسلک ہوئے اور ان کی ١۹۹٧ء میں رخصت کے بعد جناب فرخ لطیف صاحب لائبریری کے منتظم مقرر ہوئے۔ لائبریری سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی۔ لائبریری کا انتظام سنبھالتے ہی آپ نے لائبریری کو از سر نو جدید خطوط پر استوار کیا اور اس کی ترتیب نو کے لیے اقدامات کرتے ہوئے اسے انگریزی و اردو کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں تقسیم کیا۔ ٤ جنوری ۲۰۰۰ء مال روڈ پر ہونے والی آتش زدگی نے اس لائبریری کو بے حد نقصان پہنچایا۔ دروان آتش زدگی پوری لائبریری کو خالی کر کے کتابوں کو منتقل کیا گیا۔ اس آتش زدگی سے لائبریری کی پوری عمارت خاکستر ہوگئی۔ مگر لائبریری کے لیے میونسپل کمیٹی ہال کی جگہ حاصل کرکے جلد ہی دوبارہ لائبریری کو وہاں منتقل کردیا گیا۔ لائبریری کی پرانی عمارت دو سال بعد بحال ہوئی تو لائبریری کو دوبارہ وہاں منتقل کردیا گیا۔ ۲۰۰۲ء میں لائبریری کا بلدیہ مری سے انتظامی ربط ختم کرکے اسے محکمہ تعلیم کے سپرد کردیا گیا۔ مگر چونکہ محکمہ, پبلک لائبریری چلانے کا کوئی تجربہ نہ رکھتا تھا اس لیے اس دور میں لائبریری بے شمار انتظامی مشکلات کا شکار رہی۔ پھر ۲۰۰٥ء میں شدید برفانی طوفان نے لائبریری کے چھت کو شدید نقصان پہنچا۔ ۲۰۰٧ء میں لائبریری کو دوبارہ بلدیہ مری کے حوالے کر دیا گیا۔ ۲۰١۰ء اور ۲۰١٤ءمیں پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن نے اس لائبریری کی مالی معاونت کی جس لائبریری میں فرنیچر اور نئی کتب شامل ہوئیں۔ ۲۰١٥ء میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے لائبریری میں فری انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔
راقم کا اس لائبریری سے تعلق خاصا پرانا ہے۔ چونکہ تین ماہ گرمی کی چھٹیوں کے مری میں گزرتے ہیں تو اس لائبریری سے تعلق پکا ہو گیا۔ تقریباً باقاعدگی سے لائبریری حاضری دی اور شاید اس باقاعدگی کا باعث فرخ لطیف صاحب کی فراخ دلی و تعاون رہا۔ لائبریری کے متعلق جب بھی کوئی تجویز دی تو انہوں نے پوری توجہ سے اس کو سنا۔ لائبریری کی ایک ایک الماری کھول کر ساری کتب کو دیکھا۔ میرا خیال نہیں تھا کہ مری کی اس مختصر سی لائبریری میں اتنی شاندار بلکہ بعض نایاب کتب ہوں گیں۔ اس لائبریری میں ادب اور تنقید کی کتب کا ایک خزانہ ہے۔ اقبالیات پر تقریباً تمام اہم کتب موجود ہیں۔ رسائل بھی ہیں۔ تاریخ کی بھی اچھی کتب موجود ہیں۔ اسلامیات پر بھی بہت سی کتب ہیں۔ حوالہ جاتی کتب کی بھی کمی نہیں۔ اور اس لائبریری کے انگریزی حصہ میں بے شمار قابل قدر کتب موجود ہیں خصوصاً آپ بیتیاں اور سوانحی کتب۔ پاکستانیات پر بھی لاجواب کتب ہیں۔
اس لائبریری کی کتب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر پرانی کتب موجود ہیں یعنی تقسیم سے قبل کی خصوصاً انگریزی کتب۔ مجھے یہاں ایسی بہت سی کتب دکھائی دیں جو کئی اہم لائبریریوں تک میں دستیاب نہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس شاندار لائبریری میں حاضرین کی تعداد خاصی کم ہے۔ زیادہ تر لوگ فقط اخبار کا مطالعہ کرنے آتے ہیں۔ ویسے رش نہ ہونے کے باعث یہاں آرام سے مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ خیر اکثر اس لائبریری میں فرخ صاحب کو دیکھ کر میں سوچتا ہوں اس لائبریری پر اتنے عتاب آئے, بارش ہو یا برف باری یا انتظامیہ کی بد سلوکی مگر یہ فرح صاحب ہی کی ہمت ہے کہ انہوں نے اس لائبریری کو فعال رکھا۔ حتیٰ کہ ایک سابق چیرمین بلدیہ مری کا فرمان تھا "لائبریری میں ویلوں کے سوا جاتا کون ہے"۔ مگر اس کے باوجود یہ لائبریری رواں دواں ہے۔ مری میں علمی, ادبی, تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اقبال میونسپل لائبریری کا بڑا دخل ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی اس لائبریری سے علم کے متوالے مستفید ہوتے رہیں گے۔ اہلیان مری اور مری میں آنے والے علم دوست سیاح حضرات سے گزارش ہے کہ اب کی بار مری آنا ہو تو اس دانش گاہ میں بھی حاضری دیجیے۔ آپ یقین کریں کہ آپ کو یہ کتاب خانہ مایوس نہیں کرے گا اور بچوں کو بھی ہمراہ لے کر جائیں اس لائبریری میں بچوں کے لیے معیاری اور عمدہ کتب کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اچھی کتاب ایک نعمت ہے اور یہاں نعمتوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔
طلحہ شفیق