28/03/2026
Generation School Qalandarabad -NGS
پٹرول مہنگا، مگر تعلیمی ادارے کیوں بند؟ — ایک سنجیدہ سوال
ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے پہلے ہی ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی بندش جیسے فیصلے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ جب بھی معاشی دباؤ بڑھتا ہے، اس کا پہلا نشانہ تعلیمی نظام کو بنایا جاتا ہے؟
اگر واقعی مقصد پٹرول کی بچت ہے تو اس کے لیے اور بھی کئی مؤثر اور منصفانہ راستے موجود ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ سرکاری اداروں کی گاڑیوں کے بے دریغ استعمال پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی؟ کیوں نہ سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کوٹے کو محدود کیا جائے اور انہیں صرف دفتری اوقات تک ہی استعمال میں لایا جائے؟ یہ اقدامات نہ صرف پٹرول کی بچت کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ عوام میں ایک مثبت پیغام بھی دیں گے کہ حکومت خود بھی کفایت شعاری اپنا رہی ہے۔
اسی طرح بڑے بڑے شاپنگ مالز، غیر ضروری تقریبات، اور دیگر توانائی خرچ کرنے والی سرگرمیاں بدستور جاری رہتی ہیں، لیکن تعلیمی ادارے بند کر دینا آسان ترین حل سمجھ لیا جاتا ہے۔ کیا کھیلوں کے میدان، پارکس اور دیگر تفریحی مقامات وقتی طور پر محدود نہیں کیے جا سکتے؟ اگر قربانی دینی ہی ہے تو اس کا بوجھ یکطرفہ طور پر طلبہ کے کندھوں پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خصوصاً دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں تک آنے والے بچوں کی بڑی تعداد پیدل آتی ہے۔ ان بچوں کا پٹرول کے استعمال سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے میں تعلیمی ادارے بند کرنا نہ صرف غیر منطقی بلکہ ایک ناانصافی بھی محسوس ہوتی ہے۔ جو بچے پہلے ہی محدود وسائل کے باوجود علم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے راستے میں مزید رکاوٹیں کھڑی کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔
تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس پر سمجھوتہ کرنا دراصل اپنے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ آج اگر ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کو بند کر کے وقتی مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی، تو کل ہمیں ایک ایسے معاشرے کا سامنا کرنا پڑے گا جو علمی اور فکری پسماندگی کا شکار ہوگا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے فیصلوں پر نظرثانی کرے جو براہ راست نوجوان نسل کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ وقتی بچت کے لیے مستقل نقصان مول لینا دانشمندی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ترجیحات کا ازسرنو تعین کیا جائے۔ پٹرول کی بچت ضروری ہے، مگر اس کے لیے تعلیم کو قربان کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
تحریر: عمران لودھی