08/10/2024
تیاری کا سلسلہ شروع کریں ۔
Education for all
08/10/2024
تیاری کا سلسلہ شروع کریں ۔
جہالت میں ہم اتنا ڈوب چکے کہ ہم ڈاکٹر زاکر نائک کی ویڈیوز کہ چند پارٹ کو کاٹ کر توڑ موڑ کہ پیش کر رہے ہیں
یہ ڈاکٹر زاکر نائک کہ حق میں دلیل ہے کہ وہ اسلام کو سہی معنوں میں بیان کر رہے ہیں
02/10/2024
پچھلے پوسٹ کے لئے معذرت - ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
پچھلی بار خیبر پختونخوا میں اساتذہ بھرتی کے لئے سلیبس اس طرح کا تھا، اور قوی امکانات ہیں کہ اس بار بھی اس طرح کا سلیبس ہو، اس لئے آپ سب اس کو لے کر اپنی تیاری شروع کر سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بھرتیوں کے لئے سلیبس/کورس کونٹینٹ
اس کے مطابق آپ اپنی تیاری کریں۔
30/09/2024
ڈاکٹر صاحب ہمیں آپ سے محبت آپ کے خاندان، برادری اور دنیاوی سٹیٹس کیوجہ سے نہیـــــں بلکہ
آپ سے محبت اس لیے ہے کہ آپ کے ہاتھ پر ہزاروں لوگ مسلمان ہیں
آپ سے محبت اس لیے ہے کہ اسلام کی خاطر آپ کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا
آپ سے محبت اس لیے ہے کہ تقابل ادیان میں اسلام کو آپ بزور دلیل منواتے ہیں
آپ سے محبت اس لیے ہے کہ آپ اخلاص نیت سے بجانب منزل محو سفر ہیں
آپ سے محبت اس لیے کہ آپ مسلمانوں کا فخر اور عظیم تعارف ہو
آپ سے محبت اس لیے ہے کہ آپ کو اللہ اور اسکے رسول سے سچی اور عملاً محبت ہے.
آپ ایک مسجد یا ایک جماعت یا ایک فرقے کے مولوی نہیـــــں بلکے اسلام اور دین محمدی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی اس دور میں بہتر ترجمانی کر رھے اپ اسلام کی ایک لیبارٹری ہو جس سے بہت سارے غیر مسلم بھی متاثر ہو کر مسلمان ہوتے ہیں
پاک سر زمین پر خوش آمدید، جیتے رہو، مالک تمہیں ہمیشہ اپنی
حفاظت میں رکھے آمین اپکو پاکستان کی سرزمین پر ولکم
04/08/2024
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتیٰ کہ جـنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں ۔۔۔ یہ حکم صادر ھوا خلیفہ اوّل کی طرف سے۔۔۔
مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی ان میں 600 صحابہ کرام ایسے بھی تھے جوکامل حافظ قرآن تھے.
اور اس جنگ میں 27000 کفار وصل جہنم ہوئے .
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔
13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"
چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوںبمیں آخری خطبہ دیا:
والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"
اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!
ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا
*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔
کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کہتے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔
اور اسی جنگ میں وحشی ابن حرب نے مسیلمہ کذاب کو جہنم واصل کیا۔ اسی جنگ کے بعد وہ کہتے تھے کہ شائد حمزہ رضی اللہ کا کفارہ ادا ھو سکے۔۔
تب کے مسلمانوں نے اپنا سب کچھ ختم نبوت پر قربان کر دیا اور خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق اکیلے مدینہ منورہ میں رہے۔ کہتے ہیں کہ وہ اتنے بے چین تھے کہ معلوم ھوتا تھا انگاروں پر پاؤں دھرے ہیں۔
اے مسلمانوں، تحفظ ختم +نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو
آخر میں میری آپ تمام دوستوں سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو
آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کیجئے.
01/08/2024
خمر شراب نہیں، جوس بن گیا۔
جواء قسمت بن گیا۔
گانا فن بن گیا۔
رشوت چائے یا کافی بن گئی۔
اختلاط ترقی کہلانے لگا۔
بے پردگی کو خوبصورتی کہا جانے لگا۔
عریانی آزادی بن گئی۔
زنا ایک عارضی تعلق بن گیا۔
نیکی کا حکم دینا شدت پسندی بن گیا۔
برائی سے روکنا پسماندگی کہلانے لگا۔
معاف کیجئے گا اگر بات لمبی ہوگئی، لیکن یہ دل کو افسردہ کرنے والی باتیں ہیں اس دور میں جو بظاہر ترقی یافتہ ہے۔
بنوں کی صورت حال پر اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا
میرے رب ہمارے دیس کے امن کو تباہ کرنے والوں کو برباد فرما ۔۔
پاکستان امن چاہتا ہے
میں بحیثیت مسلمان پاکستان کی درجنوں خفیہ
ایجنسیوں سےمطالبہ کرتا ہوں کہ بدنام زمانہ ملحد آئی ڈی پشتون بونیری کا سراغ لگائے۔
کیونکہ نبی آخر زمان کی گستاخی ہماری ریڈ لائن ہے۔
Soch Badlegi To Halat Badlngy👌
*ہماری قسمت میں "لیڈر" نہیں "دھندے والے لوگ" ہیں....!!*
*جواہر لال کے والد نے بیٹے کو شاہی خاندان کی طرح پڑھایا، نوابوں جیسی پرورش کی، کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم دلائی اور جب وہ بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس آگئے تو انہیں الٰہ آباد میں اچھے کلائنٹس لے کر دیئے.*
*لیکن جواہر لال نہرو کمیونسٹ ذہنیت کے مالک تھے ، وہ سیاست میں آ کر معاشرے میں مساوات پیدا کرنا چاہتے تھے.*
*والد نے بہت سمجھایا مگر جب دال نہ گلی تو انہوں نے ایک دن جواہر لال نہرو کی الماری سے سارے قیمتی سوٹ، جوتے اور سگار نکالے اور دوستوں کے بچوں میں تقسیم کر دیئے اور ان کی جگہ کھدر کے دو پائجامے اور تین کرتے لٹکا دیے اور ہاتھ سے بنی ہوئی دیسی جوتی رکھوا دی.*
*جواہر لال کے کمرے سے سارا فرنیچر بھی اٹھوا دیا گیا، فرش پر کھردری دری اور موٹی چادر بچھا دی اور خانساماں کو حکم دے دیا تم کل سے صاحبزادے کو جیل کا کھانا دینا شروع کر دو اور بیٹے کا جیب خرچ بھی بند کر دیا گیا.*
*جواہر لال نہرو نے جب اپنے کمرے کا یہ حال دیکھا تو رات کو مسکراتے ہوئے والد کے پاس آئے، بڑے نہرو صاحب اس وقت اسٹڈی میں ٹالسٹائی کا ناول وار اینڈ پیس پڑھ رہے تھے.*
*بیٹے نے پوچھاسے خفا ہیں...؟*
*موتی لال نے کتاب سے نظریں اٹھائیں اور نرم آواز میں جواب دیا:*
*میں تم سے ناراض ہونے والا دنیا کا آخری شخص ہوں گا.*
*چھوٹے نہرو نے پوچھا؛*
*پھر آپ نے اتنا بڑا آپریشن کیوں کر دیا...؟*
*والد نے بیٹے سے کہا؛*
*صاحب زادے، تم نے جو راستہ چنا ہے اس میں جیل، بھوک اور خواری کے سوا کچھ نہیں، میں چاہتا ہوں تم آج ہی سے ان تمام چیزوں کی عادت ڈال لو جو اس راستے میں تمہیں پیش آنے والی ہیں..!*
*دوسرا یہ کہ غریب کے پاس اعتبار کے سوا کچھ نہیں ہوتا لہٰذا یہ انتہائی سوچ سمجھ کر دوسروں پر اعتبار کرتے ہیں. تم اگر عام آدمی کی بات کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں خود بھی عام آدمی ہونا چاہیے...!*
*تم انگلینڈ کے سوٹ اور اٹلی کے جوتے پہن کر غریب کی بات کرو گے تو تم پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا میں نہیں چاہتا دنیا میرے بیٹے کو منافق کہے...!**چنانچہ تم آج سے وہ کپڑے پہنو گے جو غریب پہنتا ہے اور تم اتنے پیسے ہی خرچ کرو گے جتنے غریب کی جیب میں ہوتے ہیں...!*
*جواہر لال نہرو نے والد کا ہاتھ چوما اور پھر مرنے تک کھدر کے کپڑے اور دیسی جوتے پہنے اور غریبوں جیسا سادہ کھانا کھایا...!*
*ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ ایسی لیڈر شپ کا فقدان ہے. پاکستان میں لیڈروں کا تعلق عموماً ایسے گھرانوں سے ہے جو ملکی خزانہ لوٹنے کے بعد یا زکوۃ خیرات کے پیسوں پر عیاشی کرتے ہیں.*
*ہم ڈرٹی پالیٹکس کے ایک خوف ناک جوہڑ میں غوطے کھا رہے ہیں. ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں غریبوں کی باتیں ضرور کرتی ہیں لیکن ان کے لیڈروں کا لائف سٹائل اور ان کی شخصیت , ان کی باتوں سے میچ نہیں کرتی.*
*ہزاروں کنال کے بنگلوں اور فارم ہاؤسز میں رہنے والے ، کئی کئی لاکھ ماہانہ تنخواہ اور دنیا بھر کی مراعات و پروٹوکول لینے والے ، بیرون ملک بڑے گھر اور بینک بیلنس رکھنے والے بلٹ پروف گاڑی اور جہاز و ہیلی کاپٹر کو گلی کے موٹر سائیکل کی طرح استعمال کرنے والے ہمارے تمام وزیراعظم ایک غریب ملک کے رہنما نہیں ہوسکتے...!*
*اگر رہنما لینا ہے تو غریب عوام سے لیں جو عام شہریوں کی طرح پانچ سات مرلہ کے گھر میں رہے. جرمن چانسلر اینجلا کی طرح دو تین سوٹوں اور ایک ہی کوٹ کیساتھ پانچ سالہ دور اقتدار پورا کرے اور دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو اپنے کردار سے گرویدہ بنا لے...!*
*ایرانی صدر احمدی نژاد کی طرح دو دفعہ صدر رہنے کے بعد تہران کی ایک یونیورسٹی میں لیکچرار کی نوکری کرے۔۔۔!*
*باراک اوباما کی طرح صدارت سے فارغ ہو کر کرایہ کا مکان ڈھونڈتا پھرے...!* ==============
ہماری قسمت میں لیڈر نہیں دھندے والے لوگ ہیں جو اپنے فیملی ممبرز کے اندرون اور بیرون ملک اکاؤنٹ بھرتے جا رھے ہیں اور عوام کا تو کوئی ذکر اذکار ھی نہیں...(Copied)
07/05/2022
06/01/2022
جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے،
جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے،
اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم کو ساتھ لے کر چلنا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا.
پھر وقت بدل گیا ہمارے "اکابرینِ" کوے کے حلال و حرام پر مناظرے کرنے لگے، اور ہم نے اپنے نصاب میں وہ علوم شامل کردیے، جن میں نہ ہماری دنیوی ترقی تھی نا آخرت کی کامیابی، جہاد اور مجاہدین ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگے، کھیرے، ککڑی، کیلے، مسواک کا سائز، ہمارے اہم مسائل میں شامل ہو گئے،آمین تیز آھستہ پڑھنے پر کفر کے فتوے لگنا شروع ھو گئے۔ فرض کے بعد دعا جائز ھے ناجائز ھے پر جھگڑے ھونے لگے۔اور پھر ھلاکوخان چنگیزی فوج نے مسلمانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلے اور کھوپڑیوں کے مینارکھڑے کردئے۔علمی کتابیں دریا میں بہا دیئے گئے۔اور مسلمان ایک ھزار سال پیچھے چلے گئے۔اور آج پھر وھی صورتحال ھے
اور آج ہم اس حیرانگی کا شکار ہیں کہ "تبدیلی آ کیوں نہیں رہی ۔"
جبکہ ھماراعلمی معیار یہ ھے کہ ھم لارڈ میکالے کے نصاب سے باھر ھی نہیں نکل سکے۔