19/09/2026
ظلم بند کرو!
پاکستان میں ہر ادارے نے بے روزگار نوجوانوں کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔
اگر یونیورسٹیوں کو پہلے ہی معلوم ہے کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسے HEC اور بیرونِ ملک استعمال کے لیے Foreign Office (MOFA) سے Attestation کروانا ضروری ہوتا ہے، تو پھر ایک بنیادی سوال ہے:
یونیورسٹیاں، جو خود HEC کے نظام کے تحت کام کرتی ہیں، ڈگری جاری کرتے وقت یہ Attestation کا عمل مکمل کرکے ڈگری کیوں نہیں دیتیں؟
ایک نوجوان برسوں محنت کرکے ڈگری حاصل کرتا ہے، پھر نوکری کی تلاش میں اسے ایک کے بعد دوسرے ادارے کے چکر لگانے پڑتے ہیں، فیسیں ادا کرنی پڑتی ہیں اور قیمتی وقت ضائع کرنا پڑتا ہے۔
تعلیم نوجوانوں کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہونی چاہیے، انہیں غیر ضروری دفتری مراحل اور اخراجات میں الجھانے کا نہیں۔
کیا ڈگری جاری کرنے کے پورے عمل کو اس طرح نہیں بنایا جا سکتا کہ طالب علم کو ایک ہی جگہ سے مکمل طور پر تصدیق شدہ ڈگری ملے؟
یہ سوال صرف ایک نوجوان کا نہیں، پاکستان کے لاکھوں طلبہ اور بے روزگار گریجویٹس کا سوال ..