29/04/2024
ووٹ: تشکیلِ معاشرہ کی بنیادی اکائی
انسانی تاریخ اس با ت کی شاہد ہے کہ روئے زمین پر نسل ِ انسانی کی بقا باہمی اتحاد اور ہمہ گیریت کی مسلمہ داستان ہے۔قوموں کے عروج و زوال میں باہمی اقدار کے پس و پیش کو بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ انسان نے اپنی بقا کے لیے خود کو قوم اور قبیلے کی صورت میں بھی سامنے لایا۔پھر اسی معاشرے کی فلاح و بقا کے لیے ہرقبیلے اور قوم میں مناسب ماحول کو بھانپتے ہوئے اپنا نائب بھی مقرر کیا۔یوں وقت کے بہتے تسلسل میں انسان نے ایک مناسب معاشرہ تشکیل دے دیاکہ جس میں اس معاشرے کی تہذیبی، سیاسی، سماجی ،تعلیمی اور خانہ جنگی سمیت سبھی امور چند دانش وروں کے باہمی اتحاد سے ممکن ہونے لگے۔
ہر عہد میں قوموں کے عروج و زوال میں اس قوم و قبیلے کا نمائندہ ہی موردِ فتح و شکست ٹھہرایا گیا ہے۔پس معلوم ہوا کہ کسی بھی قوم یا ثقافت کی دوامی کے لیے ایک چُنیدہ نمائندہ ہی اولین محرک مانا جاتا ہے۔قدیم زمانے میں ایک منظم طریقے سے نمائندے کا انتخاب عمل میں لایاجاتا رہا ہے۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جہاں زمانہ ترقی کی منازل طے کرتا گیا، وہیں انسان نے بھی اپنی آسائش اور ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے۔اپنی زندگی کو آسان تر کرنے کی سعی میں انسان نے بہت سے امور ایک مخصوص طریقے سے منتخب شدہ نمائندے کے حوالے کردیے ہیں۔عصرِ جدید میں نسلِ نو کی فلاح و بقا کے لیے ہر ترقی یافتہ قوم میں چند مخصوص نمائندے موجود ہوتے ہیں۔جن پر اس قوم اور قبیلے کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔یہ طرزِ انتخاب آج کے دور میں ووٹ کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔
صاحبِ دانش نے لکھا ہے کہ "جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے "۔یہی جمہوریت جدید معاشرے میں انسان کی کامیابی کا پہلا زینہ تصور کی جاتی ہے۔باالفاظِ دگر ووٹ کے ذریعے صحیح نمائندے کا انتخاب ہی نسلِ نو کی کامیابی کا ضامن ہے۔ترقی یافتہ معاشرے میں ووٹ کو روکنا اور اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہ کرنا ایک جرم تصور کیاجاتا ہے۔جب کہ وہاں ہر شہری ووٹ ڈالنا اور اپنا حق استعمال کرنا ایک قومی و ملی فریضہ سمجھتا ہے۔ووٹ کو قوم اور ملک کی امانت جانتے ہوئے ہر فرد بطریقِ احسن اپنا حق ِرائے دہی استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں سماجی اور اخلاقی اقدار پروان چڑھتے ہیں اور دیگر بہت سی اخلاقی برائیوں کا تدارک بھی ممکن ہوتا ہے۔
یہ الگ بات کہ ترقی پذیر معاشروں کے لیے آج بھی اپنے نمائندے کا انتخاب اور ووٹ کا استعمال محض ایک فرضی فرضی سی کہانی ہے۔المیہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں ووٹ کو ایک وقت گذاری اور فتنہ و فساد کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔جو کہ سراسر ایک غلط نظریہ ہےکہ جس کی وجہ سے قوموں کی بدحالی اور معاشرے میں تخریب کاری جنم لیتی ہے۔ہمارے معاشرے میں ووٹ کا تقدس اب ایک واجبی سی بات بن گئی ہے۔لیکن اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس ضمن میں شعوری سطح پر کوئی خاطرخواہ کام نہیں ہورہا۔جس کے باعث لوگوں کی کثیر تعداد ووٹ کی اہمیت سے ہی ناآشنا ہے۔ووٹ ڈالنے سے کنارہ کشی کرنے کی دوسری بڑی وجہ ہنگامۂ قتل و غارت گری بھی ہے۔جس کے باعث کمزور طبقہ اپنا حق ِ رائے دہی استعمال کرنے سے کتراتا ہے یا پھر ذہنی و جسمانی دباؤ میں فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
ضرورت ا س امر کی ہے کہ ایسے افعال کا تدارک کرتے ہوئے عوام کو شعوری سطح پر بیدار کرنا وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔خصوصاً خواتین کو ووٹ کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے معاشرتی و سماجی سطح پر فعال بنانے کی ضرورت ہے۔کیوں کہ معاشروں کی تشکیل میں خواتین کا کردار بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ علمی و عقلی سطح کی بالادستی بھی قوم کے افراد میں فردِ واحد کے ووٹ اور انتخابِ رائے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ووٹ کوروکنے کی دوسری بڑی وجہ ہنگامۂ فساد و فتنہ گری بھی ہے۔اس قسم کے ہنگامہ پرور افراد ہر معاشرے میں ایک مضبوط پس منظر کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔اس مقصد کے لیے انتظامی امور میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل ہوں۔قوم کے افراد ووٹ کا صحیح استعمال تب ہی کرسکیں گے کہ جب وہ شعوری سطح پر اپنی اہمیت سے باخبر اور اپنے جان و مال کا تحفظ یقینی سمجھیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نسلِ نو کی بقا اور دنیا میں سرخرو ہونے کے لیے اپنے معاشرے اور قوم کا مستقبل اپنے ہاتھوں سے ترتیب دیاجائے۔یہ سب تبھی ممکن ہوگا ، جب ووٹ کی اہمیت سے ہمیں علمی و شعوری سطح پر واقفیت ہو گی۔اس مقصد کے حصول کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر یا تنظیمی اداروں کے ذریعے تعلیمی و عوامی مقالات پر مختلف سیمینار منعقد کیے جائیں۔سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعےبار بار یہ باور کرایا جائےکہ ووٹ ایک قومی فریضہ ہے اور نسلِ نوکی بقا اور کامیابی خود ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تنظیمی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔یہی ترقی یافتہ معاشروں اور قوموں کی کامیابی کاراز ہےاور اسی میں ہی ہماری بھی تابندگی اور نوعِ انسانی کی کامرانی پوشیدہ ہے۔کیوں کہ ووٹ کا فریضہ ہی قوموں کی تشکیل میں ہمیشہ ممد و معاون رہا ہے۔
تحریر:
سیف الاسلام
ایم۔فل اسکالر
(الحمد اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Click on the link below to read this article in English
http://thescarea.com/read-opinions.php?url=vote-the-fundamental-unit-of-society