Online Quran Teacher

Online Quran Teacher

Share

I am online Quran teacher

13/04/2026

#ہم صدیوں سے کہتے آئے ہیں کے #شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں اور ثبوت بھی ہم انہی کی کتابوں سے دیتے آئے ہیں لیکن کچھ کم عقل #لوگ بضد تھے کے ایسا نہیں ہے #جھنگ کے ایک مرد قلندر نے انکا ک فر عیاں کیا تھا لیکن انکے ساتھ ساتھ کچھ سنیوں کو بھی مرچیں لگی تھی #اج مرشد کی باتیں حق و سچ ثابت ہوئی #لاہور میں خام نائی کے نام سے ہونے والی اس کانفرس میں پیچھے بینر پر جو آیت لکھی ہوئی ہے یہ در حقیقت غلط آیت ہے اصل آیت کو چھوڑ کر انہوں نے یہ آیت لکھی ہے
#لحاظہ ہماری حکومت وقت سے اپیل ھیکہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور فالفور اس پر ایکشن لیکر
قرآن کی آیت میں #تحریف کرنے والے جواد نقوی ، #راجہ ناصر عباس اور #سراج الحق سمیت دیگر تمام انتظامیہ کے خلاف توہین قرآن و تحریف قرآن کے دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے فوری طور گرفتار کیا جائیے ۔
اصل آیت اور تحریف شدہ آیت کا موازنہ دیکھیں۔
یوم وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا۔
(نوٹ) یہ تصویر اے آئی بھی نہیں ہے لحاظہ اے آی کا بہانہ بناکر بھی جان نہیں چھڑائی جاسکتی !

31/01/2026

روزانہ احادیث مبارکہ حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں https://chat.whatsapp.com/Cz0BwycNXdx3C2Oc3Qxf3J
اور اسلام سے محبت کرنے والے اس اسلامک پیج کو فالو ضرور کریں

25/01/2026

مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا ‘ وہ کہہ رہا تھا :
’’ اے مکہ کے رہنے والو! اے حج کیلئے دور دراز سے آنے والو! میری ایک تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں ایک ہزار دینار تھے ۔ جو شخص بھی مجھے وہ واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ اُسے بہترین جزادے اور جہنم سے آزادی عطا کرے‘‘
(دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا اور آج کل کے حساب سے اس کا وزن 4,347گرام بنتا ہے۔ اس طرح اندازہ کر لیں کہ ایک ہزار دینار ، اچھا خاصا سونے کا خزانہ تھا)
یہ اعلان سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ایک بوڑھے صاحب اٹھے اور انہوں نے اُس اعلان کرنے والے کو مخاطب کر کے کہا:
’’اے خراسانی بھائی ! ہمارے شہر کے حالات آج کل بہت ہی دگرگوں ہیں ۔ ہر طرف قحط سالی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ مزدوری کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ فقر و غربت کا دور دورہ ہے ۔ آپ کیلئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص کیلئے جو آپ کا مال لوٹا دے‘ کچھ انعام کا اعلان کردو ۔ ممکن ہے کہ وہ مال کسی فقیر اور محتاج کے ہاتھ لگا ہو تو جب وہ انعام کا اعلان سنے گا تو آپ کا مال لا کر دے دے گا ۔ تاکہ اُسے بھی حلال طریقے سے کچھ دینار مل جائیں‘‘۔
خراسانی شخص نے پوچھا:
’’ آپ کے خیال میں ایسے شخص کا انعام کتنا ہونا چاہیے؟‘‘۔
مکہ مکرمہ کے رہائشی اُن بزرگ عمر شخص نے کہا:
’’ایک ہزار دینار میں سے کم از کم سو دینار تو ہونے ہی چاہئیں‘‘۔
لیکن خراسانی شخص اس پر راضی نہیں ہوا اور اُس نے کہا :
’’ میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں ۔ آج مجھے مال نہ ملا تو کوئی بات نہیں ‘روزِ قیامت تو مل ہی جائے گا ‘‘۔
ابن جریرطبری کہتے ہیں کہ میں یہ سارا مکالمہ سن رہا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہ مال کسی اور کو نہیں اسی بابا جی کو ملا ہے لیکن یہ بغیر کسی حلال انعام کے اُسے واپس نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ شاید یہ بہت محتاج اور فقیر ہے ۔ میں نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کیلئے اور اصل صورت حال سمجھنے کیلئے اُس کا پیچھا کیا کہ یہ کہاں جاتا ہے؟
وہ بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے اور مکہ مکرمہ ایک پرانے محلہ کے کچے گھر میں داخل ہوئے ۔ ابن جریر طبری باہر کان لگا کر سن رہے تھے ۔ اندر گھر سے آواز آئی کہ بابا جی اپنی اہلیہ کو کہہ رہے تھے:
’’ اے لبابہ ! دیناروں کا مالک مل چکا ہے اور اب ہمیں دینار واپس ہی کرنے پڑیں گے ۔ میں نے اُسے کچھ انعام دینے کا ہی کہا لیکن وہ تو اس سے بھی انکاری ہے‘‘۔
کئی دنوں سے فاقے کی ستائی ہوئی اہلیہ نے جواب دیا :
’’ میں پچاس سال سے آپ کے ساتھ غربت بھری زندگی بسر کر رہی ہوں لیکن کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائی ۔ لیکن اب تو کئی دنوں سے فاقہ ہے ۔ پھر ہم دونوں کی ہی بات نہیں ۔ گھر میں ہماری چار بیٹیاں ، آپ کی دو بہنیں اور آپ کی والدہ بھی ہیں ۔ انہی کا کچھ خیال کر لو ۔ یہ مال جیسا بھی ہے آج خرچ کر لو ۔ کل کو ممکن ہے کہ اللہ تمہیں مالدار کر دے تو یہ قرض چکا دینا ‘‘۔
بابا جی نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
’’ کیا میں ۸۶ برس کی عمر میں آکر اب حرام کھانا شروع کردوں‘ جبکہ میں نے پوری زندگی صبر وشکر میں گزاردی ہے ۔ اب تو یوں سمجھو کہ میں قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہوں ۔ مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔‘‘ اس پر بیوی بھی خاموش ہو گئی
ابن جریر طبری کہتے ہیں میں یہ سب باتیں سن کر بہت حیران ہوا اور واپس حرم شریف آگیا ۔ اگلے دن جب سورج کچھ بلند ہوا تو وہ ہی کل والا خراسانی شخص اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :
’’اے خراسانی بھائی! میں نے کل بھی آپ کو ایک مفید مشورہ دیا تھا اگر آپ ہزار دینار میں سے سو دینار نہیں دے سکتے تو دس دینار ہی دے دو تاکہ اگر کسی غریب‘ فقیر ‘ محتاج کو آپ کا مال ملا ہے تو اُس کا بھی کچھ بھلا ہو جائے ‘‘۔
ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ اس طرح دوسرا دن بھی بیت گیا اور خراسانی شخص کو اُس کا مال نہیں مل سکا ۔ جب تیسرے دن کی صبح ہوئی تو پھر وہ آکر اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ اب پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :
’’خراسانی بھائی! میں نے پرسوں آپ کو سو دینار انعام کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا لیکن آپ نہیں مانے ۔ کل دس دینار کا مشورہ دیا ‘ اُس پر بھی آپ نے انکار کر دیا ۔ چلو! ایک دینار انعام کا ہی اعلان کر دو ، ممکن ہے کہ جس غریب کو مال ملا ہے ‘ اُس کے گھر میں کئی دن سے فاقہ ہو تو وہ ایک دینار سے اپنے اہل و عیال کیلئے کچھ کھانے کا ہی انتظام کر لے گا ‘‘۔
خراسانی شخص نے پھر بڑی ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک دینار بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ اپنا مال لوں گا تو پورا لوں گا ورنہ روزِ قیامت ہی فیصلہ ہو گا ۔
جب بابا جی نے یہ سنا تو اُن کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور اُس خراسانی شخص کا دامن اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:
’’میرے ساتھ آئو کہ میں تمہارا مال واپس کردوں ۔ اللہ کی قسم! جب سے یہ مال مجھے ملا ہے‘ میں ایک پل بھی سکون کی نیند نہیں سو سکا ہوں‘‘۔
ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں بھی چپکے سے ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ بابا جی اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ دینار لیے اور باہر نکل کر وہ سارے دینار اُس خراسانی شخص کو دیتے ہوئے کہا:
’’اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے اور اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرمائے‘‘۔
مجھے اُن کے پیچھے گھر سے رونے اور سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی کہ سب کئی دن فاقے سے تھے ۔ اُس خراسانی شخص نے تسلی سے اپنے دینار گنے اور روانہ ہو گیا ۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ اچانک مڑا اور اُن بابا جی کی کنیت سے اُنہیں مخاطب کر کے کہنے لگا:
’’اے ابو غیاث! میرے والد کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی میراث میں تین ہزار دینار چھوڑے تھے اور وصیت کی تھی کہ شرعی طریقے پر اس کا تیسرا حصہ یعنی ہزار دینار فقراء و مساکین پر صدقہ کر دئیے جائیں اور میں مکہ مکرمہ سے یہ مال اسی نیت سے لایا تھا کہ کسی فقیر اور محتاج کو دے کر اپنے لیے اور اپنے مرحوم والد کیلئے دعا کروائوں گا ۔ مجھے اس سفر میں آپ سے زیادہ سفید پوش کوئی نظر نہیں آیا ‘ اس لیے یہ مال رکھ لو اور اپنی ضروریات میں خرچ کرو‘‘۔
یہ سن کر ابو غیاث کی آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو رواںہو گئے اور انہوں نے خراسانی شخص اور اس کے والد ِ مرحوم کو خوب دعائیں دیں ۔ پھر جب وہ خراسانی شخص وہاں سے جانے لگا میں بھی واپس ہونے کیلئے مڑا تو پیچھے انہی بابا جی ’’ابو غیاث‘‘ کی آواز سنائی دی :
’’ بیٹا ! رک جائو ۔ میں پہلے دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم میرا پیچھا کر رہے ہو اور پورے معاملے سے باخبر ہو ۔ میںنے اپنے شیخ احمد بن یونس یربوعیؒ سے اور انہوں نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے حضرت نافع ؒ سے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے تھے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ہدیہ (تحفہ) بغیر مانگے اور بغیر نفس کے انتظار کے دے دے تو اُسے قبول کر لینا اور رد نہ کرنا‘‘۔
پھر انہوں نے گھر کے نو افراد کیلئے سو ‘سو دینار الگ کیے اور پورا دسواں حصہ یعنی سو دینار مجھے عنایت کیے اور مجھے ساتھ ہی کہا کہ یہ حلال مال ہے ‘ اسے احتیاط سے خرچ کرنا ۔
ابن جریر طبری کہتے ہیں میں وہ ہی سو دینار دو سال تک خرچ کرتا رہا اور خوب علم حاصل کیا ۔
اللہ کریم ہم سب کو اپنے لطف و احسان سے اس کا یقین عطا فرما دے کہ جو رزق ہمارے نصیب میں لکھا ہے‘ وہ ہمیں ضرور ملے گا چاہے وہ کہیں بھی ہو اور جو رزق ہمارے حصہ کا نہیں ہے‘ وہ ہمارے کام نہیں آئے گا ‘ خواہ ہمارے ہاتھ میں ہی کیوں نہ ہو۔ بس رزقِ حلال کے اہتمام اور حرام روزی سے بچنے کی یہی کنجی ہے ۔ باقی رزقِ حلال کیلئے محنت ‘ مسنون دعائوں اور مقبول وظائف بھی بندے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ذرائع اور بہانے ہیں۔
اللھم انا نسئلک علمانا فعاً ورزقاً واسعاً وشفائً من کل داء (آمین ثم آمین)

منتخب

22/01/2026

*سیرت النبی ﷺ*🌴

*قسط نمبر 01*

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ١۲ بیٹے تھے - ان کی نسل اسقدر ہوئی کے مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی - ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے - عدنان کے بیٹے معد اور پوتے کا نام نزار تھا - نزار کے چار بیٹے تھے - ان میں سے ایک کا نام مضر تھا - مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے" یہ فہر بن مالک بھی کہلائے - قریش کی اولاد بہت ہوئی - ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی - ان کی اولاد سے قصیّ نے اقتدار حاصل کیا - قصیّ کے آگے تین بیٹے ہوئے - ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے -
ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی " ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا " اس کا نام شیبہ رکھا گیا - یہ پیدا ہی ہوا تھا کہ ہاشم کا انتقال ہوگیا- ان کے بھائی مطلّب مکہ کے حاکم ہوئے - ہاشم کا بیٹا مدینہ منورہ میں پرورش پاتا رہا " جب مطلّب کو معلوم ہوگیا کہ وہ جوان ہوگیا ہے تو بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گئے - اسے لیکر مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے خیال کیا یہ نوجوان ان کا غلام ہے - مطلّب نے لوگوں کو بتایا " یہ ہاشم کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے " اس کے باوجود لوگوں نے اسے مطلّب کا غلام ہی کہنا شروع کردیا - اس طرح شیبہ کو عبدالمطلب کہا جانے لگا - انہیں عبدالمطلب کے یہاں ابوطالب حمزہ, عبّاس, عبداللہ, ابولہب, حارث, زبیر, ضرار, اور عبدالرحمن پیدا ہوئے- ان کے بیٹے عبداللہ سے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔
عبدالمطلب کے تمام بیٹوں میں حضرت عبداللہ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ پاکدامن تھے - عبدالمطلب کو خواب میں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا گیا " یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے کنویں کو, اس کنویں کو قبیلہ
جرہم کے سردار مضاض نے پاٹ دیا تھا - قبیلہ جرہم کے لوگ اس زمانہ میں مکہ کے سردار تھے " بیت اللہ کے نگراں تھے - انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی شروع کردی - ان کا سردار مضاض بن عمرو تھا " وہ اچھا آدمی تھا اس نے اپنے قبیلے کو سمجھایا کہ بیت اللہ کی بے حرمتی نہ کرو مگر ان پر اثر نہ ہوا " جب مضاض نے دیکھا کہ ان پر کوئی اثر نہ ہوتا تو قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا- اس نے تمام مال و دولت تلواریں اور زرہیں وغیرہ خانۂ کعبہ سے نکال کر زمزم کے کنویں میں ڈالدیں اور مٹی سے اسکو پاٹ دیا - کنواں اس سے پہلے ہی خشک ہوچکا تھا-
اب اس کا نام و نشان مٹ گیا - مدتوں یہ کنواں بند پڑا رہا اس کے بعد بنو خزاعہ نے بنو جرہم کو وہاں سے مار بھگایا " بنو خزاعہ اور قصیّ کی سرداری کا زمانہ اسی حالت میں گذرا - کنواں بند رہا یہاں تک کے قصیّ کے بعد عبدالمطلب کا زمانہ آگیا" انہوں نے خواب دیکھا " خواب میں انہیں زمزم کے کنویں کی جگہ دکھائی گئی اور اس کے کھودنے کا حکم دیا گیا-
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبدالمطلب نے بتایا :-
" میں حجر اسود کے مقام پر سورہا تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا - اس نے مجھ سے کہا "طیبہ کو کھودو "
میں نے اس پوچھا "طیبہ کیا ہے؟"
مگر وہ کچھ بتائے بغیر چلاگیا - دوسری طرف رات پھر خواب میں وہی شخص آیا " کہنے لگا "برہ کو کھودو "
میں نے پوچھا "برّہ کیا ہے" وہ کچھ بتائے بغیر چلے گیا-
تیسری رات میں اپنے بستر پر سورہا تھا کہ پھر وہ شخص خواب میں آیا - اُس نے کہا " مضنونہ کھودو "
میں نے پوچھا " مضنونہ کیا ہے؟" وہ بتائے بغیر چلا گیا -
اس سے اگلی رات میں پھر بستر پر سورہا تھا کہ وہی شخص پھر آیا اور بولا "زم زم کھودو " میں نے اس سے پوچھا "زم زم کیا ہے؟ " اس بار اس نے کہا:
" زمزم وہ ہے جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا, جو حاجیوں کے بڑے بڑے مجموعوں کو سیراب کرتا ہے "
عبدالمطلب کہتے ہیں , میں نے اس سے پوچھا
"یہ کنواں کس جگہ ہے؟ "
اس نے بتایا -
"جہاں گندگی اور خون پڑا ہے, اور کوّا ٹھونگیں مار رہا ہے"
دوسرے دن عبدالمطلب اپنے بیٹے حارث کے ساتھ وہاں گئے - اس وقت ان کے یہاں یہی ایک لڑکا تھا - انہوں نے دیکھا وہاں گندگی اور خون پڑا تھا اور ایک کوّا ٹھونگیں مار رہا تھا, اس جگہ کے دونوں طرف بُت موجود تھے اور یہ گندگی اور خون دراصل ان بتوں پر قربان کئیے جانے والے جانوروں کا تھا, پوری نشانی مل گئی تو عبدالمطلب کدال لے آئے اور کھدائی کے لئیے تیار ہوگئے لیکن اس وقت قریش وہاں آ پہنچے -انہوں نے کہا :
" اللہ کی قسم ہم تمہیں یہاں کھدائی نہیں کرنے دیں گے, تم ہمارے ان دونوں بُتوں کے درمیاں کنواں کھودنا چاہتے ہو جہاں ہم ان کے لئیے قربانیاں کرتے ہیں - "
عبدالمطلب نے ان کی بات سن کر اپنے بیٹے حارث سے کہا :
"تم ان لوگوں کو میرے قریب نہ آنے دو, میں کھدائی کا کام کرتا رہوں گا اس لئیے کہ مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اس کو ضرور پورا کروں گا- "
قریش نے جب دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو رک گئے - آخر انھوں نے کھدائی شروع کردی - جلد ہی کنویں کے آثار نظر آنے لگے - یہ دیکھ کر انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور پکار اٹھے
" یہ دیکھو یہ اسماعیل علیہ السلام کی تعمیر ہے "

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

جب قریش نے یہ دیکھا کہ انہوں نے کنواں تلاش کرلیا تو ان کے پاس آگئے اور کہنے لگے :
"عبدالمطلب اللہ کی قسم " یہ ہمارے باپ اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے اور اس پر ہمارا بھی حق ہے" اس لئیے ہم اس میں تمہارے شریک ہوں گے -"
یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا :
" میں تمہیں اس میں شریک نہیں کرسکتا " یہ مجھ اکیلے کا کام ہے"
اس پر قریش نے کہا :
" تب پھر اس معاملے میں ہم تم سے جھگڑا کریں گے"
عبدالمطلب بولے :
" کسی سے فیصلہ کروالو "
انہوں نے بنوسعد ابن ہزیم کی کاہنہ سے فیصلہ کرانا منظور کیا - یہ کاہنہ ملک شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی - آخر عبدالمطلب اور دوسرے قریش اس کی طرف روانہ ہوئے - عبدالمطلب کے ساتھ عبدمناف کے لوگوں کی ایک جماعت تھی -
جبکہ دیگر قبائل قریش کی بھی ایک ایک جماعت ساتھ تھی - اس زمانہ میں ملک حجاز اور شام کے درمیان ایک بیابان میدان تھا , وہاں کہیں پانی نہیں تھا - اس میدان میں ان کا پانی ختم ہوگیا - سب لوگ پیاس سے بے حال ہوگئے, یہاں تک کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہوگیا - انہوں نے قریش کے دوسرے لوگوں سے پانی مانگا لیکن انہوں نے پانی دینے سے انکار کردیا - اب انہوں نےادھر ادھر پانی تلاش کرنے کا ارادہ کیا -
عبدالمطلب اٹھ کر اپنی سواری کے پاس آئے, جوں ہی ان کی سواری اٹھی, اس کے پاؤں کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابل پڑا - انہوں نے پانی کو دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا - پھر عبد المطلب سواری سے اتر آئے - سب نے خوب سیر ہوکر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھر لیے - اب انہوں نے قریش کی دوسری جماعت سے کہا:"آؤ تم بھی سیر ہوکر پانی پی لو -" اب وہ بھی آگے آئے اور خوب پانی پیا - پانی پینے کے بعد وہ بولے:
" اللہ کی قسم.... اے عبدالمطلب! یہ تو تمہارے حق میں فیصلہ ہوگیا - اب ہم زمزم کے بارے میں تم سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے - جس ذات نے تمہیں اس بیابان میں سیراب کردیا، وہی ذات تمہیں زمزم سے بھی سیراب کرے گا، اس لیے یہیں سے واپس چلو -"
اس طرح قریش نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ عبدالمطلب پر مہربان ہے، لہٰذا ان سے جھگڑنا بے سود ہے اور کاہنہ کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ، چنانچہ سب لوگ واپس لوٹے -
واپس اکر عبدالمطلب نے پھر کنویں کی کھدائی شروع کی - ابھی تھوڑی سی کھدائی کی ہوگی کہ مال، دولت، تلواریں اور زرہیں نکل آئیں - اس میں سونا اور چاندی وغیرہ بھی تھی - یہ مال ودولت دیکھ کر قریش کے لوگوں کو لالچ نے آگھیرا - انہوں نے عبدالمطلب سے کہا :
"عبدالمطلب! اس میں ہمارا بھی حصہ ہے -"
ان کی بات سن کر عبدالمطلب نے کہا :
"نہیں ! اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ، تمہیں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے - آؤ پانسو کے تیروں سے قرعہ ڈالیں -"
انہوں نے ایسا کرنا منظور کرلیا - دو تیر کعبے کے نام سے رکھے گئے، دو عبدالمطلب کے اور دو قریش کے باقی لوگوں کے نام کے.... پانسہ پھینکا گیا تو مال اور دولت کعبہ کے نام نکلا، تلواریں اور زرہیں عبدالمطلب کے نام اور قریشیوں کے نام کے جو تیر تھے وہ کسی چیز پر نہ نکلے - اس طرح فیصلہ ہوگیا - عبدالمطلب نے کعبے کے دروازے کو سونے سے سجا دیا -
زمزم کی کھدائی سے پہلے عبدالمطلب نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! اس کی کھدائی کو مجھ پر آسان کردے، میں اپنا ایک بیٹا تیرے راستے میں ذبح کروں گا - اب جب کہ کنواں نکل آیا تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا -
"اپنی منت پوری کرو، یعنی ایک بیٹے کو ذبح کرو -"

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

*مصنف : عبداللہ فارانی*
*کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم*

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

20/01/2026

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ جب وہ لندن میں وکالت کرتے تھے ، تو ایک برطانوی خاتون چھوٹے موٹے مقدمات کے سلسلے میں ان کے پاس آتی تھیں۔ وہ ایک ہوٹل چلاتی تھیں اور ان کے شوہر فوج میں ملازم تھے ، ایک دن وہ خاتون علامہ اقبال کے پاس آئیں تو وہ نقاب میں تھیں۔ اقبال نے حیرت سے پوچھا کہ "میم صاحب خیریت ہے؟ آپ نے یہ برقع کیوں

پہنا ہوا ہے ؟" وہ خاتون ہنس کر کہنے لگیں: "اقبال! مجھے یقین تھا کہ آپ ضرور پوچھیں گے۔ الحمدللہ، میں "مسلمان ہو گئی ہوں۔

اقبال نے پوچھا: "لیکن آپ کا شوہر تو فوج میں ہے، وہاں کے قوانین اور ماحول بالکل الگ ہے، وہ کیا کہے گا؟" خاتون نے جواب دیا: "اسے کیا کہنا تھا، میری تبدیلی دیکھ کر وہ خود بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔

اقبال کا تجسس بڑھا تو انہوں نے پوچھا: یہ سب کیسے ہوا؟ خاتون نے اپنی کہانی یوں سنائی

خاتون کہتی ہیں: میں بے اولاد تھی، پیسہ بہت تھا، اپنا ہوٹل چلاتی تھی لیکن میں ہر وقت ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار رہتی تھی۔ مجھے سکون نہیں ملتا تھا۔ میرے ہوٹل میں ایک عمر رسیده مسلمان بزرگ بابا جی برتن دھونے کا کام کرتے تھے۔ ان کی عمر 70 سال کے قریب تھی ان کا ایک بیٹا، بہو اور ایک چھوٹا پوتا تھا۔ بیٹا بیمار رہتا تھا، اس لیے بابا جی اس عمر میں بھی مزدوری کرتے تھے۔

ایک دن بابا جی نے چھٹی مانگی اور بتایا کہ ان کے جوان بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے۔ خاتون کہتی ہیں کہ جب میں تعزیت کے لیے ان کے گھر گئی تو دیکھا کہ بابا جی ایک
تعزیت کے لیے ان کے گھر گئی تو دیکھا کہ بابا جی ایک ٹوٹی ہوئی چٹائی پر بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: "بابا! آپ کا ایک ہی سہارا تھا، وہ بھی چلا گیا، ہم آپ کو کیسے تسلی دیں؟

بابا جی نے اپنی بوڑھی آنکھیں کھولیں جن میں ایمان کی چمک تھی اور کہا

بیٹی کیسی تعزیت؟ کیا میں نے پیسے جمع کر کے بیٹا خریدا تھا؟ خدا کی امانت تھی، اس نے جب چاہا واپس لے لی۔ میں اپنے رب کے فیصلے پر راضی ہوں۔

کچھ دن بعد وہ کام پر واپس آ گئے، لیکن پھر ایک اور صدمہ پہنچا کہ ان کی بہو کا بھی انتقال ہو گیا۔ خاتون کہتی ہیں کہ میں تڑپ گئی کہ اب اس بوڑھے اور چھوٹے بچے کا کیا ہوگا؟ لیکن بابا جی پھر بھی ثابت قدم رہے۔

انہوں نے کہا: میرا مالک جو چاہے میں اس کی رضا میں خوش ہوں۔ اب میں اپنے چھوٹے پوتے کو ساتھ ہوٹل لے آیا کروں گا۔

آخری امتحان اور سکون قلب

کچھ وقت گزرا تو ایک دن وہ چھوٹا ہوتا، جو بابا جی کی کل کائنات تھا وہ چھت پر کھیل رہا تھا اچانک پاؤں پھسلا گردن کے بل گرا اور فوت ہو گیا۔ بابا جی نے اپنے ہاتھوں سے قبر کھودی، مٹی ڈالی اور کہا: "اناللہ وانا الیہ راجعون".

خاتون کہتی ہیں کہ میں نے تڑپ کر بابا جی کا ہاتھ تھاما اور کہا: "بابا! آپ تو بالکل اکیلے رہ گئے، اب آپ کی زندگی کیسی گزرے گی؟ آپ بکھر کیوں نہیں جاتے؟

بوڑھے بابا نے مسکرا کر جواب دیا
میم صاحب میں کیوں پریشان ہوں؟ میرا ایمان ہے کہ یہ " زندگی تھوڑے دن کی ہے۔ جب میں مر کر جنت میں جاؤں گا تو میرا رب مجھے میرے بیٹے، بہو اور پوتے سے دوبارہ ملوا دے گا۔ میرا رب ساری ملاقاتیں کرا دے گا۔

خاتون کہتی ہیں کہ یہ سن کر میرا اور میرے شوہر کا کلیجہ پھٹ گیا۔ میں نے پوچھا: "بابا! یہ سکون اور یہ جذبہ کہاں سے ملتا ہے؟ بابا جی نے کہا: "اگر تو نے یہ سکون لینا ہے، تو تو بھی گنبدِ خضریٰ والے نبی ﷺ کا کلمہ پڑھ لے، اللہ تجھے بھی یہ سکون عطا کر دے گا۔ واللہ اعلم بالصواب .

20/01/2026

السلام علیکم روزانہ آپ لوگ غیر اسلامی پوسٹس کو لائیک اور شئیر کرتے ہیں آج اس اسلامک پیج کو بھی فالو ضرور کریں Online Quran Teacher online Quran Teacher

20/01/2026
20/01/2026
Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Sherwan 2
Abbottabad
22100