17/05/2026
چین نے بغیر جنگ کیے امریکہ کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ وہ سپر پاور ہے ، چین نے 80 کروڑ آبادی کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھایا اور اپنے ملک سے extreme and absolute poverty کا خاتمہ کر دیا ۔
زرا سوچیے! اس ساری ترقی کے process کے پیچھے شخصیت ہے یا نظام ؟ اس لیے شخصیت سے نکل کر دنیا کے نظاموں کا مطالعہ کریں اپنے ملک کے colonial نظام کو پڑھیں جس نے پچھلے 77 سالوں سے امریکہ کا غلام رکھا ہوا ہے پھر خاص کر چین کے نظام کا مطالعہ کریں جس نظام نے چین کو 50 سالوں میں سپر پاور بنا دیا اور یہی ترقی یورپ اور امریکہ نے ڈھائ سو سال میں کی ۔
12/05/2026
(حقیقت کی جستجو؛ ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ کا مکالمہ)
ایڈم سمتھ بولا! Adam Smith
دنیا کا سسٹم مسابقت/compitition پر قائم ہے۔ جب ہر شخص اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بخود خوشحال ہو جائے گا۔ یہی سرمایہ داری نظام capitalism کا حسن ہے۔ آزاد منڈیindipendent trade میں مقابلہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
کارل مارکس نے کہا! Karl marks
مگر یہ کیسا حسن ہے جو صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ محنت کش تو صرف machine کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔ تمہاری آزاد منڈی میں غریب اور امیر کے درمیان خلیجGap between rich and poor بڑھتی ہی جاتی ہے۔ سرمایہ دار عیش کرتے ہیں اور محنت کش استحصالexploitation کی چکی میں پِس کر رہ جاتے ہیں۔
ایڈم سمتھ (طنزیہ انداز میں):Adam smith
دیکھو، یہ تگ و دوHardworking ہی تو محنت کشوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں ہر شخص کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ اسی مسابقت میں ترقی کا راز Secret of success پوشیدہ ہے۔
کارل مارکس (تلخ لہجے میں):
یہی تو تمہارا دھوکہFraud ہے! محنت کشوں کو ان کی محنت کا پورا صلہreward کبھی نہیں ملتا۔ سرمایہ دار ان کے پسینے سے محلات کھڑے کرتے ہیں۔ تمہاری مسابقت rivalry دراصل استحصال کا دوسرا نام ہے، جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکزcentured ہو جاتی ہے اور عام آدمی غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے۔ یہی تو ظلم ہے، اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو انقلابrevolution فرض ہو جاتا ہے۔
ایڈم سمتھ (سرگرداں ہو کر):
رُکو بھائی! کون سا دھوکہ، کون سا استحصال؟ یہ طبقاتیت،class discrimination یہ اونچ نیچ تو اوپر کی طرف سے ہے۔ آپ کو اگر یقین نہیں آ رہا تو مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لیجیے۔ پادری کہتا ہے یہ بھوک و افلاس، مفلسی اور امیری سب تقدیر کا کھیل ہے۔ وہ کہتا ہے غریبوں، کمزوروں اور مزدوروں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔Patiencs pays off
کارل مارکس (غصہ ہو کر):
انہیں تو آپ رہنے ہی دیجیے۔ ہم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ مذہب سرمایہ دار کا ساتھی بن چکا ہے۔ یہ مزدور کو تسلی دینے کے لیے صبر و قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار اور مذہب ایک پیج پر ہیں۔ یہی مذہب انقلاب کی راہ میں زبردست رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب کو آپ کے پادریوں سمیت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔Reject
(اتنے میں ایک اور آواز گونجتی ہے، یہ شاہ ولی اللہ ہیں، جو دونوں مکاتبِ فکر سے مختلف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں)
سمتھ صاحب! تم نے انسان کو محض ایک مشین سمجھا، جس کا مقصد صرف دولت کمانا ہے۔ اور مارکس...! تم نے سرمایہ دار کے ظلم کو بخوبی پہچانا، کمال کر دیا۔ تم نے کمزوروں کے حقوق کی بات کی، واقعی کمال کر دیا۔ لیکن جب تم نے انسانی روح کو یکسر نظرانداز کیا، بہت ہی بُرا کیا۔ انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں، روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے۔ جسم کی طرح روحSoul کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب کو رد کرنا خود اپنی حقیقت سے انکار کرنا ہے۔
کارل مارکس (حیران ہو کر):
عجیب بات کرتے ہو شاہ صاحب! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مذہب نے کس طرح مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار کا ساتھ دیا؟ مذہب تو ظلم سہنے کا درس دیتا ہے، صبر اور قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ کیا یہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟
شاہ ولی اللہ (مسکراتے ہوئے):
یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ مذہب جب اپنی اصل حالت (Default Version) میں ہو تو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔ دُکھی انسانیت کی خاطر عدل و انصافJustice and fairness قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مذہب تو ظلم برداشت کرنے کو گناہ قرار دیتا ہے۔ یہ نہ تو سرمایہ داری کی بے رحم طبقاتیت اور آزاد منڈی کو قبول کرتا ہے، اور نہ ہی تمہارے انقلاب کی بے روح مادیتMaterialism کو۔ یہ تو انسان کے جسم و روح دونوں کی کفالت کا بیڑا اٹھاتا ہے۔ دراصل آپ کو مذہب کی غلط تعبیر پڑھائی گئی ہے۔
ایڈم سمتھ (مُخِل ہوتے ہوئے):
شاہ صاحب، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ زندگی ایک جنگ ہےLife is a war۔ یہاں طاقتور آگے بڑھتے ہیں، کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی بادشاہ تو کوئی گدا، کوئی امیر تو کوئی فقیر۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔ وسائل محدود ہیں اور آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے بقا کی جدوجہد اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی دوڑ ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔ سرمایہ ہی طاقت ہے، سرمایہ ہی عزت ہے،Power and respect is with money شہرت ہے، اور سرمایہ ہی نیک نامی ہے۔ نیز سرمایہ ہی اصلReality ہے۔ محنت تو سرمایہ کا معاون ہے، کیونکہ اس کے پاس Bargaining Power نہیں ہوتی۔
شاہ ولی اللہ (گہرے لہجے میں): سمتھ صاحب! آپ زندگی کو ایک سرمایہ دار کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جب آپ ایک انسان کی نظر سے دیکھیں گے تو زندگی جنگ نہیں، محبت نظر آئے گی۔ آپ جان پائیں گے کہ یہ آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا سفر ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہےUnfair distribution۔ طاقتور مسلسل آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کہ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ پرائی محنت پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ مسابقتCompitition تو تب ہوگی جب بنیادی ضروریات پوری ہوں گی۔ دولت کمانے میں حرج نہیں .... لیکن اس کے لیے اساسbase foundation محنت ہونی چاہیے۔ محنت سرمایہ کا معاون نہیں، سرمایہ محنت کا معاون ہے۔ جسم کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی برقرار رہے۔ یہی مکمل انسانیت کا فلسفہ ہے، جو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
ایڈم سمتھ خاموش اور لاجواب..!!
کارل مارکس (سوچ میں پڑ کر): یہ گفتگو میرے ذہن میں نئے سوالات جگا رہی ہے۔ کاش! میں نے کیپیٹلزم کے ردعمل میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہ کیا ہوتا ... میں نے انسانی فطرت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی جلدی کر دی!
شاہ ولی اللہ (اطمینان سے): یہی مکالمے کا حسن ہے! سوالات ہی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ غور و فکر سے ہی سچائی تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ مکالمے سے ہی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور
مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا!
✍️ سفیان خان
(نشرِ مکرر 2025)
26/04/2026
دل کو چھو لینے والے لفظ
"تقسیم تو قسمت میں لکھی نہ تھی ہمارے اپنے سیاسی بھولوں نے ہی وطن کو کاٹ دیا۔"
"مسلمانوں کے دل کے ڈر کو صرف کاغذ کے وعدوں اور وفاقی نظام سے دور کر سکتے تھے، کاٹنے کی ضرورت کیوں پڑی؟"
"کریئر انڈیا تو کانگریس کی سب سے بڑی چوک تھی ہم جیلوں میں بند، مسلم لیگ میدان سنبھال گئی۔"
"نہرو صاحب کے 1937 اور 1946 کے چند جملے اتحاد کی ساری امیدوں پر پانی پھیر گئے۔"
"دہلی کے خون آلود گلیوں میں گاندھی جی کا روزہ انسانیت کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کر دیا!"
کیوں خاص ہیں یہ لفظ؟
یہ الفاظ مولانا آزاد کے دل کا درد جھلکاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مذہب نے نہیں، ہماری اپنی سیاسی غفلت نے ہمیں الگ کیا۔ نہرو، گاندھی، جناح سب پر کھل کر بات کی، اور متحدہ ہندوستان کا خواب دکھایا جو آج بھی ہر پاکستانی اور بھارتی کے دل میں زندہ ہے۔
یہ لفظ صرف تاریخ نہیں، ایک انسان کا اپنے وطن سے محبت بھرا درد ہیں۔
26/04/2026
شاہ ولی اللہ دہلویؒ
شاہ ولی اللہ دہلویؒ صرف ایک عالمِ دین نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مصلح تھے جنہوں نے امتِ مسلمہ کو علم، عدل اور اتحاد کا راستہ دکھایا۔
ان کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ دین کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہی اصل کامیابی ہے، نہ کہ صرف رسم و رواج تک محدود رہنا۔
آج کے دور میں جب ہم انتشار اور مسائل کا شکار ہیں، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم، اتحاد اور اصلاح ہی ترقی کی بنیاد ہیں۔
آئیں ہم بھی ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیں۔ ❤️
#اتحاد #اصلاح
26/04/2026
مولانا ابو الکلام آزاد۔ ۔
25/04/2026
🔹 “آزادی کوئی تحفہ نہیں، یہ قربانی مانگتی ہے۔”
قومیں اپنی محنت اور قربانی سے آزاد ہوتی ہیں، صرف خواہش سے نہیں۔
12/06/2025
جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے
کیا خبر کون کہاں کس کا نشانہ بن جائے
عشق خود اپنے رقیبوں کو بہم کرتا ہے
ہم جسے پیار کریں جانِ زمانہ بن جائے
اتنی شدت سے نہ مِل تُو کہ جدائی چاہیں
یہی قربت تری دوری کا بہانہ بن جائے
جو غزل آج ترے ہجر میں لکھی ہے وہ کل
کیا خبر اہلِ محبت کا ترانہ بن جائے
کرتا رہتا ہوں فراہم مَیں زرِ زخم کہ یوں
شاید آئندہ زمانوں کا خزانہ بن جائے
اِس سے بڑھ کر کوئی انعامِ ہنر کیا ہے فرازؔ
اپنے ہی عہد میں اک شخص فسانہ بن جائے
احمد فرازؔ