Tahir Mehmood

Tahir Mehmood

Share

اس پیج سے آپ مختلف طرح کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں جس می?

27/08/2025

اگر آج کالاباغ ڈیم ہوتا تو دریا سندھ کا پانی روک لیا جاتا اور پھر باقی دریا اتنی تباہی نہ کرتے جو ابھی پنجاب اور سندھ میں ہورہی ہے۔

آج پھر پنجاب اور سندھ کے کئی علاقے طوفانی سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، ہزاروں گھر تباہ، کھیت ڈوب گئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ بچایا جا سکتا تھا؟

جی ہاں! اگر کالا باغ ڈیم بن چکا ہوتا تو یہی پانی ہمارے لیے تباہی نہیں بلکہ برکت بن جاتا۔ ہم اس پانی کو تھل کے صحرا کی طرف موڑ کر لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو سرسبز کر سکتے تھے۔ یہی پانی ہماری زراعت کو طاقت دیتا، کسان خوشحال ہوتا، اور ملک خوراک میں خود کفیل ہو جاتا۔ نہ سندھ کو نقصان ہونا تھا، نہ پنجاب کو، نہ خیبر پختونخوا کو۔

کالا باغ ڈیم صرف سیلاب سے بچاؤ ہی نہیں بلکہ بجلی کا سب سے سستا ذریعہ بھی ہے۔ یہ منصوبہ ملک کو توانائی بحران سے نکال سکتا ہے اور ہمیں بیرونی قرضوں سے آزاد کر سکتا ہے۔

لیکن افسوس! سیاست اور اختلافات نے اسے صرف ایک تنازع بنا دیا۔ اب وقت ہے کہ ہم بطور قوم اپنی آواز بلند کریں اور قومی پالیسی کا مطالبہ کریں تاکہ یہ خواب حقیقت بنے۔

کالا باغ ڈیم بنانا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔
اگر آج فیصلہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

30/07/2025

ایبٹ آباد بارش کے بعد کے مناظر
لاہور والے بابا کو بلائے کے پی کے گورنمنٹ کو بھی داد دے

20/07/2025

ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قبیلے والوں نے دعوت پر بلایا مگر وہ کھانے کی نہیں غیرت دکھانے کی دعوت تھی دونوں کو لے جا کر ایک چٹیل میدان میں کھڑا کردیا جاتا ہے وہاں 19غیرت مند بلوچ مرد کھڑے ہیں جن میں سے پانچ کے پاس لوڈڈ اسلحہ ہے ، بڑی سی چادر میں لپٹی 24 سالہ شیتل اور 32 سالہ زرک کو گاڑیوں کے قافلے میں قتل گاہ پر لاکر اتارا جاتا ہے

شیتل جس کے ہاتھ میں قرآن تھا قبیلے کے مردوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے سکون سے آگے بڑھتی ہے صرف گولی مارنے کی اجازت ہے جبکہ اس کی اجازت کسی نے طلب ہی کب کی تھی وہ قتل گاہ کی جانب خود بڑھی ، اسے معلوم تھا اپنا انجام اس لیے نہ اس کے پاؤں کانپے، نہ آنکھوں میں التجا تھی، نہ لبوں پر چیخ، نہ دامن میں رحم کی بھیک, اس کی خاموشی میں وہ شور تھا جو ان سب چیخوں پر بھاری تھا جو ظلم کے خلاف کبھی نہ نکل سکیں

پھر گولی نہیں ، 9 گولیاں ماری گئیں۔۔۔

پھر اس کے بعد زرک کی باری آئی ، اسے دو گنا ماری گئیں

صرف اس ایک جرم پر کہ اس نے من پسند انسان سے نکاح کیا ۔۔۔۔

اور موت سے کم سزا پر تو غیرت کو چین نہیں آتا
اس بلوچ قبیلے کی غیرت کو بھی سلام ، جو غیرت کے نام پر اپنی ہی بیٹی کو بے غیرت مردوں کے مجمعے کے سامنے لائے اور میدان میں کھڑا کرکے غیرت کی پگ پر ایک اور کلغی سجا لی

ایک اور بیٹی ہار گئی ، پگڑیاں جیت گئیں

💔💔

زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوں
سو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں

مرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی
خدا کے بعد میں تخلیق کا کردار عورت ہوں

Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Abbottabad